قومی جذبہ سے سرشار نوجوان علما امید کی ایک کرن

تحریر: عبدالرشید مصباحی (تحریک علماء گونڈہ)
بانی جامعہ سکینہ اشرف البنات دھانےپورگونڈہ

قحط الرجال وفکری وعملی انحطاط کے اس دور میں بدحالی ومشربی استحصال کی شکار امت مرحومہ کی ڈوبتی کشتی کو ساحل سمند سے ہمکنار کرنے کے لئے اب ایک ایسے ناخدا کی ضرورت ہےجوتمام تر اختلافات ومخالفت سے صرف نظر کرکے قوم کی مسیحائ کا کردار اداکرے.
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ملی شیرازہ بندی اور اسلامیان ہند کی دینی,تعلیمی,سماجی, سیاسی معاشرتی,معاشی واقتصادی قیادت وسیادت کے لئےمشائخ میں ایسی ہمہ جہت شخصیات موجود ہیں جو علم وفن وفکر تدبر کا بحر بیکراں ہیں اور ہزارعلمی وفکری انجمنوں کا منبع ومصدر ہیں مگر غیر معلوم اسباب وجوہات کی بنیاد پران میں فکری وعملی انجماد پیدا ہو گیاہےجس کے نتیجہ میں قوم مسلم بالخصوص جماعت اہلسنت کی کشتی ڈوبنے کےکگار پر ہےاورپوری جماعت بے راہ روی اور بکھراؤ سے دوچار نہایت کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے.جماعت اہلسنت کے احوال وکوائف وان کے اخلاق وکردارکےتجزیہ سے ظاہرہوتا ہےکہ اب ان کے نزدیک اجتماعیت واتحاد واتفاق کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہونےوالا ایک خواب بن چکاہےاوران کے انتشار وبکھراؤ کو دیکھ کرہر طرف یاس وناامیدی کے بادل منڈراتے نظر آتے ہیں.
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینےلگے
وہ مراکز جو ماضی میں ملی شیرازہ بندی کا سرچشمہ تھے آج وہی تفرقہ سازی وگروہ بندی کا اڈہ بن چکے ہیں. کون نہیں جانتا کہ خانقاہیں ہمیشہ سے قومی یکجہتی, فکری آہنگی,تحمل وبرداشت اتحادواتفاق,امن ومحبت وملی رواداری کے ماخذ ومراجع رہے ہیں جنھوں نے ہمیشہ تزکیہ نفس اصلاح اعمال واخلاق,تعلیم وتزکیہ ومحاسبہ کے ذریعہ کروڑوں تشنگان علوم ومعرفت کو ہمیشہ فیضیاب کیا ہے اور لاکھوں گم گشتہ راہوں کو محبت الہی کا جام پلایا ہے اور آج بھی جہاں عقابوں کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں نہیں ہے وہ فیض وکرم کے دریابہارہےہیں.. مگر ان میں سے اکثر جو خانقاہی نظام کی اساس وبنیاد (بندہ کا تعلق اللہ سے مضبوط کرنا) سے بھٹک گئے ہیں اور بندہ کا تعلق بندہ(پیر)سے مضبوط کرنے کے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں آج وہی انتشار واختلاف,بغض وحسدکبر ونخوت کے نتیجہ میں تفرقہ بندی کا مرکز بن گئے ہیں.
افراط وتفریط کےشکارمتصوفین اسلام ومسلمین کی چارہ گری کے بجائےقوم کا مشربی استحصال کررہےہیں. تفضیلت ورافضیت وخارحیت کی جو موسوم فضاحالیہ دنوں نظر آئ یہ سب اسی کے نتیجہ میں ہوا.جن صاحبان علم ودانش,طریقت ومعرفت کو تعمیر ملت وجماعت کی شیرازہ بندی کے لئےکوئ راہ عمل مرتب کرکے عملی اقدام کی فکر کرنی چاہئے آج وہ غیر ضروری ابحاث میں ملت اسلامیہ کی ساری توانائ ضائع کرارہےہیں.
قوم کی قیادت وسیادت کی ذمہ داری علماء ومشائخ کے سر تھی پر جس طرح مشائخ نے قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا اسی طرح علماءبھی اپنے فرائض منصبی سے روگردانی کررہےہیں. یہ ایک حقیقت ہے کہ جو طبقہ براسٹیج ومنبر ومحراب عوام کو اتحاد واتفاق کا پاٹھ پڑھاتانظر آتاہے وہی کئ کئ ٹکڑیوں میں بنٹاہواہے.
اس دعوی کی سو فیصد تصدیق کے لئے مختلف اداروں وشعبوں سے متعلق اساتذہ,ائمہ,خطباء وشعراء کی باہمی رفاقت ورقابت وان کے اخلاق ومروت کا تجزیاتی مطالعہ کیا جا سکتاہے.
اب جن کے ہاتھوں قیادت کی باگ ڈور تھی اور عوام عقیدتاومشربا جن ہاتھوں میں مرہون تھی جب وہی عملی نفاق کے شکارہوگئے تو پھر قوم چاہے, الحاد وبے دینی,معاشی بدحالی,سیاسی وسماجی پستی کا شکار ہو, چاہے مسلم طلباء وطالبات کا اغیار کے قائم کردہ اسکول وکالجز وکوچنگ سینٹروں میں ان کا مذہبی وجسمانی استحصال کیا جائے اورآرایس ایس ورکروں کے ذریعہ مسلم بچیوں کو دام محبت میں پھنسا کر انھیں مرتد بنانے کی مہم چلائ جائے!
کسی کو کیا فکر؟
کچھ نہیں ہوگاہواؤں کوبراکہنےسے
جہاں ایک طرف کسی متحدہ پلیٹ فارم نہ ہونےکی وجہ سےمسلمان تعلیمی وسماجی ومعاشی اعتبار سے دلتوں سے بھی بدتر زندگی گذارنے پر مجبور ہے تو وہیں حکومت بھی نت نئےمنصوبوں سے انھیں دوئم درجہ کا شہری بنانے کے مشن پر گامزن ہےاور ان کے ملی ومذہبی تشخصات پر سیاسی بلڈوزرچلاکران پرزعفرانی خول چڑھانے کی فراق میں ہے.ملک کی جدید تعلیمی پالیسی,تین طلاق بل, ورام مند مدعے کو اسی تناظرمیں لینا چاہئے.ماہرین تعلیم وآئین ہند کی دفعات کے داؤ پیچ واس کے اسرارورموز سے واقف ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید تعلیمی پالیسی کے دفعات کااگر ہندوستانی نظام تعلیم پر اطلاق ہوگیاتوہندوستانی مدارس ومکاتب کو اپناوجود وتشخص وامتیاز باقی رکھ پانا مشکل ہوجائےگااوراگرحالات جوں کے توں رہے تو پھر مدارس کالعدم ہوجائیں گے.اور مادری زبان اردو جو ہماری تہذیبی وراثت ہے ہندوستان میں کوئ اس کا نام لیوا نہ ہوگا.
مذکورہ پس منظر میں ہماری جماعت کے علماء ومشائخ نیز دانشوران ملت برسوں سےیاتو صرف گھڑیالی آنسو بہا رہے ہیں, یا کچھ ہیں جو میڈیاوسوشل میڈیا پر اپنے فکروتدبرکے جواہر پارے لٹا رہے ہیں اور کچھ ہیں جو آمدن,نشستن,برخاستن تک ہی محدود ہیں.ادھر حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور ہم ہیں کہ صفحۂ قرطاس پرفلاح وتعمیرکابرسوں سےصرف نقشہ ہی کھینچ رہےہیں.
حالانکہ اب ان دانشوران ملت کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ وقت صرف حالات کو کوسنے کانہیں بلکہ میدان عمل میں اترکر ملت کی دست گیری وچارہ جوئ کا ہے.
عصر نو کے نوفارغ علماءجو قومی جذبہ سے سرشاراورتنظیمی وتحریکی صلاحیت سے مزین ہیں اوراپنی فکری ومنصوبہ جاتی مضامین سے ہر دن اسلامیان ہند کی فلاح وتعمیرکانقشہ وخاکہ پیش کرتے رہتےہیں اور جن کے تمام تر منصوبے وپلان ابھی تک صفحۂ قرطاس کی زینت بنے ہوئے ہیں اگر ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میدان عمل میں اتر پڑیں تو حالات یکسر بدل سکتے ہیں.
اوران کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ اب بدحال قوم کی زبوں حالی کاصرف رونارونے سے کچھ نہیں ہونے والا بلکہ اب!
” اپنےحصہ کادیاخودہی جلاناہوگا”
یہ حقیت بھی ناقابل انکارہےکہ کسی بھی ترقیاتی وفلاحی منصوبہ کو عملی جامہ پہناناکسی تنظیم وتحریک کے بغیر ناممکن ہے.ویسے تو جماعت اہلسنت میں علماءومشائخ کی تحریکوں,تنظیموں وبورڈوں کی کمی نہیں ہے مگر ان میں سے اکثر نےاب تک مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا ہےاور اپنی ساری توانائ یاتواپنےاپنےشیوخ کی خود ساختہ امارت وسیادت بچانے میں صرف کررہےہیں یاپھر فروعیات کی بحث وتمحیص میں.
ماضی قریب میں” علماءومشائخ بورڈ” سے کچھ امید کی کرن جگی تھی مگرموجودہ وقت میں اس کے ارکان نے جس طرح سے نزاعی وفروعی معاملات کو ہوا دی ہے اس سے اندازہ ہوگیاکہ ان کا بھی مقصدحلقۂ مریداں میں اضافہ وجگہ جگہ خلفاء کی شکل میں اپنے ایجینٹ وپرموٹر مقرر کرنے کے سواکوئ خاص تعمیری وتحریکی مقصد نہیں .
نیز موجودہ وقت میں تجربہ سے ثابت ہوگیاہےکہ مذکورہ مشن کے حصول وقوم وملت کی فلاح وتعمیرکےلئےکسی صاحب سجادہ ونام نہاد شیوخان طریقت سے کوئ امیدکرنا عبث ہے.اس لئےجماعت اہلسنت کی شیرازہ بندی وان کی تعلیمی وسماجی فلاح وترقی کے لئے امید کی کرن قومی جذبہ سے سرشار وہ نوجوان علماء ہی ہیں جو اپنے جذبات واحساسات کو دبائے بیٹھے ہیں اوروقت وحالات کا رونارورہےہیں.
یہ بھی یاد رہے کہ کسی تنظیم وتحریک کے آغاز واس کی کامیابی کی ذمہ داری صرف ایک ادارہ پر ہی نہیں ڈالی جاسکتی کیوں کہ ہر ایک کی اپنی اپنی مصروفیات وضروریات ہیں.
کسی ایک ادارہ پر انحصار کرکے میرے خیال سے کوئ تحریک کامیابی سے نہیں چلائ جاسکتی اس لئے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بھی محسوس کرتے ہوئے کم ازکم ضلعی سطح پر ہی تحریک کا آغاز کرنا چاہئے. ایک ضلع میں کامیابی کے بعد ہم اپنی اس ضلعی تحریک کو یا تو کسی بااثرملکی تحریک میں مینشن کرلیں یا پھر اسی کو بااثر وملکی بنانے کی جدوجہدکرسکتےہیں.
وقت رہتے اگر ہم نے اس کے لئے کوئ راہ عمل مرتب نہ کیا اوعملی پیش رفت کے لئے آگے نہ بڑھے تو یقینا منزل اتنی دور ہوجائے گی کہ صدیوں میں بھی اس کا حصول ناممکن ہوگا.اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

افسانہ ہی حقیقت ہے

ازقلم: غلام آسی مونس پورنوی عبداللہ کی شادی کے تقریباً 15 سال کا ایک طویل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے