نظم: اف! یہ مہنگائی

نتیجۂ فکر: نیاز جے راج پوری علیگؔ، اعظم گڑھ

اُف ! یہ منہگائی ہمارا بیش بھی کم ہو گیا
خُوشِیوں کا موسم بھی اب تو غم کا موسم ہو گیا

آرزو حسرت تمنّا جاں بَلب سی ہو گئی
ہر خیال اور خواب اب معدُوم و مُبہم ہو گیا

پھِر گیا پانی اُمید و حوصلہ و عزم پر
سامنے منہگائی کے کافُور دَم خَم ہو گیا

آس پر پڑنے لگی ہے اوس چاروں اور سے
ہر ورق اب تو کِتابِ زیست کا نَم ہو گیا

کھیت پیاسے ٹھنڈے چُولہے آگے کا مُشکل سفر
جِس طرف بھی دیکھیئے ہا ہُو کا عالم ہو گیا

لڑکھڑاتے رہتے تھے پہلے ہی راہِ زیست میں
بھاری تھا جو بوجھ پہلے بھاری بھرکم ہو گیا

نا مُناسب نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے اُف !
زخم گہرے ہو گئے اور منہگا مرہم ہو گیا

بِک چُکا ہے اور بہت کچھ بِکنے والا ہے یہاں
سَر ہمارا بارِ غور و فِکر سے خم ہو گیا

کر دی ایسی تیسی اچّھے اچّھوں کی منہگائی نے
کل جو ڈیگا ڈیگا تھا وہ آج ڈَم ڈَم ہو گیا

جو زبر تھے زیر منہگائی نے اُن کو کر دِیا
چاروں خانہ گاما چِت مُنہ اوندھے رُستم ہو گیا

بات ہنسنے کی نہیں یہ غور فرمانے کی ہے
ایک پیالہ دُودھ کا کیوں ساغرِ جَم ہو گیا

آ گئے اب ہاتھ منہگائی کے گردن تک نیازؔ
کوشِشوں میں جِینے کی ہر شخص بے دَم ہو گیا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نظم :مُبارک ہو عزیزو پھر مہِ رمضان آیا ہے

نتیجۂ فکر: استاد بریلوی، نینی تال مُبارک ہو عزیزو پھر مہِ رمضان آیا ہےہزاروں برکتیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے