افضل الخلق بعد الأنبیاء بالتحقیق سیدنا أبو بکر الصدیق

تحریر: شہادت حسین فیضی
کوڈرما جھارکھنڈ

(وصال ٢٢/ جمادی الاخریٰ ١٣ھ مطابق ٦٣٤ء)
افضل الخلق بعد الانبیاء یعنی انبیاء کے بعد پوری کائنات میں سب سے افضل و اعلی ہونے کا اعزاز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ- ٥٧٢- ٦٣٤ء – کو حاصل ہے۔ یہ اعزاز کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔انہیں انبیاء اور رسول کے بعد ساری کائنات میں یوں ہی افضل و اعلی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ یہ ایک متفق علیہ حقیقت ہے۔ اور یہ شرف پوری دنیا میں ان کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہے۔ انہیں یہ اعزاز ان کے خالص اور بے مثل عشق رسول اور اطاعت الہی سے ہی حاصل ہوا ہے۔ ان کے حیات مبارکہ کے چند گوشے ملاحظہ کریں۔
▪️٢١/رمضان ٤٠/ عام الفیل مطابق ٦/ اگست، ٦١٠ ء کو پہلی مرتبہ وحی نازل ہوئی اور اسی دن چار خوش نصیبوں نے جن میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت زید بن حارثہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین شامل ہیں اسلام قبول کر کے مسلمان ہوے۔ (رحمۃ اللعالمین: ج ١- ص٥٠)
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ حضرت زید بن حارثہ آپ کے خادم تھے۔ حضرت علی آٹھ سالہ آپ کے زیرکفالت تھے چچا زاد بھائی تھے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق ٣٨ سالہ ایک جہاں دیدہ اور تجربہ کار تاجر تھے،جن کا شمار مکہ مکرمہ کے رئیسوں میں ہوتا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا دنیا کے تمام اہل ایمان میں افضلیت اور انفرادیت کا حامل ہے۔ اور بےشک یہ خالص عشق رسول اور خدا سناشی کا ہی کمال ہے۔
▪️راجح قول کے مطابق ٢٧/ رجب، ١١/نبوی سال کو واقعۂ معراج پیش آیا۔(سیرت نبوی :ج٣،ص٣٦٠- انسان العیون:ج ١، ص ٣٤٨)
معراج سے واپسی کے بعد آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنی چچا زاد بہن حضرت ام ہانی بنت ابی طالب اور حضرت علی کو واقعہ معراج کی تفصیل بتائی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو کعبۂ معظمہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان بیٹھ کر اہل مکہ کی بھری محفل میں واقعہ معراج کو تفصیلا بیان فرمایا۔وہاں ابو جہل اور مطعم بن عدی وغیرہ بھی موجود تھے۔ اچانک مطعم بن عدی جھلا کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ اب تک جو یہ کہتے تھے اس میں کچھ نہ کچھ باتیں قابل غور ہو تی تھیں،لیکن آج انھوں نے ایسی بات کہی ہے جسے ان پر ایمان لانے والے ابوبکر جیسے لوگ بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ حضرت ابوبکر وہاں موجود تھے انھوں نے کھڑے ہو کر اور زور دے کر اعلان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ سچ اور حق ہے، میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں۔ اور میں نے تو اس سے بڑی باتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔ بے شک یہ الصادق الامین ہیں۔
حضرت ام ہانی کی باندی نبعہ جسے ام ہانی نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تفتیش حال کے لیے بھیجی تھی، فرماتی ہیں کہ میں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یاابابكر! إن الله سماك الصديق۔ یعنی اےابوبکر! بے شک اللہ تعالی نے تمہارا نام صدیق رکھا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کے بعد افضل الخلق ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ (ضیاء النبی:ج ٢- ص ٥٠٢، تاریخ ابن ہشام:ج ١، ص ٣٩٩)
کہ جب ساری دنیا انہیں جھٹلا رہی تھی تو انہوں نے تصدیق کی۔
▪️ ہجرت
راجح قول کے مطابق ٢٧/ صفر ١٣/نبوی،مطابق ١٣/ ستمبر ٦٢٦ء کی درمیانی رات کو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور سیدھا ابوبکر صدیق کے گھر گئے۔ جبکہ اس وقت وہاں کفار مکہ کے گیارہ(١١) افرادنے آپ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھاجن کے نام یہ ہیں۔(1) ابو جہل بن ہشام (2) حکم بن عاص(3) عقبہ بن ابی معیط (4) نضر بن حارث(5) امیہ بن خلف(6) زمعہ بن الاسود(7) طعیمہ بن عدی(8)ابولہب(9) ابی بن خلف(10) نبیہ بن الحجاج (11) منبہ بن الحجاج۔ (رحمۃاللعالمین:ج١،ص٩٥)
وہاں ابوبکر صدیق پہلے سے ہی تیار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ جانا تھا اور اہل مکہ کو بھی معلوم تھا کہ وہ مدینہ ہی جائیں گے۔ اور مدینہ مکہ سے شمال کی جانب ہے جبکہ منصوبہ کے تحت اپنے سفر کی ابتدا جنوب سے کی اور مکہ سے جنوب میں پانچ میل کے فاصلہ پر جبل ثور کی چوٹی پہ پہنچ کر غار ثور میں پناہ لی۔ غار ثور میں پہلے حضرت ابوبکر صدیق گئے انہوں نے اس کی صفائی کی۔ تہبند پھاڑ کر سوراخوں کو بند کیا۔ایک سراخ جو باقی بچ گیا تھا ان پر قدم رکھ دئے۔ اس کے بعد آقا اندر تشریف لے گئےاور صدیق اکبر کی آغوش میں سر رکھ کر سو گئے۔ صدیق اکبر کے تلوے میں سانپ نے ڈنک مارا جس سے انہیں اس قدر شدید تکلیف ہوئی کہ شدت درد سے آنسو نکل آئے اور اس کے چند قطرے حضور کے رخسار مبارک پر ٹپک گئے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔آپ نے رونے کی وجہ دریافت کی۔ اور آپ نے اپنا لعاب دہن لگایا اور درد کافور ہو گئی(مشکواۃ:ج٢،ص ٥٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ سر اٹھایا تو دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پاؤں نظر آ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی اگر ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کر دے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا ابوبکر خاموش رہو۔ ہم دو ہیں جس کا تیسرا اللہ تعالی ہے۔ اےابوبکر تمہارا کیا خیال ہے ایسے دو آدمیوں کے بارے میں جن کا تیسرا اللہ تعالی ہے۔ (بخاری:ج١،ص٥٥٨)
انہیں اخلاص و محبت نے انہیں صدیق اکبر اور افضل الخلق بنایا ہے۔
منافقوں کی شرارت اور بعض مسلمانوں کی غلط فہمی
غزوۂ مُریسیع،اس کا دوسرا نام ” غزوہ بنی المصطلق ” بھی ہے۔ ماہ شعبان، پانچ ہجری میں پیش آیا۔ ” مریسیع ” ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے آٹھ منزل دور ہے۔ اسی غزوہ سے واپسی میں واقعۂ افک رونما ہوا جس میں منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی نے اس واقعہ کو حضرت عائشہ پر تہمت لگانے کا ذریعہ بنا لیا اور خوب خوب اس تہمت کا چرچا کیا،اسے اس قدر اچھالا اور اتنا شور و غل مچایا کہ مدینہ میں ہر طرف اس تہمت کا چرچا ہونے لگا اور بعض مسلمان مثلاً حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ بھی اس غلط فہمی کے شکار ہوگئے اور اسے سچ مان کر آگے بڑھانے میں شامل بھی ہو گئے ۔جب آیت تطہیر نازل ہوئی تو ان دونوں کو اسی اسی کوڑے مارنے کی سزا دی گئی۔ حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے تھے۔ اور بہت غریب و مفلوک الحال تھے۔ حضرت صدیق اکبر ان کا خاصی مدد کیا کرتے تھے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ مسطح الزام تراشی میں پیش پیش ہیں تو آپ کو شدید صدمہ ہوا۔آپ نے قسم کھا لی کہ اب ان کی مدد نہیں کروں گا، جس اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ: اور نہ قسم کھائیں جو تم میں سے فضل والے ہیں اور خوش حال ہیں اس بات پر کہ وہ نہ دیں گے رشتہ داروں کو اور مسکینوں کو اور راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کو۔ اور چاہیے کہ یہ لوگ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہاری بخشش فرما دے اور اللہ تعالی غفور ہےاور رحیم ہے۔(سورۂ نور:پ ١٨،س٢٢)
اس آیت کریمہ کو سنتے ہی فوراً حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ اے پروردگار مجھے تیری عزت و جلال کی قسم۔ ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں معاف کر دے۔ اوراسی وقت حضرت مسطح کی روکی گئی رقم مزید اضافہ کے ساتھ عطا فرما دیا۔ اللہ و رسول کے حکم سننے کے بعد حضرت صدیق اکبر دیر نہیں کرتے تھے۔ بلکہ فورا لبیک کہتے ہوئے عمل کرتے تھے۔
▪️ غزوہ تبوک
نویں ہجری کو مدینہ طیبہ میں قیصر روم کے حملے کی خبر گرم تھی اور مسلسل لڑائیوں کی وجہ سے مسلمان مالی طور پر کافی کمزور ہوگئے تھے۔ ایک بڑی حکومت سے مقابلے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگی سازو سامان اور سرمائے کی سخت ضرورت تھی۔ اسی کے پیش نظر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی۔اس پر تمام صحابۂ کرام نے وسعت کے مطابق حصہ لیا۔ حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے مال کثیر پیش کیا۔ حضرت عمر فاروق نے نصف مال پیش کی۔لیکن ان تمام میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گھر کا کل اثاثہ حتی کہ برتن اور جھاڑو بھی لا کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ اور جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کافی ہیں۔ (ابو داؤد کتاب الزکاۃ )
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ توکل، یہ قربانی، اور اس طرح کا جواب دینا۔ دنیا نے پہلی مرتبہ دیکھا اور سنا تھا۔ یہ خاصہ ہے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا۔
▪️ ماہ صفر ١١/ ہجری کے آخری ایام میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت نے جب شدت اختیار کر لی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ابو بکر صدیق سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ نرم دل ہیں آپ کی جگہ نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ حکم دیا کہ ابوبکر صدیق لوگوں کی امامت کریں۔ دنیا کے وہ پہلے شخص ہیں جنہیں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سترہ وقت کی نماز پڑھانے کا اعزاز حاصل ہے۔ (صحیح البخاري باب أھل العلم و الفضل۔ وأحق بالإ مامة)
▪️ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دنیائے اسلام پہ سب سے بڑا احسان وہ ہے جو انہوں نے ١٢/ ربیع الاول١١/ ہجری مطابق ٩/ جون ٦٣٢عیسوی بروز دوشنبہ کو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سن کر کیا تھا۔ وہ دو کام تھے(١) وصال کی خبر سن کر آپ نے کسی سے کلام کیے بغیر سیدھا حجرۂ عائشہ میں داخل ہوئے، دیکھا کہ ایک یمنی چادر اوڑھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں۔ آپ نے چہرۂ انور سے چادر ہٹائی،جھک کر پیشانی کو بوسہ دیا اور رو پڑے اور عرض کی یارسول اللہ! آپ پر اللہ تعالی دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا۔ جوموت آپ کے لیے لکھی تھی وہ آ چکی ہے۔ اس کے بعد آپ باہر نکلے۔ وہاں حضرت عمر فاروق چیخ کر یہ اعلان کر رہے تھے کہ جو کوئی یہ کہے گا کہ آقا کریم وصال فرما گئے ہیں، میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔ آپ نے نرمی سے کہا کہ اے عمر بیٹھ جاؤ۔حضرت عمر اور دیگر صحابہ بھی بیٹھ گئے۔ آپ نے قرآن مقدس کی آیت پڑھی۔ ترجمہ: اور محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- تو ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے اور رسول ہو چکےہیں۔ تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں۔ تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا۔ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کرے گا۔ اور عنقریب اللہ شکرکرنے والوں کوصلہ دے گا۔(آل عمران:١٤٤) حضرت عبداللہ ابن عباس، حضرت عمر فاروق کے ساتھ تمام صحابہ نے جب اس آیت کریمہ کو سنا تو انہیں یقین ہوگیا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوچکا ہے۔ اس موقع پر دوسرا کام جو انہوں نے کیا کہ تدفین سے پہلے ہی یہ طے کرلیا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے بعد مسلمانوں کی قیادت کون کرے گا۔ یہ بھی ایک ایسا مسئلہ تھا کہ اگر اس پر فوری کاروائی نہ کی گئی ہوتی تو مسلمانوں کا شیرازہ بکھر جاتا۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح حضرت صدیق اکبر کو ساتھ لے کر انصار مدینہ کی محفل میں گئےکہ وہاں حضرت سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ مہاجرین کی جانب سے حضرت صدیق اکبر اور انصار کی جانب سے بشیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے خطاب سے یہ مسئلہ طے ہوگیا۔اور حضرت صدیق اکبر کی خلافت کو انصار و مہاجرین نے قبول کرلیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اولیت و افضلیت ثابت کرنے کے لیے یہ دو کام بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔
▪️ خلافت اسلامیہ کے استقلال کے لیے انہوں نے فوری طور پر جو تین کام کیے وہ صرف انہی کا حصہ تھا۔ کیونکہ اکثر صحابۂ کرام انہیں ان کاموں سے روک رہے تھے۔ اور وہ ان کاموں کو کرنے میں صرف اس لیے کامیاب رہے کہ انہیں آقا کریم سے سچی محبت اور اطاعت الہی کی وہ بصیرت و بصارت حاصل تھی جو ان کاموں کے لیے ناگزیر ہے۔
وہ کام ہیں (۱)حضرت اسامہ کو سالار لشکر بنائے رکھنا اور اسے روانہ کرنا۔(۲) مانعین زکوۃ سے سختی کے ساتھ زکات وصول کرنا،جوکہ احکامات اسلام کے بقا کے لیے ضروری تھا۔(۳) جھوٹے مدعیان نبوت کا خاتمہ کرنا کہ اس سے ارتداد بنام اسلام کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ ان کی خوبیوں کو پیش کرتا ہے۔ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے بالخصوص مسلمانوں کے لیے اس میں بس ایک ہی سبق ہے کہ اچھا بننے کے لیے اچھا کام کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں اچھا کرنا چاہیے اور اچھائی کی امید رکھنی چاہیے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

یاد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان اللہ اور رسول کے پیارے معاویہہیں آسمانِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے