موبائل فون اور ہم

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی 9839171719

محترم قارئین! موبائل فون دور حاضر کی ایک ایسی ایجاد اور اﷲ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا وہ شاہکار ہے جس نے ہر طبقہ اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے اور بڑی برق رفتاری سے ہماری خلوت و جلوت میں داخل ہوگیا ہے۔ اس ایجاد نے زمینی فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ گہرے سمندروں اور فلک بوس پہاڑوں نے جزیروں اور براعظوں میں پھیلے ہوئے انسانوں کے درمیان جو دیواریں کھڑی کر رکھی تھیں ذہن انسانی کی کاوشات پیہم نے انہیں منہدم کردیا ہے۔ ہر نمودار ہونے والی صبح کے ساتھ موبائل فون کی نئی سہولتیں متعارف ہورہی ہیں۔اب تو زمانے کی ہوا کچھ ایسے رخ پر چل نکلی ہے کہ موبائل فون کے بغیر اب کسی کابھی گزارا نہیں ہے سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں ۔اگر کوئی موبائل استعمال نہیں کر رہا ہے تو اس کے پاس شاید موبائل خریدنے کی طاقت نہ ہو۔مگر یہ ایک خیال محض ہے ۔کیونکہ جسے دیکھو موبائل کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو چکا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے بغیر کسی کی زندگی آجکل گذر نہیں سکتی۔ کچھ دقیانوسیت متاثر لوگ ہی اس پر اعتراض کریں گے مگر خود اپنے کاروبار اور دفتری کھاتوں یا کسی اور مسئلے کے تحت مجبوری کے عالم اس شیطانی چرخے کو استعمال کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔ کیونکہ لاکھوں کے سودے اس پر ہو رہے ۔ٹرکوں میں مال بھر کر لاکھوں روپے میں ایک شہر سے دوسرے شہر جا رہاہے ۔موبائل پردکان کے لئے سامان منگوایا جاتا ہے ۔ سیمپل کی تصویر واٹس ایپ پر اپ لوڈ کر کے دوسرے شہر بھجوا دی جاتی ہے ۔ وہ پکچر وہاں ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے اور چند دنوں میں یہاں دکان کے آگے رات کے وقت ٹرک سے مال ان لوڈ ہو رہاہوتا ہے ۔
اسلام مادی ترقی کا مخالف نہیں ہے بلکہ وہ ہر نئی ایجاد کا خیر مقدم کرتا ہے اور ہر اس چیز کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان کی مادی اور روحانی ترقی کے لئے ممدومعاون ثابت ہو لیکن کسی مجلس میں بیٹھ کر موبائل میں مشغول رہنا جبکہ آپ سے کوئی شخص ضروری بات کر رہا ھو یہ بہت بُری اور قبیح عادت ھے اور ایک مسلمان کی دل آزاری بھی ھے۔خصوصاً جب والدین یا قابل احترام شخصیت آپ سے متوجہ ھو اور آپ پھر بھی اُنکو مکمل توجہ نہیں دیتے یونہی علمی محافل اور گفتگو کے دوران بھی موبائل فون کے استعمال سے مجلس کا وقار متاثر ہوتا ہے اور لوگوں کے استفادے میں دخل انداز ہوتاہے۔ہمارا یہ عمل بے ادبی اور اللہ تعالی کی ناراضگی کا بہت بڑا سبب ھے ایک یہ بھی کہ مہمان ہی آئے اور آتے ہی سلام ودعا کے بعد اپنی جیب سے موبائل نکال لے اور اس پر میسج کرنا شروع کر دے ۔یہ ہر آدمی کے ساتھ نہیں ۔زیادہ تر تو اس خرابی سے واقف ہیں ۔ مگر بعض لوگ جو محفل کے آداب سے جانکاری نہیں رکھتے میں ان کا ذکر کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں خود جب اس وبائے عام میں گرفتار تھا تو مجھے احساس نہیں ہو رہاتھا۔ مگر اب بہت افاقہ ہے ۔ آدمی اس وقت نصیحت پکڑتا ہے جب وہ دوسر ے کو کوئی غلط کام کرتے دیکھتا ہے ۔جب میں نے دوسروں کی لگا تار اس قسم کی حرکات نوٹ کیں اور عجیب لگا تو میں نے سوچا کہ میں بھی ایسا کرتا ہوا کتنا برا لگتا ہوں گا۔ سو میں نے اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کر دیا اس کے بعد سے میری عادت قبیحہ میں افاقہ ہوا حد تو تب ہوجاتی ہے جب مہمان اور خود گھر والا دونوں موبائل کی اسکرین پر انگلیوں کو رقصاں کرنے میں کمر باندھ لیتے ہیں تو مجال ہے کہ موبائل ان کے ہاتھ سے نیچے میز پر رکھا جائے بہرکیف آج کل تو سب ایک ہی رسی کے بندھے ہیں ۔جو دوست آپس میں فری ہوں ان میں سے کوئی اعتراض کربھی دیتا ہے کہ آپ ہمارے ہاں اس لئے آئے ہیں کہ موبائل کے ساتھ کھیلیں ۔چھوڑیں اسے بات چیت کر تے ہیں۔ سب کچھ موبائل تو نہیں ہوتا ۔ انسان کی بھی تو کچھ حیثیت ہے سو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر موبائل ہاتھ سے میز پرٹکاکر سامنے والے سے نگاہیں چار کرناپڑتی ہیں ۔مگر جب تھوڑی دیر میں سامنے والے کا دھیان کسی اور طرف ہوا تو موبائل کا شوقین دوبارہ موبائل اٹھا لیتا ہے. میں نے بہت سے لوگوں کو کو دیکھا ہے کہ محفل میں اگر بیٹھے ہیں اور ان کے موبائل پر رنگ آ جائے تو کمرے ہی میں جہاں بیٹھے ہوں وہیں لیٹے یا کھڑے ٹیلیفون ہاتھ میں اٹھا لیں گے اور اونچی آواز کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دیں گے۔ باقی کے محفل میں موجود دوست خاموش ہو جائیں گے۔ مگر فون پر بات کرنے والے کو اپنی باتوں میں اس کااحساس نہیں ہوپاتا ۔ پھر وہ صاحب مسلسل لگے رہیں گے۔ ہنسی مخول ٹھٹھول اور قہقہے اڑیں گے بات طول اختیار کر جائے گی۔ مگر ان کو ذرا خیال نہیں آئے گا کہ میرے علاوہ مجلس میں اور بھی موجود ہیں ۔ جومیری وجہ سے ڈسٹرب ہیں۔اس طرح کی درجنوں خامیاں ہم میں موجود ہیں مگر ہمارا دھیان اس طرف جاتا ہی نہیں ۔کیونکہ ہمارا اپنا اپنا گریباں ہے اور ہم نے اس کے اندر جھانکنا چھوڑ دیا ہے ۔ خود میری بھی تو یہی حالت تھی ۔لیکن مجھے احساس ہوا کہ سرِ بزم فون پر بات کرنے سے شریک محفل لوگ چپ ہو گئے اورانتظار میں ہیں کہ فون پر بات ہو لے تو یہ اپنی گپ شپ دوبارہ شروع کریں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ایک بار رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی بنوا کر پہنی تو آپ فرمانے لگے : جب سے میں نے انگوٹھی پہنی ہے اس وقت سے اس نے میری توجہ تم سے ہٹا رکھی ہے، میں کبھی اسے دیکھتا ہوں تو کبھی تمہیں۔۔پھر آپ ﷺ نے اسے اتار دیا۔ یعنی نبی کریم ﷺ نے مجلس کے آداب کے خلاف سمجھتے ہوئی اُس انگوٹھی کو اتار دیا کہ کسی بھی مسلمان کی دل آزاری نہ ہو(سُنن نسائی/مُسند احمد)حضرتِ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔جب حضور ﷺ کسی سے مصافحہ فرماتے یا کوئی آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو آپ ﷺ اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے۔ بلکہ وہی آدمی اپنا ہاتھ حضور ﷺ کے ہاتھ سے علیحدہ کرتا اور اگر کوئی آدمی آپ ﷺ کی طرف منہ کر کے بات کرتا تو آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہی رہتے یہاں تک کہ فارغ ہو کر وہی آدمی آپ ﷺ سے چہرہ پھیر نہ لیت اور کبھی کسی نے یہ منظر نہیں دیکھا کہ حضور ﷺ نے اپنے پاؤں اپنے پاس بیٹھنے والے کی طرف پھیلا رکھے ہوں.
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہم بھی آپ ﷺ کی اتباع میں مجلس میں بیٹھ کر پوری توجہ اہل مجلس کو دیا کریں نہ کہ موبائل میں گھس کر اردگرد سے بالکل بے خبر ہو جائیں، کیونکہ یہ مجلس کے آداب کے خلاف بھی ہے اور اس میں ایک مسلمان کی دل آزاری بھی ہے، لہذا اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے. اللہ تعالیٰ ہم کی حفاظت فرمائے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے