ہمارے نبی آخری نبی

از : محمد فیض العارفین رضوی
متعلم مرکز اہل سنت جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف
موبائل نمبر : 6397261470

اللہ ربّ العزت نے ہماری ہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام کو مبعوث فرمایا ہر نبی اللہ ربّ العزت کی علیحدہ علیحدہ صفتوں کے مظہر بن کر آیے یہاں تک کہ اللہ ربّ العزت نے اپنی صفات کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کا بھی مظہر بنا کر اپنے محبوب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو مظہر ذات کے بعد اب کسی نبی کی ضرورت نہ رہی تو اللہ ربّ العزت نے نبوت کے دروازے کو اپنے محبوب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بند فرمادیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آیے گا
مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں حالانکہ ہمارے نبی اس وقت بھی موجود تھے جب حضرت آدم علیہ الصلاۃ والتسلیم کا خمیر آب و گل کے درمیان تھا جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا کہ من کنت نبیا و آدم بین الماء والطین یعنی میں اس وقت بھی نبی تھا جس وقت حضرت آدم مٹی اور پانی کے درمیان میں تھے یعنی اس وقت حضرت آدم علیہ الصلاۃ والتسلیم کا بھی وجود نہ تھا لیکن اللہ ربّ العزت نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے آخر میں ہمارے درمیان میں بھیجا اور نبوت و رسلات کا سلسلہ آپ پر ختم فرمادیا اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا ذکر قرآن پاک کی سو سے زائد آیات قرآنیہ میں کیا گیا ہے
ارشاد خداوندی ہےماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن الرسول اللہ و خاتم النبیین
( محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں اس آیت کی تفسیر میں کہ ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آیے گا اور محمد بن حسن طوسی اپنی تفسیر تفسیر التبیان میں کہتے ہیں آپ آخری نبی ہیں اب قیامت تک کوئی نبی نہیں
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہ کر یہ اعلان فرمادیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی ہیں کہ اب قیامت تک نہ کسی کو منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر یہ آیت مبارکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کے آخری نبی ہونے پر نص قطعی ہے اور اس کا معنیٰ پوری طرح واضح ہے جس میں کسی تاویل اور تخصیص کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں
ختم نبوت سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء و مرسلین کے آخر میں مبعوث فرمایا اور آپ پر نبوت و رسلات کا سلسلہ ختم فرمادیا آپ کے ساتھ یا آپ کے بعد قیامت قائم ہونے تک کسی کو نبوت ملنا محال ہے یہ عقیدہ ضروریات دین سے ہے اس کا منکر اور اس میں ادنیٰ سا بھی شک و شبہ کرنے والا کافر و مرتد اور ملعون ہے
قرآن پاک میں سو سے زائد آیات ایسی ہیں جو اشارۃً یا کنایۃً عقیدۂ ختم نبوت کی تصدیق و تائید کرتی ہیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنیٰ متعین فرمایا ہے لہذا اب قیامت تک کسی قوم یا ملک یا کسی زمانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں اور مشیت الٰہی نے نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان الرسالت والنبوت قد انقطت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمزی)
ترجمہ۔ اب نبوت و رسلات کا انقطاع عمل میں آچکا لہذا میرے بعد نہ کوئی نبی آیے گا اور نہ کوئی رسول
اس حدیث پاک سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آیے گا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہوگا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کی نہ صرف نشان دہی کی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرمادی حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔انہ سیکون فی امتی ثلٰثون کذابون کلہم یزعم انہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمزی)
ترجمہ. میری امت میں تیس اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آیے گا
اور اگر کوئی شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ کافر کاذب اور مرتد اور خارج از اسلام ہے نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے اور اسے مومن مجتہد اور مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم روۓ زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں کے احکام کو منسوخ کرنے والی ہے اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام و قوانین میں جامع و مانع ہے قرآن کریم تکمیل دین کا اعلان کرتا ہے گویا انسانیت اپنی معراج کو پہنچ چکی ہے اور قرآن کریم انتہائی عروج کو پہچانے کا ذریعہ ہے اس کے بعد نہ کسی نئ کتاب کی ضرورت اور نہ کوئی نیے نبی کی حاجت چناچہ امت محمدیہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آیے گا
قرآن و سنت کی روشنی میں ختم نبوت کا انکار محال ہے اور یہ ایسا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خود عہد رسالت میں مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا اور حضور کی نبوت کی تصدیق بھی کی تو اس کے جھوٹا ہونے میں ذرا بھی تامل نہ کیا گیا اور صدیق اکبر کے عہد خلافت میں صحابۂ کرام نے جنگ کرکے اسے کیفر کردار تک پہنچایا اس کے بعد بھی جب اور جہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا امت مسلمہ نے اسے متفقہ طور پر جھوٹا قرار دیا اور اس کا قلع قمع کرنے میں ہر ممکن کوشش کی
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ حضور کی عزت پر پہرا دینے کا جذبہ عطا فرما اور ناموسِ رسالت کا سچا پکہ محافظ بنایے اور نبوت و رسالت کے جھوٹے دعوے داروں کا منہ کالا فرما اور انکو انکے انجام تک پہنچا
آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قطعیات میں ایک قول حق:دیگر اقوال باطل

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ قسط اول میں بیان کیا گیا کہ قطعیات میں اجتہاد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے