موجودہ دور میں "دارالعلوم فیضان اشرف” کی امتیازی شان

تحریر: خلیل احمد فیضانی، جودھپور راجستھان

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ ہوتے گئے کارواں بنتا چلتا گیا

ہزاروں سال نر کس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بناے صحرا کو

کسی بھی ادارے یا تنظیم کو ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے اور اپنی ایک امتیازی شان بنانے کے لیے جہاں ایک طویل مدت درکار ہوتی ہے وہیں حالات حاضرہ سے ہم آہنگی اور زمانہ کے دوش بدوش چلنا بھی لابدی و ضروری قرار پاتا ہے –
گزشتہ ادوار یعنی سلف صالحین کے زمانے میں اسکول , کالجز, یونیورسٹیز کے درمیان اور مدارس اسلامیہ ومکاتب دینیہ کے درمیان کویٔی تفریق نہیں تھی بلکہ بلاتفریق جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ ایک ہی درسگاہ میں پڑھادیے جاتے , اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ اس درس گاہ سے نکلنے والا بچہ جہاں علوم قرآن و فنون حدیث کا ماہر ہوتا وہیں ریاضی و بیالوجی کے پیچ و خم سے بھی آشنا رہتا کویٔی اپنے زمانہ کا فقیہ و اصولی ہوتا تو بر وقت زیالوجی و فلسفہ ( قدیم سائنس ) کے دقیق مسائل سے بھی خوب آگاہ رہتا اسی طرح وہ لوگ جانفشانیاں کرتے جاتے زخم کھاتے رہتے آخر وہ دن آتا کہ کؤی غزالی بن کر چمکتا تو کویٔی رومی بن کر مردہ روحوں میں جان پھونکتا کویٔی رازی بن کر فلاسفہ و زنادقہ کی بیخ کنی کرتا تو کؤی ابن العربی بن کرملحدوں و دہریوں کو دولت ایمان کی طرف راغب کرتا اسی طرح سے یہ نورانی سلسلہ چلتا رہا اور اپنی ضیابار کرنوں سے اکناف عالم کو تاباں کرتا رہابعد ازاں حالات نے کروٹ بدلی گردش لیل و نہار سے ایک نٔی صبح طلوع ہؤی افرنگی استعمار معرض وجود میں آیا اس نے جہاں مسلمانوں کو معاشی ,اقتصادی, و فکری اعتبار سے کمزور کیا وہیں اس مکار و عیار قوم نے یہ سازش بھی رچی کہ مسلمانوں کےحصول علم کے قدیم طریقہ کار کو بھی مسخ کردیا بڑی سازش یہ کی کہ معقولات ومنقولات کے درمیان ایک بہت بڑی خلا پیدا کردی یعنی مدارس کو بالکل مذہبی تعلیم کے لیے مختص کردیا اور کالجز و یونیورسٹیز کو فقط مادی علوم کے لیے خاص کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم یافتہ مسلمان بھی دو حصوں میں منقسم ہوگئے ایک کو مذہبی طبقہ کے نام سے موسوم کیا جانے لگا تو دوسرے کو دنیاوی لأن کے طبقے سے معنون کیا جانے لگا اب ضرورت تھی ایسے عظیم ادارے و ملکی سطح کے پلیٹ فارم کی جو بیک وقت دینی و دنیاوی تعلیم کا سنگم ہو جہاں پر بلا تفریق ایک ہی چھت کے نیچے دونوں تعلیمات کا درس دیاجاتاہوتاکہ افرنگی استعمار کے ذریعے پیدا ہونے والے نقصان کی کچھ حد تک تلافی ہوسکے اور حتی الامکان اس خلا کو پر کیا جاسکے
یہ عظیم کام جہاں بے شمار دینی ودنیاوی فوائد پر مشتمل تھا وہیں بے حد مشکل و صبر آزما بھی تھا اس لیے ہر کس و ناکس کے بس کا نہیں تھا اس کار اہم کی انجام دہی کے لیے کسی ایسے فعال و نباض کی ضرورت تھی جو بالغ نظری, وسعت فکری, معاملہ فہمی, ودانأی کا مرقع ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر بے شمار خصائل حسنہ کا بھی جامع ہو
لیس علی اللہ بمستنکر
ان یجمع العالم فی واحد
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر و امتنان ہے کہ اس نے ہم اہل سنت و جماعت کو مصلح قوم و ملت قاطع شرک و بدعت ناصر سنن حضرت مولانا حافظ و قاری سعید صاحب قبلہ اشرفی (اطال اللہ عمرہ) کی شکل میں وہ گوہر نایاب عطا فرمایا کہ جس نے اپنے چمکتے ہوے کارناموں سے اہلسنت و جماعت کو سر فخر سے بلند فرمادیا ہے یقینا آپ نے ہر موڑ پر اہل سنت و جماعت کا دفاع فرمایا سواد اعظم کو جہاں پر آپ کی ضرورت محسوس ہؤی وہاں پر آپ کو دامے درہمے قدمے سخنے حاضر پایا
آپ نے اپنی فراست ایمانی و دور بین عقابی نگاہوں سے مستقبل میں پیش آمدہ خطرات کو بھانپ لیا تھا کہ حالات کدھر جارہے ہیں زمانہ کا کیا تقاضا ہے آج اگر اس طرح کا دینی و دنیاوی تعلیم کا سنگم ملکی سطح پر کویٔی ادارہ قائم نہیں کیا گیا تو یہ قوم عنقریب جہالت کے دلدل میں بری طرح سے دھنس جاے گی اور پھر سواے کف افسوس ملنے کے کچھ بھی پاس نہیں رہے گا لہذا بر وقت آپ نے قوم و ملت کی فلاح و نجات کا بیڑا اٹھا یا اور یہ عزم بالجزم کر ہی لیا کہ سر زمین راجستھان پر ایک ایسا فقید المثال و امتیازی شان کا حامل قلعہ ضرور تعمیر ہو گا جو قوم کے نو نہالوں کو علوم نبویہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے بہرہ ور کرے گا آخر وہ ساعت سعید آہی گئی جب حضور نعیم المشائخ حضرت علامہ و مولانا نعیم اشرف اشرفی رضی اللہ تعالی عنہ و باباے قوم و ملت حضرت علامہ مولانا مفتی اشفاق حسین رحمہ اللہ علیہ کے نوارانی ہاتھوں سے سن” ۱۹۹۶”میں ادارے کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور حضور سید اشرف جہاں گیر سمنانی علیہ الرحمۃ سے منسوب کرتے ہوے اس کا نام بھی "فیضان اشرف ” رکھا گیاایک وہ دن تھا اور ایک آج کا دن ہے اس مختصر عرصہ میں دارالعلوم فیضان اشرف نے جو حیرت انگیز ترقی کی اور آسمان پر کمند ڈالنے کا ایک مزاج دیا ہے وہ کسی کرامت یا معونت سے کم نہیں ہے آج اس ادارے نے ملک کے طول و عرض میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں اور نمایاں و منفرد المثال کارناموں کے ذریعہ اپنی ایک امتیازی شان بنا رکھی ہے ہنوز یہ مرجعیت و مقبولیت کا مبارک سفر جاری و ساری ہے اللہ تعالی اس کوحاسدین کے حسد اور بد نظروں کی بد نظری سے محفوظ و مامون فرماے آمین
دعوت و تبلیغ ہو, یا درس و تدریس ,تقریر و تحریر ہو ,یا نظامت و ثقافت غرض یہ کہ آپ جس زاویہ نگاہ سے بھی اس کے نمایاں و خصوصی امتیازات کے حامل کارناموں کو ملاحظہ کریں گے تو آپ یہ کہنے میں یقینا حق بجانب ہوں گے کہ واقعی یہ ادارہ امتیازی شان کا حامل و جداگانہ شناخت کا ضامن ہے پس مشتے نمونہ از خروارے ادارہ ہذا کے کچھ امتیازی اوصاف و نمایاں کارنامے (جو اس کے غیر میں نہیں پاے جاتے فقط اسی کا حصہ ہے ) حاضر خدمت ہیں ملاحظہ فرماءیں

(۱) عمارت :دار العلوم فیضان اشرف کی عمارت ایک ایسا تعمیراتی شاہکار ہے جس کی مثال راجستھان بھر میں نہیں پأی جاتی ,ایسی جاذب نظر ساخت و مقناطیسی کیفیت کو اپنے اندر لیے ہوے ہے کہ کویٔی بھی ناظر بوقت نظارہ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکتا
بعض دفعہ تو لوگ فقط اس بلڈنگ کا نظارہ کرنے کے لیے یہاں قدم رنجہ ہوتے ہیں اور یہاں کی پر کیف فضا سے مسرور و شادماں ہو کر لوٹتے ہیں یہ مقبولیت آج اس کی پہچان بن چکی ہے

(۲)دینی ودنیوی تعلیم کاحسین امتزاج :
ہوتا یہ ہے کہ بعض دفعہ ہم لوگ خالص مذہبی کاموں سے کسی ادارے یا تنظیم کی شروعات کرتے ہیں غالبا ایسا ہی ہوتا ہے کہ خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہوپاتے موجودہ دور میں وہی ادارے کامیاب ہیں جن کو حالات کے دوش بدوش چلنے کا سلیقہ آگیا ہو الحمد للہ یہ سلیقہ سلیم مادر علمی دارالعلوم فیضان اشرف کو روز اول سے حاصل ہے جس کی بدولت آج وہ نہایت حسن و خوبی کے ساتھ قوم کی خدمت میں ڈٹا ہوا ہے اس کےما تحت معتدبہ عصری تعلیم کے پلیٹ فارمز بھی چلتے ہیں جو قوم کو ایک صالح مستقبل دے رہے ہیں

اس کے ماتحت چلنے والے عصری ادارے

(۳)ہأی سکنڈری اسکول:
جس میں طلبہ کو سائنس ,آرٹس کومرس تینوں فیکلٹیوں کی تعلیم دی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ انہیں دینی مبادیات سے بھی آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے جو ان کو دین کی راہ پر تا دم حیات گامزن رہنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں – چند سال پہلے ہمارے مربی و مصلح حضرت مولانا حافظ سعید صاحب قبلہ اشرفی بانی و مہتمم ادارہ ہذا نے یہ اچھوتا منفرد المثال و قابل تقلید ایکشن لیا کہ دارالعلوم سے فضیلت کرنے والے ہر طالب علم کے لیے بھی اس اسکول سے بارہویں کلاس کا پاس کرنا لازمی و لابدی فرمادیا جو یقینا ایک امتیازی اقدام و انوکھی پہل ہے دیگر بانیان مدارس و مہتممین جامعات بھی اس قابل فخر کارنامہ کی تقلید شروع فرمادیں تو یقینا دینی علم و دنیوی علم کا تفرقہ بھی رخصت ہو گا اور مذہبی و عصری علوم و فنون کے ماہرین کا ذہنی بعد بھی قدرے رفع ہوگا

(۴) کمپیوٹر کورس
آج ٹکنالوجی کا دور ہے ہر شخص کی زندگی کسی نا کسی زاویہ سے اس ضرورت کے ساتھ جڑی ہؤی ہے تو ضروری تھا کہ عصری تقاضوں کا لحاظ کرتے ہوے کمپیوٹر بھی داخل نصاب کیا جاے پس اس ادارےنے یہ ممتاز کارنامہ بھی انجام دیا اور اس کو داخل نصاب کردیا جس میں بلاتفریق اسکول و مدرسہ کے بچوں کے سب کو اپنے اپنے معینہ اوقات میں کمپوزنگ ,ڈیزائنگ ,پروگرامنگ وغیرہم کی تعلیم دی جاتی ہے

( ۵)تحفیظ القرآن
بعض مدارس میں براے نام حفظ کی تعلیم دی جارہی ہوتی ہے اور پھر ظلم یہ کہ اس آدھے ادھورے حافظ کو دستار وسند سے بھی نواز دیا جاتا ہے اس حرکت شنیعہ سے جہاں حفاظ کی وقعت کم ہوتی ہے وہیں لوگوں کی نگاہوں میں ادارے کا تشخص بھی مجروح ہوتا ہے لیکن دارالعلوم فیضان اشرف اس معاملہ میں کتنا محتاط ہے اس کی نظیر نہیں ملتی یہاں کے حفاظ کرام سال بھر جانفشانی و عرق ریزی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سال کے اختتام پر ایک ہی بیٹھک میں سارا قرآن پاک سناتے ہیں تو جب تک کویٔی حافظ کسی ثقہ حافظ کی نگرانی میں رہ کر مکمل بیٹھک سنا نادےتب تک اس کو حفظ کی دستار نہیں دی جاتی ادارےمیں حفظ کی کل چھ درس گاہیں ہیں جو کثیر تعداد میں حفاظ کے فارغ ہونے کی طرف غمازی کرتی ہیں

(۶)تجوید و مشق
یہ شعبہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے اس میں طلبہ کو کلام اللہ صحیح حروف و مخارج کے ساتھ پڑھنے کی مشق کرأی جاتی ہے اور یہ بھی اس ادارہ کا نمایاں قدم ہے کیوں کہ تجوید و مشق پر یہاں سختی کے ساتھ دھیان جاتا ہے بعض مدارس میں حفظ و قرآت دونوں کو ایک ساتھ لاحق کردیا جاتا ہے جس کا نتیجہ خاطر خواہ بر آمد نہیں ہوپاتا

(۷)شریعت کالج
اس میں مولیت ,عالمیت ,فضیلت کے کورسیز کرواے جاتے ہیں جو دور حاضر کا اولیں تقاضا و دین اسلام کا نہایت اہم باب ہے اور یہ ادارہ ہذا کی خصوصیت ہے کہ ہر مقام پر قوم کو حالات سے ہم آہنگ رکھنے کی سعی بسیار کرتا ہے نیز ماڈرن تعلیم کی راہیں ہموار کرتا ہے تربیت کے لیے بھی ہمہ وقت مستعد و کوشاں رہتا ہے

(۸)جامعہ الزہرا فیضان اشرف
ان پر آشوب حالات میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم نے کیا کیا گل کھلاےسب کچھ ظاہر و باہر ہے اس نحوست و عریانیت سے کتنے معاشرے تباہ ہوگئے کتنے ہی کھاتے پیتے گھرانےکھنڈرات میں تبدیل ہوگئے کتنے ہی کڑیل جوان شہر خموشاں کے راہی بن گئے وجہ کیا ?
بس یہی لڑکوں اور لڑکیوں کا آپسی بے حجابانہ نظارہ و بے تکلفی کا یارانہ
بہت سخت ضرورت تھی ایک ایسے پلیٹ فارم کی کہ جہاں پر ہماری بہن اپنی عصمت کا تحفظ کرتے ہوے دینی و نیوی علوم کو حاصل کرے اور معاشرہ کے نہاں خانہ میں چھپے معائب و مفاسد کا ازالہ کرے اللہ تعالی اس ادارہ کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرماے کہ اس نے یہاں پر بھی ایک امتیازی نشان ثبت فرمادیا اور ,,جامعہ الزہرا ,,کے نام سے قوم کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا کہ جہاں پرہماری بہن محفوظ طریقے سے تعلیم حاصل کرسکتی ہے یہاں پر بچیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ,کشیدہ کاری ,دست کاری , سلأی وغیرہ بھی سکھأی جاتی ہے جو معاشرہ کی سخت ضرورت ہے

(۹) زہراء گرلس اسکول
ادارہ نے جہاں قوم کے نو نہالوں کی تعلیم و تربیت کا معقول بندو بست کیا ہے وہیں پر اس نے معاشرے کی پردہ نشینوں کے لیے بھی احسن طریقے کا انتظام و انصرام کر رکھا ہے –
زہراء گرلس اسکول کا مقصد لڑکیوں کو پاکیزہ ماحول میں رکھ کر دین و دنیا کی اعلی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے جس میں قابل داد و قابل تقلید بات یہ کہ یہاں کے ٹیچرس میں مرد و زن کا اختلاط نہیں ہے بلکہ صرف لیڈیس ٹیچرز کا ہی انتخاب و انتظام کیا گیا ہے جو یقینا مستورات کی عفت و عصمت کے تحفظ کا ضامن اقدام ہے

(۱۰)نگلش میڈیم اسکول
انگریزی زبا ن آج ہمارے لیے بہت ضروری بن چکی ہے گویا یہ بھی موجودہ دور کی بہت سخت ضرورت ہےجس کے بغیر ہم عصری مقتضیات کو کما حقہ پورا نہیں کرسکتے پس اسی ضرورت شدیدہ کے تحت ادارے نے ایک اور امتیازی اقدام کیا اور,, اسلامک انگلش میڈیم,, اسکول کھولی لیکن ادارے نے صرف عصری ضرورت ہی کی تکمیل نہ کی بلکہ ساتھ ساتھ دینیات کا نصاب بھی رکھا پانچویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے بچہ ناظرہ کلام اللہ بھی ختم کردیتا ہے

(۱۱)تخصص اردو ادب
ادارہ ہذا ایک ہمہ جہت پلیٹ فارم ہے اس میں جہاں راجستھانی طلبہ علمی تشنگی کو رفع کرنے کے لیے داخلہ لیتے ہیں وہیں راجستھان کے باہر کے طلبہ بھی دور دراز کی مسافتیں طے کرکے ادارے میں تشریف لے آتے ہیں اس کی مقبولیت پر تب ناز ہوتا ہے جب تمل و کیرلا کے طلبہ بھی یہاں تشریف لے آتے ہیں- ان کی آمد کا مقصد صرف اردو سیکھنا ہوتا ہے لہذا ان کے مقصدکی تکمیل کے لیے باقاعدہ اردو زبان پر فوکس کیا جاتا ہے, ماہر اساتذہ کرام کی گھنٹیاں ان کے پاس ہوتی ہیں اس لیے وہ لوگ بھی محنت کرتے ہیں آپس میں تکرار کرتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ سال کے اخیر میں وہ حضرات اردو زبان میں اپنے مافی الضمیر کو ٹھیک طریقے سے ادا کرنے پر قادر ہوچکے ہوتے ہیں

(۱۲)قومی کونسل براے فروغ اردو زبان کے اسٹٹیج
اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے ادارے نے جہاں دیگر میدانوں میں امتیازی اقدامات کیے وہیں قومی کونسل براے فروغ اردو زبان سے طلبہ کو ڈپلومہ کرانے کا بیڑا بھی اٹھایا ہے الحمد للہ کافی طلبہ اس میں کامیاب ہوے اور اعلی پوسٹس پر فائز ہوے
اس کے تحت چلنے والے اسٹٹیج پانچ ہیں
(۱)اردو ڈپلومہ (۲)یک سالہ عربی سرٹیفیکٹ کورس (۳)دوسالہ عربی ڈپلومہ (۴)کمپیوٹر ڈپلومہ (۵)ٹیلیگرافی اینڈ گرافک ڈیزائننگ

دارالعلوم فیضان اشرف کےدیگر خصوصی امتیازات

(۱) تربیت کا ماحول

,,علم بلاعمل کشجر بلاثمر,, یعنی بغیر عمل کے علم بغیر پھل کے درخت کی طرح ہے بلاشبہ یہ تشبیہ ہمارےمعاشرے پر صادق آتی ہے کہ :ہم لوگ طلاقت لسانی وچرب زبانی سے مرعوب کرنے کا ہنر تو خوب جانتے ہیں مگر عمل کے میدان میں لوگ صفر ہوتے جارہے ہیں پس اسی قول و فعل کے متضاد رویہ کو ختم کرنے اور عملی انحطاط سے نمٹنے کے لیے ادارہ نے "دعوت اسلامی ” مبلغین کے ذریعے طلبہ کو تربیت کا سنہرا ماحول بھی فراہم کیا ہے طلبہ سال میں کٔی مرتبہ تبلیغ دین کی خاطراطراف راجستھان میں جوق در جوق ,,مدنی قافلہ,, کی صورت میں نکل پڑتے ہیں قریہ قریہ ,بستی بستی جاکر عوام کو نماز ,روزہ کے ضروری مسائل سے آگاہ کرتے ہیں اور وہاں سےواپس آنے کے بعد بقیہ طلبہ میں بھی دعوت و تبلیغ کے ذریعے نیکی کی فضا قائم کرتے ہیں بعد فجر مدنی درس ہوتا ہے, صداے مدینہ بلند کی جاتی ہے عماموں کی پابندی کے ساتھ ساتھ سلام کو عام کرنے کی تلقین بھی کی جاتی ہے اور یوں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا ماحول بھی پیدا ہوجاتا ہے جو سب سے ضروری چیز ہے بعض اداروں میں اس طرح کا ماحول نہیں ہے انہیں اپنے ماضی کے فارغین پر نظر ثانی کرنی چاہیے

(۲)لائبریری
لائبریری جہاں کسی بھی ادارے کی شان ہوتی ہے وہیں اس کے علمی منہج کا پیمانہ بھی تصور کی جاتی ہے_ادارہ ہذا نے اس شعبے پر بھی سنہرے حروف سے لکھا جانے والا کام کیا ہے مختلف علوم و فنون کی کتابوں کو یکجا کرکے ایک مثال قائم کردی ہے اکابر علما جب بھی ادارے میں تشریف لاتے ہیں تو لأبریری کا مشاہدہ کرنا اپنےحق میں نہایت ضروری سمجھتے ہیں- فقیر راقم الحروف ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہے کہ اس لائبریری میں اکثر فنون کی مطولات,متوسطات و مختصرات وافر مقدار میں موجود ہیں- بیشتر ایسی کتابیں جودیگر اداروں میں نہیں پائیں جاتیں یہاں پأیں جاتیں ہیں اس کا ثبوت یہ کہ اکابر علما و مفتیان کرام کو جب کوئی علمی اشکال درپیش ہوتا ہے تو وہ اپنی مطلوبہ کتب کے حصول کے لیے یہاں قدم رنجہ ہوتے ہیں اور اپنے مسائل کا حل نکال کرجاتے ہیں نیز یہ چیز ادارے کی علمی مقبولیت کی بین دلیل بھی ہے

(۳)تقریبات
باسنی ایک متدین گاوں ہے اس لیے یہاں پر علماکرام و مشائخ عظام کی کثرت سے آمد ہوتی رہتی ہے گاوں میں جب بھی کوئی عالم دین باہر سے تشریف لاتے ہیں تو ادارہ ہذا کواپنے قدوم میمنت لزوم سے ضرور شرف یاب فرماتے ہیں ان کی تشریف آوری پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے طلبہ صف بندی کرکے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں اور یوں طلبہ کے اندر بھی علم و علما سے دوستی بھی پیدا ہوتی ہے اور زیارت کرکے دارین کی سعادتوں سے ہمکنار بھی ہوتے ہیں

(۴)عالمی سطح پر شہرت یافتہ یونیورسٹیز سے معادلے
ادارہ کے منجملہ امتیازات میں سے یہ بھی کہ اس کے علمی منہج کو دیکھتے ہوےعا لمی سطح پر شہرت یافتہ یونیورسٹیز نے معادلے کیے ہیں مثلا جامعہ ہمدرد یونیورسٹی دہلی ,مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد ,سب سے بڑھ کر قابل فخر یہ کہ اس ادارے کو عالم اسلام کی قدیم یونیورسٹی "جامعہ ازہر قاہرہ مصر ” سے معادلہ حاصل ہے جو اس کے لیے یقینا ایک امتیازی شان ہے

(۵) طلبہ کی وضع قطع ادارے کا ایک امتیازی وصف
لباس رب تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور کوئی بھی نعمت اسی وقت تک اپنے اصلی روپ میں باقی رہتی ہے جب تک اس کے قدرداں موجود ہوں لیکن افسوس!آج ہم ہمارا معاشرہ اس عظیم نعمت ,,لباس,,کی بے قدری کر رہا ہے, اس کے اسلامی روپ کو مسخ کر کے اس پر مغربی فیشن کا ملمع چڑھا رہا ہے عوام کالانعام کو چھوڑیے! دینی لأن والے بھی الا ماشاءاللہ! ایسے زرق برق فیشن کے شائق ہوگئے ہیں کہ جب تک ان کی قمیص کے کپڑے میں چار پانچ طرح کی بھڑکیلی ڈیزائنگ نہ ہو جاے تب تک اسے سلوانا منظور نہیں کرتے ادارہ ہذا نے اس فیشن کا نہایت سرگرمی سے سد باب کیا ,عام ایام میں بھڑکیلے کپڑے پہننا دور جمعہ کے دن پہننے پر بھی پابندی لگادی گئی اسی طرح ضرورت سے زیادہ بال بڑھانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی نیز پڑھأی کے وقت سر پر مدنی تاج یعنی سبز عمامے کو بھی لازم کردیا گیا غرض یہ کہ طالب علم کو شروع سے ہی اسلامی تہذیب کا کامل نمونہ بنادیا جاتا ہے اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب بچپن سے ہی یہ عادات و اطور اس کی روح میں سرایت کرجاتی ہیں تو آگے کی زندگی اسلامی تمدن کے دائرے میں رہ کر گزار نا اس کے لیے نہایت آسان ہو جاتا ہے – یہ تربیتی ماحول و اسلامی وضع قطع اکثر اداروں میں قریبا مفقود ہے جس کے نتیجے میں ان اداروں کے فارغین کی وقعت معاشرے میں بالکل نہیں ہوپاتی لیکن ادارہ ہذا نے یہاں بھی اپنی امتیازی شان کے نقوش ثبت کیے اور معاشرے کو مبلغین کا ایک جم غفیر عطا کیا

(۶)پارک
ہریالی جہاں قدرت خداوندی کے مشاہدے کا ذریعہ ہوتی ہے وہیں مادی اشیا کی نشوو نما میں بھی نہایت سود مندگردانی جاتی ہے -یہ جہاں بارش وغیرہ کے برسنے میں معاون ہوتی ہے وہیں انسانی صحت و دماغ وانسانی نظرو فکر کو جلا بخشنے کے لیے بھی بہت زیادہ نفع بخش و نہایت سود مند ہوتی ہے- ادارہ ہذا نے اس کی اہمیت کے پیش نظر اس پر نہایت سلیقےسے کام کیا یہاں کے پارک کا دلکش و دلربا منظر کسی سرکاری پارک سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات وہاں پر بھی تساہلی سے کام لیا جاتا ہے کبھی کٹنگ نہیں کی جاتی ہے کبھی وافر مقدار میں پانی نہیں دیا جاتا ہے لیکن یہاں پر ہر چیز اپنے وقت پر پہنچتی ہے- پانی کی بہتات, وقت پر کٹنگ ,کیمیأی ادویات کا چھڑکاو مزید اس کے حسن کو بالا کردیتا ہے نیز اس میں مختلف انواع و اقسام کی پھول پتیوں کا ہونا چاندنی پر غازہ ملنے کے مترادف ہے

(۷)مہمان خانہ
بعض اداروں میں مہمانوں کے قیام و طعام کا معقول بند و بست نہیں ہوتا بریں بنا مجبور ہوکر مہمانوں کو مسافر خانہ کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو بہت افسوس کی بات ہے نیز دینی مدرسوں سے ان کے دور ہونے کا بھی خدشہ ہے لیکن الحمد للہ ادارہ ہذا نے یہاں بھی اپنی امتیازی شان کے تابندہ نقوش ثبت کیے ہیں ادارہ میں پرسنلی طور پر ایک مہمان خانہ بنا ہوا ہے جس میں نہ کویٔی کلاس لگتی ہے نہ ہی کویٔی استاذ رہتے ہیں مہمان خانہ کیا ہے ?عالیشان محل کا روم ہے جس میں پیر صاف کرنے والی چٹأی سے لے کر بال سنوارنے والی کنگھی تک ہر چیز موجود ہے

(۸)مضمون نگاری
انسان اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے جہاں زبان کو استعمال کرتا ہے وہیں بیشتر مواقع پر قلم کو بھی استعمال کرتا ہے اس لیے کہا گیا ہے کہ ,,القلم احدی اللسانین ,,یعنی قلم بھی ایک زبان ہے طرفہ تماشا یہ کہ کبھی یہ مجازی زبان سینکڑوں حقیقی زبانوں کو بند کرتی ہؤی نظر آتی ہے یقینا قلم کی عظمت کا ایک زمانہ معترف ہے اور موجودہ دور میں تو اس کی اہمیت مزید بڑھ گٔی ہے _قلم و قرطاس کی اس اہمیت و ضرورت کے پیش نظر ادارے نے اس شعبہ کو تشنہ نہیں چھوڑا بلکہ اس پر بھی خصوصی توجہ دی- طلبہ عصر تا مغرب نہایت ذوق و شوق کے ساتھ ادارےکی لائبریری میں جمع ہوکر ادیب شہیر حضرت مولانا محمد رفیق صاحب قبلہ مصباحی سعدی شیرانی کی نگرانی میں مضمون نگاری کے قواعد سیکھتے ہیں اور مشق مضمون نویسی بھی کرتے ہیں -تعجب کی بات یہ کہ بانی و مہتمم ادارہ ہذا حضرت مولانا حافظ و قاری سعید صاحب قبلہ اشرفی زید مجدہ اپنی بے شمار مصروفیات کے باوجود اس شعبے کی کارکردگی طلبہ سے لیتے رہتے ہیں نیز اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے ہیں

(۹)عربی ادب
عربی زبان بہت ہی اہمیت کی حامل زبان ہے تقریبا ۲۳ ملکوں کی مادری زبان عربی ہے نیز اسلامی علوم کا بہت بڑا ذخیرہ اسی زبان میں ہے جیسے قرآن مقدس تفسیر, فقہ, حدیث و اصول دین کی اکثر کتابیں اسی زبان میں ہیں_ اس مہتم بالشان زبان کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر ادارہ ہذا نے اس بابت کثیر اہم اقدامات کیے ہیں جو قابل تعریف ہیں – ماشاء اللہ یہاں کے طلبہ کے اندر عربی زبان سیکھنے کا جذبہ نہایت ہی قابل تعریف ہے صبح کلاس لگنے سے پہلے تقریبا آدھا گھنٹہ ادارہ کی لائبریری میں عربی کلاس لگتی ہے جس میں طلبہ ذوق و شوق سے حاضر ہوتے ہیں نیز عربی ڈپلومہ بھی چلتا ہے اس کی کتابیں باقاعدہ زیر درس رہتیں ہیں

(۱۰)تقریر:
تقریر اپنی بات کو عوام تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے اس سے قوموں میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے ,اس سےلوگوں کے قلوب و اذہان کو مسحور کیا جاسکتا ہے, اس کی بدولت مردہ دلوں کو تازگی بخشی جاسکتی ہے -غرض یہ کہ اس کی اہمیت ہر جگہ مسلم اور اس کی ضرورت کا زمانہ محتاج -ادارہ ہذا نے اس کی اہمیت و افادیت کے خاطر اس کو حرز جاں بنایا اور طلبہ کے اندر تقریر کے تعلق سے ایک بیداری پیدا کی -ہر جمعرات کو ظہر تا عصر بزم کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ہر کلاس کے طلبہ اپنے متعلقہ استاذ کی نگرانی میں رہ کر نعت و تقریر کی مشق کرتے ہیں اور یوں اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرکے انہیں نکھارتے ہیں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم جب اپنے استاذ و ہم عصروں کی موجودگی میں بولنا سیکھ لیتا ہے تو علما و عوام کے سامنے بولنا اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں رہ جاتا

(۱۱) امتحانات
امتحان:طلبہ کی محنت و مشقت کا جائزہ لینے اور ان کی خوابیدہ استعداد کو جگانے کے لیے ہوتے ہیں- امتحان کےمعاملات میں یہ ادارہ نہایت حساس واقع ہوا ہے سال میں چار امتحان (سہ ماہی ,شس ماہی,نوماہی,سالانہ ) ہوتے ہیں جس میں طلبہ نہایت ذوق و شوق اور محنت و لگن سے باہمی تکرار کرکے گذشتہ اسباق کی تیاری کرتے ہیں خوشی کی بات یہ کہ اعلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو ہر ماہ ہدیہ بھی پیش کیا جاتا ہے جو یقینا قابل تعریف اقدام ہے

(۱۲) کھانے پینے کا بہترین بندوبست

کھانا ,پینا انسانی ضروریات میں سے ہیں گرچہ طلبہ کرام کو اسلاف کی پیروی کرتے ہوے جتنا ملے اس پر قناعت کرنی چاہیے لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں سبزی میں ذرا سا نمک تیز ہونے پر بھی ادارے کے خلاف احتجاج کرنے پر کب اتر آٔیں کویٔی گارنٹی نہیں دی جاسکتی پس اس مقتضی حال پر عمل کرتے ہوئے ادارے نے طلبہ کے کھانے پینے اور رہنے کے لیے بہتر سے بہترین انتظام کر رکھے ہیں ہفتے میں مختلف نوع کی سبزیاں ,چاول و گوشت اس قدر دیے جاتے ہیں کہ طلبہ شکم سیر ہوکر ہی دستر خوان سے اٹھتے ہیں

(۱۳)صاف صفائی
,,النظافہ شعبہ من الایمان ,,یعنی صاف صفائی ایمان کا ایک حصہ ہے (مقولہ ) ادارہ ہذا صاف صفأی کے معاملے میں نہایت سنجیدہ ہے برآمدہ ,پارک, ہال وغیرہ کی صفأی کے لیے متعدد خدام لگاے ہوے ہیں جو خوش اسلوبی و دیانت داری کے ساتھ اپنے اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں۔

بحکم: مصلح قوم و ملت حضرت مولانا حافظ و قاری سعید صاحب قبلہ اشرفی ادام اللہ علینا ظلہ و کثر فینا امثالہ (بانی و مہتمم دارالعلوم فیضان اشرف باسنی ناگور شریف راجستھان)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی درس گاہ کو معیاری بنائیے

ازقلم: شیبا کوثر (آرہ، بہار) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں درس گاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے