کسان تحریک:ٹوئٹر کا ہنگامہ ہم جاگے مگرکسی کے جگانے پر

تحریر: محمد طفیل ندوی
جنرل سکریٹری : امام الہندفائونڈیشن

اللہ رب العزت نے ہمارےہاتھ میں پانچ انگلیاں بنائی ،کوئی بڑی، کوئی چھوٹی، کوئی موٹی ،کوئی پتلی، مگرہرایک اہمیت کامقام رکھتی ہیں کوئی دستخط کے طورپر ،کوئی شہادت کے طورپر، توکوئی جیت کانشان دکھاکر،سب کااپنااپنامقام اورسب کی حیثیت ہیں، اس میں اگرکوئی کٹ جائیں توہاتھ کی خوبصورتی میں کمی واقع ہوجائےگی اورپانچوں انگلیاں بندہوکر جومٹھی بنتی ہے وہ مٹھی کمزورہوجائےگی۔
اسی طرح باغ میں خوبصورتی آتی ہے مختلف اقسام کے پھولوں کے پیداوارسے کہیں گلاب کھل رہاہو،کہیں کنول کھل رہاہوتوکہیں یاسمین وچمیلی کھل رہاہوں،ان کاکھلنا باغ کی خوبصورتی کیساتھ دیکھنےوالوں کوبھی ایک حسین لمحہ میسرہوتاہے یہی وجہ ہے کہ ہماراوطن عزیز ہندوستان مختلف پھولوں سے پوری دنیامیں کھل رہاہے کہیں ہندواپنے مندرمیں جاکر پوجاپاٹ کررہاہے ،کہیں مسلمان مسجد میں جاکر اپنےاللہ رب العزت کےسامنے سجدہ ریز ہورہاہے،کہیں عیسائی اپنے گرجاگھرمیں اپنی منت وسماجت کررہاہے، توکہیں سکھ اپنے گرونانک کےسامنے اپنی فریادیں پیش کررہاہے، یہ ہمارےملک کی خوبصورتی ہے اس سےکہیں زیادہ خوبصورتی اس وقت اورجھلکتی ہے جب ہم دیکھتےہیں کہ ایک ہندوتعصب سےدورہوکراپنےوطن عزیزکےمسلم بھائی کوپانی پلاکرسیراب کررہاہوتاہےاورایک دوسرےکی پریشانی ومصیبت میںمددوتعاون کررہےہوتےہیں ،سکھ پریشان ہےتوعیسائی مددکررہےہیں کبھی ایساہواکہ ہرایک مذاہب ایک ساتھ ایک دوسرےکی مددکرتےنظرآتےہیں یہ ایسی خوبصورتی ہےجس کوبیاں نہیں کیاجاسکتا اسی تصویر کوجمہوریت سے تعبیرکیاجاتاہے جس کے چرچےہرچہارجانب ہے پھراسی جمہوریت کی چادرتلے مختلف تنظیمیں ،جماعتیں اپنےاپنے طورپر ملک کوباوقار بنانے اوراس کو سنوارنےکیلئے میدان میں سرگرم عمل ہیں ۔
فی الحال اس وقت کسان تحریک بڑی ہی سرخیوں میں ہےجس میں تقریباسارےمذاہب شامل ہیں مگراکثریت سکھ بھائیوں کی ہے ‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ کسان ہمارےملک کاایک عظیم پھول ہے جوہماری زندگی کی خوراک کیلئے بہت اہمیت کاحامل ہے یہ منظم طریقےسے اپنی آوازبلندکررہےہیں تقریبا۸۰ دن کےقریب ہوچکےہیں اوران میں کئی افراد اس احتجاج میں دنیاسے رخصت ہوگئے یہ احتجاج اس وقت ایک بڑی قوت کیساتھ مضبوطی کی منزل کوچھوچکاہےہرچہارجانب سے ان کے حق میں آوازیں بلندکی جارہی ہیں ان کے حوصلوں میں ایک نیاجوش اورنیاجذبہ امنڈرہاہے خصوصا ۲۶جنوری کے بعد حالاں کہ طرح طرح سے اسے بدنام کرنےاوراحتجاج کو کمزورکرنےکی مکمل کوششیں کی گئی مختلف ناموں سے یادکیاگیا دھمکیاں دی گئیں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے شروع سےلیکر اب تک اپنی باتوں اورعزائم پراٹل ہے’’قانون واپسی نہیں توگھرواپسی نہیں ‘‘یہاں تک کہ ایک ۹۷سالہ بزرگ کسان سے جب پوچھاگیا کب تک آپ یہاں رہیں گے توان کابھی یہی جواب تھا ’’جب تک قانون واپس نہ ہو‘‘احتجاج کی ایک یہی قوت ہوتی ہے کہ وہ اپنےعزائم پر قائم ودائم رہے اوراپنی بات پرامن طریقےسے پیش کرتےرہیں دنیامیں بڑےبڑے احتجاج ہوئے ،بھوک ہڑتالیں ہوئیں ،گاندھی جی نےخود ۸سال تک افریقہ میں اپنااحتجاج بلندکیا انگریز کی ناپاک سازشوں سے وطن عزیز کوآزادہونےمیں کئی سوسال لگ گئے مگرکامیابی نے قدم چوما ایسانہیں ہےکہ ہم احتجاج کریں اورفوراکامیابی مل جائےبلکہ اس کیلئے وقت ،محنت،مشقت، حوصلہ،جوش وجذبہ،اورہمت وجوانمردی کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جاری احتجاج میں یہ چیزیں مسلسل دیکھنےکومل رہی ہیں کسان ہروقت ہرچینل نیوزپرایک ہی جملہ پوری قوت کیساتھ کہہ رہےہیں قانون واپسی توگھرواپسی ابھی گفتگوکادروازہ تو بندہے حکومت کہہ رہی ہے ہم گفتگوکیلئے تیارآپ کے قریب میں ہے جس کوکہاگیاایک’’ کال کی دوری‘‘تواسی کےجواب میں کسان کہہ رہےہیں مسائل توگفتگوسے ہی حل ہوں گے لیکن دبائومیں نہیں ،اس کیلئے راستہ نرم ہوناچاہیے، چاروں طرف سے جوقلعہ بندی کی گئی ہےاس کو ہٹایاجائے، ہمارے جونمائندےلاپتہ ہیں اسکو حاضرکیاجائے، احتجاج کےاسی پیچ وخم کےبیچ بین الاقوامی سطح پر آوازبلندہونی شروع ہوئی امریکی النسل ’’پوپ سنگر ریانا ‘‘ایک بہت ہی مختصرالفاظ میں ٹوئٹ کےذریعےاپنی بات پیش کی جوپورےٹوئٹرخیمےمیں ایک ہل چل سی مچ گئی ،پھراٹھارہ سالہ ’’گریٹاتھنبرگ ‘‘جوسویڈن کی باشندہ ہے اپنی بات پیش کی یہ ایسی کم عمرلڑکی ہے جس نے اپنے ملک کی پارلیامنٹ کے سامنے ماحول کی آلودگی کولےکر آوازبلندکی تھی ،پھربڑےبڑے نمائندوں وقائدین کی سیلفی کولےکر بیان دیا تھااوراسی طرح کئی موقعوں پر اپنی بات بےباکی کیساتھ پیش کرتی ہے یہی وجہ کی کروڑوں لڑکیاں ان کی تحریک اوربے باکی کودیکھ کر اپنی متحرک زندگی کیلئے اپنارول ماڈل مانتی ہے ان کے کارنامے کودیکھ کر نوبل انعام کیلئے نام منتخب کیاگیا ہےجوان کے حوصلوں کواورتقویت سے مزین کریگا۔معروف لبنانی نزاد امریکی اداکارہ میاخلیفہ نے بھی اس ٹوئٹ میں حصہ لیا ،اسی طرح امریکہ کی نائب صدر کملاہیرس کی بھانجی’’ میناہیرس ‘‘نےبھی اپنی بات پیش کی لیکن ان ٹوئٹس کےجواب میں ہمارےملک کی مشہور شخصیات جن میں بھارت رتن ایوارڈسے سرفرازکرکٹ کے بےتاج بادشاہ سچن تیندوالکر،آوازوں کی بادشاہ لتامنگیشکر ،فلمساز اجےدیوگن ،اکشےکمار ،کرن جوہر اورچندماہ سےخراب سرخیاں بٹورنیوالی فلم اداکارہ کنگنارناوت انہوں نےجواب تودیا لیکن کوئی مثبت اندازمیں نہیں بلکہ یہ کہہ کرانہیں خاموش رہنےکی صلاح دی گئی کہ یہ ہمارے ملک کااندرونی معاملہ ہے باہری شخصیات کواس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے کنگنانے تودس قدم آگےبڑھ کر ان کسانوں کو دہشت گرد، خالستان اورنہ جانےکیسےکیسے جملے کس دیئےیہاں تک کہ ہندوستان کرکٹ ٹیم کے سلامی بلے بازروہت شرما نےچندجملے کہےتواس کو’’دھوبی کاکتا‘‘ کہہ ڈالا ،ایک فلمی اداکارہ تاپسی پنو نے کہاتواس کوکاپی رائٹ اورگالی جیسے الفاظ کا استعمال کیاہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیےکہ فلمی میدان میں کسی شخصیت کاکرداراداکرنا اورحقیقی زندگی میں اس کااپنےاندرپانا اوربات ہے بےشمارشخصیات ہیں جن کی زندگی پر فلم بنائی گئی ’’مراٹھوں کی آوازبلند کرنیوالے بالاصاحب ٹھاکرے،ہندوستان کی تحریک آزادی کی عملی طور پرابتدا کرنے اور برطانوی نو آبادیات کو للکارنے والے بہادر’’منگل پانڈے ‘‘ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندرسنگھ دھونی ، سابق وزیراعظم ہندڈاکٹرمن موہن سنگھ اورخود موجودہ وزیراعظم نریندر مودی صاحب کی زندگی پرفلم بنائی گئی توایسانہیں ہواکہ جوچیز ان حضرات کے اندرتھی یاہیں وہ فلمی شخصیات میں بھی موجودہوںاورانہیں اسی نام سے پکاراجانےلگا ہوکیاایساہواکہ وویک اوبرائے نےوزیراعظم پرفلم بنائی اوراسکو وزیراعظم کہاگیاہویاخودوہ وزیراعظم ثابت کرنےلگےہوں،سوشانت سنگھ کومہندرسنگھ دھونی کہاگیاہویاعامر خان کومنگل پانڈےکہاگیاہونہیں ۔تو اسی طریقےسے کنگنا نے جھانسی کی رانی پراپناکرداراداکیا ظاہرسی بات ہے اصلی جھانسی کی رانی کی بات ہی کچھ اورہےجھانسی کی رانی غالباً 19 نومبر 1828 کو وارانسی میں ایک ہندو براہمن کے گھر پیدا ہوئی۔ ان کے والد کا نام موروپنت اور والدہ کا نام بھاگیرتی تھا۔ ان کے والد ابتدائی طور پر بٹھور ریاست کے راجا کے لیے کام کرتے تھے، لیکن بٹھور کے راجا نے اپنی سگی بیٹی سے بھی زیادہ’’ لکشمی بائی ‘‘یہ اصل نام تھا کی پرورش کی۔ جھانسی ریاست کی رانی تھی وہ جنگ آزادی ہند 1857ء میں بھرپور کردار نبھانے والے ان لیڈروں میں سے ایک تھی جنہوں نے ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں زبردست کردار آدا کیا۔ جب جنگ آزادی کی تحریک جاری ہوئی۔ تو رانی نے بھی انگریزوں کا سامنا کیا،جنگ کے دوران بے شمار انگریزوں کو موت کی گھاٹ اتارا۔ اس کے بعد اچانک کسی فوجی نے میدان جنگ میں رانی پر تلوار سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئی اور وہ میدان سے ایک بیابان جگہ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں رانی نے ایک بزرگ کو دیکھا اور ان سے کہا کہ وہ لکشمی بائی کو اس طرح جلائے کہ ان کا جسم موت کے بعد بھی انگریزوں کے ہاتھ نہ آئے جیسا زندگی میں کبھی انگریزوں کے ہاتھ نہ آئی۔ اس فقیر نے رانی کو جلایا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کے رانی کا جسم کہا گیاوہ اس کام سے انگریزوں کو یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ انگریز نہ تو رانی کو زندگی میں پکڑ سکے اور نہ موت کے بعد۔
اسی طرح رانی کے بدولت ہندوستان میں آزادی کا جذبہ برپا ہو گیا،۔ آج بھی رانی کو بھارت میں ایک ملّی خاتون کا درجہ حاصل ہے جن کی آزادی ہندمیں عظیم قربانیاں،جدوجہد اوربہادری شامل ہیں ان میں اوران میں زمین وآسمان کافرق ہے یہ الگ بات ہے کہ خوش فہمی میں مبتلاہوکر اپنے کورانی کہنےلگے تواس سے کوئی مسئلہ نہیںخیران تمام ٹوئٹس کے بعدماہرین نے اس پرچرچاشروع کی سب سے پہلےتویہ کہا گیاکہ یہ ہمارے ملک کااندرونی معاملہ ہے اوریقیناہے تودوماہ سے زیادہ وقت گذرگیا اب تک خاموشی کیوں ؟دوسوکےقریب کسانوں کی موت ہوگئی اس پر خاموشی کیوں ؟ان کے اوپر آنسوکےگولے اورتیز ٹھنڈک میں پانی کی بوچھار برسائی گئی اس پرخاموشی کیوں ؟ہاوےکھوددیےگئے اس پرخاموشی کیوں؟ابھی چندروزقبل راستوں پرنوکیلے کیلیں گاڑدی گئیں ،کنٹیلےتارڈالدیے گئے اس پرخاموشی کیوں ؟۲۶جنوری کےبعد جوحالات پیش آئے۲۸ جنوری کولائٹیں بند،پانی بند اس پر خاموشی کیوں ؟سوشل میڈیا کے ذریعے ان کسانوں کی باتوں کوعوام تک پہونچانیوالے پترکارکوگرفتارکیاگیااس پر خاموشی کیوں ؟اس طویل مدت کےبعد جب ہماری شخصیات خاموشی اختیار رہ کر تماشہ بین بنیرہیں توآخرکار انہیں بولنےکیلئے مجبورہوناپڑا، اس وقت ہم اپنےٹوئٹرسے ایک ٹوئٹ درج کرتےلیکن نہیںہوا ہم نے کروٹ تولی لیکن کسی کےجگانےپرکاش ہم اسی وقت اپنی زبان کھولتےاوراپنےٹوئٹر کاسہارالیتے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے