نعت رسول: لَو لگا کر اُن سے لِے شمعِ محبت کے مزے

نتیجۂ فکر: عبدالمبین حاتمؔ فیضی، مہراج گنج

لَو لگا کر اُن سے لِے شمعِ محبت کے مزے
چاہیے تجھ کو اگر مرقد میں طلعت کے مزے

اُن کے دربارِ محبت میں جبیں اپنی جھُکا
چاہتا ہے گر ملیں تجھ کوبھی رفعت کے مزے

وہ درودِ پاک اُن پر روز و شب پڑھتا رہے
چاہیےجنت میں جس کوان کی قربت کےمزے

دل ہے گر عشقِ رسول ِ پاک سے معمور تو
"روح لیگی حشر تک خوشبوئےجنت کےمزے”

جو یہاں ناموسِ آقا پر فدا خود کو کرے
حشر میں لے گا وہ آقا کی شفاعت کے مزے

اِبتدا دن کی کرو پڑھ کر کلامِ پاک کو
چاہتے ہو گھر میں گرتم خیر و برکت کے مزے

اے دعا ! دربارِ آقا سے تُو جا رب کے حضور
چاہیے تجھ کو اگر رب سے اجابت کے مزے

یہ کرم ہےان کا حاتم سنتے ہیں جو خود درود
پڑھ کے لے صَلّ ِ عَلیٰ حسنِ عنایت کے مزے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت : مرے مصطفے ہیں زمانے سے پہلے

رشحات قلم : شمس الحق علیمی مہراج گنج ادب سے رہو طیبہ آنے سے پہلےشہِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے