مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں عرس ملک العلماء عظیم الشان پیمانے پر منایاگیا

ملک العلماء کو فراموش کرنا تحریک رضا کے ساتھ ناانصافی ہوگی: مولاناغلام رسول بلیاوی

پٹنہ: 4فروری/ ہماری آواز(عاقب چشتی)

مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ کی جدیدبلڈنگ کے رئیس القلم سیمینارہال میں عرس ملک العلماء کے موقع سے نہایت ہی عظیم الشان پیمانے پرپروگرام کاانعقادکیاگیا اور بعد نماز عصر ادارہ شرعیہ مرکزی(قدیم)بلڈنگ سے جلوس نکالاگیااورمرقدملک العلماپر پہونچ کر چادرپوشی ،گل پوشی وقل کااہتمام کیاگیا۔ پروگرام کی صدارت فقیہ ملت الحاج مفتی محمدحسن رضانوری صدرمفتی ادارہ شرعیہ نے کی اس پروگرام میں پٹنہ شہر کے مقتدرومعتمد علماء،مشائخ،اساتذہ ،ائمہ، دانشواران اور ادارہ شرعیہ کے تمام اساتذہ،طلباء واراکین نے شرکت فرمائی
اس پروگرام میں ادارۂ شرعیہ کے صدر محترم غازی ملت حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی،ایم ایل سی بہار نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ملک العلماء کی ذات علوم وفنون کے جام سے لبریز تھی انہوں نے میکدۂ اعلی حضرت سے بلندی تخیلات کا جام سرشاری حاصل کی تھی انہوں نے پچپن علوم پر مہارت تامہ حاصل کی محققین کی تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کے جدید و قدیم علوم میں اعلی حضرت کے بعد ملک العلماء کا کوئ ثانی نہیں اعلی حضرت کی کرامت کانام ملک العلماء ہے تحریک اعلی حضرت کے مینوفیسٹو کو تیار کرنے میں ملک العلماء کا عظیم کردار ہے آج ملک العلماء کو فراموش کرنا تحریک اعلی حضرت کے ساتھ ناانصافی ہوگی ملک العلماء کواہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں آج ضرورت ہے کہ ان کی تصنیفات کو منظر عام پرلائی جائے یہ ایک قرض ہے ان شاءاللہ ادارۂ شرعیہ عرس کے موقع سے ان کے نادرونایاب مسودے کی طباعت کا ہر ممکن کوشش کرے گا آئندہ عرس ملک العلماء میں ادارۂ شرعیہ کے مہتمم مولانا سید احمد رضا کے جدامجد حضرت علامہ سید شاہ عزیز حسن کی لکھی ہوئی کتاب "حیات ظفر” اور ملک العلماء نے ان کے دادا محترم کو جو مسجع ومقفی، گنجینہ معانی سے پر جتنے خطوط لکھے ہیں ان مسودہ کو طلب کر شائع کیا جائے گا اللہ وہ دن ضرور دکھائے گا کہ ان شاءاللہ ہرچپہ سےیہ آواز گونجے گی ملک العلماء زندہ باد انہوں نے کہا کہ ملک العلماء کی ذات پر فقط اہل بہار کو ہی فخر نہیں بلکہ پورے ملک کو ہے بارگاہ اعلی حضرت میں ملک العلماء کی قدرومنزلت کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ امام عشق ومحبت اعلی حضرت قدس سرہ اپنے شہزادوں کے جوڑے کی فکر بعد میں کرتے تھے ملک العلماء کی فکر پہلے ہوتی تھی کہا کہ بزرگوں کا طرہ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کی فکر ہمیشہ موخر کی ہے اور جن سے دین مصطفی کی امانت بچانے کی امید ہوتی تھی اسے مقدم کرتے تھے آخر میں کہا کہ ادارۂ شرعیہ میں ملک العلماء لائبریری کی تعمیر کا آغاز جلد ہی ہوجائے گا اور ملک کے جس کونے میں بھی ملک العلماء کی کوئی تصنیف ہو وہ آجائے اسے لانے کے لیے قیمت کی پرواہ نہیں ان کی کتاب کی حصولیابی ہوجائے یہ سودا ہمارے لیے بہت سستاہوگا
ادارہ شرعیہ کے مہتمم مولانا سید احمد رضا نے اپنے بیان میں کہاکہ ملک العلماء کی ذات ہمارے لیے قیمتی اثاثہ ہے مقبول بارگاہ اعلی حضرت کا نام ملک العلماء ہے مہتمم ادارہ نے امام احمد رضا اور ملک العلماء کے درمیان کسی شعر کے الفاظ کے ردوبدل پر گفتگو ہوئے منظر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک العلماء نے اعلی حضرت کے کسی شعر میں کہا کہ یہاں یہ لفظ ہوتا تو اچھا ہوتا امام احمد رضا فرماتے ہیں کہ اے ملک العلماء آپ نے ہر میدان میں طبع آزمائی کی اگر آپ شاعری کرتے تو میں تمہیں ملک الشعراء کاخطاب دیتا انہوں نے مزید کہا کہ میرے گھر میں ملک العلماء کا تذکرہ ہوتا رہتا تھامیں شعورکی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ملک العلماء کا نام سنا میرے جد امجد ان کے خاص شاگرد تھے ملک العلماء نے میرے جد امجد کو جو خطوط لکھے ہیں اسے پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی شاگرد نے اپنے استاد کو خط لکھا ہے یہ فیضان تھا اعلی حضرت کا اعلی حضرت اپنے شاگردوں سے خوب شفقت کرتے تھے ملک العلماء خود فرماتے ہیں کہ ٹھنڈ کاموسم آتا تو امام عشق ومحبت پہلے مجھ سے پوچھتے تھے کہ کمبل ہے یانہیں اپنے شہزادوں سے بعد میں مخاطب ہوتے تھے آخر میں انہوں نے آریہ سماج سے مناظرہ پر سیرحاصل بحث فرمائی-
ادارہ شرعیہ کے قاضی شریعت مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد نے کہا کہ اعلی حضرت کی ایک پہچان کا حوالہ حضرت ملک العلماء علامہ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ ہیں ملک العلماء کی تصنیفات دیکھنے کے بعد معلوم ہوتاہے کہ تعلیمات اعلی حضرت کے آپ مظہر ہیں آپ نے کم عمری میں ہی کئی فنون پرکتابیں لکھیں ڈاکٹرصاحب نے روابط خانقاہوں کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلی حضرت نے ہمیشہ خانقاہوں سے رابطہ مضبوط رکھاہے یہ ملک العلماء ہیں جنہوں نے اپنارشتہ خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ سے جوڑکر رکھا ملک العلما نے شمس الہدی سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گھر ظفر منزل کو درسگاہ بنا لیا تھا ہمیں بھی چاہیے کہ اگرکوئی زق ہے تواسے ہٹائیں اور خانقاہوں سے اپنے روابط کومضبوط کریں یہ فکررضا ہے
آخرمیں قاضی شریعت نے ملک العلماء کے خطیبانہ وتفسیرانہ صلاحیت کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہے کہ ملک العلماء نے خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ میں شب معراج کے موقع سے گفتگو کیا کرتے تھے انہوں 10 سال کے شب معراج میں خطابت کی پہلے سال انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پر دوسرے سال سبحان پر، تیسرے سال فقط لفظ الذی پر چوتھے سال فقط لفظ اسری پر،پانچویں سال فقط لفظ ب پر، چھٹی سال فقط لفظ عبد پر ساتویں سال فقط لفظ لیلا پر,آٹھویں اور نویں سال فقط لفظ من پر دسویں سال فقط مسجد پر یقیناحیرت ہوتی ہے کہ ایک لفظ پر عظمت رسالت مصطفی پر گھنٹوں گفتگو کرنا اس علم کاسپہ سالار رہا ہوگا اندازہ ہوتا ہے جب ملک العلما کے علم کا یہ عالم ہے توملک العلماء کے استاذ اعلی حضرت کے علم کاعالم کیاہوگا۔
ان کے علاوہ مولاناثناءالمصطفی،پرنسپل ادارہ ہذا مولانانوازش عالم فیضی،ناظم تعلیمات ادارہ ہذا مفتی فیضان الرحمان سبحانی ،نائب قاضی مفتی غلام حسین ثقافی،مفتی غلام سرورمصباحی مولاناغلام صابرالقادری،مولانااحسان وغیرہ نے بھی خطاب کیا ناظم اعلی ادارہ شرعیہ الحاج محمدشاکرحسین نے کلام اعلی حضرت پیش کیا مفتی عبدالباسط،مولوی نعمت،مولوی روحیل رضا، حافظ فریدنے منقبت پڑھا طلباء نے عربی،اردو، انگریزی زبان میں مقالہ پیش کیا۔
مقالہ لکھنے والے طلباء غلام رسول اسماعیلی،فدائی موضوع "حضورملک العلماء بحیثیتِ مناظر”محمدبدرعالم،ملک کی حیات طیبہ انگریزی، محمد شہباز عالم موضوع "حضرت ملک العلماء بحیثیت فقیہ”محمد شریف الحق۔موضوع "ملک العلماء اور استاد کا ادب”محمد آفتاب عالم۔موضوع "خانوادۂ اعلی حضرت اور ملک العلماء”عبدالباری۔موضوع” امام احمد رضااور ملک العلماء”مصروف رضا۔موضوع "ملک العلماء کی تدریسی خدمات”عرباض القادری۔موضوع "علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی”رحمت حسین۔موضوع "ملک العلماء وارث علوم اعلی حضرت”محمد توقیر رضا موضوع "ملک العلماء جدیدوقدیم علوم کے ممتاز مصنف”شان محمد۔موضوع "حیات ملک العلماء کی جھلکیاں”نورعالم موضوع "صحیح البہاری ایک تعارف”شہنواز عالم موضوع "حضور ملک العلماء اور اعلی حضرت”کیف رضا موضوع "حضور ملک العلماء کی ولادت وکرامت”ظفر شاہی موضوع "ملک العلماء اور اصلاح معاشرہ”محمد سکندر علی موضوع "حضرت ملک العلماء کی عبادت وریاضت” شاہد رضا موضوع "علم دین کے متعلق ملک العلماء کے اقوال”ثقلین رضا موضوع "ملک العلماء ارباب علم ودانش کی نظر میں”فرحان عالم موضوع "ملک العلماء ایک نظر میں” خاص طور پر قابل ذکر ہیں اس کے بعد صدرمفتی الحاج فقیہ ملت مفتی حسن رضانوری کی دعاپر پروگرام کااختتام ہوا۔اس تقریب میں ادارہ شرعیہ کے ناظم تعلیمات حضرت مفتی فیضان الرحمانی سبحانی،مولاناصدام حسین عمادی،حافظ وقاری فخرالدین رضوی، مولاناراشد، مولانامفتی غلام سرور،مولانامفتی عبدالباسط،مفتی وسیم ثقافی، مفتی ڈاکٹرممتاز،حافظ معراج احمدفریدی ودیگر پٹنہ شہرکے علماء،مشائخ ائمہ خصوصی طورپر شریک رہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

نوجوان صحافی عارف اقبال ”کلدیپ نیر“ ایوارڈ سے سرفراز

مالی گھاٹ/بہار: 26/ مارچ (عبد الرحیم برہولیاوی)ای ٹی وی بھارت اردو سے وابستہ جواں سال …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے