آن لائن نظریۂ تعلیم: مسائل و امکانات

تحریر: محمد شہروز کٹیہاری
موہنا چوکی ، کدوا ،کٹیہار بہار
7545976669

دنیا میں کوئی ایسی ضرورت پیدا نہیں ہوئی جس کا حل نا ڈھونڈا گیا ہو – مسائل پیدا ہوتے ہیں مگر امکانات ساتھ لاتے ہیں- ہیضہ ،ٹی-وی،کوڑھ ،پولیو،پلیگ جیسی درجنوں بیماریاں آئیں ،سب کا حل بھی نکل آیا- سنہ 2019 ء میں پوری دنیا کو چپیٹ میں لینے والی کورونا جیسی وبا آئی -نظام حیات معطل ہو کررہ گیا،بلکہ معطل کر دیا گیا – آمد و رفت،تجارت و کاریگری، زراعت و معیشت،تعلیم و تعلم ،تبلیغ و ارشاد غر ض کہ زندگی کا کون ایسا شعبہ ہے جو اس سے متاثر نہ ہوا ہو؟ مگر کچھ ایام کے بعد زندگی رفتار پر آنے لگی، سڑکوں پر گاڑیاں دوڑنے لگیں -بازار میں حسب معمول چہل پہل آگئی- شادی بیاہ ،کھیل کھلاڑی ،جلسہ و جلوس سب کو کورونا سے مشروط آزاد کردیا گیا- مگر تعلیم و تعلم کو نہ جانے کیوں کورونا کے حصار سے باہر نہیں نکالا جا سکا- طلبہ متفکر تھے ،سرپرست پریشان تھے-علم کی رہی سہی پونجی ذہن سے محو ہونے لگی تھی- ماہرین نے آن لائن نظریہ تعلیم پیش کیا تو پوری دنیا کے ساتھ ہندوستان نے بھی ہاں سے ہاں ملا دیا- سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں ،کالجوں اور یونی ور سی ٹیوں کے ساتھ ان مدارس اسلامیہ نے بھی مجبورا یا مسرورا اس نظریہ کا استقبال کرلیا،جو طلبہ کے ہاتھ میں اسمارٹ فون کو ناقابل معافی جرم تصور کرتے تھے- شروع شروع عام گھروں میں اس کی مذمت ہوئی اور حکومت وقت کی جانب سے تھالی اور تالی بجانے کی طرح تھوپاجانے والا حکم قرار دیا گیا-مگر دھیرے دھیرے اس کے بہتر نتائج سامنے آنے لگے- سرجاپوری کہاوت "نی ماموں سے کانا ماموں بھلا” کی عملی تصویر نظر آنے لگی- اب جب کہ تعلیمی ادارے کھلنے لگے ہیں – حکومت آف لائن درس و تدریس نافذ کرنے جارہی ہے ،جس کے بعد آن لائن نظریہ تعلیم کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی – اب آن لائن طرز تعلیم پر بحثیں کرنا دیر سے جاگنے کے مترادف ہے- مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ کووڈ -19 نے اسے ایک حساس موضوع بنا دیا ہے- اس حیثیت سے یہ بحث استحسان کی نظر سے دیکھی جانی چاہیے-
اگر ہم آن لائن نظریہ تعلیم کے فوائد کی بات کریں تو یقینا اس میں متعدد فوائد ہو سکتے ہیں – جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں-
(1)گھر بیٹھے تعلیم:-
تعلیمی مراکز گھر سے زیادہ دور ہونے کی صورت میں طلبہ کو ،خاص کر دیہاتی طالبات کو بہت سی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے- آنے جانے میں کثیر اوقات بھی صرف ہوجاتےہیں -آن لائن طرز تعلیم میں ان دقتوں سے راحت ملے گی-کم وقت میں زیادہ سیکھنے کا موقع فراہم ہوگا-
(2) دوہرانے کی سہولت:-
آف لائن ذریعہ تعلیم کا ایک نقص یہ ہے کہ اساتذہ جو لکچرز دیتے ہیں وہ فضا میں تحلیل ہوجاتے ہیں -صرف حاضرین ہی ایک بار سن پاتے ہیں – دوران درس ذرا ذہن غیر حاضر ہوگیا تو استاد کی پوری تقریر اس طالب علم کے لئے پھیکی پڑ جاتی ہے – آن لائن طرز تعلیم میں استاذ کی تقریرمحفوظ ہوجاتی ہے ۔ وقت ضرورت دہرانے کے امکانات باقی رہتے ہیں-
(3)اوقات تعلیم میں سیٹنگ:-
گھریلو کام میں ہاتھ بٹانا ہر متوسط طبقہ کے طلبہ کو پڑتا ہے- کام کی بھیڑ ہوتو اسباق ناغہ ہو جاتے ہیں – ربط ٹوٹ جانے پر بسا اوقات آگے کے اسباق نا قابل فہم ہوجاتے ہیں- آن لائن نظر یہ تعلیم کام کی بھیڑ میں بھی اپنے اوقات کو سیٹ کرکے تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے-
(4)جدید ٹکنا لوجی سے معرفت :-
آن لائن طرز تعلیم سے طلبہ بہ ایک وقت تعلیم کے ساتھ ساتھ موبائل اور انٹر نیٹ چلانے کے گرسے واقف ہوں گے-
(5) تکرار سے بچاو:-
آف لائن تعلیم میں ایک ہی سبق کو ہر سال نئے طلبہ کے لیئے بار بار پڑھانا پڑتا ہے- آن لائن طرز تعلیم میں ایک سال کے سبق کو نئے سال کے نئے طلبہ پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے- اچھے اساتذہ کی عدم فراہمی کی صورت میں کسی ایک اچھے استاد کی تقریر و تدریس کو کئی مدارس اور کئی سال کے طلبہ پر نافذ کیاجا سکتا ہے –
مسائل و امکانات
متذکرہ بالا فوائد کے با وجود یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آن لائن تعلیم کے نقصات فوائد پر بھاری پڑ سکتے ہیں – اس نظریہ کا نفاذ کسی ہنگامی صورت حال یا مجبوری میں درست ہو سکتا ہے- اگر بالمشافہ درس و تدریس کے آسانی سے امکانات موجود ہوں ،پھر بھی آن لائن طرز کو اپنانا چوہے کی تلاش میں پہاڑ کھودنےکے مترادف ہے- اس طرز پر متعدد مسائل کھڑے ہوں گے – جن کا حل محال نہیں تو آسان بھی نہیں- چند مسائل درج ذیل ہیں-
(1) انٹر نیٹ کی دنیامیں اچھائیاں اور برائیاں ایک ساتھ جمع ہوتی ہیں ،ایسے میں طلبہ کی غلط روی کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں – کم عمر،خصوصا نو عمر طلبہ پر نگرانی رکھنے کی ضرورت پڑے گی-
(2)جس گھر کےکئی بچے الگ الگ کلاس میں ہوں ،ان کے لیے متعدد فون ،لیپ ٹاپ وغیرہ کی ضرورت پیش آئے گی،جو کثیر صرفہ کا باعث ہوگا-مگراوقات کی تقسیم سے یہ مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے-
(3)آن لائن طرزتعلیم میں عموما ماہانہ یا ہفتہ واری امتحانات بھی آن لائن ہوتے ہیں – اس سے طلبہ کے اندر لکھنے کی صلاحیت کمزور ہوگی – مگرامتحانات آف لائن کرکے اس کا بھی حل نکالا جا سکتا ہے-
(4)اساتذہ کےچند تعریفی کلمات جیسے "شاباش””بہت خوب "” اور کوشش کرو” وغیرہ طلبہ کے اندر اسپرٹ پیدا کرتے ہیں- بسا اوقات اساتذہ کی خفگی یا ہم درس طلبہ کی تضحیک کا خوف بھی کارگر ثابت ہوتا ہے-آن لائن طرز تعلیم میں یہ گر اتنا موثر نہیں ہو پائے گا-
ان کے علاوہ بھی متعدد نجی اور ذاتی مسائل ہو سکتےہیں -ان مسائل و فوائد پر غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پرپہونچتے ہیں کہ اگر بہ ایک وقت آن لائن اور آف لائن دونوں طرز تعلیم کو نافذ کردیا جائے تو یقینا اس میں دل آویزی پیداہوگی- آف لائن تعلیم میں کسی وجہ سے شرکت سے محروم رہنے والوں کو آن لائن سے فائدہ ہوگا-

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی درس گاہ کو معیاری بنائیے

ازقلم: شیبا کوثر (آرہ، بہار) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں درس گاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے