خوش رہنے کے کچھ رہ نما اصول (قسط اول)

تحریر: خلیل احمد فیضانی، جودھپور راجستھان

بھری محفل میں کسی نے ایک عورت سے پوچھا کہ کیا آپ کا شوہر آپ کو خوش رکھتا ہے؟ محفل میں سناٹا چھا گیا اس کا شوہر پر اعتماد تھا کہ اس کی بیوی مثبت جواب دے گی کیوں کہ جب سے ان کی شادی ہوئی بیوی نے کبھی بھی پریشانی و دل شکنی کا شکوہ نہیں کیا تھا لیکن بیوی کے جواب نے پارٹی میں موجود تمام افراد کو حیران کردیا اس نے کہا کہ نہیں!! میرا شوہر مجھ کو خوش نہیں رکھتا! اس کا جواب سن کر شوہر کو شدید دھجکا لگا کہ ہمیشہ خوش رہنے والی بیوی نے یہ غیر متوقع جواب کیوں دیا محفل میں موجود سبھی لوگ سراپا حیرت بنے کبھی شوہر کو دیکھتے تو کبھی بیوی کو تکتے – بیوی نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوے کہا کہ آپ لوگ حیران نہ ہوں! کیوں کہ مجھ کو خوش رکھنا میرے شوہر کی ذمہ داری ہے ہی نہیں جب ذمہ داری ہی نہیں ہے تو ان کا کویٔی قصور بھی نہیں ہے – پھر اس نے کہا کہ میری خوشی کا دارومدار میرے شوہر پر نہیں مجھ پر ہے یہ میرا اپنا فیصلہ ہے !قطع نظر اس کے کہ میرا شوہر میرے ساتھ کیسابرتاو کر رہا ہے , مجھ کو زندگی میں کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے- اور حماقت سے اگر میں میری خوشی کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں دے دیتی ہوں اور وہ میری توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے تو یقینا مجھ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی ذمہ دار میں خود گردانی جاوں گی -پھر اس نے کہا کہ ہماری زندگی میں مسلسل حالات بدلتے رہتے ہیں ,ہماری صحت میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں ,ہمارے صحبتیں بدلتی رہتیں ہیں غرض یہ کہ دنیا بھر میں ہمیشہ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن یاد رکھنا! میری خوشی کا تعلق خارجی حالات سے نہیں ہے – خوش رہنے کا فیصلہ میں نے خود کیا ہے کہ میں نے ہمیشہ اور ہر حال میں خوش رہنا ہے کیوں کہ قدرت نے میری خوشیوں کے خزانوں کی چاپیاں میرے ہاتھ میں دے رکھی ہے- اور میرا حال یہ ہے کہ میں نے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشیاں تلاش کرکرکے دل میں موجود خوشی کی کیفیت کو ثابت رکھنے کی ایسی مشق کرلی ہےکہ اب مجھ کو اس بات سے کویٔی فرق نہیں پڑتا کہ خارج میں حالات کیسے ہیں- میرے پاس بڑا گھر ہے یا چھوٹا آمدنی زیادہ ہے یا کم, اکیلی ہوں یا فیملی کے ساتھ, مزید اس نے کہا کہ کل میں سنگل تھی تب بھی خوش تھی ,آج شادی شدہ ہوں تب بھی خوش ہوں کیوں کہ خوش رہنے کا فیصلہ میں پہلے سے کرچکی ہوں اور خود کو خوش رکھنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں اور جہاں تک میرے شوہر کا تعلق ہے تو اس میں کویٔی شک نہیں کہ وہ ایک عظیم انسان ہے وہ مجھ سے محبت کرتےہیں اور حتی المقدور خوشیوں کے اسباب بھی مہیا کرتے ہیں۔
اس حکایت سے ہمیں سبق یہ ملتا ہے کہ ہمیں اپنی خوشی کا ریموڈ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہیے کیوں کہ اپنی خوشیوں کا سبب دوسروں کو سمجھنا گویا فکری طور پر غلامی قبول کرنا ہے جس طرح ہم خود کسی کی غلامی قبول نہیں کرنا چاہتے تو اپنی خوشیوں کو دوسروں کی غلامی میں کیسے دے سکتے ہیں- اس لیے اپنی خوشی کی ڈور کسی کے ہاتھ میں مت دیجیے ممکن ہے کہ وہ آپ کی ڈور پکڑ کر ساری زندگی پتنگ کی طرح آپ کو ادھر ادھر گھماتا ہی رہے اس لیے بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے اندر ہی خوش رہنے کا ہنر ڈولپ کریں

المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنی خوشی کا اظہار ہی لوگوں کو جلانے کے لیے کرتے ہیں لیکن یاد رکھیں ! لوگ جلیں نہ جلیں آپ کی خوشی جل کر ضرور نذر غم والم ہوجائے گی۔
اس لیے زندگی میں جب بھی آپ کو کویٔی خوشی نصیب ہو تو بجاے لوگوں کو جلانے ان کو خوش کرنے کا ذہن بنأیے یقینا آپ کی خوشی کو دوام حاصل ہوگا اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ اگر خوشی حاصل کرنی ہے تو خوشیاں بانٹیے

حال میں رہنا سیکھیے! بعض حضرات ماضی کی غلامی میں جکڑے ہوتے ہیں تو بعض مستقبل میں چھلانگ لگانے کی پلاننگ بناے رہے ہوتے ہیں نتیجہ دونوں کا غم و خوف کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اس لیے اپنے حال پر رحم کھاتے ہوے حال کو غنیمت جانیے اور حالات کو بدلنے کی سعی کیجیے

مثبت سوچ
ہر چیز کے کچھ مثبت پہلو ہوتے ہیں تو کچھ منفی اگر آپ کسی چیز میں منفی پہلو نکالنے کے بجاے مثبت پہلو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو یقینا آپ ایک کامیاب انسان ہیں اور یہی چیز آپ کو غم و اندوہ سے چھٹکارا دلانے والی بھی ہے ایک مثال لیجیے !آپ سڑک عبور کرہے ہیں جیسے ہی درمیان میں پہونچے اچانک ایک تیز رفتاری سے چلتی ہؤی گاڑی نمودار ہؤی آپ چلاے ڈرائیور ماہر تھا بالکل قریب آکر گاڑی کو بمشکل کنٹرول کرلیا اب آپ اس وقت کیا کریں گے ??? آپ کے پاس دو پہلو ہیں منفی اور مثبت -منفی پہلو یہ کہ آپ ڈرائیور سے جگھڑا شروع کردیں جزع فزع شروع کردیں لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے ڈرائیور صاحب کا شکریہ ادا کریں کہ اس نے بروقت گاڑی کنٹرول کی اور آپ زندہ بچے ! پھر رب تعالی کی بارگاہ میں سربسجود ہوجائیں کہ مولا !تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھ کو اس ناگہانی موت سے چھٹکارا دے کر ایک اور موقع عنایت فرمایا -بس اسی طرح آپ اپنی زندگی کے ہر واقعہ کو اس مثال پر قیاس کرتے جائیے اور مثبت پہلو نکالتے رہیے. ان شاءاللہ تعالٰی عزوجل آپ ہمیشہ کی خوشی سے بہرہ ور ہوں گے

اپنے اندر خود اعتمادی کا ہنر پیدا کریں ,مستقبل مزاجی کو اپنی طبیعت کا ایک حصہ بنائیں , ہر حال میں رب تعالی کا شکر ادا کریں , کتابوں سے دوستی پیدا کریں ان سب کا نچوڑ پوچھیے تو ذکر اللہ کی کثرت کریں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے