اسلام میں عورتوں کا مقام کیا ہے

بے پردہ عورتوں کو شیطان جھانک جھانک کردیکھتا ہے( ترمذی شریف)

تحریر: محمد توحید رضا علیمی
امام مسجدِ رسول اللہ ﷺ
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ
نوری فائونڈیشن ،بنگلور کرناٹک

آج عورتوں کو خوداربنانے کے خواہاں عورتوں کو دنیاوی لالچھ دے کر نیم برہنہ لباس پہناکر غیرمحرم مردوں کی محفل میں لاکر عورتوں کے حسن کو بے پردہ کرکہ انکی کی ادائیں غیرمحرم کے دل ودماغ وخواب وخیالوں وآنکھوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرنے کا سازوسامان تیار کرکہ ویڈیوز کے ذریعہ ایک عورت کی عزت کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرکے اپنے کوفخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے عورتوں کو اعلیٰ منصب پر فائز کردیا ہے مگر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ برہنہ ونیم لباس کہ پہنے سے عورتیں محفوظ نہیں رہیں بلکہ عورتیں پہلے سے بھی زیادہ غیر محفوظ ہوگئیں ہیں ،آج زنا عام ہونے اورعورتوں کی عصمت کو نوچنے اور گینگ ریپ اورعورتوں کی زندگی کو پامال کرکہ ان کو زندہ جلانے میں اہم رول بے حیائی وبے پردگی کو عام کرنے والوں کا ہے ، جن کی وجہ سے عورتوں کی کئی زندگیاں برباد ہوگئیں ہیں جوسب کی نظروں کے سامنے موجود ہے ،مگر ظاہری طاقت کے مالک بے حیائی کی جڑھ کو کاٹ نے کے بجائے اُلٹا درخت کی جڑھ کو پانی دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کے ہم عورتوں کی عزت کی حفاظت کریں گے، مگر بے حیائی کے دروازے بند نہیں کریں گے شراب حرام ہے اسلام میں ،انکی نظرمیں شراب پینا بری بات ہے مگر شراب کی دکانیں بند نہیں کریں گے ۔اسی طرح سگر یٹ بیڑی گُٹکا تمباکو نوشی وغیرہا نشے لی چیزیں بیچنا خریدنا سب منع ہیں ،مگریہ کوئی کھاکر لقمہ اجل بن جائے تو کہیں گے یہ سب خراب عادتیں ہیں مگر مکمل طورپر جڑسے ختم نہیں کریں گے ،یاد رکھیں جب تک بے حیائی شراب نوشی زنا وغیرہا حرام دروازے کھلے رہیں گے یہ واقعات روز مرہ ہوتے رہیں گے کیوں کہ جڑ کی تازگی ہی سے درخت کی زندگی ہے جڑہی کاٹ دیں توسب شاقیں خود با خود سوکھ جائیں گی۔ انشاء اللہ عورتوں پر ہونے والے مظالم ظلم ودتشدد آگ میں جھلس نایہ سب ختم ہوکر ایک اچھا خوبصورت معاشرہ بنے گا
اسلام میں عورتوں کا مقام ۔زمانے جاہلیت میں عورتوں کا کوئی مقام نہیں تھاجانوروں کی طرح ان کو مارتے پیٹتے ،مردوں کے لئے نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک کھلونا سمجھ تے ،ذرا ذرا سی بات پر عورتوں کے کان ناک وغیرہ اعضاء کاٹ لیا کرتے ،کبھی کبھی تو قتل بھی کردیتے ،عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ دفن بھی کردیتے تھے ،عورتیں گھٹ گھٹ کر رو رو کراپنی زندگی کے د ن گذارتی تھی انکی مظلومیت کے آنسوئوں کوپوچھنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا تھا ،اللہ پاک نے رحمت اللعٰالمین ﷺ کے آفتاب کو طلوع فرمایاتو عورتوں کو وہ مقام حاصل ہوا ،ساری دنیا اچانک یہ محسوس کرنے لگی
جہاں تاریک تھا ظلمت کدہ تھا سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کے گھر گھر میں اجالاتھا
اسلام میں عورتوں کا مقام اونچاہے، عورت ،خداکی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے عورت ،حضرتِ آدم علیہ السلام وحضرت ِ حوا علیہاالسلام کے سواتمام انسانوں کی ماں ہے ،اس لئے وہ سب کے لئے قابلِ احترام ہے عورت ،دنیا کے خوبصورت چہرہ کی ایک آنکھ ہے عورت ،دنیا میں بھائی بہنوں سے محبت کرتی ہے شادی کے بعد شوہر سے محبت کرتی ہے ماں بن کر اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے اس لئے عورت دنیامیں پیارو محبت کا ایک ،تاج،محل ہے
میاں بیوی کے درمیان محبت و شفقت
اللہ پاک نے سورہ روم آیت نمبر ۲۱میں فرمایا ۔تمہارے درمیان میں محبت و شفقت پیدا فرمادیا
میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق نافظ کردئے گئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی پابندی کے ساتھ حقوق اداکرکہ ساری زندگی اللہ ورسول ﷺ کی رضاوالی زندگی گذاریں سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۲۸پر اللہ پاک نے فرمایا ۔عورتوں پر مردوں کے ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ۔اچھے سلوک کیسا تھ اور مردوں کے لئے یہ فرمان جاری ہواسورہ نساء آیت نمبر ۱۹میں اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو، ان آیاتِ طیبہ سے صاف ظاہر ہوا کہ اسلام میں ایک دوسرے کے حقوق موجودہیں ایسے حقوق اور قوموں میں نظر نہیں آتے اگر ان حقوق پر عمل پیراہوجائیں تو طلاق جیسی بُری چیز سے محفوظ ہوجائیں گے ۔یہ اسلام میں عورتوں کا مقام ہے اسلام عورتوں کی عصمت عزت حرمت کا محافظ ہے، باریک کپڑے پہنے نیم لبا س پہن کربرہنہ گھر سے نکلنے سے زنابلجبر کا قوی اندیشہ ہے ، خواتینِ اسلام۔ ان لباسوں سے عزت کی حفاظت نہیں ہوسکتی ،اسی لئے اسلام عورتوں کو باپردہ رکھ کر عزت وحرمت کی حفاظت کرتا ہے ناکہ مقیدکرتاہے
مسلمان عورتوں کا پردہ ۔اللہ تعالیٰ ورسول ﷺ نے انسانی فطرت کے تقاضوں کے مطابق بدکاری کے دروازوں کو بند کرنے کے لئے عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے پردے کی فرضیت اور اسکی اہمیت قرآن وحدیث سے ثابت ہے ،اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر پردہ فرض کیا ہے سور ہ احزاب آیت نمبر ۳۳ میں فرمایا۔ تم اپنے اپنے گھروں کے اندر رہو اور بے پردہ ہوکر باہر نہ نکلوجس طرح پہلے زمانے کے دورِ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ باہر نکل کر گھومتی پھرتی ہیں ۔ترمذی شریف ج ۱ ص۱۴۰ میں حدیث موجود ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ،عورت پردے میں رہنے کی چیزہے جس وقت وہ بے پردہ ہوکر باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے پھر ترمذی شریف میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنائو سنگار کرکے اترا اترا کر چلنے والی عورت کی مثال اس تاریکی کی ہے جس میں بالکل روشنی ہی نہ ہو
پیاری بہنوں ، آج کل جو عورتیں بنائو سنگار کرکے اور عریاں لباس پہن کر،خوشبو لگائے بلاپردہ بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں اور سنیما تھیٹروں میں جاتی ہیں وہ ان حدیثوں کی روشنی میںاپنے بارے میں خود فیصلہ کرلیں کہ وہ کون ہیں ؟ اور کیسی ہیں اور کتنی بڑی گنہگار ہیں ،اسلام میں عورتوں کو جو عزت دی ہے وہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتی ،اس پرغورکریں ؟دنیا کی تمام کتابیں کھلی پڑی رہتی ہیں اور بے پردہ رہتی ہیں مگر قرآن شریف پر ہمیشہ غلاف چڑھاکرپردے میں رکھا جاتا ہے بتائو کیا قرآن شریف پر غلاف چڑھانایہ قرآن شریف کی عزت ہے یابے عزتی،اسی طرح تمام دنیا کی مسجدیں ننگی اور بے پردہ رکھی گئی ہیں مگرخانہ کعبہ پر غلاف چڑھاکر اس کو پردہ میں رکھا گیا ہے تو بتائو کیا کعبہ مقدسہ پر غلاف چڑھانا اس کی عزت ہے یا بے عزتی ،تمام دنیا کو معلوم ہے کہ قرآنِ مجید اور کعبہ معظمہ پر غلاف چڑھا کران دونوں کی عزت وعظمت کا اعلان کیا گیا ہے کہ تمام کتابوں میں سب سے افضل واعلیٰ قرآنِ مجید ہے اور تمام مسجدوں میں افضل و اعلیٰ کعبہ معظمہ ہے ۔اسی طرح مسلمان عورتوں کو پردے کا حکم دے کراللہ پاک و رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ اقوامِ عالم کی تمام عورتوں میں مسلمان عورت تمام عورتوں میں افضل واعلیٰ ہیں ۔خواتینِ اسلام اب تمہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ اسلام نے مسلمان عورتوں کوپردے میں رکھ کر ان کی عزت بڑھائی ہے یا ان کی بے عزتی کی ہے ۔(نام کتاب ،اسلام میں عورتوں کا مقام )
وظیفہء فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
روض الافکار میں ہے کہ ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی خدمت میں کچھ طلب کرنے حاضر ہوئیں تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ،قسم ہے اس ذاتِ اقدس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آلِ محمد کے یہاں تین چولہا ٹھنڈا پڑا ہے میں تمہیں پانچ کلمات سکھاتا ہوں جو حضرت جبرائیل علیہ السلام لائے ہیں ۔یا اول الاولین یا آخر الآخرین یا ذوالقوۃ المتین یا ارحم الراحمین حضرت ِ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کسی قسم کی بھی حاجت ہو تو جمعرات کے دن اس حاجت کی طلب میں علی الصباح گھر سے باہر نکلتے وقت آیۃ الکرسی ،سورہ آل عمران کی آخر ی آیت ،سورہ زلزال اور سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرے اس میں تمام دنیا و آخرت کی حاجتیں ہیں (جو برآئیں گی )(نزہۃ المجالس ،ج،۲ ص ۶۷۳) مذکورہ عمل حضور اکرم ﷺ نے اپنی لختِ جگر کو عطافرمایا اور ان کے ذریعہ اس امت کو نصیب ہوا اور ساتھ ہی ساتھ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حاجت بر آوری کے لئے عمل بتایا یقیناََ ان اعمال کا فائدہ ہرپڑھنے والے کو نصیب ہوگا ۔تا ریخ کے اوراخ میں حضرتِ حواعلیہاالسلام سے لیکر آج تک جتنی بھی نیک خوفِ خدامیں لرزنے والی خواتینِ اسلام پیداہوئیں ہیں ان کے تذکرِ واقعات کی شکل میں موجود ہیں اس کے لئے ایک مضمون ناکافی ہے ۔
خواتینِ اسلام دیکھا دیکھی اسلام پر تنقید نہ کریں اسلام کو پڑھیں سمجھیں دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرنی کے لئے کوشاں رہے اور کتابوں کا مطالعہ کرتے رہیں چند کتابوں کے نام درج کرتے ہیں جیسے اسلام میں عورتوں کا مقام (عبدالمصطفیٰ اعظمی )،خواتین کے واقعات، عورت اور آزادی ،تحفہء دلہن،خواتین کے مسائل ،سُنی تُحفہء خواتین ، وغیرہ کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا ۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے
مرادیں غریبوں کی بر لانے والی

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والے

فقیروں کے ماویٰ ضعیفوں کا ملجیٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے