علامہ قاری عبدالرحمن ضیائی کو شیر بیشۂ اہل سنت ایوارڈ سے نوازا گیا

گوونڈی: 4فروری/ ہماری آواز(نامہ نگار)

محترم محمد سالم خان رضوی لوٹس کالونی گوونڈی نے بیان جاری کرکے بتایا کہ آبروئے علماء اہلسنت گوونڈی حضرت العلام الشاہ عبد الرحیم خان صاحب قبلہ قادری دام ظلہ کے حکم پر دارالعلوم گلشن مدینہ روڈ نمبر 4 میں منقعدہ بزم حافظ ملت میں علماء اہلسنت گوونڈی نے قاری عبد الرحمٰن ضیائی صاحب کو شیر بیشہ اہلسنت ایوارڈ پیش کیا۔قومی ملی مذہبی رفاعی فلاحی خدمات انجام دینا جہاں بڑی سعادت و خوشبختی کی بات ہے وہیں پر علماء اہلسنت ائمہ مساجد واساتذہ مدارس پر لعن و طعن، ان کی عزت و آبرو کو داغ دار کرنے والوں کو دنداں شکن جواب دینا بھی بڑی جرءت و ہمت کی بات ہےورنہ آج کے ماحول میں ہر کوئی اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں لگا ہے ترقی یافتہ دور میں سب سے زیادہ مظلوم جماعت علمائے اہلسنت پر لعن و طعن کرنا اہل ثروت افراد کا محبوب مشغلہ ہے جس پر نکیل کسنا بااختیار علماء کرام کے ساتھ ساتھ تنظیموں کے سربراہان کی اولین ذمہ داری ہے اکابرین کرام کی خدمات کی روشنی میں سفر کرتے ہوئے نئی نسل کے وہ علماء جو موجودہ وقت میں قومی ملی مذہبی رفاعی فلاحی قلمی نشریاتی کاموں میں سرگرم عمل ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی کرنا بھی انہیں مزید مضبوط و توانا بنانا ہے واضح ہو کہ اس سلسلے میں دارالعلوم گلشن مدینہ روڈ نمبر 4 شیواجی نگر گوونڈی ممبئی میں منقعدہ بزم حافظ ملت علیہ الرحمہ پروگرام میں نوجوان علماء میں بے باک آواز حضرت قاری عبد الرحمٰن ضیائی بانی دارالعلوم حاجی علی خانقاہ قادریہ محمد رفیع نگر گوونڈی کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں شیر بیشہ اہلسنت ایوارڈ مقدس علماء اہلسنت کے ہاتھوں نوازا گیا اس موقع پرنئی نسل کے علماء کرام کو آفاقی پیغام ودعا ء خیر وبرکت پیش کرتے ہوئے۔آبروئے علماء اہلسنت گوونڈی ساحر البیان عمدۃ العلماء حضرت العلام الشاہ عبد الرحیم خان صاحب قبلہ قادری دام فیوضہ نے فرمایا کہ آج سے چالیس سال قبل گوونڈی میں نہ تواتنی مساجدیں تھی نہ ہی مدارس و مکاتب کی کثرت اس کے باوجود ہم عصر علماء دین و ملت نے اس علاقے میں جو سنیت کا چراغ روشن کیا وہ گوونڈی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے آپ نے مزید فرمایا کہ جس وقت مرکزی درسگاہ دارالعلوم جامعۃ العرفان کا قیام عمل میں آیا
بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے مرشد تاجدار اہلسنت ہم شبیہ غوث الاعظم حضور مفتی اعظم ہند رضی اللّٰہ عنہ کی یادوں سے اپنے دل کی دنیا کو آباد کرتے ہوئے شروع کیا
آج بحمدہ تعالیٰ وبکرم رسولہ الاعلیٰ بفیضان غوث و خواجہ و رضا و مفتی اعظم علاقہ سبربن میں اہلسنت والجماعت کا سب سے عظیم دینی قلعہ دعوت نظارہ پیش کررہا ہے
یہ سب حضور مفتی اعظم ہند کی عطاؤں اور خلوص و صداقت سے کام کرنے کی برکتیں ہیں، صاحب الفضیلت معمار قوم وملت حضرت علامہ عبد الرحیم صاحب نے اس موقع پر نئی نسل کے علماء کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ
آپ اپنے کاموں کے حوالے سے سب سے پہلے مخلص بن جائیں
اپنا توکل کسی اور پر نہیں اللّٰہ رب العزت پر رکھیں
پھر دیکھیں زمانہ آپ کے قدموں میں ہوگاحضور عمدۃ العلماء نے فرمایا کہ دارالعلوم گلشن مدینہ کی جانب سے شیر بیشہ اہلسنت ایوارڈ دیا جانا اچھی کوشش ہے
اس کو دیکھ کر نئ نسل کے علماء میں مزید جذبہ پیدا ہوگا وہ بھی آگے بڑھ کر قومی ملی مذہبی رفاعی فلاحی کاموں میں سرگرم حصہ لیں گے جس سے بلا شبہ اہلسنت کو فروغ حاصل ہوگا ملک بھر میں جو نوجوان علماء اس میدان میں رہکر قومی ملی مذہبی رفاعی فلاحی قلمی نشریاتی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی خانقاہوں اور معروف مذہبی تنظیموں کی پہلی ذمہ داری ہونی چاہئے تاکہ حوصلہ پاکر نوجوان علماء اپنے بزرگوں کی امانت کو صحیح طور پر سنبھال لیں، ہماری دعائیں ان شاہین صفت علماء کرام کے ہمراہ ہیں مولائے کائنات انہیں اہلسنت کا پرجوش خادم بنائے ان کے ذریعے مذہب و مسلک و ملت کو عروج و کمال بخشےآمین یارب العالمین
مقرر خصوصی کے طور پر شریک فاضل علوم دینیہ حضرت العلام مفتی اجمل حسین ازہری صاحب نے شیر بیشہ اہلسنت ایوارڈ اور صاحب عرس حافظ ملت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس نام پر ایوارڈ دیا گیا ہے انہوں نے زندگی کے آخری دم تک گستاخانِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تعاقب کیا ہے وہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ کے ایسے فیض یافتہ تھے کہ آپ کی جرءت و ہمت پر آپ کے ہم عصر علماء ناز کرتے تھے
صرف حشمت علی خان کا نام سن کر مخالفین کی صفوں میں زلزلہ آجاتا تھا دوسری ذات جلا لۃ العلم محدث مرادآبادی حضرت حافظ ملت علامہ عبد العزیز رحمۃ اللّٰہ علیہ بانی ازہر ہند دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور کی ہے جنہوں نے مبارک پو ر میں اہلسنت کا وہ قلعہ تعمیر کیا جہاں کے تلامذہ نے شرق و غرب شمال و جنوب میں اشاعت اہلسنت میں نمایاں خدمات انجام دیا ہے لہذا ایسے محسن کی بارگاہ میں دارالعلوم گلشن مدینہ کے سربراہ استاذ الشعرا حضرت قاری محمد سلیمان خان صاحب رضوی کا نذرانہ عقیدت پیش کرنا اکابرین سے محبتوں کے اظہار کا ذریعہ ہےوہیں حضرت شیر رضا کے نام سے ایوارڈ دیا جانا یقیناً حضرت علامہ قاری عبدالرحمن ضیائی صاحب کو مزید توانائی بخشے گامہمان اعزازی کے طور پر شریک بہار کے مشہور تیز طرار عالم دین حضرت علامہ رضوان شمسی صاحب نے کہا کہ گوونڈی میں میری حاضری پہلی بار ہوئی ہے لیکن یہاں کے علماء کرام سے مل کر لگا کہ جیسے ان سے قدیم روابط ہوں ،بالخصوص عمدۃ العلماء صاحب الفضیلت حضرت العلام عبد الرحیم خان صاحب قبلہ قادری جو زبنت بزم علماء اہلسنت گوونڈی ہیں میر کاروان علماء نسل نو ہیں،ان کی بزم گل گلزار کا تو کوئی مثیل نہیں نہایت سادہ زندگی مگر پروقار عالمانہ کرداربارعب چہرہ مگر الفاظ شبنمی قطرے کے مانند جو مجھے بہت زیادہ متاثر کرگئےایسوں کی بزم سے یقینا جو بھی نکلے گا،وہ فکر ونظر کا ہالہ بن کر نکلے گا
میں اپنے رب کے حضورعمدۃ العلماء صاحب قبلہ کے لئے درازی عمر بالخیر کی دعا مانگتا ہوں،مجلسِ خیر میں
بانی جلسہ و دارالعلوم حضرت قاری الحاج محمد سلیمان خان صاحب رضوی حضرت قاری الحاج محمد رجب علی اشرفی صدر جلسہ حضرت علامہ مفتی عثمان اشرف شیدا اشرفی نبیرہ راحت الاولیاء خطیب الہند حضرت علامہ جہانگیر القادری صاحب قبلہ حنفی چشتی ضیائی،
نقیب الاولیاء پیر طریقت حضرت قاری محمد توفیق اعظمی مصباحی صاحب حضرت قاری مہتاب عالم صاحب
حضرت قاری نظام الدین صاحب عبد الرشید عرف بابو بھائی لوٹس کالونی،عبد السبحان صاحب شرکاء محفل میں طلباء دارالعلوم گلشن مدینہ کے علاوہ علاقے کے سرکردہ افراد بھی موجود تھے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں قمر انجم فیضی

محمد قمر انجم قادری فیضی صاحب ہماری آواز کے سب ایڈیٹر ہیں۔ موصوف بڑھنی چافہ، ڈومریاگنج سدھارتھ نگر یو۔پی۔ انڈیا کے باشندہ ہیں اور اورنگ آباد کی مسجد کے خطیب وامام ہیں۔ ماہنامہ صدائے باز گشت اور ماہنامہ جام میر آپ کی ادارت میں بحسن و خوبی ہر ماہ شائع ہوتا ہے۔ ادارہ

یہ بھی پڑھیں

لاک ڈاؤن کے سبب ہر شعبہ متاثر، پولیس انتظامیہ کی سختی سے پھیری والے بے حال

نالاسوپارہ:25اپریل، ہماری آواز(نامہ نگار) کورونا کے بڑھتے معاملوں کے پیش ریاست بھر میں 15 دن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے