بریلی شریف: مسافرت کے چند نقوش (قسط:۲)

تحریر: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن، مالیگاؤں

    عشاق کہتے ہیں کہ طیبہ امینہ کی حاضری میں زبان جذبات کے اظہار کی تاب نہیں پاتی، مافی الضمیر اور مدعاے دلی کے اظہار کے لیے اِسی نغمۂ روح "مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام” سے ہم اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں عقیدتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ محبت کی جبیں بہرِ تعظیم خَم ہوتی ہے۔ جہانِ قلب نغماتِ رضا سے روشن ہو جاتے ہیں۔ ایمان کو تازگی اور حاضری کو حضوری کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ عقیدہ و عقیدت سنورتے ہیں اور طاعت کی شمع فروزاں ہوتی ہے؎

ماہِ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے
یہ ڈھلتی چاندنی تو پہر دوپہر کی ہے

مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہ شَفَاعَتِیْ
ان پر درود جن سے نوید اِن بُشَر کی ہے

اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے
اصلِ مُراد حاضری اس پاک در کی ہے

    محبتوں کی قندیلیں فروزاں ہو جاتی ہیں۔ دل تڑپ اُٹھتے ہیں۔ خیالات کی وادیاں زرخیز ہو جاتی ہیں۔ تھکی تھکی طبیعتیں اشعارِ رضاؔ گنگنانے سے کھل اُٹھتی ہیں۔ بارگاہِ رضاؔ کی حاضری میں خدماتِ رضاؔ کے ایک ایک پہلو حاشیۂ ذہن پر اُجاگر ہونے لگے۔ عرب و عجم میں مقبولیت کے ستارے چمکنے لگے۔تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جاں نثاری و فِدا کاری کے ابواب کھلنے لگے۔ 

    سہ پہر کا وقت تھا، دربارِ اقدس کی حاضری کی سعادت ملی۔ اعلیٰ حضرت کے مزارِ اقدس پر نور نور سماں تھا۔ حضور مفتی اعظم کا بھی مزار متصل ہے، ریحانِ ملت کے جلوے بھی ہیں۔ حضور مفتی اعظم نے عزیمت و استقامت فی الدین کا نمونہ پیش کر کے مسلمانانِ ہند کے اسلامی تشخص کی حفاظت کی۔ ایمرجنسی کے نازک دور میں شرعی فتویٰ بلاخوفِ لومۃِ لائم جاری فرمایا۔ حضور مفتی اعظم کے درِ اقدس پہ انھیں کا یہ شعر زباں پر جاری تھا؎

نصیب تیرا چمک اُٹھا دیکھ تو نوری
عرب کے چاند لحد کے سرہانے آئے ہیں

    رسول اللہ ﷺ نے چمکایا؛ اعلیٰ حضرت بھی چمکے اور حضور مفتی اعظم بھی؛ اور خانوادۂ رضا بھی… مدحتِ رسول ﷺ کا یہ اعزاز ملا کہ اعلیٰ حضرت کی عظمتوں کے سکے بیٹھ گئے۔ بزمِ علم میں اعلیٰ حضرت کے نام و کام کی گونج ہے۔ عقیدےکا گلشن خدماتِ رضا سے تازہ ہے؎

ہے مِرے زیر نگیں ملک سخن تا بہ ابد
میرے قبضے میں ہیں اس خطہ کے چاروں سرحد
اپنے ہی ملک سے تعبیر ہے ملک سرمد
ہے تصرف میں مِرے کشور نعتِ احمد
میں بھی کیا اپنے نصیبہ کا سکندر نکلا

    مزارِ اعلیٰ حضرت کی حاضری ایمان کو تازہ کرتی ہے۔ اہلِ محبت اِس احساس سے بوقتِ حاضری بارہا گزرے ہوں گے۔ یہ رونق و چمک، یہ نور کی بارش، یہ روحانی کیف و سرور؛ سب انعام ہے، سب عطاے ایزدی ہے۔ سب صدقہ ہے، سب محبت رسول ﷺ کا اعزاز ہے؎

سب یہ صدقہ ہے عرب کے جگمگاتے چاند کا
نام روشن اے رضاؔ جس نے تمہارا کر دیا

    صاحبِ سجادہ مولانا سبحان رضا خان سبحانی میاں کی طرف سے درگاہ شریف میں آویزاں بورڈ پر یہ عبارت مرقوم ہے:

    ’’مزارات پر کپڑے کی چادر پیش کرنا بھی جائز ہے لیکن اگر پہلے سے چادر چڑھی ہوئی ہے تو مزید چادریں چڑھانے سے پرہیز کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کپڑے کی چادروں کی جگہ گلاب کے پھول اور عطر پیش کریں۔‘‘

    یہ مصلحانہ پیغام ہے کہ کپڑوں کی چادروں سے اتنا افادہ نہیں جتنا کہ گُلِ تر سے، کہ گُلِ تر خداے قدیر کی تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں۔ اورحدیث پاک سے بھی تر ٹہنی کا افادہ ظاہر ہے- یوں ہی بزرگوں کی نسبت سے محتاجوں کی مدد، طلبہ کی کفالت، علم دین کی اشاعت، دینی کتابوں کی طباعت، تحقیقی کاموں کا فروغ، ابلاغِ تحقیقاتِ رضویہ ایسے امور ہیں کہ جن کی انجام دہی سے اہلسنّت کو استحکام حاصل ہوگا- اعلیٰ حضرت کا مشن فروغ پائے گا۔
[بقیہ آئندہ]

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بھاری مصیبت اور بڑی ضرورت

ازقلم: طارق انور مصباحی، کیرالہ چھوٹی مصیبتوں اور معمولی ضرورتوں میں احباب واقارب ہاتھ بٹاتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے