غزل: محفل میں ان کی جانا ذرا دیکھ بھال کے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

محفل میں ان کی جانا ذرا دیکھ بھال کے
ہاتھ ان سے تم ملانا ذرا دیکھ بھال کے

کرنی ہے گفتگو ذرا آداب بھی رہے
روداد تم سنانا ذرا دیکھ بھال کے

لائق نہیں کبھی بھی دل ِاعتبار کے
اُن پر بھروسہ کرنا ذرا دیکھ بھال کے

محفل میں حاسدین کی لمبی قطار ہے
تم کو ہے پاس آنا ذرا دیکھ بھال کے

بیٹھے ہیں انکی بزم میں کچھ مار ِ آستیں
اب بِین بھی بجانا ذرا دیکھ بھال کے

یہ دَور ِ پُر فتن ہے پر رکھنا ہے یہ خیال
تم راز ِ دل بتانا ذرا دیکھ بھال کے

فیضان تُو چاہتا ہے اگر سب کا ہی بھلا
ہر اک قدم اُٹھانا ذرا دیکھ بھال کے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے