بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

تحریر: محمد اظہر شمشاد مصباحی
برن پور بنگال
8436658850

ہندوستان ایک عظیم ملک ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہاں کے تمام لوگ عظیم سمجھ کے مالک ہیں یہ کہنا درست نہیں کیوں کہ جب کسانوں کا کوئی معاملہ نہ ہو تب بڑی بڑی محفلوں میں بڑے بڑے لوگ بڑے فخر سے یہ نعرہ دیتے ہیں جے جوان جے کسان لیکن جب کوئی خلفشار ہو تب اکثر و بیشتر لوگ اپنی زبان کو حرکت دینے سے گریز کرتے ہیں اور اس سے کنارہ کشی میں عافیت گمان کرتے ہیں کافی دنوں سے وطن عزیز ہندوستان میں کسان آندولن چل رہا ہے سوائے چند بڑی شخصیات کے کسی نے اس معاملے میں اپنے لبوں کو جنبش دینا گوارہ نہ کیا سب بت بنے رہیں لیکن جیسے ہی ایک پوپ اسٹار ریھننا نے یہ ٹویٹ کیا why aren’t we talking about this #farmers protest ہندوستان میں گویا ایک جنگ چھڑ گئی بہت سے سر کردہ مشہور بالی ووڈ اور کرکٹرز نے زبردست انداز میں ٹویٹ کرنا شروع کر دیا گویا انہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ ٹویٹ کے ذریعہ ہی وہ میدان جنگ سر کر لیں گے اور ہندوستان کے تمام معاملات حل کرلیں گے اور کچھ نفرت پسند شاید ریھننا کو ریحانہ سمجھ کر زبردست انداز میں سوشل میڈیا پر ٹرول کرنے لگیں لیکن پچھلے کئی مہینوں سے ہندوستانی کسان اپنے حق کے لیے حکومت کے خلاف آندولن کر رہے ہیں اس پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا اتنا ہی نہیں ایک مشہور بنیان کمپنی ان کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ ایڈ بھی کرنے لگی کہ یہ اندر کا معاملہ ہے اپنا لک پہن کے چلو اگر کوئی چھوٹا طالب علم ہو تو اس کو سمجھایا جا سکتا ہے لیکن ان عظیم ہستیوں کو کون سمجھائے کہ لوک تنتر کوئی اندر کی بات نہیں جسے صرف اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ہی محسوس کیا جائے بلکہ اسے دوسرے ملک کے لوگوں کے لیے بھی محسوس کیا جاتا ہے ابھی کچھ ہی دن پہلے امریکہ میں ٹرمپ حامیوں نے زبردست مظاہرہ کیا تھا جس پر پوری دنیا دم بخود رہ گئی تھی اور تقریباً ہر دیش کے لوگوں نے آواز اٹھایا تھا یہاں تک کہ ہمارے پردھان منتری نے بھی ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ واشنگٹن سے آ رہی دنگوں کی خبروں سے حیران ہوں غیر قانونی مظاہروں کو حاوی ہونے نہیں دیا جا سکتا کیا اس وقت یہ امریکہ کے اندرونی معاملے میں دخل دینا نہیں تھا مزید برآں اس سے کچھ دنوں پہلے مودی جی نے ایک نعرہ دیا تھا اب کی بار ٹرمپ سرکار کیا اس طرح کا نعرہ دینا زیب دیتا ہے کیا یہ درست تھا اس وقت کسی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی اتنا ہی نہیں کچھ مہینوں قبل بہت سارے celebrities امریکہ میں چل رہے black lives matter پر ٹویٹ کیا تھا کیا یہ صحیح تھا کاش کہ جس طرح فلمی اداکار کرکٹرز اور بڑی بڑی ہستیاں اس معاملے پر ٹویٹ کر رہے ہیں اسی طرح اگر کسانوں کی حمایت میں ٹویٹ کرتے تو شاید ان کے درد پر کچھ مرہم ہو جاتا لیکن سوائے چند ہستیوں کے کسی نے اس پر کچھ نہیں کہا بلکہ کچھ نے تو الٹا کسانوں کو ہی قصوروار ٹھہرا دیا اور خالصتان سے منسوب کرنے لگیں چھبیس جنوری کو جو واقعہ دہلی میں پیش آیا ہے اس کے بعد سے تو بہت سے لوگوں نے کسانوں کو ہی قصوروار مان لیا ہے یہ بات قابل تسلیم ہے کہ جو کچھ چھبیس جنوری کو ہوا وہ غلط ہے جن لوگوں نے ایسی مذموم حرکت کو انجام دیا ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن اس کی وجہ سے آندولن کو غلط مان لینا صحیح نہیں ہے جو پر امن طریقے سے آندولن کر رہے ہیں ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے ایک خبر اور سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے #india against propeganda اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم تمام ہندوستانی پروپیگنڈے افواہ اور چھوٹی خبروں کے خلاف ہیں لیکن اس کے خاتمے کے لیے ہمیں سب سے پہلے گودی میڈیا کا بائیکاٹ کرنا ہوگا کیوں کہ ان تمام چیزوں کو ہوا دینے میں سب سے اہم کردار گودی میڈیا کا ہوتا ہے جس دن ہمارے ملک میں میڈیا کا نظام صحیح ہو جائے گا اس دن ملک کے اکثر معاملات خود بخود حل ہو جائیں گے
میری ان تمام بڑی ہستیوں سے گزارش ہے کہ وہ ضرور کسانوں کی حمایت میں بے باک ہو کر آواز اٹھائیں کیوں کہ پر امن طریقے اپنی آواز بلند کرنا غلط نہیں ہے بلکہ یہ ہمارا حق ہے اور ہم ایک آزاد جمہوری ملک کے باشندے ہیں ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ ہم اپنے حق کا صحیح استعمال کریں نہ کہ غلاموں کی طرح مظلوم یا گونگے کی طرح خاموش ہو کر زندگی گزاریں
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
اور ہم تمام لوگوں کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح محفوظ کر لینی چاہیے کہ کسان ہم سے نہیں بلکہ ہم کسان سے ہیں کیوں کہ جو اناج ہم اپنی تھالی میں سجا ہوا پاتے ہیں انہیں بڑی مشقت کے ساتھ کسان اپنے کھیتوں میں دن رات محنت کر کے معمولی سی قیمت پر فروخت کر کے ہم تک پہنچاتے ہیں جس کی قدر ہمیں ضرور بالضرور ہونی چاہیے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے