اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کے ساتھ سلوک

تحریر: عبدالکریم مصباحی شراوستی
استاذ: جا معہ اہل سنت غریب نواز
پرتواڑہ، امراوتی (مہاراشٹرا) انڈیا

مذہب اسلام ایک آفاقی وآسمانی دین ہے اس کی ایجاد اللہ رب جل مجدہ الکریم نے فرمائی ہے اس لئے اس میں کوئی نقص وعیب،کمی زیادتی نہیں کیوں کہ اسکی تمام مخلوقات کا جملہ عیوب سے پاک ومنزہ ہو نا لازم وضروری ہے نیزدنیا میں موجودہ تما م ادیان سے بہتر اور سچا ہے جیسا کہ (ان الدین عند اللہ الاسلام)اس کی شہادت وگواہی کے لئے کافی ووافی ہے نیز زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق اسلامی اصول وقوانین میں رہبری ورہنمائی کا موجود ہونابھی اس کی صداقت کی کھلی دلیل ہے اور یہ خوبی اسلام کے سوا کسی اورمذہب ودھرم میں نہیں ہے کہ زندگی کے ہر شعبے کے کئے رہنمائی موجودہو۔

اسلامی مملکت میں غیر مسلمانوں کے حقوق
مذہب اسلام کے ماننے والوں کو اسلامی معاشرہ کا نام دیا گیا ہے نیز اسلامی معاشرہ ایک مخصوص عقیدے اور نظر یے کی بنیاد پر قائم ہے جو اس کے تمام اداروں،احکام،قوانین اور اخلاقی اقدار کا مصدرومنبع ہے یہ نظر یہ اسلام ہے اور اسی پر مبنی ہونے کے باعث یہ معاشرہ اسلامی معاشرہ کہلا نے کا مستحق بنتا ہے چنانچہ اسلامی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو اسلام کو پورے طور پر اپنا چکا ہو۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلامی معاشرہ اپنے اندر پناہ لینے والے دوسرے تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ظلم وزیادتی،اور سوتیلا برتاؤ کرتا ہے بلکہ وہ اپنے مسلم و غیر مسلم شہریوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد،روداری،عدل وانصاف اور نیکی پر رکھتا ہے۔

غیرمسلموں کےساتھ حسن سلوک کاثبوت قرآن سے
اسلام جس طرح اپنے پیرو کار وں کے ساتھ حسن سلوک او ر رواداری کا پیغام دیتا ہے اسی طرح غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور رواداری کا پیغام دیتا ہے کیوں کہ انسان مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کا صرف اولاد آدم سے ہوناہی اسے احترام کے قابل بناتاہے جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے (ولقد کرمنا بنی آدم وحملنا ھم فی البر والبحر)یعنی ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور خشکی و تری میں سوار کیا یہ آیت کریمہ مطلق ہے مسلم و غیر مسلم کی قید نہیں ہے (لااکراہ فی الدین)اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کسی کو دین اسلام جبرا نہ دو، یعنی کفار کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور نہ اس سلسلے میں ان پر سختی برتی جائے (حوالہ تفسیر نعیمی)
غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اوربھلائی کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے (لا ینھٰکم اللہ عن الذین لم یقاتلو کم فی الدین ولم یخرجوکم من دیا رکم ان تبروہم وتقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین)اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑا اور تمہیں تمہارے گھر وں سے نہ نکالا کہ انکے ساتھ احسان کرو اور اچھابرتاؤ برتو (حوالہ کنزالایمان)
لہذا مسلمانو ں کو تمام انسانوں کے ساتھ(اگرچہ وہ ان کے دین کا انکار کرتے ہو ں) نیکی اور انصاف کا حکم دیا گیا ہے بشرطیکہ وہ اسلام کے راہ میں روڑے نہ اٹکائیں اور مسلمانوں پر ظلم نہ کریں۔حسن معاشرت اور قانون سازی میں اہل کتاب کا ایک خاص مقام ہے اہل کتاب وہ لوگ ہیں جن کا دین در اصل آسمانی صحیفہ پر مبنی ہو مگر بعد میں اس میں تحریف کردی گئی ہو اسلام نے ان کے ساتھ بھلائی اور نیکی کا حکم دیا ہے اور ان کا ذبیحہ نیز ان کی عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کے ساتھ نکاح کو بھی جائز قرار دیا ہے۔نیز اس حسن معاشرت ورواداری میں اہل ذمہ بھی ایک خاص حیثیت کے حامل ہیں اسلامی اصطلاح میں مسلم معاشرہ میں موجود غیر مسلم شہریوں کو اہل ذمہ یا ذمی کہا جاتا ہے۔ذمی کا معنی ہے عہد،ضمانت اور امان یعنی غیر مسلم دارالاسلام میں اپنی جان و مال کی حفاظت اور مذہبی آزادی کے لئے حاکم اسلام کوٹیکس دیکر عہد وپیمان و ضمانت حاصل کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ میں انھیں ہر طرح کے نقصانات اور خو ف سے امن و امان مل جاتا ہے نیز معاہدہ ذمہ سے غیر مسلموں کو تقریبا وہی سارے حقوق حاصل ہوتے ہیں جو مسلم معاشرہ میں اہل اسلام کو حاصل ہوتے ہیں بشرطیکہ دنیا وی امور میں ان پر شریعت اسلامیہ کی پا سداری لازم ہوتی ہے غیر مسلموں کے مختلف گروہ میں ہر گروہ کے ساتھ اسلام الگ الگ برتاؤکرنے کا حکم دیتا ہے،ڈاکٹر محمود غازی کے الفاظ اسکی طرف اشارہ کررہے ہیں،جس غیر مسلم گروہ کا عقیدہ اورنظریہ اسلامی تعلقات سے جتنا قریب اورجس کا طر زعمل جتنا دوستانہ و مصالحا نہ ہوگا اس کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اتنے ہی قریب اور دوستانہ ہوں گے اور اس کو اتنی ہی رعایت دی جائے گی اس کے بر عکس جس کا نظر یہ توحید اور عقیدہ اسلام سے جتنا دور ہوگا اور جس کا طرز عمل مسلمانوں کے جتنا معاندانہ ہوگا اس کے ساتھ مسلمانو ں کے تعلقات اتنے ہی سخت وتلخ ہوں گے اور دامن اسلام اس کے لئے اتنا ہی تنگ ہوگا۔

خارجی وداخلی نقصانا ت سے غیر مسلموں کا دفع
اسلامی اصول وقوانین میں تمام خارجی نقصانات اور حملوں سے تحفظ کے سلسلے مسلم وغیر مسلم دونوں برابر ہیں شریعت اسلامیہ نے حاکم اسلام پر اقتدار اور فوجی قوت رکھنے کے باعث یہ واجب قرار دیا ہے کہ اپنے حدود سلطنت میں پناہ گزیں تمام غیر مسلموں کی ہر طرح کے حملے اور ایذارسانی سے حفاظت کرے،بعض اسلامی اسکالر نے تو یہاں تک کہاہے کہ اسلامی معاشرہ میں آباد غیر مسلموں پراگرکوئی بیرونی طاقت حملہ آور ہوتو ان کا دفاع اور جان ومال کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا اور جان کی بازی لگا دینا اسلامی حاکم وقت پر واجب ہے نیز داخلی سلوک ورواداری کے باب میں بھی اسلام کا نقطہ نظر یہی ہے کہ تمام ظلم وستم اور ایذارسانی سے ان کی حفاظت کی جا ئے اور مسلمان بھی اپنے قول وفعل سے انہیں کسی طرح نقصان نہ پہنچائیں ہاں اگر کبھی کوئی مسلمان کسی غیر مسلم ذمی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتا تو ان کے ساتھ عدل وانصاف کا میزان وہی ہوتا جو مسلمانوں کے آپسی اختلافات میں ہوتاجیسا کہ سرکار علیہ الصلوۃوالسلام نے اس باب میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ بڑی سختی کے ساتھ پیش آنے کا حکم صادر فرمایا ہے،،جس نے ذمی کو ایذا پہنچائی میں اس کے خلاف فریق بنوں گا اور روز قیامت ایسے شخص کی مخالفت کروں گا،نیز اس تعلق سے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ،ذمی جزیہ صرف اس لئے اداکرتے ہیں کہ ان کے جان ومال اسی طرح مقدس ہوجائیں جیسے ہمارے جان ومال ہیں،
اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ان کی جا ن ومال،عزت وآبرو،دکان مکان،کھیت وکھلیان اہل خانہ کی حفاظت اور اسباب آمدنی کی حفاظت و تو سیع بھی حاکم اسلام پر لازم و ضروری ہے نیز اسلام کی جانب سے ذمیوں کو عطاکردہ حقوق میں سر فہرست مذہبی آزادی کا حق بھی شامل ہے کسی بھی دین ومذہب سے تعلق رکھنے والا شخص اپنے عقیدہ پر کاربند رہ سکتاہے،اپنی عبادت کرسکتا ہے اسے دین چھوڑکر دوسرا دین اختیارکرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا نہ ہی اس پر حلقہ بگوش اسلام ہونے کے لئے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے جیسا کہ قرآن کا حکم،لا اکراہ فی الدین،الی آخر الآیہ اس پر شاہد ہے علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کسی کو دین میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو کیونکہ اسلام روز روشن کی طرح واضح دین ہے اس کے دلائل وبراہین نہایت جلی ہیں وہ (اسلام) ہرگز اس بات کا محتاج نہیں کہ کسی کو مسلمان ہونے پر مجبور کیا جائے۔نیز اسلام نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور ان کے مذہبی شعائر کا بھی خاص خیال رکھاہے یہاں تک کہ قرآن نے جن ا سباب کی بنا پر ان سے قتال کی اجازت دی ان میں آزادی عبادت گاہ کی حفاظت کو بھی شامل کیا ہے۔
اسلامی ممالک میں غیر مسلموں کے ساتھ ظلم وستم نہ ہو نا زیادتی پر انہیں انصاف دینا یہ اسلامی تاریخ کی صداقت کا واضح پہلو ہے اسلامی عدلیہ کو دی جانے والی طاقت اور آزادی اسلامی نظام کے محاسن ومفاخر میں سے ایک ہے لہذااسلام کے فراخدلانہ اور مبنی برحق نظامت عدالت میں تمام مظلوموں اورزیادتی کا شکار لوگوں کو خواہ وہ کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں اس بات کی ضمانت حاصل تھی کہ ظالم سے انصاف اور غاصب سے ان کا حق دلا یا جائے گا اگرچہ ظالم اپنی ہیبت وقوت سمیت خود خلیفہ ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ مصر کے حاکم عمر وبن عاص اور ایک قبطی کا واقعہ اس کا بین ثبوت ہے،،عمرو بن عاص کے بیٹے نے ایک قبطی کے بیٹے کو کوڑا مارکر کہا،، میں شریف زادہ ہوں،،قبطی شکایت لے کر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا امیر المومنین نے عمرو بن عاص اور ان کے بیٹے کو طلب کیااور قبطی کے بیٹے کو کوڑا دیتے ہوئے کہا مارو!اس شریف زادے کو،،جب وہ بدلہ لے چکا تو آپ نے عمروبن عاص کو ایک کوڑا رسید کرنے کو کہا اس لئے کہ انہیں کی طاقت کے نشے میں اس کے بیٹے نے کوڑا مارا تھا اس پر قبطی نے معذرت پیش کی پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنا شہرہ آفاق جملہ ارشاد فرمایا اے عمرو!تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا حالانکہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا۔
آفاقی مذہب ہونے کے باوجو د تنگ نظری اور تعصب پرستی کا کوئی واقعہ آپ کو تاریخ اسلام میں نظر نہیں آئیگا ہاں اگر کبھی کسی نے تسلط واقتدار کے نشے میں سرشا رہوکر دامن اسلام پر زیادتی،بدسلوکی اور حق تلفی کا بد نما داغ لگانے کی ناپاک کو شش کی ہے تو نیابت رسول ﷺ کی باگ ڈور تھامنے والے حاکم اعلی نے فورا اس کا سد باب کرتے ہوئے حدود اسلام کو نافذ فرمایا اور اسلام میں ظلم وزیادتی روا رکھنے والے افراد کو ان کے کیفر وکردار تک پہنچانے میں کوئی دریغ نہ فرمایا تاکہ اسلامی معاشرہ میں رہنے بسنے والے غیرمسلم افراد اپنے اوپر اسے زحمت تصور کرنے کے بجائے رحمت تصور کریں۔
الغرض اسلامی ممالک میں وہ سارے حقوق غیر مسلم شہریوں کو فراہم ہیں جو اسلامی معاشرہ میں مسلموں کو فراہم ہیں مثلا تحفظ جان ومال،آزادی کسب،آزادی رائے،آزادی عبادت،آزادی تعلیم،آزادی مذہب وملت،حقوق اطفال، حقوق نسواں،حقوق ملازمت،شادی بیاہ میں اپنے مذہبی رسم ورواج پر عمل کرنے کی آزادی اور سن رسیدہ اشخا ص کی کفالت کی ذمہ داری وغیرہ۔اس باب میں ہماری رائے منفرد نہیں بلکہ ایک غیر مسلم مورخ،،روبرٹسن،،اپنی کتاب،،تاریخ چارلس پنجم،،میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں لکھتا ہے،مسلمان ہی وہ قوم ہے جنہوں نے بیک وقت اپنی غیرت دینی کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے ادیان کے پیروؤں کے ساتھ رواداری کی روح کو فروغ دیاانہوں نے اپنے دین کی اشاعت کے لئے تلوار نکالنے کے باوجود اسلام میں رغبت نہ رکھنے والوں کو اپنی دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بالکل آزادی دے دی،،
مذہب اسلام اپنے اندر بسنے والے غیر مسلم شہریوں سے صرف اس قدر مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسلامی احساسات اور حرمات کا لحاظ رکھیں اسلامی روایات میں دخل اندازی نہ کریں مسلم شہریوں کی مذہبی آزادی میں کسی طرح روڑے نہ اٹکائیں اپنی مذہبی آزادی پر عمل کرتے ہوئے ان کی حق تلفی نہ ہونے دیں اس کے برعکس جب ہم غیر مسلم ممالک اور ریاستوں میں رہنے والے مسلما نوں کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان دونوں کے مابین کافی تفاوت نظر آتا ہے کافی حدتک ان کی مذہبی آزادی بھی مسلوب ہے تعلیمی میدان میں ان کا تناسب کافی کم اور سرکاری ملازمتوں میں ان کی شراکت نہ کے برابر ہے اکثر مواقع پر ان کے حقوق کی پامالی اور مختلف مقامات پرظلم وزیادتی کے پہاڑ توڑے جانے کا منظر نظر آتا ہے شادی بیاہ میں اپنے مذہبی رسم ورواج پر عمل کرنے میں رکاوٹیں نیز دینی مجالس میں وپروگراموں میں چندا ں پابندیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں عبادت گاہیں قائم کرنے،اشیائے خورد ونوش خریدنے میں بھی کافی دشواریاں در پیش ہیں بعض غیر مسلم ممالک وریاستوں میں تو بسااوقات زد وکوب،جانی مالی نقصانات اور وہاں کے اکثریتی طبقہ کے مذہب کو اقلیتوں پر جبراتھوپنے کا گھناونا کھیل بھی سامنے آتا ہے ان معاملات میں ہمارا ملک ہندوستان بھی کچھ ان ہی طرح کے مناظر پیش کر رہا ہے اور گنگا جمنی تہذیب وثقافت کا دامن تارتار کر رہاہے اسلامی روایات و کلچر کا چہرہ مسخ کر رہا ہے۔ کچھ اسی طرح کی شکایتیں اپنے مذہبی روایات میں محصوراور انتہائی سطحی نظر کے حامل بعض تعصب پرست ان مورخین کااسلامی ممالک وریاستوں کے متعلق بھی ہے جن کی تاریخ عرب پر گہری نظر نہیں ہے اس لئے کہ یہ اعتراضات ان دنیاوی دساتیر اور انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے متعلق تو درست ہے جو شہریوں کے مابین مساوات حقوق وفرائض کی تصریح کردینے کے باوجود کاغذ پر لکھے ہوئے حروف سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے کہ ان قوانین کا شعور اور ان کی اطاعت و حکمرانی پر ایمان نہ رکھنے کے باعث عوام پر خواہشات اور تعصبات ہی غالب رہتے ہیں اورقوانین ان پر غلبہ نہیں پاسکتے۔اسلام البتہ الٓہی شریعت اور آسمانی قانون ہے جس کے کلمات میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں،جس کا کوئی حکم ظلم پر مبنی نہیں ہوسکتا اور نہ جس کی اطاعت پر راضی ہوئے بغیرایمان مکمل ہوسکتا ہے نیز اس لئے بھی کہ اسلامی قانون سازی محسن انسانیت جناب محمد رسول اللہ ﷺنے کی ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سرکارﷺنے قانون سازی سے کہیں زیادہ اس کو زمینی سطح پر نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے