خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلی تیرا

تحریر: محمد روشن رضا مصباحی ازہری
خادم :رضوی دارالافتاء ،رام گڑھ
رکن :مجلس علمائے جھارکھنڈ

اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر و احسان ہے کہ اس نے اس ارض گیتی پر ایسے ایسے پاکیزہ نفوس و معزز ہستیاں پیدا کی جن کے دم سے وجود کائنات کی بقا ہے، جن کے در پہ جانے سے جہاں انسانیت و انسان کو ایک خوش گوار زندگی گزارنے کا سلیقہ ملتا ہے، تو وہیں دنیاوی مصائب و مشکلات سے نبرد آزمائی کی قوت بھی میسر آتی ہے جہاں وہ لوگوں کو بارگاہ الہی کے آداب سے آشنا کراتے ہیں، وہیں اسوہ رسالت پر عمل کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں، جہاں یہ عظیم الشان نفوس کا اخلاق و کردار لوگوں کو اخلاق ذمیمہ سے اعراض و اہمال کا درس دیتا ہے، وہیں اخلاق حسنہ سے متصف ہونے کا جذبہ بھی عطا کرتا ہے.
الغرض! ان کی بارگاہ سے وہ دروس و عبر و رہنما اصول ملتے ہیں جن پر عمل کرکے انسان تقرب الی اللہ کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے اور محبوبان خدا کے زمرے میں اس کی شمولیت ہوجاتی ہے، اللہ نے ان پاکیزہ نفوس کے چہروں کو ایسا معزز و پر نور بنایا ہے کہ جنہیں دیکھ کر خدا کی یاد آتی ہے، جو دل یاد خدا سے غافل ہو، عبادات و طاعات کی لذتوں سے ناآشنا ہو، شریعت طاہرہ کے اصول کے تقدسات کو پامال کرنے میں کوئی دریغ نہ کرتا ہو، حدود شرع کو تجاوز کرتا ہو، بلا تمیز حلال و حرام ہر قسم کے اموال کے اکٹھا کرنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہو، اخلاق حسنہ جیسے صبر و تحمل و بردباری و عفو و تسامح جیسے اخلاقی اقدار سے نا واقف ہو مگر جیسے ہی وہ ان بزرگوں کی صحبت میں جاتا ہے اور ان کے چہرے سے نکلنے والی نوری شعائیں اس کے دل پر پڑتی ہے تو جو دل اب تک افعال جریمہ و شنیعہ کے ارتکاب کرکے فرحت و خوشی محسوس کرتا تھا اب وہی دل خوف خدا سے لرزنے لگ جاتا ہے، جو آنکھیں اشیاء محرمات کو دیکھ کر لذت حاصل کرتی تھیں آج وہی آنکھیں گناہوں کو یاد کرکے اشک ندامت بہانے لگتی ہیں،
کیوں کہ. ع.
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں.
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
ان اللہ کے معزز بندوں کو اللہ نے وہ وجاہت و مرتبہ و مقام عطا کیا ہے کہ جب یہ دنیا میں ہوں گے تو اپنی زندگی کے ہر لمحات کو لوگوں کے اصلاح احوال و تلقین صلاح و فلاح میں صرف فرمائیں گے اور جب وہ اس حیات ظاہری سے حیات ابدی کا جام پی کر دار بقا میں جاگزیں ہوں گے تو وہاں بھی کل قیامت کے دن اپنے معتقدین و محبین کی سفارش کرتے ہوے نظر آئیں گے.
کیوں کہ جو بھی دنیا میں ان سے عقیدت رکھے گا ان کی عقیدت کا صلہ وہ میدان محشر میں سفارش و شفاعت کی صورت میں عطا کریں گے اور جو جس سے محبت کرتا ہے دنیا میں اللہ انہیں کے ساتھ اس کا حشر بھی فرمائے گا جیسا کہ خود حدیث شریف کے اندر وارد ہے "المرء مع من أحب” قیامت میں ان لوگوں کی معیت و رفاقت نصیب ہوگی جن سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا، تو آج اگر ہم نے اپنے سینے کو اللہ کے مقربین بندے و خدا کے معزز اولیاء کی محبت کے نور سے منور رکھا ہے تو جیتے جی تو اس کی روشنی مدھم ہونے سے رہی بلکہ یوم آخرت تک اس کی نوری کرنیں خانہ دل کو منور کرتی رہیں گی اور جب وہ یہاں سے اپنی منزل اصلی کی طرف سفر کرے گا تو وہاں بھی اس کی وجاہت و سطوت و نور بجا طور محسوس کریں گے.
آئیے انہیں عظیم الشان و مہتم بالشان و صاحبان زہد و تقوی میں سے ایک عظیم مرد قلندر، آسمان ولایت کے مہر مبیں، دنیا و مافیھا سے بے نیاز شخصیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں،جسے دنیا عطائے رسول، سلطان الہند، حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری نور اللہ مرقدہ کے نام سے جانتی ہے، جنھوں نے اپنے عہد طفولیت گزارنے کے بعد دنیاوی دولت وہ ثروت و جاہ و حشم سے دست بردار ہوکر اپنے سینہ کو علوم و معارف کا گنجینہ بنانے کے لیے ترک وطن کیا اور راہ حصول علم میں جادہ پیمائی کرتے رہے تو ایک وہ دن بھی آیا کہ آپ نے تمام تر مروجہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کرکے باطنی علوم کی تڑپ لیے ایک ایسے مرد درویش کی تلاش میں نکلے جو انہیں رب العالمین کی بارگاہ سے ملادے، آپ کی تلاش ختم ہوئی اور آپ کے جذبہ تحصیل علم شریعت و طریقت کی تکمیل ہوئی اورعارف باللہ، ولی کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ والرضوان کی صورت میں ایک مشفق و مربی ملا جس کی عنایتوں و شفقتوں نے جہاں حضور غریب نواز کو باطنی علوم و فنون سے نوازا وہیں پر عبادات وہ مجاہدہ کے ذریعہ انہیں بارگاہ ربی سے قریب بھی کردیا.
پھر آپ نے حج کی ادائیگی کے لیے حرمین شریفین کا رخ فرمایا اور حج کے جمیع ارکان کی ادائیگی کے بعد آپ نے شہر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں جاکر اپنے نانا جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی اور وہیں سے حکم ہوا معین الدین اب تم ہندوستان چلے جاؤ، وہاں کی دھرتی تمھارا انتظار کر رہی ہے، وہاں جاکر دین و ایمان کی کھیتی کرو اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کفر و شرک نے ڈیرا جمالیا ہے ان کے قلوب کو معبودان باطل سے پاک کرکے ایمان و اسلام کی شمع روشن کرو.
حسب حکم رسالت، داعی دین رسول، عطائے رسول بن کر اپنے چند تلامذہ کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے اور اب یہاں لاکر تبلیغ دین متین شروع کیا، اس راہ تبلیغِ دین میں کافی رکاوٹیں بھی آئیں، بڑی بڑی آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا مگر آپ نے ہمت نہیں ہارا اور عزم و ہمت و استقلال و استقامت کا پہاڑ بن کر باطل قوتوں کا مقابلہ کیا اور ان کی تکلیفوں پر صبر کیا تو ایک دن ایسا بھی آیا کہ دنیا نے دیکھا کہ یہی مرد قلندر جب آیا تھا تو تنہا تھا مگر اس کے اخلاق و کردار اتنے اعلی تھے کہ لوگ متاثر ہوتے گئے اور دامن خواجہ سے وابستہ ہوتے چلے گئے، پھر زمانے کی نظروں نے دیکھا کہ یہ مرد خدا و مجاہد شب زندہ دار جو ابھی تک اکیلا تھا دیکھتے دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کے قریب آگئے. اور رفتہ رفتہ تقریباً نوے لاکھ لوگوں کو آپ نے کلمہ پڑھا کر حلقہ اسلام میں شامل فرمایا. آج جو سرزمینِ ہند و پاک و برصغیر میں اسلام کی روشنی نظر آتی ہے یہ سب صدقہ ہے غریب نواز کا جنھوں نے ناقابل برداشت مصائب و تکالیف کا سامنا کرکے لوگوں کے سامنے اسلامی اخلاق و تعلیمات پیش فرمایا اور لوگ جوق در جوق دامن اسلام میں کشاں کشاں چلے آئے.
ہزاروں سلام ہو اس محسن اسلام پر جس نے اس بنجر زمین پر ایمان و اسلام کی ایسی کاشتکاری کی کہ آج جدھر بھی نظر اٹھائیں ہر طرف وہ کھیتی سرسبز و شاداب نظر آتی ہے.عقیدت کے کروڑوں پھول پیش ہیں اس مرد حق آگاہ کی بارگاہ میں جنھوں نے ہزارہا مخالفت کے باوجود کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا بلکہ اپنے مشن کی ترویج و اشاعت وفروغ میں ہمیشہ کوشاں رہے،اور جب بندہ اخلاص و للہیت کے جذبہ سے لیس ہوکر کسی کام کی انجام دہی کے کھڑا ہوتا ہے کہ تائید غیبی و نصرت ربی بھی ساتھ ساتھ ہوتی ہے. اور پھر وہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے. ع.
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
ساتھ لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا.
سیدنا سرکار غریب نواز علیہ الرحمہ والرضوان نے جہاں لوگوں کے قلوب و اذہان کو ایمان و اسلام کی قندیل نورانی سے منور فرمایا وہیں پر آپ نے خدمت خلق اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کو ہی مقصد حیات قرار دیا اور صوفیا کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ ان کی بارگاہ میں جو جائے چاہے اپنا ہو یا بیگانہ سبھی کی امیدیں پوری ہوتی ہیں اور تمام لوگوں کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج اجمیر شریف میں آپ کی بارگاہ جو کہ صدیوں سے مرجع خلائق رہی ہے، کیا ہندو کیا مسلمان سبھی دھرم کے ماننے والے وہاں جانتے ہیں اور اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ہیں اور پھر ان کی بارگاہ ایسی بارگاہ ہے کہ سبھی کو مطلب سے سوا ملتا ہے، اللہ نے آپ کو وہ طاقت عطا فرمائی ہے کہ رہتے تو اجمیر کی دھرتی پر ہیں مگر آج بھی اگر کوئی دنیا کے کسی کونے سے انہیں پکارتا ہے تو اس کی فریاد کو سنتے بھی ہیں اور اس کی ضرورتیں بھی پوری کرتے ہیں، جبھی تو کہا جاتا ہے. ع.
فریاد کو سن لیں گے امداد کو پہونچیں گے.
ایسا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے.
سیدنا سرکار خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ لوگوں کی دلجوئی و تالیف کو اپنی زندگی کا مقصد تصور فرماتے تھے، آپ نے ایک مرتبہ ایک کسان کی مدد کے لیے اجمیر سے دلی کا سفر طئے کیا اگر چاہتے توحکم فرما دیتے تو کوئی بھی خلیفہ و بادشاہ دلی میں اس کسان کی مدد کر دیتا مگر آپ نے خود اتنی لمبی مسافت طے فرمایا تاکہ اس غریب کسان کی دل جوئی ہوسکے کیوں کہ صوفیا فرماتے ہیں کہ "دل بہ دست آور کہ حج اکبر است” شکستہ و زخم خوردہ دلوں کو جوڑنا دینا ہی سب سے بڑا کار ثواب و عمل خیر ہے.
اور آپ کی آپ کی پاکیزہ تعلیمات و ارشادات و فرامین اس قدر اعلی ترین و بیش قیمت ہیں کہ اگر کوئی ان پر عمل درآمد کر لے تو اس دنیاوی زندگی میں بھی اسے سرخ روئی مل جائے گی اور کل قیامت کے دن بھی اللہ اعلی مقامات سے سرفراز فرمائے گا.
آپ ارشاد فرماتے ہیں "جس کو اللہ کا قرب حاصل کرنا ہو اسے چاہیے کہ اپنے اندر تین خصلتیں پیدا کرلے جس کسی کے اندر یہ تین صفات پائی جائیں گی وہ بندہ لوگوں کا بھی محبوب ہوگا اور اللہ بھی اسے اپنے محبوبین بندوں کی فہرست میں شامل فرما لے گا. پہلی یہ کہ سمندر جیسی سخاوت و دریا دلی پیدا کرو. سمندر کی سخاوت کا یہ عالم ہے کہ جب کوئی اس سے پانی نکالتا ہے تو وہ چاہے کم مقدار میں نکالے یا زیادہ مقدار میں سمندر کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، اور وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ پانی لینے جو آیا ہے جو کس دھرم کا ہے، کس مذہب کا ہے بلکہ جو بھی آے حسب منشا اس کی ضرورت پوری ہوتی ہے، اگر کسی انسان کے اندر یہ صفت سخاوت و دریا دلی پیدا ہوجائے تو وہ خالق و مخلوق دونوں کا محبوب ہوجائے گا. دوسری یہ کہ سورج جیسی شفقت پیدا کرو، سورج کی کرنوں کو دیکھیں ذرا جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں و کرنیں بلاتفریق رنگ و نسل و بلاتمیز مسلک و مذہب سبھی کے گھروں پر برابر پڑتی ہیں، کیا امیر کیا غریب، کیا مسلمان کیا غیر مسلم تمام لوگ اس کی شفقت سے فیض یاب ہوتے ہیں. اسی طرح اگر کوئی انسان اپنے اندر یہ شفقت پیدا کر لے تو بھلا وہ کتنا مقبول ہوگا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا.
تیسری یہ کہ زمین جیسی خاکساری و عاجزی پیدا کرو، زمین کی خاکساری دیکھیں لوگ اس پہ گاڑیاں بھی چلاتے ہیں، کتنے لوگ غرور و تکبر سے اکڑ اکڑ کر چلتے ہیں، یہاں تک کہ کسان خود اس کے سینے کو چیر کر اس میں دانہ ڈالتا ہے مگر پھر بھی یہ زمین کوئی شکایت نہیں کرتی بلکہ عاجزی و خاکساری کا مظاہرہ کرتی ہے، اب جس انسان کے اندر یہ خاکساری کا جذبہ پیدا ہوجائے تو یہ کیا اپنا کیا بیگانہ سبھی اس کے در کے دریوزہ گر بننے میں اپنی شان تصور کریں گے.
اور ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے فقط زبانی درس دیا ہے بلکہ عملی طور پر اس کو کر کے دکھایا ہے اور آج بھی آپ کی بارگاہ سے یہ سلسلہ جاری ہے، جو بھی ان کی در پہ گیا اپنا ہو یا غیر سبھوں کی خالی جھولیاں بھرتی نظر آتی ہیں، جبھی تو کہا جاتا ہے. ع.
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلی تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا.
اللہ رب العزت آپ کے مرقد انور پر رحمت و غفران کا ابرباراں برسائے اور ہم سب کو آپ کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کی توفیق مرحمت فرمائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے