ایک قدم صاف ہوا اور سبز توانائی کی جانب

تحریر: شیخ عائشہ امتیازعلی
متعلمہ ! انجمن اسلام گرلزہائی اسکول ناگپاڑہ

زندگی کوحسین اورخوبصورت بنانے اورسنوانےکیلئے صاف ہوا کاہوناضروری ہےجو نہ صرف تازگی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے، خواہ سیاحت کے لیے آپ شہروں کا دورہ کریں یا پرسکون و صاف و شفاف فضا میں سانس لیں، یہ انسانی ذہن میں نمایاں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔
انسان کےاردگرد موجودکائنات اوراس کی تمام چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں ،اللہ نے اس کائنات کوپہاڑوں،جنگلوں ،دریائوں ،ندی نالوں،ہوائوں ،اوردیگرمختلف چیزوں سےآبادکیاہے اورزمین کواس کاٹھہرائوں بنایاآسمان کواس پرمانندچھت بناکر خوبصورت ستاروں،سیاروں سےاسے مزین کیا ہےاس کے نیچے بادلوں کوانسان کی بنیادی ضرورت پانی سےبھرکرانسان کی آبی ضرورتوں کی تکمیل کی ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺحضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر مدعو تھےان کا وسیع گھر، کشادہ صحن، شفاف اور دھلے پودے، کھلے اور خوشبو بکھیرتے پھول، کھجوروں کی لدی ہوئی شاخیں اور باغیچہ میں آبِ رواں کا منظر نہایت دلکش تھے۔حضورؐ نے ارشاد فرمایا!سعادت کشادہ صحن میں ہے جو پودوں سے آراستہ ہو۔
آج ہم فلک نیلگوں پر تاروں کی بارات دیکھنے سے نا بلد ہیں۔رنگ و نور کا قافلہ، کہکشاں پر کیسے سفر کرتا ہے۔صاف مطلع پر بدرِ منیر کیسے مسکراتا ہے اور زمین کی گود میں نور کا خزانہ کیونکر انڈیلتا ہے۔اسی منظرکانقشہ اگرآج ہم اپنے بچوں سے پوچھیں۔آپ نے پھول کی پتی پر شبنم دیکھی ہے ۔مرغزار پر چہل قدمی کرتے پرندے، پھول پر نالہ کرتی بلبل ۔تو اُن کا جواب نفی میں ہوگا۔ہم نے اپنے ماحول کو دھواں دار بنا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات اور کائنات میں موجود تمام چیزوں کو ہمارےہی نفع رسانی کے لیے پیدا کیا ہے۔یہ صاف ستھری ہوا جس میںہم سانس لیتے ہیں،یہ روح افزاء پانی جس سےہم اپنی پیاس بجھاتےہیں، یہ ہرے بھرے درخت جن سےہم پھل، لکڑیاں اور سایہ حاصل کرتےہیں، یہ طرح طرح کے مویشی جن کے دودھ، گوشت اور چمڑے سے ہم فائدہ اٹھاتےہیںسب کوہماری خدمت میں لگا دیا گیا ہے۔اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان تمام چیزوں کی حفاظت کریں اور انہیں ضائع ہونے سے بچائیں۔
مگرآج دورحاضر کاانسان جہاں بےشمار مسائل وآلام میں جکڑاہواہے ،وہاں اس کاسب سےبڑامسئلہ جس کادنیاکواس وقت شدت سےاحساس ہورہاہے وہ ہےصاف ہوااورشجرکاری کافروغ انسان اپنی سہولیات کیلئے انواع واقسام کی اشیاءایجادودریافت کی جن کی وجہ سے انہیں کئی تکالیف سے نجات ملی لیکن بدقسمتی سے جدیدانسان مشینی اشیاکےزیادہ استعمال سے اپنی عادات واطوارکوبھلاکر خودبھی مشینوںکے سانچےمیں ڈھل گیا اوراپنی ذات میں قیدہوکر دوسروں کی زندگیوں میں مسائل کاباعث بننےلگایہی وجہ ہےکہ اس وقت صاف ستھری ہوا مشینی دھوئوں میں لپٹ کر پراگندہ ہوچکی ہے جودورحاضرکیلئےنہایت سنگین مسئلہ ہے ۔
آج ہم دیکھ رہےہیں کہ جس برق رفتاری سے دنیابدل رہی ہے اسی تیزی سے انسانی ذہن ومزاج بھی تبدیل ہورہاہے یہی انسانی ذہن کہیں رات کودن اورگرمی کو سردی میں بدلنے میں مصروف ہے توکہیں پرندوں سے تیز اڑ کرایک جگہ سے دوسری جگہ پہونچ جانے میں اپنی عقل کااستعمال کررہاہے انسان کوعقل دی گئی فلاح وبہبودکیلئے مگراندازہ یہ ہورہاہے کہ یہی شعور اس کیلئے صرف مسائل ہی نہیں بلکہ تباہی کاسبب بھی بن گیاہے ،حالاں کہ صاف ستھراماحول اورکھلی فضاانسان کیلئےکتناضروری ہیں انسان نے اس سرزمین مقدس پر انکھ کھولی تواسکے اولین شناسائی اسی ماحول سےہوئی، یہی ماحول انسان کاپروردہ، اورنگہبان تھا مگرجوں جوں انسان ترقی کےمنازل طے کرتاگیا اورجدیدیت سےجدیدیت تک کی منازل کوپائوں تلےروندتاگیا وہ اپنے اولین اوردائمی پروردہ کوبھی تباہی کےدہانےکی طرف دھکیلتاگیا وہی ماحول جوکبھی انسان کیلئے سائبان اورمحافظ تھا آج انسان کی اپنی تباہی کاشاخسانہ بن چکاہےحالانکہ انسانی صحت کیلئے کھلی فضااورصاف ہوامیں سانس لینا بہت ضروری ہے لیکن اس ترقی یافتہ اورسائنٹفک دورمیں انسان کونہ صاف ہوامیسرہےاورنہ ہی کھلی فضااس جدیدترین دورمیںانسان آلودہ زندگی گذارنےپرمجبورہےحالاںکہ ہمیںجانناچاہیےکہ صاف ستھری ہواانسانی صحت کیلئے کتنافائدہ مندہے۔
انڈسٹریزکےقیام کیلئے بےجادرختوں کی کٹائی ،فیکٹریزکاگندہ مواد،پیداوارمیں اضافے کیلئے کیمکل اسپرے، بڑھتی ہوئی آرام طلبی کے سبب بےبہاگاڑیوں کااستعمال اوربڑھتی انسانی ضروریات اورآرام طلبی کےپیش نظر فیکٹریزکےپروڈکشن میں اضافہ یہ ایسےعوامل ہیں جومل کرصاف ہواکوپوری طرح پراگندہ کررہےہیں ۔ان تما م چیزوں پر غورکرتے ہوئےحکومت کیساتھ ساتھ ہم تمام اہل وطن کوچاہیےکہ شجرکاری کےحوالےسے عوامی شعورکوبیدارکریں۔
اگرہم آج سنجیدگی سےسوچیں تو ،ہم اپنےماحول کوصاف بناسکتےہیںلیکن اس کیلئے ہم کوسنجیدگی سے غورکرکے عملی طورسے کچھ اقدامات کرنےکی ضرورت ہے جیسےشمسی توانائی کااستعمال روشنی کیلئے ،کھاناپکانے کیلئے اورالیکٹرانک آلات کیلئے کرناچاہیے جتناہوسکےپیڑپودےلگائیں،پانی کوزمین کے اندرمحفوظ کریں،زمین سے حاصل ہونیوالی قدرتی دولت کا حسب ضرورت اورکم استعمال کریں پلاسٹک کااستعمال ،کیمیائی کھاداورکیڑوں کومارنیوالی ادویات کااستعمال ترک کردیں ،ہم اپنےآپ کو اوراپنے ماحول کوصاف ستھرااورخوشگوار رکھیں، کپڑوں کی تھیلیاں قدرتی دوائووں اورضروریات زندگی کااستعمال کریں کیوں کہ یہ چیزیں ہم کوقدرتی ذرائع سےمفت ملتی ہیں۔ہم ان سے پیارکریںاس طرح سےہم لاکھوں سالوں تک اس زمین اورماحول کوخوبصورت اوررہنےکےلائق پاتے رہیں گے اورصاف ستھری ہواہمیں حاصل ہوتی رہےگی جوزندگی کوموقع بموقع تازہ دم رکھےگی ۔کیوں کہ صاف ستھری آب وہوا ، صحت مند اور مہذب معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پچھلے ایک عرصے سے ہم میں سے بہت سے لوگ بے خبر ہیں جن کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی بے احتیاطی کی وجہ سے قدرتی ماحول کس قدر متاثر ہورہی ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے کوآلودہ ہوتے ہوئے اپنے خوبصورت، مسحورکن، دلنشین اور صحت بخش علاقوں کی خوبصورتی اور تازگی کو تروتازہ کرنے کو اپنا قومی اور معاشرتی فریضہ سمجھ کر لوگوں کو اس طرف متوجہ کریں تاکہ ہم ملکی اور معاشرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور اپنی آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول مہیا کرسکیں اسی کیساتھ ہم اپنی طرززندگی صاف ہوا اورزہنی توازن کیلئے ساتھ ساتھ شجرکاری کی طرف ہمارےاحباب ،دوست ،پڑوسی یاکوئی اہل ساسائٹی ان سرگرمیوں کی جانب ایک قدم آگےبڑھتےہیں توہم ان کے حوصلوں کودیکھتےہوئے دوقدم آگےبڑھنےکی کوشش کریں ہم خود رسول اللہ ﷺ کودیکھتےہیں آپ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھجوروں کے باغات میں فاضل جڑی بوٹیوں کو یا خاردار پودوں کو تلف کرنے کا حکم بھی دیتے تھے۔ان تما م ہدایت کا واضح مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہؐ صاف ستھری آب وہوا کو ہر قیمت پرپراگندہ ہونےسے پاک رکھنا چاہتے تھے۔تا کہ کسی قسم کا تعفن پیدا نہ ہو۔رسول اللہؐ درخت لگانے اور انکی رکھوالی کرنے اور پانی دینے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔
اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب مل جل کر اپنے ماحول کو ہر طرح کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کی بھر پور کوشش کریں۔تاکہ ساری چیزیں صحت مند ماحول میں صحت مند رہ سکیں۔ہرایک صحت اور تندرستی کی دولت سے مالا مال ہو کرزندگی گزار سکیں۔ہرفرد اچھی صحت کیساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔یاد رکھیں ! ماحول کی حفاظت کرنا ہر فرد کا کام ہے اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔اگر کچھ لوگوں کی وجہ سے ماحولیاتی فضا متاثر ہو رہی ہو تو اس پر خاموشی اختیار کر نے کے بجائے انہیں اس کام سے روکنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے، ورنہ اس کی لپیٹ میں سب آجائیں گےاگرہم نے اپنےماحول کو صحت مند ماحول نہیں بنایا یا اسے مضر اثرات سے نہیں بچایا، توہمیں صحت مند ہوا، صحت مند غذا، اور صاف ستھرا پانی نہیں مل سکے گا ہمیں آلودہ ہوا، آلودہ غذا اور آلودہ پانی ہی ملے گا۔تب ہماری اورہمارےماتحتوں کی صحت خراب ہو گی تو طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہو ںگی تب ہم صحت وتندرستی جیسی عظیم نعمت اور صحت مند زندگی سے محروم ہو جائیں گےجب انسان صحت کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے تب وہ کسی کام کا نہیں رہتا، تب وہ زندگی سے مایوس ہو جاتا اور جینے کے بجائے موت کی تمنا کرنے لگتا ہےآئیں، ہم سب مل جل کر ماحول کے تحفظ کے لیے بہتر سے بہتر تدبیریں اپنائیں۔
پوری دنیا بالخصوص حضور نبی کریم علیہ السلام نے ماحولیاتی آلودگی کو پاک کرنے کے لیے جو اصول بتائے ہیں ان میں گلیوں، محلوں اور راستوں کی صفائی بھی شامل ہے۔ آپ ﷺنے متعدد احادیث مبارکہ میں گندگی پھیلانے سے منع فرمایا ہے اور گندگی پھیلانے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے کہ گلیوں، راستوں ، شاہراہوں اور میدانوں میں گندگی اور غلاظت کی چیزیں نہ ڈالی جائیں کیونکہ غلیظ، بدبودار اور مردار چیزیں ڈالنے سے ارد گرد کا ماحول آلودہ ہوتا ہے جس سے پورا محلہ اور علاقہ متاثر ہوتا ہے۔لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص ہم پر بھی اپنی استطاعت کے مطابق اپنے ارد گرد کے ماحول کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اسی طرح ہم پر یہ ایک اخلاقی فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ شاہراہوں پر موجود اذیت ناک چیزیں ہٹائی جائیں تاکہ ماحول خوشگوار رہ سکے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

تحریر: ام ماریہ فلک (ممبرا) "اللہ کے نام پر دے بیٹا، اللہ تیرا بھلا کرے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے