معاشرے کو امن و امان کا گہوارا بنانے میں اسلام کا کردار

تحریر: محمد کلیم الدین مصباحی
خطیب و امام: سنی جامع مسجد بیلور ہاسن ضلع کرناٹک
8050885581

آج پوری دنیا میں امن وامان کا بہت بڑا مسئلہ پیدا پوگیا ہے ۔انسان فطری طور پر امن وامان کا آرزومند ہے ۔ہر کسی کواپنے جسم وجان ،عزت وآبرو اور خاندان کی سلامتی محبوب اور پسندیدہ ہے ۔ہروجود امن وامان اور اطمینان وسکون کا متلاشی ہے ۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک، قوم ،سماج،افراداور معاشرہ بغیر قیام امن کے ترقی نہیں کر سکتا۔کسی بھی ملک ،قوم، سماج ،اور افراد کی ترقی کے لئے امن وامان کا قائم ہونا ضروری ہے اور اس کے لئے آج پوری دنیا انتھک کوششیں کرنے کے بعد بھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکی ۔آئیے قرآن اوراسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیںکہ معاشرہ میں امن وامان کیسے قائم ہو سکتا ہے؟۔ اور اس کے لئے ہم کو کیا کرنا چاہئے؟۔اس سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ اسلام نے پوری دنیا میں امن وامان کے قیا م کا جوکا درس دیا ہے اور قیام امن میں جو کردار نبھایا ہے وہ صرف اسلا م کا ہی حصہ ہے۔قران مقدس کی سورہ حجرات کی ابتدائی آیتوں میں اللہ جل شانہ نے ایک صا لح اور پر امن معاشرہ کا جو نظام پیش کیا ہے ہم اس پر عمل کر کے اپنے معاشرہ کو امن وامان کا گہوارہ بنا سکے ہیں ۔جن چیزوں سے معاشرے میں بد امنی پھیلتی ہے اللہ کریم نے ان تمام چیزوں سے اپنے بندون کو روکا ہے ۔
جن چیزوں سے معاشرہ بد امنی کا شکار ہوتا ہے۔۱فواہ،غیبت،بد گمانی،طعنہ زنی،حسد،عیب جوئی،نا انصافی،دوسرے کو ذلیل ورسوا سمجھنا ،اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جس سے اللہ نے ہم کو روکا ہے اور معاشرے میں امن و امان کا ایک بہترین نظام ہمیں دیا ہے۔
(۱ )افوا ہ ،جھوٹی خبریں معاشرے میں اکثر فساد غلط اور جھوٹی خبروں کی وجہ سے ہوتے ہیں جس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہم ہر خبر کو صحیح سمجھ بیٹھتے ہیں اس کی تحقیق نہیں کرتے کہ خبر لانے والا کیسا ہے اور خبر کیسی ہے ،سورہ حجرات کی آیت نمبر۶؍میںاللہ نے اس سے متعلق ہمیں آگاہ فرمایا ۔ترجمہ:اے ایمان والوں !اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلوکہ کہیں کسی قوم کو کو انجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو،پھراپنے کئے پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔(کنزالایمان)اے ایمان والوں !اگر کوئی فاسق تمہارے پاسکوئی خبر لا ئے جس میں کسی کی شکایت ہو اسکی تحقیق کر لوکہ صحیح ہے یا نہیں صرف اس کی بات پر اعتماد نہ کرو جو فسق سے نہ بچا وہ جھوٹ سے بھی نہ بچے گاکہیں انجانے میں کسی قوم کو تکلیف نہ بیٹھوبعد تمہیں اپنے کئے پر شرمندہ ہوناپڑے۔مفسرین نے اس آیت کی شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ رسول ﷺ نی اپنے ایک صحابی حضرت ولید بن عقبہ ؓ کو بنو مصطلق سے صدقات وصولکرنے کے لئے بھیجا ،زمانہ جاہلیت میں ان کے اور ان کے درمیان دشمنی تھی ،جب حضرت ولید ؓ ان کے علاقے کے قریب پہونچے اور ان لوگوں کو خبر ہوئی کہ حضرت ولید ؓ حضور کے بھیجے ہوئے ہیں ،بہت سے لوگ ان کی تعظیم کے لئے ان کا استقبال کرنے آئے ،لیکن حضرت ولید ؓ نے یہ گمان کیا کہ یہ پرانی دشمنی کی وجہ سے مجھے قتل کرنے آرہے ہیںیہ خیال کر کے آپ واپس آگئے اور حضور طﷺسے عرض کر دیا کہ حضور !ان لوگوں نے صدقہ دینے سے انکار دیا اور مجھے قتل کرنے کے در پے ہوگئے ہیں ۔حضور ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو حالات کی تحقیق کے لئے بھیجا حضرت خالد بن ولید ؓ نے دیکھا کہ وہ لوگ اذانیں کہتے ہیں ،نمازیں پڑھتے ہیں او ر ان لوگوں نے اپنے صدقات پیش کردئے ۔حضرت خالدبن ولید ؓیہ صدقات لے کر خدمت اقدس میںحاضر ہوئے اورا سارا واقعہ آپ نے بیان کردیا تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (صراط الجنان )اس آیت کریمہ سے پتا چلا کہ اسلام ان چیزوں سے منع کرتا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ اور فساد پیدا ہوتا ہے اور وہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے جس سے معاشرہ پرامن اور پر سکون ہو۔مذکورہ آیت میں بیان کئے گئے اصول کے مطابق اپنی زندگی گذاریں تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارا بن سکتا ہے ۔
(۲)اصلاح پسندی اور عدل وانصاف کافقدان۔ جس معاشرے میں عدل وانصاف اور اصلاح پسندی کا فقدان ہو وہ معاشرہ کبھی پر امن نہیں ہو سکتا اللہ تعالی اس کے تعلق سے سورۃ حجرات کے آیت نمبر ۹؍میں فرماتا ہے ترجمہ : اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میںلڑیں تو ان میں صلح کرائوپھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑویہاں تک کے وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کردواور عدل کرو بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔(کنزالایمان)اس آیت کے شان نزول سے متعلق مفسرین کرام نے فرمایا کہ ! نبی کریم ﷺ دراز گوش پر سوار ہوتشریف لے جا رہے تھے انصار کی مجلس پر گذر ہوا وہاں تھورا سا توقف فرمایا اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابن ابی نے ناک بند کرلی حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے فرمایا کہ (تو حضور کے دراز گوش کے پیشاب کو دیکھ کر ناک بند کرتا ہے)حضور کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے ،حضو رتو تشریف لے گئے ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہونچ گئی ا رو جب حضور ﷺ کو اس بات کی خبر ہو ئی تا آپ ﷺ تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(خزائن العرفان) ۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے درمیان صلح کروانا نبی کریم ﷺ کی سنت اور اعلی درجہ کی عبادت ہے ۔حضرت ابو درداء ؓسے روایت ہے کہ ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتا دوں جو درجے میں روزے،نماز اور زکوۃ سے بھی افضل ہو ،صحابہ کرام ؓ نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺکیوں نہیں۔ارشاد فرمایا’’آپس میں صلح کروا دینا۔(ابو دائود،کتاب الادب)اسلام نے جو نظام صلح پیش کیا ہے ہم اس کے ذریعے معاشرے کو جنگ وجدال،قتل وقتال،اور خون ریزی سے بچا کر امن وامان کا گہوارا بناسکتے ہیں ۔مگر افسوس کہ آج کچھ دلال کے قسم کے ایسے مواقع کے منتظر ہوتے ہیں کہ کب دو لوگ اپس میں جھگڑے اور ہم اسکا فائدہ اٹھا ئیں ۔ایسے لوگ ایک دوسرے کو ایک دوسرے کو بھڑکا کر معاشرے کا چین وسکون غارت کر دیتے ہیں ۔اللہ ہم سب کو ایسوں سے بچائے۔اسی طرح معاشرے میں امن کے لئے عدل وانصاف بھی ضروری ہے جس سے ہے انسان کو اس کا حق مل جائے گا ،انصاف مل جائے گا پھر معاشرہ بد امنی سے محفوظ ہو جائے گا ۔غزوہ بدر کے موقع سے جو ستر کفار قیدی بنا لاکر لائے گئے تھے ان میں نبی پاک ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی تھے ،قیدیوں سے فدیہ لیکر انہیں رہا کیا جا رہا تھا ،فدیہ کی رقم چار ہزار درہم تھی لیکن امیر ترین لوگوں سے اس سے بھی زیادہ رقم لی جا رہی تھی ،چونکہ حضرت عباس حضورر ﷺ کے چچا تھے ،اس لئے چند صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اجازت دیجئے کہ عباس کا فدیہ معاف کر دیا جائے اور انہیں یونہی رہا کر دیا جائے یہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا ہر گز نہیں بلکہ عباس سے ان کی امیری کی وجہ سے حسب قاعدہ چار ہزار درہم سے زیادہ اصوک کئے جائیں ۔(صحیح البخاری ،کتاب المغازی) اس واقعہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی طرف رہنمائی فرمائی کہ اسلام کی نظر میں رشتہ اور ناطہ بعد میں ہے اور قانون پہلے ،اسلام کی نظرمیں قرابت بعد میں ہے اور عدل و انصاف پہلے ۔اس لئے اسلام ہر جگہ عدل وانصاف کا درس دیتا ہے ۔اسی کے ذریعے امن وامان کا قیام ممکن ہے ۔اس کے بغیر امن وامان اور تحفظ کا تصور ممکن نہیں ۔
(۳)آپس میں اخوت وبھائی چارگی قائم رکھنا ۔ایک صالح اور پرامن معاشرے کے لئے آپسی تعلقات کا خوشگوار رہنا نہایت ضروری ہے اس کے بنا پ معاشرہ پر امن نہیں بن سکتا اس کے متعلق اللہ نے مذکورہ سورہ کے آیت نمبر( ۱۰) میں فرماتا ہے ۔ترجمہ: مسلمان مسلمان آپس میں بھائی ہیںتو اپنے دو بھائیوں میں صلح کر واور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔(کنزالایمان) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان اسلامی اور ایمانی رشتہ کے بنیاد پر آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اس آیت سے یہ بھی پتاکہ چلا کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کسی بھی طرح تکلیف نہ دیں ۔
(۴) کسی کا مذاق اڑانا یا بُرے القاب سے پکارنا ۔معاشرے کا امن ضائع کرنے میں اس عمل کا بھی بہت بڑا دخل ہے ۔اس کے متعلق اللہ کریم نے سو رہ حجرات کی آیت نمبر (۱۱) میں فرمایا ہے کہ ۔ترجمہ:اے ایمان والوں !نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کی وہ ان ہنسنے ولیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہے ۔(کنزالایمان)مذکورہ آیت میں اللہ نے تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ۔(۱)اللہ نے کسی کا مذاق اڑانے سے منع کیا ہے کہ ہم کسی کی ظاہری حالت کو دیکھ کر ان کا مذاق نہ اڑائے اس کے شان نزول کے کے بارے میں ضحاک کا قول یہ ہے کہ یہ آیت بنو تمیم کے ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو غریب صحابہ کو دیکھ کر مذاق ارٓاتے تھے ،اللہ نے ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی اور ان سے کہا گیا کہ ان کی غربت کا مذاق نہ اڑائو کہ دور نہیں کہ وہ صدق واخلاص میں تم سے بہتر ہو۔اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی کسی مسلمان کا مذاق اڑانا اس کی تحقیر کرنا حرام ہے ۔ایک حدیث پاک میں اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے راوی حضرت انس بن مالکؓ ہے آپ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کے بال بکھرے ہویئے اورغبار آلود ہوتے ہیں اور انہیں کوئی پناہ نہیں دیتا اگر وہ اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالی ان کی قسم کو سچا کردیتا ہے (ترمذی) اس حدیث سے بھی پتا چلا کہ کہ کوئی کسی کا مذاق نہ اڑائے نہ امیر غریب کا ،نہ تندرست بیمار کا، نہ آنکھ والا اندھے کا تاکہ معاشرے میں امن وامان قائم رہ سکے ۔(۲) طعنہ زنی سے اللہ تعالی نے رو کا کہ کسی کو کسی بات یا کسی چیز کو لیکر طعنہ نہ دیں چونکہ یہ بھی معاشرے کی سلامتی کو متاثر کرنے والی شئی ہے اس لئے اللہ نے اس سے اپنے بندوں کو روک دیا تا کہ معاشرے امن واامان کا گہوارہ بنا رہے ۔(۳)تیسری بات اللہ نے اپنے بندوں کو ایک بُرے نام کے ذریعے پکار نے سے منع سے روکا چونکہ یہ بھی فساد کی جڑ ہے اس اللہ نے اس سے روک کر ایک صالح معاشرہ کا بہتر نظام پیش کیا۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا کرے۔
(۵)عیب جوئی،غیبت اور کثرت گمان ۔اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کو ان تمام چیزوں سے منع فرمایا کہ یہ بھی معاشرے کے نظام کو درہم برہم کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں اللہ فرماتا ہے سورہ حجرات کی آیت نمبر ۱۲؍ ترجمہ:اے ایمان والوں !بہت گمان سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈواور ایک دوسرے کی غیبت نہ کروکیا تم میں کو ئی پسند رکھے گاکہ اپنے مردار بھائیکا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارانہ ہو گا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔(کنزالایمان )اس آیت میں اللہ نے اپنے بندوں کو تین چیزوں سے روکاہے اوریہ تینوں آج عام ہیں ۔(۱) مذکورہ آیت میں اللہ نے اپنے بندوں کو بہت زیادہ گمان کرنے سے منع کیا ہے ۔کیونکہ گمان ایک دوسرے پر عیب لگانے کا سبب ہے،جس سے بے شمار افعال قبیح کا صدور ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ خفیہ دشمنی بھی ظاہر ہوتی ہے ۔اسلام میں اللہ نے بدگمانی منع فرمایا اور اچھا گمان رکھنے حکم دیا ۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’اپنے آپ کو بد گمانی سے بچائو کہ بدگمانی بد ترین جھوٹ ہے ،ایک دوسرے کے ظاہری باطنی عیب مت تلاش کرو ،حرص نہ کرو،حسد نہ کرو،بغض نہ کروایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو اور اے اللہ کے بندوں بھائی بھائی ہوجائو(مسلم شریف)اس حدیث سے پتا چلا کہ بدگمانی بہت بری چیز ہے اس بچنا چاہئے ۔
بدگمانی کے نقصانات ۔اس کے بہت نقصانات ہیں۔انسان اس کی وجہ سے حسد،بغض،عداوت،کینہ جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو تا ہے ۔اس کی وجہ سے میاںبیوی،ساس بہو،بھائی بہن،دوست دوست،کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے پھر لڑائی جھگڑے کی نوبت پیدا ہوتی ہے اور ایک ہنستا کھیلتا گھر تنکے کی طرح بکھرکر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔’’دوسروں کے لئے برے خیالات رکھنے والے پر فالج اور دل کی بیماریوں کاخطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے جیسا کہ حال ہی میںامریکن ہارٹ ایسو ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے وہ افراد جودوسروں کے لئے مخالفانہ سوچ رکھتے ہیںاور اس کی وجہ سے ذہنی دبائو کا شکاراور غصے میں رہتے ہین ان میں دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ ۸۶؍ فیصد بڑھ جاتا ہے‘‘۔(صراط الجنان)
(۲)مسلمانوں کی عیب جوئی کی ممانعت ۔ اس میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کی عیب جوئی سے منع فرمایا ہے۔ بلکہ انسان کو چاہئے کہ دوسروں کی عیب جوئی کے بجائے اپنا عیب دیکھے اور اس کی اصلاح کرے اس میں دونوں کی دینی اور دنیوی فائدہ ہے ۔دوسروں کے عیب چھپانا بہت بہتر کام ہے اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا کہ جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے اللہ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا ۔اللہ ہم سب کو توفیق عطا کرے ۔
(۳)غیبت کی مذمت اور اس کی قباحت وشناعت کو بیان کیا ہے ۔اس آیت میں غیبت کرنے سے منع فرمایا اور مثال کے ذریعے اس کی برائی کو بیان کیا گیاہے ۔حدیث شریف حضرت ابو سعید خدری اور حضرت جابرؓسے روایت ہے ،اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے لوگوں نے عرض کیا ،یا رسول اللہ ﷺ غیبت زنا سے زیادہ سخت چیز کیسے ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’مرد زنا کرتا پھر فر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی تب تک مغفرت نہیں نہ ہوگی جب تک وہ معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے ۔(شعب الایمان )۔ آپ نے اس حدیث سے غیبت کرنے کا وبال سماعت فرمایا اور اس کے علاوہ بیشمار جگہوں پر اللہ کے حبیب ﷺ نے غیبت کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ اللہ ہم سب کو اس سے بچائے ۔ اللہ کریم نے ہمیں ایک نظام امن عطا فرمایا جس کے مطابق ہم عمل کرکے اپنے معاشرہ کو امن وامان کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے