خلافت ابوبکر صدیق قرآن و احادیث کے آئینے میں

تحریر: محمد رجب علی مصباحی، گڑھوا جھارکھنڈ
خادم:ازہری دارالافتا،جوگیہ،اورنگ آباد

اسلام ایک پاکیز دستور اور مذہب مہذب ہےاور کیوں نہ ہو کہ اس کے بانی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں جو رب ذوالجلال کے سب سے محبوب ومقرب اور نائب پروردگار ہیں۔جن کے لائےہوئے مذہب وملت کو رب تعالیٰ نے اپنے اس قول”ان الدین عنداللہ الاسلام” سےسند قبولیت عطا فرمائی اور اسلام کےسوادیگر ادیان وملل کومردود ومہمل قرار دےکر ان کے متبعین کےلیے خسران و نقصان کی وعید عطافرمائی چناں چہ ارشاد ربانی ہے:
"ومن یبتغ غیر الإسلام دینا فلن یقبل منہ”(آل عمران:٨٥)
ترجمہ:اور جو اسلام کےسواکوئی دین چاہے گا وہ اسے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے(کنز الایمان)
اسی دین متین کی تبلیغ و اشاعت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کی اور گم گشتہ لوگوں کے دلوں میں رشد وہدایت کا چراغ روشن کرکے راہ راست پر گامزن فرمایاجس کے نتیجے میں اپنے عہد کےنامور اور بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ بےشمار لوگوں نے اپنے آپ کو مشرف بہ اسلام کیا اور محبت نبوی کی بنیاد پر دنیاے اسلام میں مشہور و مقبول ہوئے. ان عظیم شخصیتوں میں سے خلفاے اربعہ یعنی حضرت ابو بكر صدیق، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی اور حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے اسماے گرامی بھی سنہرے قلموں سے لکھے جانے کے قابل ہیں اور پھر ان چاروں میں سب سے افضل و اعلی و برتر و بالا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارکہ ہے جنہیں یار غار مصطفیٰ اور خلیفہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے اور خلافت ایسی نہیں کہ چند معمولی لوگوں نے اجتماعی طور پر خلیفہ منتخب کردیا بلکہ خلافت ایسی کہ جس کی گواہی قرآنی آیات نے دیں،جس کی شاہد احادیث مبارکہ ہوں اور جس کی خلافت کی حقانیت پر قول مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ناطق ہو۔آئیے خلافت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے چند آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں جن سے خلافت صدیقی روز روشن کی طرح عیاں اور مثل نیم آفتاب ظاہر و باہر ہوجائے گی اور مخالفین کےلیے دندان شکن جواب بھی۔
پہلی آیت مبارکہ :
علامہ ابن ابی حاتم علیہ الرحمہ نے حضرت عبد الرحمن بن عبد الحمید علیہ الرحمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق اعظم رَضی اللہ تعالیٰ عنہماکی خلافت کا ذکر کتاب اللہ میں مرقوم ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
( وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ”(النور:۵۵)
ترجمہ:’’اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لئے جما دے گا ان کا وہ دین جو ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بے حکم ہیں”(کنزالایمان)
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر صادق آتی ہے۔(تفسیر ابن کثیر، تحت سورۃ النور،الآیۃ :۵۵، ج:٤، ص۷۱)
دوسری آیت مبارکہ :
حضرت سیدنا ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلاشبہ قرآن پاک کی روسے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ ہیں ۔پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
( لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸)
ترجمہ:ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لئے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچے ہیں ۔‘‘
پھر فرمایا : ’’جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صادق فرمایا ہو وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔‘‘(کنزالایمان)
تیسری آیت مبارکہ :
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَۚ-فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًاۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(الفتح :١٤)
ترجمہ:ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہو جائیں پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا اور اگر پھر جاؤ گے جیسے پھر گئے تو تمہیں دردناک عذاب دے گا ۔‘‘(کنزالایمان)
حضرت ابن ابی حاتم اور ابن قتیبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمافرماتے ہیں کہ ’’یہ آیت مبارکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر واضح حجت ہے، کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہی انہیں لڑائی کی طرف بلایا۔‘‘
حضرت شیخ ابو الحسن الاشعری فرماتے ہیں کہ’’ میں نے ابو العباس ابن شریح کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن پاک کی اس آیت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کاواضح اعلان ہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’کیونکہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس کی طرف اوروں نے بلایا ہو سوائے حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بلانے کے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں کو مرتدین اور مانعین زکوٰۃ سے لڑائی کی دعوت عام دی۔ لہٰذا یہ آیت مقدسہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ فرمایا ہے کہ جو اس سے روگردانی کرے گا اسے سخت عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ جو ’’القوم‘‘کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد اہل فارس اور اہل روم ہیں تب بھی اس آیت کا مصداق حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہی ٹھہرتےہیں کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی طرف لشکر کشی فرمائی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد اس امر کی تکمیل حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم وحضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُماکے ہاتھ مبارک پر ہوئی۔ یہ دونوں حضرات حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی فرع ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء، ص:٦٩)
احادیث مبارکہ اور خلافت صدیق اکبر
(١)امام ترمذی اور امام حاکم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا۔‘‘
(سنن الترمذی، کتاب المناقب ، فی مناقب ابی بکر،ج:٢،ص:٢٠٧، مجلس برکات مبارک پور)
(٢)حضرت سیدنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ اِلَّا سُدَّاِلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ
یعنی مسجد میں ابوبکر صدیق کے دروازے کے علاوہ سارے دروازے بند کردو۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ ، باب الخوخۃ والممر فی المسجد، ج:۱،ص:٦٧)
علماء کرام فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مبارکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس دروازے سے تشریف لا کر مسلمانوں کو نماز پڑھایا کریں گے. (تاریخ الخلفا، ص:٤٦)
(٤)اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مرض وفات میں مجھے ارشادفرمایا : ’’ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لاؤتاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں ، مجھے خو ف ہے کہ کوئی تمناکرنے والا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دےکہ میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی سے راضی نہ ہوں گے ۔‘‘(صحیح مسلم ، فضائل الصحابہ، من فضائل ابی بکر الصدیق،ج:٢،ص:٢٧٣،مجلس برکات ،مبارک پور)
( ٥)حضرت سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنی کسی حاجت کے پیش نظر بارگہ نبوی میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےاسے دوبارہ آنے کا حکم ارشاد فرمایاـ وہ کہنے لگی:یا رسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دنیا سے فردہ فرمانے کا ذکر کررہی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلی جانا”
( صحیح مسلم،فضائل الصحابہ، من فضائل ابی بکر، ج:٢،ص:٢٧٣،مجلس برکات ،مبارک پور)
یہ چند احادیث ہیں جو خلافت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دال ہیں اور ان کے علاوہ بے شمار احادیث کریمہ کتب احادیث میں بھری پڑی ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔رب تعالیٰ ہمیں جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے فیوض و برکات سے مستفض فرمائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نکاح ہو تو ایسا

ازقلم: عبدمصطفیٰ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح ہے…..، بارات میں آپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے