غزل: جل گئے بے گھروں کے گھر تازہ

از: سید اولاد رسول قدسی مصباحی

روز چھپتی ہے یہ خبر تازه
جل گئے بے گھروں کے گھر تازہ

یوں مسلط درندگی ہے یہاں
خون پی کر ہوا بشر تازه

تیره و تار لیلئِ شب سے
پھوٹتی ہے نئی سحر تازہ

اشک بہتے ہیں چشم غربت سے
ہاتھ میں ظلم کے ہے زر تازه

درد میں بھیگتا رہا ساحل
موج کرتی رہی سفر تازہ

کیسے پرواز فکر میں ہو جمود
ہیں ابھی فن کے بال و پر تازه

درد وغم کے گہن میں جل کر بھی
قدسیؔ رقصاں رہا قمر تازه

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے