طلوع شمس تک حالت نیند میں، دن بھر حالت زار میں

از قلم: مجیب الرحمٰن جھارکھنڈ

شب و روز کا مالک ایک اللہ ہے اسی نے رات اور دن بنائے، دن بنایا اس لئے تاکہ لوگ اپنی روزی روٹی کا بندو بست کرسکیں، اور رات بنایا اس لئے تاکہ لوگ دن بھر کی تھکاوٹ کو نیند کے ساتھ دور کرسکیں، دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد فطرتاً انسان کو آرام کی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ نے رات بنا کر انسانوں کو یہ موقع فراہم کیا، قرآن کریم میں اس طرح کے ایات موجود ہیں،
اس دنیا میں ہر چیز کیلیۓ ایک حد مقرر ہے اور حد پار کرنے والوں کو سرزنش کی گئی ہے، اپنے حد میں رہ کر ہی انسان خیر تک پہنچ سکتا ہے اپنی حد پار کرنے پر خود اسے بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلاً۔۔ کھانا لمٹ سے زیادہ کھالے تو بیماری کا سبب بنتا ہے،پانی بھی لمٹ پار کرکے پی جائے تو نقصان سے خالی نہیں زیادہ بولنے، ہسنے سے بھی خرابی لازم آتی ہے قرآن و حدیث میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے، اسی طرح نیند بھی ضرورت سے زیادہ ٹھیک نہیں ایک قول کے مطابق۔۔ چوبیس گھنٹہ میں چھ گھنٹہ نیند کیلئے ہے اس سے زیادہ نقصان سے خالی نہیں، کم سونا بھی نقصان سے خالی نہیں، شریعت مطہرہ میں اس کا بہترین حل پیش کیا ہے، کہ انسان عشاء کی نماز پڑھ کر سو جائے اور آخری پہر میں بیدار ہوکر اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جائے، عشاء کے بعد دیر تک بیکار کاموں میں لگ کر وقت گزارنے کی ممانعت آئی ہے،اسی طرح صبح دیر سے اٹھنے پر بھی لعن طعن کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔ اے اللہ میری امت کی صبح میں برکت عطا فرما، ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا۔۔ صبح رزق تقسیم کیا جاتا ہے جو شخص طلوع شمس تک سوتا رہا اس سے دن بھر کی روزی چھین لی جاتی ہے، ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ایک کتے سے انہوں نے پوچھا کہ۔۔ تم صبح صبح کیوں بھوکتے ہو اور پھر جب ساری دنیا بیدار ہو جاتی ہے تو تم سو جاتے ہو کتے نے جواب دیا۔۔ میں صبح صبح چلاتا ہوں تاکہ لوگ بیدار ہو جائیں اور نماز پڑ کر عذاب کو کم کریں ساتھ ہی ساتھ دن بھر کی روزی روٹی بھی حاصل کرلیں، پھر میں سوجاتا ہوں تاکہ میں ایسے شخص کا چہرہ نہ دیکھ لوں جنہوں نے فجر کی نماز نہ پڑھی ہو کہ اس کا چہرہ دیکھنے کی وجہ سے میری دن بھر کی روزی نہ چھین لی جائے،
شریعت کہ رہی ہے کہ صبح دیر تک نہ سویا جائے۔۔ کیوں کہ اس میں نقصان ہی نقصان ہے،
لیکن ہماری قوم نے اس طریقہ کو ٹھکرا دیا اور صبح دیر تک سونے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا نیا طریقہ اس لئے کہ صبح دیر تک مسلم قوم کے علاوہ کوئی قوم نہیں سوتی، غیروں کا حال تو یہ ہے۔۔۔جس کا میں نے تجربہ کیا۔۔ وہ طلوع فجر میں اٹھ جاتی ہے اور سڑکوں پر میدانوں میں ورزش کرتے نظر آتے ہیں، پھر وقت ہوتے ہی وہ اپنے کام میں لگ جاتے ہیں،صبح جلدی اٹھنے پر اللہ تعالیٰ ان کے زرق میں برکت بھی عطا فرماتا ہے، آج غیروں کی ترقی دیکھ کر مسلم قوم عش عش کرتی ہے، ان کی شان میں تعجب خیز بات کرتے ہیں، ۔۔۔ ارے مسلم قوم۔۔ ہم نے اپنی شریعت کا طریقہ ٹھکرا اور غیروں نے اپنا لیا جس کا ثمرہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،
مسلم قوم سورج نکلنے کے بعد تک سوتی رہتی ہے اور پھر دن بھر رزق کی کمی کی شکایت کرتی نظر آتی ہے الا ماشاءاللہ ۔۔۔ جس کا ذکر یہاں نہیں کیا جاتا۔۔
پورے سماج میں منحوسیت چھائی رہتی ہے، دن بھر ٹھوکریں کھاتے ہیں جبکہ غیر قوم ہماری شریعت کو اپنا کر مزے کررہے ہیں ، میں یہ سب کوئی سنائی بات نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ اس کا میں نے خود مشاہدہ کیا ہے،
صبح آٹھ بجے اپنی عادت کے مطابق میں ہر گھر پہنچ تا ہوں گاؤں میں اور گاؤں سے باہر بھی، سوائے چند گھر کے ہر گھر کی کنڈی بند رہتی دستک دیتا ہوں تب جاکر کوئی اٹھ کر دروازہ کھولتا ہے، میں نے کئی نوجوانوں سے پوچھا کہ آخر اتنی دیر تک سونے کے پیچھے راز کیا ہے؟ جواب ملتا ہے ۔۔ کہ ہم جہاں کام کرتے ہیں وہاں دس بجے تک سونے کا ماحول ہے۔۔
اپنے سماج میں یہ منظر دیکھ کر آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں، دل افسوس کرتے کرتے سسکنے لگتا ہے، کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوگئے؟ جانا تھا کدھر اور کہاں چلے گئے؟
صبح جلدی اٹھنے میں طبی فائدے بھی بے شمار ہیں، صبح کی ہوا میں اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہے، پورے جسم کا علاج صبح جلدی اٹھ کر چہل قدمی کرنے میں ہے، بڑے بڑے ماہرین اس ترغیب دیتے ہیں اور خود ہماری شریعت نے اس کا حکم فرمایا ہے،
ہماری غفلت کا یہ حال ہے کہ نماز تو دور کی بات کم از کم سورج نکلنے سے پہلے ہمیں بیدار ہونا گوارہ نہیں، پھر جب پریشانیاں آتی ہیں تو خدا سے شکایت لئے بیٹھ جاتے ہیں،
اس لئے پوری مسلم قوم سے عاجزانہ درخواست ہے کہ برائے مہربانی اگر نماز فجر پڑھنے کی توفیق نہیں تو کم از کم سورج نکلنے سے پہلے اٹھنے کی کوشش کریں، خدا سے نماز پڑھنے کی بھی توفیق مانگیں کیوں کہ ہماری ہر پریشانی کا حل نماز میں رکھا گیا ہے،
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

افسانہ ہی حقیقت ہے

ازقلم: غلام آسی مونس پورنوی عبداللہ کی شادی کے تقریباً 15 سال کا ایک طویل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے