صدیق اکبر کی اسلامی قربانیاں

تحریر: ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فلاح ملت ٹرسٹ، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یو پی

            یار غار امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات محتاج تعارف نہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا، آپ ہی کے لیے فرمان نبی جاری ہوا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے سارے دروازے بند کردئے جائیں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ بند نہیں کیا جائے گا، آپ ہی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگ آپ کے پاس آئیں؛ اسی لیے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آنے والی عورت نے جب یہ شبہ ظاہر کیا کہ میں آؤں اور آپ نہ ملیں؛  تو میں کیا کروں، اس وقت حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوجاؤ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہی وہ ذات ہے کہ جسے جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا، چنانچہ نماز والے کو جنت میں نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جہاد والے کو جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، صدقہ والے کو صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور روزہ والے کو روزہ اور ریان کے دروازے بلایا جائے گا  مگر امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا، حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک مردوں میں سب سے افضل ہونے کا مرتبہ بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہی کو حاصل ہے؛ اسی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نے بھی آپ ہی کو اپنے درمیان سب سے افضل و اعلی تسلیم کیا، ایسا کیوں؛ اس لیے  کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ  کی دین اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے لیے قربانیاں بے مثال ہیں اور بے نظیر ہیں، آپ نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا اس وقت ساتھ دیا، جب آپ کا کسی نے ساتھ نہیں دیا، آپ نے مال و دولت اور اپنی پوری زندگی اللہ تعالی کی راہ میں قربان کردی اور جب حضور آقاے دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم اس دنیا سے کوچ کرگئے؛ تو اس وقت بھی آپ نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نیابت کا حق کما حقہ ادا کیا اور اپنی زندگی میں اسلام و مسلمانوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دی، آپ کی یہ سب تاریخی قربانیاں کبھی بھلائی نہیں جاسکتیں؛ کیوں کہ اللہ تعالی نے آپ کی قربانیوں کے زندہ رکھنے کا ذمہ لیا ہے؛ تو اب انہیں کون مٹاسکتا ہے؟! ان کی چمک کو کون کم کرسکتا ہے اور ان کی روشنی کیسے ماند پڑسکتی ہے؟! آج بروز جمعہ ۲۲؍جمادی الآخرۃ، امیر المؤمینن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کی تاریخ ہے، اس کی مناسبت سے میں آج کی اس بزم میں آپ کی بےلوث قربانیوں کو بعض احادیث کی روشنی میں ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں، جو یقینا علماے حق، اہل سنت و جماعت کے لیے مشعل راہ ہے، وماتوفیقي إلا باللہ علیه توکلت و إلیه أنیب۔

            حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو جب اس دنیا میں نبی بناکر بھیجا گیا؛ تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا، کسی نے شاعر کہا تو کسی نے مجنون، مگر امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وہ ذات تھی کہ اس وقت بھی آپ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق فرمائی،ہر ممکن اپنی جان و مال کے ذریعے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو تسلی دینے کی کوشش کی اور آپ کی پریشانیوں کے ازالہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ اس کا اظہار حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت فرمایا جب امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان کسی بات پر کچھ تلخی ہوگئی اور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے درگزر کرنے سے انکار کردیا، حضور نبی آخر الزماں ارشاد فرماتے ہیں:

            ((بے شک اللہ تعالی نے مجھے تمہاری جانب مبعوث فرمایا؛ تو تم سب نے کہا کہ تم جھوٹے ہو اور ابوبکر نے کہا کہ وہ سچے ہیں اور ابوبکر نے اپنی جان اور مال کے ذریعے میرے ہمّ و غم کو دور کرنے کی کوشش کی، تو کیا تم میرے لیے میرے صاحب کو چھوڑسکتے ہو)) حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے یہ دو مرتبہ فرمایا۔ پھر اس کے بعد آپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں دی گئی۔(صحیح البخاری، رقم: ۳۶۶۱)

نیز آقاے دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

((بے شک اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ سب سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے ابوبکر ہیں)) (صحیح البخاری، رقم: ۳۶۵۴)

            نیز حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے رسول اللہ صلی تعالی علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے سب سے سخت سلوک کے بارے میں پوچھا؛ تو آپ نے فرمایا:

            ’’میں نے عقبہ بن ابی معیط کو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس حال میں آتے ہوئے دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، اس نے آپ کی گردن میں اپنی چادر ڈال کر اسے خوب سے خوب تنگ کرنے لگا، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آئے اور اسے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم سے دور کیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:

{أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ، وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [غافر:۴۰، آیت:۲۸]ترجمہ: {کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے اور بے شک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے} (کنز الإیمان) (صحیح البخاری، رقم: ۳۶۷۸)

            حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان  فرمان عالی شان سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانیاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں؛ کیوں کہ آپ نے اپنی جان، مال اور قوت و طاقت سے دین اسلام اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا حق بجانب ہوکر، ہر ممکن دفاع کیا، وہیں ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے ان فرمان اور صدیقی کردار سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا، ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

            حق کی پہچان ظاہری کثرت و قلت، جبہ و دستار اور دولت و ثروت کی بنیاد پر نہیں بلکہ پختہ دلیل کی بنیاد پر ہوتی ہے اور جب حق کی پہچان ہوجائے؛ تو اس کی تائید و توثیق میں تامل نہیں کرنا چاہیے؛ کیوں کہ حق ہی اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی اتباع کی جائے، حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم تنہا تھے، آپ کے بالمقابل پوری قوم تھی مگر جیسے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر حق واضح ہوا، آپ نے تائید و تصدیق میں کوئی تامل نہیں کیا، آج بھی ہمیں صدیقی طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حق کا بول بالا ہو اور باطل سرنگوں ہوتا ہوا دکھائی دے۔

            اور جب حق کی پہچان ہوجائے؛ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے پہچان کر چھوڑ دیا جائے بلکہ اسے قبول کیا جائے اور قبول کرنے کے ساتھ ساتھ تن، من، دھن سے اس کے لیے قربانی دی جائے، جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حق کو پہچانا، اس کو قبول بھی کیا اور اس کے لیے تن، من، دھن سے قربانی بھی پیش کی، ایسی قربانی جسے قرآن پاک بھی ذکر کرتا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا اعلان کرتے ہیں۔ آج بھی ہم مسلمانوں کو صرف اسلام کو پہچاننے اور قبول کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ منہج صدیقی کو اپناتے ہوئے پہچان و قبول کے ساتھ ساتھ اپنی جان و مال کو دین اسلام کے لیے قربان کردینے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے تاکہ اسلام و مسلمان کو قوت ملے اور اسلام و مسلمان کا بول بالا ہو۔

            اور جو حق قبول کرکے حق کا ساتھ دے، اسے کوئی مشکل پیش آئے؛ تو حق بجانب ہوکر، اس کا دفاع ہونا چاہیے اور برملا اس کی قربانیوں اور اس کی جاں فشانیوں کا ذکر بھی ہونا چاہیے، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا دفاع بھی کیا اور لوگوں کے سامنے آپ کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ آج لوگ صرف قربانیاں لینا جانتے ہیں، مگر مشکل میں ساتھ دینے کی بات آجائے؛ تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ مخلصین کو پہچان کر ان کے اخلاص کی قدر کرنی چاہیے تاکہ وہ آپ کے دست و بازو بنیں اور آپ وہ خدمات انجام دے سکیں، جو ہر کوئی نہیں دے سکتا؛ کیوں کہ ہر کسی کو مخلص افراد میسر نہیں ہوتے۔

            اس پہلو سے بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی قابل توجہ ہے کہ عموما ایسا ہوتا ہے کہ جب تک مقتدیٰ باحیات ہوتا ہے، لوگ اس کے مشن کو پروان چڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، مگر مقتدیٰ کے جانے کے بعد، مقتدیٰ کے مشن سے متعلق لوگوں کی کوششوں میں گہن لگنے لگتا ہے، مگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا معاملہ بالکل الگ نوعیت کا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے  جس طرح  حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کے دست و بازو بنے رہے، اسی طرح آپ کے اس دار فانی سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس پر اپنی جانیں نچھاور کرتے نظر آئے، ان میں سب سے پیش پیش حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات بابرکات ہے، آپ کی  قربانیاں صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی ظاہری زندگی کے ساتھ خاص نہ تھی بلکہ آپ کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی مذہب اسلام پر قربان ہونے کے لیے تیار رہتے تھے، چنانچہ جب زکاۃ کے منکرین پیدا ہوئے؛ تو آپ نے اسلام کے نظام و قانون کی حفاظت کرتے ہوئے، ان کی سرکوبی کی اور یوں اسلام کے خلاف کسی بغاوت کو پنپنے نہیں دیا۔

            اسی طرح جب حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی موت کی خبر سننے کے بعد  عام طور سے صحابہ کرام رضون اللہ تعالی علیہم اجمعین کے جذبات قابو میں نہ رہے، یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ  خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا اور جس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا انتقال ہوگیا ہے، میں اپنی اس تلوار سے اس کا سر قلم کردوں گا، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے ان جذباتی حالات سے معاملات بگڑنے کا بہت زیادہ امکان تھا، اس وقت محافظ اسلام امیر المؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سامنے آئے اور اپنا وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا، جس سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے جذباتی حالات اپنی حدود میں آگئے اور تمام معاملات پرسکون ہوتے ہوئے دکھائی دئے، وہ تاریخی جملہ یہ ہے:

            ’’خبر دار! جو شخص حضور سید کائنات محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی عبادت کرتا تھا؛ تو بے شک وہ انتقال کرگئے اور جو شخص اللہ تعالی کی عبادت کرتا تھا؛ تو وہ زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آنی ہے اور یہ آیت کریمہ تلاوت کی: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر:۳۹، آیت:۳۰] ترجمہ:{بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے} (کنز الإیمان) نیز آپ نے یہ آیت کریمہ بھی پڑھی: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: ۳، آیت:۱۴۴] ترجمہ:{اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے اور جو الٹے پاؤں پھرےگا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرےگا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا}‘‘۔ (صحیح البخاری، رقم: ۳۶۶۸)

            امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے عملی اقدام اور نقوش قدم سے یہ بتا دیا کہ اسلام اور مسلمانوں کا پیغامِ حق ایسا پیغام ہے، جس کی آب یاری صرف مقتدیٰ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ مقتدیٰ کے بعد بھی اس کی آب یاری جان، مال اور طاقت و قوت سے ہوگی اور ان شاء اللہ تا قیامت ہوتی رہے گی۔آج ہمارے دور حاضر کے مقتدیٰحضرات کو بھی اس جہت سے سوچنا چاہیے اور لائحہ عمل تیار کرکے پیش قدمی کرنی چاہیے تاکہ صدیقی کردار کا کچھ تو حق ادا کیا جاسکے، مگر آج ہم فضائل و مناقب بیان کردیناہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں، فضائل و مناقب مسلم ہیں، انہیں مٹایا نہیں جاسکتا؛ اس لیے ہمیںفضائل و مناقب بیان کرنے سے کہیں زیادہ، صاحب فضائل و مناقب کے کردار کو اپنانے کیطرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

            حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانیاں جگ ظاہر ہیں اور جسے قرآن پاک ظاہر کرے، اسے بھلا کون چھپاسکتا ہے، مگر جن لوگوں کے دلوں پر مہر لگ جائے،  وہ اپنی دریدہ دہنی سے بعض نہیں آتے، عام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو برا بھلا کہتے ہیں اور خاص کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کی ہتک عزت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، مگر جسے اللہ تعالی عزت دے، اسے کوئی ذلت سے دو چار نہیں کرسکتا، ہاں دریدہ دہنی کرنے والا اپنے ایمان کی تباہی کا سامان ضرور مہیا کرلیتا ہے اور دنیا میں بے عزتی کے ساتھ آخرت میں اپنے لیے جہنم کا دروازہ ضرور وا کرتا ہے، ایسے بدمزاج لوگ مندرجہ ذیل حدیث پاک پڑھیں اور اپنی زبان کو لگام دیں۔

حضور آقاے کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:((میرے اصحاب کو گالی مت دو؛ کیوں کہ تم میں سے اگر کوئی اُحد پہاڑ کے مثل بھی خرچ کردے؛ تو وہ ان میں سے ایک کے مد برابر بلکہ اس کے آدھے تک بھی نہیں پہنچے گا)) (صحیح البخاری، رقم: ۳۶۷۳)

صدیقی کردار کی اس ادنی سی ایک جھلگ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم عدل و انصاف، فضل و کمال اور قربانیاں دینے والے ہیں، البتہ ان میں امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی شان سب سے افضل و اعلی ہے، آپ کی ذات فضل و کمامل، عدل و انصاف میں یکتاے روزگار ہے، اور آپ کی قربانیاں بھی ان کے درمیان بے مثال و بے نظیر ہیں، آج ہمیں حالات کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی سنت کا احیا کی ضرورت ہے، ان کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ انکے مطابق چلنے کی کوشش کرنے کی حاجت ہے؛ کیوں کہ قول سے کہیں زیادہ عمل کا اثر ہوتا ہے؛ اس لیے قول و ذکر اپنی جگہ مگر ان کا عملی کردار ہمیں کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، ان شاء اللہ تعالی کامیابی اپنا مقدر ہوگی۔ اللہ تعالی ہم سب کو ذکر و بیان کے ساتھ خلوص کے ساتھ عملی اقدام  کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔اس مختصر  مضمون کے محرک محبی و مکرمی حضرت مولانا ابوہریرہ مصباحی زید علمہ ہیں، اللہ تعالی انہیں دارین کی سعادتیں عطا کرے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

یاد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان اللہ اور رسول کے پیارے معاویہہیں آسمانِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے