حضرت محمد مصطفیﷺ کی سیرت (قسط 2)

تحریر: خبیب القادری مدناپوری
بانی غریب نواز اکیڈمی، بریلی شریف یوپی بھارت

حضور رسول الراحت نبی رحمت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عمر پاک اس وقت 6 سال کی تھی جس وقت آپ کی والدہ ؛ ماجدہ ؛ حضرت ؛ آمنہ خاتون ؛ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات ہوئی اب آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی جب آپ کی عمر پاک 8 سال 2ماہ 10دن کی ہوئی تو اس وقت آپ کے مشفق دادا حضرت عبدالمطلب کا وصال ہو گیا
نوٹ : حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سو بیس سال کی عمر پائی
وفات سے قبل حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے سگے چچا ابوطالب کو دی تقریبا43 سال تک آپ کے چچاابو طالب نے آپ کی نگرانی کی

جو آپ کی عمر پاک تقریبا 12 سال کی ہوگئی تو آپ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملک شام کے سفر کے لئے نکلے
سفر پر نکلنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ابوطالب کثیرالعیال اور قلیل المال اور ایک پیر سے معذور تھے
جب اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملک شام کے سفر کے لیے نکلے تو ملک شام کے شہر بصرہ میں آپ کا قافلہ رکا
بصرہ میں قافلہ رکنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بحیرہ راہب( عیسائی پادری) نے قافلہ والوں کو کھانے کی دعوت کی تھی
جب قافلے والے اپنا سامان اتار رہے تھے تو بحیرہ راہب نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو پکڑ کر عرض کیا
ھذا سید العالمین ؛ ھذا رسول رب العالمین ؛ یبعثہ اللہ رحمۃ اللعٰلمین
ترجمہ: یہ تمام جہانوں کا سردار ہے؛ یہ سارے جہان کے رب کا رسول ہے؛
اللہ نے اس کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے

جب قریش مکہ نے پوچھا کہ اے بحیرہ تو نے کس طریقے سے ان کو پہچانا تو بحیرہ راہب نے کہا
تم اس گھاٹی سے اترے (اس پار) تھے تو ہردرخت ہر پتھر سجدے میں گرگئے تھے اور یہ دونوں نبی کے علاوہ کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے
میں نے انہیں کندھے کی ہڈی کے نیچے لگی ہوئی مہر نبوت سے پہچانا ہے
بعدہ بحیرہ راہب نے ابو طالب کو ایک مشورہ دیا اور کہا آپ اپنے بھتیجے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس مکہ تشریف لے جائیں
کیونکہ یہود اور رومیوں سے ان کو خطرہ ہے
اس نے یہ بھی کہا کہ آپ کے بھتیجے بڑی شان و عظمت والے ہونگے چنانچہ ابو طالب نے ایک آدمی کے ساتھ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس مکہ شریف بھیج دیا
اور ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابو طالب نے ملک شام میں اپنا سامان جلدی جلدی بینچ کر اپنے ساتھ واپس مکہ تشریف لے آئے
(سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ نمبر 183 ؛دلائل النبوۃ صفحہ نمبر 28 اور مسند بزار میں ایک آدمی کو ساتھ بھیجنے کا تذکرہ ہے )
جب حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پاک 20 برس کی ہوئی تو ایک جنگ پیش آئی جس کو جنگ فجار سے موسوم کیا جاتا ہے
یہ جنگ قریش و کنانہ ؛ قیس اور غیلان کے قبیلوں کے درمیان لڑی گئی اس جنگ کا نام ” فجار ” اس لیے رکھا گیا کہ یہ حرام مہینوں میں لڑی گئی تھی
اس جنگ میں خود حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے اور اپنی چچاؤں کو تیر پکڑا رہے تھے
اس جنگ کے بعد پانچ قبیلوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا
اس معاہدے کو ” حلف الفضول ” کا نام دیا گیا تھا اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے مکہ کا باشندہ ہو یا کسی دوسری جگہ کا سب اسکی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اس معاہدے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ” میں عبداللہ بن جدعان کے گھر پر ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوا اس کے بدلے مجھے سرخ اونٹ بھی پسند نہیں”
جس وقت زور دار سیلاب کی وجہ سے کعبہ شریف کی دیواریں پھٹ گئیں اور مکہ والوں نے کعبہ شریف کا نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تھا اس وقت آپﷺ کی عمر مبارک 35 سال تھی
قریش کے لوگ مکہ شریف کو ڈھانے سے گھبرا رہے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہو جائے
تو اس وقت سب سے پہلے ولید بن مغیرہ نے یہ کہہ کر کعبہ کو گرانا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ درستگی کے کام کرنے والوں کو ہلاک نہیں کرتا
اس تعمیر میں خود حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم شریک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے
اب کعبے کی تعمیر ہو رہی ہے
جب کعبہ کی دیواریں کافی اٹھ (بلند) ہوگیئں اور حجر اسود کو اس کی اپنی جگہ پر رکھنے کے لیے آپس میں جھگڑا ہوا ہر سردار یہ چاہتا تھا کہ حجر اسود کو رکھنے کا شرف اس کو حاصل ہو چار یا پانچ دنوں تک مسلسل یہ جھگڑا چلتا ہے اور قریب تھا کہ خون خرابہ کی
نوبت آجائے اس وقت ابو امیہ نامی قریش کے سب سے عمر دراز آدمی نے یہ کہہ کر اس کا حل نکالا کہ مسجد حرام کے دروازے سے جو شخص پہلے داخل ہواسیاس جج مان لیا جائے اس وقت مسجد حرام کے دروازے سے سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے لوگوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ امین ہیں ہم ان کے فیصلے سے راضی ہیں
یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے اس جھگڑے کا حل یہ نکالا کہ ایک چادر منگائی اس میں حجر اسود کو رکھا اور سرداروں سے کہا کہ سب اس کا کنارہ پکڑ لیں سب نے کنارے پکڑ کر اٹھایا اور مقام خاص کے پاس رکھ دیا تو جب حجر اسود اپنی جگہ تک پہنچ گیا تو آپ نے اسے اٹھا کر اس کی جگہ پر فٹ کر دیا لوگوں نے آپ کے فیصلے کو پسند کیا اور خوش ہوئے
لوگوں نے آپ کے لئے کہا کہ یہ ” امین ” ہیں اس کی وجہ یہ تھی
کہ آپ بہت امانت دار تھے لوگ آپ کو امین کہہ کر یاد کیا کرتے تھے آپ بڑے سچے تھے اس لیے لوگ آپ کو ” صادق "کہا کرتے تھے
صادق اور امین آپ کے القاب بہت مشہور ہیں۔

آگے کی تفصیل کے لیے تیسری قسط کا انتظار کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

معراج نبیﷺ

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ 9968012976 سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰﷺ سے مجھےکہ عالم بشریت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے