غزل: ہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے

خیال آرائی: گل گلشن
ممبئی

جب سمندر ملا تشنگی نہ رہی
ہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے

دل نے ہم سے کہا تم جفا کار ہو
ہم ہی نادان تھے تم پہ مرتے رہے

حسن اب غیر کا ان کو یوں بھا گیا
ہم تو ان کے لئے ہی سنورتے رہے

چھوڑنا تو انھیں ہم پہ دشوار تھا
ساتھ رہنے سے بھی وہ مکرتے رہے

وقت گلشن کا تجھ بن بدل سا گیا
یوں تو گل بھی کھلے اور بکھرتے رہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل : کسی کے پاس نہیں وقت اب کسی کے لیے

رشحات قلم : حافظ فیضان علی فیضان وہ چاہے دل کے لئے ہو کہ دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے