بریلی شریف: مسافرت کے چند نقوش (قسط:۳)

ازقلم: غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    بریلی کا یہ تفرد رہا ہے کہ شریعتِ مطہرہ کے معاملے میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اقتدار سرنگوں ہوا۔ ایمرجنسی کے زمانے میں حضور مفتی اعظم نے نسبندی کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ حکومت کی چولیں ہِل گئیں۔ حضور مفتی اعظم استقامت کے کوہِ محکم تھے؛ اقتدار کو بالآخر جھکنا پڑا۔ جانشین حضور مفتی اعظم حضور تاج الشریعہ بھی احکامِ شرع کے معاملہ میں استقامت کا مظاہرہ فرماتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو کبھی رجوع کی نوبت نہ آئی۔ جو کہا حق کہا۔ اللہ و رسول کی رضا میں زندگی گزاری۔ اسی کی تلقین کی۔ شرعی احکام کے اجرا میں کبھی اپنے پرائے کی پروا نہیں کی۔ صدق و سچائی کا جوہر عطا کیا۔ آپ کی تحقیقاتِ علمیہ آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔ شرعی فیصلے استقامت فی الدین کے مظہر ہیں۔

    نمازِ عصر مسجد رضا میں ادا کی۔ پھر بارگاہِ تاج الشریعہ میں حاضری دی۔ خانقاہِ تاج الشریعہ میں بہت رونق تھی۔ جس شخصیت کا دیدار ہم نے مالیگاؤں میں کیا، ناسک و ممبئی میں کیا۔ بریلی شریف میں کیا، حتیٰ کہ مدینہ امینہ کی بہاروں میں کیا؛ آج ان کی تربت پر طیبہ کی ہوائیں محسوس ہو رہی تھیں۔ آج ان کے مزارِ اقدس پر ایمان کو تازگی اور روح کو طراوت مل رہی تھی۔ چمنِ دل میں ستھرائی کی لہریں محسوس ہو رہی تھیں۔ ہم نے تاج الشریعہ کے دستِ اقدس پربیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ بیعت کی برکتیں محسوس کی تھیں۔ آج آپ کے مزارِ اقدس پر ہاتھ دُعا کو اُٹھے ہوئے تھے۔ توسل کے حصار میں دِل توبہ و استغفار کو مائل تھے۔لب وا تھے:

    مولیٰ کریم! اپنے اِس عظیم بندے حضور تاج الشریعہ کے توسل سے؛ ہمیں شریعت پر استحکام عطا فرما۔ فتنوں سے بچا۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کا سچا مبلغ بنا۔ اہلسنّت کا مخلص خادم بنا۔ صدق و وفا کا پیکر بنا۔ محبتِ رسول ﷺ کی شمیم سے ایمان کا گلشن تازہ رہے۔ عقائد کی بزم اکابرِ اہلِ سنّت کے تذکروں سے سجی رہے۔ قبولیت کے لمحات طیبہ امینہ کی حاضری کا پروانہ عطا کریں۔ فتنہ ہاے عصر پھر سرنگوں ہوں۔ مشرکین کی سازشیں دَم توڑ جائیں۔ حضور تاج الشریعہ نے شریعت پر استقامت کا جو پیغام دیا ہم اس پر عمل پیرا ہو کر خلافِ اسلام فکروں کا مقابلہ کرتے رہیں۔ سرخرو و بامُراد ہوں۔ اِس پیغام پر عمل کا جوہر عطا ہو؎

مسلکِ اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اِسی کے لیے

    مولیٰ کریم! کبھی وہ ساعت بھی عطا فرما کہ محبوبِ پاک ﷺ کے دَر سے بُلاوا آجائے۔ متاعِ عشق سلامت لے کر جائیں۔ اطاعت کے پاکیزہ جذبات سلامت رہیں ؎

وہ بُلاتے ہیں کوئی یہ آواز دے
دَم میں جا پہنچوں میں حاضری کے لیے

    حاضری کے لمحات یادگار بن گئے۔ استقامت فی الدین کا یہ انعام ملا کہ تاج الشریعہ کی عظمتوں کی قندیل مومنین کے دلوں میں روشن ہے۔ مقبولیت کے نقوش حیاتِ ظاہری میں بھی دیکھے اور بعد از وصال بھی، مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ عقیدتوں کی محفلیں سجی ہیں، ان میں نغماتِ اخترؔ کی گونج ہے۔ ایمان کو تقویت مل رہی ہے؎

جہاں بانی عطا کردیں، بھری جنت ہبہ کر دیں
نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کر دیں

    ہم بھی یہ عزم کریں۔ یہ ارادہ کریں؛ کہ اپنی کاوش کا محور اِس پیغام کو بنائیں گے۔ مشنِ اعلیٰ حضرت کو جہاں میں عام کریں گے، خدماتِ رضا کے تجدیدی گوشوں کو منظرِ عام پر لائیں گے۔ گستاخانِ بارگاہِ رسالت کو بے نقاب کریں گے۔ ؎

جہاں میں عام پیغام شہِ احمد رضا کر دیں
پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدیدِ وَفا کر دیں

    فاتحہ خوانی کے بعد نمازِ مغرب ادا کی۔ پھر سٹی قبرستان پہنچے۔ جہاں اعلیٰ حضرت کے والد علامہ نقی علی خان قادری، دادا علامہ رضا علی خان نقشبندی، بھائی استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان بریلوی، تلمیذ علامہ جمیل الرحمٰن خان قادری کے مزارات ہیں۔ سلام نیاز پیش کیا۔ دُعائیں کیں۔ ان کی خدمات کے اوراق چمکنے لگے۔ ان میں چندے آفتاب چندے ماہتاب ہیں۔ برصغیر ان کی خدمات سے باریاب ہے۔

    علامہ رضا علی خان نے انگریزی استبداد کے خلاف جہاد کیا۔ روہیل کھنڈ کے محاذ سے انگریز کو اکھاڑ پھینکنے میں اہم کردار ادا کیا- شاہِ دہلی کی سپاہ کی گھوڑوں سے مدد کی۔ حریت کی روح پھونکی۔ 

امام احمد رضا اکیڈمی:
    شب میں امام احمد رضا اکیڈمی جا پہنچے۔ جس کے بانی مفتی حنیف خان رضوی ہمارے منتظر تھے۔ آج کل مفتی صاحب علیل چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ صحت و شفا عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہٖ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ مفتی صاحب فعال ہیں۔ مخلص ہیں۔ رضویات سے گہرا شغف ہے۔ بہترین محقق، باکمال مدرس، محنتی اسکالر ہیں۔ درجنوں کتابیں یادگار ہیں۔ رضویات کے عنوان پر ٹیم ورک مضبوط ہے۔ تصانیف و حواشی اعلیٰ حضرت پر باقاعدہ کام کیا ہے۔ ’’جہان امام احمد رضا‘‘ کی ۲۰؍ جلدوں میں اشاعت کی۔حواشی امام احمد رضا ١٦؍ جلدوں میں شائع کی۔ ’’الدولۃ المکیۃ‘‘ پر تحقیق کی۔ فتاویٰ رضویہ تخریج کے ساتھ شائع کیا۔’’جامع الاحادیث‘‘ دس جلدوں میں مرتب کی؛ جس میں اعلیٰ حضرت کی علم حدیث میں مہارت کا جلوہ سامنے آتا ہے۔ اکیڈمی کا کام معیاری ہے۔ کام میں دوام ہے۔ تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیابی قدموں کو چوم رہی ہے۔ آپ نے ۱٦٠؍ جلدوں میں صد سالہ عرس اعلیٰ حضرت پر رضویات کا سیٹ تیار کیا۔ جس کی جہان بھر میں پذیرائی ہوئی۔

اِس نشست میں رضویات کے تحقیقی باب میں عالمی منظر نامہ پر گفتگو رہی- ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی کی بزم میں حضرت سید وجاہت رسول قادری علیہ الرحمۃ کا تاباں ذکر رہا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تہنیت نامہ

جامع معقول و منقول، حاوی فروع و أصول، استاذ العلماء، محقق مسائل جدیدہ ،سراج الفقہاء، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے