امارت تعلیمی بورڈ :توشاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

تحریر: عین الحق امینی قاسمی
نائب صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے

یکم فروری 2021سے 7/فروری 2021ءتک الحمد للہ ریاستی سطح پر پورے بہار میں امارت شرعیہ نے "ہفتہ برائے تعلیم اور تحفظ اردو منانے کا جو عظیم الشان تعلیمی منصوبہ بنایا تھا وہ بخیر وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا ۔اس درمیان بہار کے مختلف اضلاع سے آرہی خبروں سے اندازہ لگا نا کوئی مشکل نہیں کہ تقریبا ہر جگہ عام مسلمانوں نے اس منصوبےکا نہ صرف خیر مقدم کیا ،بلکہ امارت سے تشریف لائے وفد میں شامل حضرات علماء کرام اور مقامی سطح پر اپنے ممتاز عالم دین ودانشور حضرات کا بھی والہانہ ،رضاکارانہ اور جراتمندانہ استقبال کیا اور ساتھ ہی بنیادی دینی تعلیم کے فروغ کے لئے مکاتب کے قیام ، معیاری عصری اداروں اور کوچنگ سینٹروں کےقیام نیز! اردو کے تحفظ کے لئے اپنے گھروں میں اردو بولنے ،پڑھنے لکھنے اور اپنے مکان دکان میں اردو میں بھی نیم پلیٹ لگانے ،اردو اخبار ورسائل جاری کرانے اور سرکاری محکموں میں اردو میں درخواست دینے کے سلسلے میں مضبوط عزم وارڈوں کے ساتھ عہد وپیماں بھی کیا ۔
حسب ہدایت امیر محترم مخدوم گرامی حضرت مولانا سید محمدولی صاحب رحمانی دامت برکاتہم ،امارت شرعیہ نے جو انقلابی شروعات کی ہے اور اس کے قائم مقام ناظم محترم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب زید مجدہ نے جس طرح سے اپنے وفود کی ترتیب بنائی ،یہ خوبی ان کی قابل قدر صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے ۔کسی بھی پہلو سے منصوبہ بنانا اور اس کا اعلان کردینا جتنا آسان ہوتا ہے ،ا س سے کہیں زیادہ مشکل اس منصوبے کو زمین پر اتارنا ہے ،اس حوالے سے شاندار کامیابی کی پہلی قسط کے طور پر امارت شرعیہ کی پوری ٹیم قابل مبارک باد کی مستحق ہے ،جنہوں نے اس ٹھنڈ میں تعلیمی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے بے طلب بن کر ملت کی فلاح وبہبود کے لئے نہ صرف شہر درشہر سفر کیا ،بلکہ ہمیں جھنجھوڑ کر حرکت وعمل پر کھڑا کیا اور ملت ووطن کی تعلیمی ترقی و خوشحالی کےئے رہنما خطوط واصول دیتے ہوئے صاف صاف کہاکہ :
کھو ل کر آنکھیں مر ے آئینۂ گفتا ر میں
آنے والے دَور کی دھُندلی سی اک تصویر دیکھ
بہار کے مختلف اضلاع میں امارت شرعیہ کی طرف سے بھیجے گئے علماء وفد نے تعلیمی ترقی اور تحفظ اردو کے حوالے سے جو گفتگو فرما ئی ہے ،اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات نے عام مسلمانوں میں بیداری لانے اور انہیں اپنا بھولا ہوا سبق یاد دلانے میں گو یااپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے ،مختلف پیراؤں سے تعلیم کے فروغ اور تحفظ اردو کے حوالے سے جو آواز انہوں نے پوری ریاست میں لگائی ہے ،اس کا کچھ اندازہ آپ ان حضرات کے تعمیری بیانوں کے خلاصے کے طور پر درج ذیل عنوانات سے بھی لگا سکتے ہیں :تعلیم کو عام کرنے اور اردو کے تحفظ میں امارت شرعیہ کی تحریک کا ساتھ دیں ۔اخلاص وعمل کے ساتھ امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک کو کامیاب بنانے کی محنت ہم سب کی ملی ذمہ داری ہے ۔اردو کے تحفظ کے لئے حکومت کے ساتھ اردوداں طبقہ کو بھی ایماندارانہ کوشش کرنی ہوگی ۔تعلیمی انقلاب کے بغیر قوم کی ترقی ناممکن ۔اس قوم کو پہلا منشور ودستور تعلیم کا ملا ہے ۔ مسلمان بہتر تعلیم کے لئے معیاری اسکول اور مکاتب کے قیام کو یقینی بنائیں ۔
ملک کی آزادی اور ترقی میں اردو زباں کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے ۔اردو کے تحفظ و فروغ کے لئے امارت شرعیہ اپنی تحریک جاری رکھے گی۔ قوموں کے عروج وزوال میں تعلیم اور زبان کی بڑی اہمیت رہی ہے ۔امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک ہر مرد مومن کے دل کی آواز ۔روٹی کپڑا مکان کی طرح علم بھی انسان کی بنیادی ضرورت ہے ۔نئی نسل کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کے لئے ہر مسجد کو تعلیم کا مرکز بنایا جائے ۔تعلیم ترقی کی شاہ کلید ،اردو ہماری تہذیبی میراث ۔دینی تعلیم کے فروغ کے لئے زیادہ سے زیادہ مکاتب کھولیں ۔تعلیمی ترقی کے لئے نئی حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی ضروری ۔علم کے بغیر ایمان بھی ادھورا ہے ۔امارت کے تعلیمی منصوبوں کو فروغ دینے کے لئےمسلسل جد وجہد کی ضرورت۔تعلیم عورتوں کو دینی ضروری ہے ،لڑکی جو بے پڑھی ہے وہ بے شعور ہے ۔ملت کو سند یافتہ نہیں ،تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے ،وغیرہ ۔
اب سوال ہے کہ پورے بہار کے مختلف اضلاع میں امارت شرعیہ کی جانب سے منعقد مشاورتی اجلاسوں میں جو کمیٹیاں بنی ہیں ،جن کو امارت تعلیمی بورڈ بھی کہا جاسکتا ہے ،کیا ضلعی کمیٹیاں خود کو اتنا مضبوط بنا پائیں گی کہ اپنے اپنے ضلع میں بلاک سے پنچایت اور پنچایت سے وارڈ سطح پر چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں ان کے زیر اثر رہ کر کام کو مستحکم بنانے اور مثبت کارگذاری پیش کرنے میں ضلع کمیٹی کا ساتھ دے سکیں ۔ ،وہ امارت کے اس درد کو اپنے اندر کس حدتک محسوس کرتی ہیں ،کیا وہ بھی امارت کی طرح ایک مشن طور پر تن من اور دھن کے ساتھ امارت کے اس تعلیمی منصوبے کو زمین پر اتارنے کے لئے خود کو مستعد پائیں گی ؟
ظاہر ہے کہ امارت شرعیہ کے اس پیغام کو لوگوں نے تحریک کے طور پر لیا ہے اور کسی بھی تحریک کو گھر گھر تک پہنچانے میں وقت بھی لگتا ہے اور قربانیاں بھی اورکام کا مزاج رکھنے والوں کے لئے یہ سب بہت زیادہ مشکل امر بھی نہیں ہے،مگر شرط ہے کہ اتنی بیداری لانے کے لئے پہلے ضلع کمیٹی کو مضبوط ہونا ہوگا ،اس مرکزی کمیٹی کے افراد میں جس درجہ بے چینی ،کام کا دھن ،جنون ، دوڑ بھاگ کا مزاج اوررابطوں کو تازہ کرتے رہنے کا ہنر ہوگا ،منصوبوں کو عملی شکل میں دیکھنے دیکھانے کی تڑپ ہوگی، افراد کوجگانے، انہیں کام سے جوڑے رکھنے کے لئے گن سمیت ذمہ داری کا بے لوث جذبہ ہوگا تو یقینا کامیابی بھی ملے گی اور ضلع کمیٹی مضبوط بھی ہوگی ،چوں کہ یہ خوبیاں ،بہت بڑی طاقت اورکامیابی کا پہلا زینہ ہیں ،مگر ہاں !مرکزی کمیٹیاں ڈھیلی پڑ گئیں تو سمجھ لیجئے کہ اوپر سے نیچے تک کی کمیٹیوں کا حشر وہی پرانا والا ہوگا ،جس کو آنکھوں نے دیکھا ،دلوں نے محسوس کیا اور ماضی میں ملت کے افراد نے جسے بے وقعت کردیا اور ایسا بھی نہیں ہوگا کہ پہلے دن سے ہی قومی اور بین الاقوامی ہمدردیاں ملنے لگیں گی اور ہماری ایک آواز پر پورا ضلع رام ہوجائے گا،یہ تو شروع شروع میں بہت مشکل ہے ،البتہ مسلسل جد وجہد سے دلوں کو فتح کرلینے کی کئی ایک مثالیں ہیں ،جہاں کام بولتا ہے اور دنیا اس کردار کو سلام کرتی ہے ۔
اس لئے ذاتی احساس یہ ہے کہ تمام سوالوں کے جوابات ان شاء اللہ یقینا مثبت ہی ہوں گے ۔چوں کہ اطلاع کے مطابق جہاں کہیں بھی مرکزی کمیٹیاں تشکیل پائی ہیں ،ان میں کا بیشتر افراد شاہین صفت کے حامل ہیں ،پرواز اور مسلسل پرواز ہی جن کی پہچان ہے اور جس انداز سے ہر ضلع میں میں مقامی سطح پر مخصوصین کا جوق درجوق اجتماع ہوا ہے ،ان کے بلند خیالوں سے یقینا لگتا ہے کہ بننے والی کمیٹیوں کے ذمہ داران اپنا من بنائے ہوئے ہیں اور امارت کی ہدایت پر کام کرنے کا حوصلہ جٹائے ہوئے ہیں اور وہ ہر طرح کی جانی ،مالی اور وقتی قربانیوں کے لئے بھی تیار ہیں،ان ضلعی ذمہ داران میں یہ ساری اخلاقی وایمانی آمادگیاں دباؤ کے طور پر نہیں ،بلکہ سعادت مندی اور کارثواب سمجھ کر ،رضائے الٰہی کے لئے اور ملت اسلامیہ ہندیہ کی خدمت کی غرض سے دیکھائی دے رہی ہیں ،مشاہدے سے تجربے تک کا سفر بتلاتا ہے کہ پوری کمیٹی کے ایک تہائی افراد بھی فکرمند ثابت ہوگئے تو آنے والے دنوں میں اس کے دیر پا مثبت اثرات مرتب ہوں گے،ان شاء اللہ۔ لوگوں میں احسا س ہے کہ اس نے اٹھ کھڑا ہونے میں دیر کردی ہے ,اس لئےوہ مکمل حوصلے کے ساتھ امارت کے مشن کی تائید وعمل درآمد کے لئے پرعزم ہو کر سراپا اپیل ہیں کہ :
لو جا ن بیچ کر بھی جو علم و ہنر ملے
جو ملے جہاں سے بھی ملے جس قدر ملے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی درس گاہ کو معیاری بنائیے

ازقلم: شیبا کوثر (آرہ، بہار) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں درس گاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے