سیرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

تحریر: محمد حفیظ الرحمن مصباحی (صاحب گنج)

افضل البشر بعدالانبیاء بالتحقيق، خلیفۃ المسلمین، یارِ غار رسول، خلیفہ اول بلا فصل حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیدائش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے دو سال چند مہینے بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دو سال چند مہینے بعد ۲۲؍جمادی الاخرٰی کو مدینہ شریف میں ہوئی ،پھر وفات کے بعد اپنے محبوب کے جوارِ رحمت ہی میں مدفون ہوئے۔گویا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جینا ،مرنا،رہنا،سہنا،اور زندگی کے ایام گزارنا سب حضور ﷺ کے ساتھ ہے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبد اللہ، کنیت ابو بکر ،اور آپ کا لقب صدیق اور عتیق ہے۔آپ کے والدماجد کا نام ابو قحافہ عثمان رضی اللہ عنہ ہے اور والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ رضی اللہ عنہاہے۔آپ کے والدین بھی اسلام لا چکے تھے۔آپ کا نسب ساتویں پشت(یعنی ۷پیڑھی)میں جاکر حضرت مرہ بن کعب پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے ۔
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ زمانۂ جاہلیت سے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اور مخلص دوست تھے، یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر اسلام پیش کیا، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بلا تردد فوراً ہی اسلام قبول کر لیا۔کیونکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بچپن ہی سے عالم خواب و بیداری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے آثار دیکھتے رہتے تھے، جس کے سبب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کبھی بُت کی پرستش نہیں کی،کبھی شراب نہیں پی،اور زمانہ جاہلیت کی تمام گندگیوں سے بچتے ہوئے ہمیشہ مجبوروں اور غریبوں کی مدد کرتے رہے۔
(ماخوذ ،ازتاریخ الخلفاء ۔از علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ، و دیگر کتبِ سیرت)
رسول اللہ ﷺ سے قرابت:
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریبی تھے کہ مدینے کی جانب ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی کورفاقت کا شرف بخشا۔ اس سفر ِہجرت میں مقام غار ثور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو تین دن ایسے ملے کہ زمانے کے ہجوم اور شور شرابہ سے دور ہو کر آپ بڑے قریب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے رہے۔اسی منظر کو قرآن کریم نے یوں محفوظ کیا ہے:
’’ثَانِیَ اثنَینِ اِذ ہُمَا فِی الغَارِ اِذ یَقُولُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحزَن اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا‘‘
(سورۃ التوبہ، آیت: ٤٠، پارا: ١٠)
صرف دو جان،(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ)جب وہ دونوں غار میں تھے،جب(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم)اپنے یار(حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ)سے فرماتے تھے(اے ابو بکر!)غم نہ کھا، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوستی اور رفاقت کو یہیں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ غار سے حوض کوثر تک ساتھ رہنے کا وعدہ فرمایا۔ چناں چہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’یا ابا بکرٍ!أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الحَوْضِ وَصَاحِبِي فِي الغَارِ‘‘
اے ابو بکر! تُو حوض کوثر میں بھی میرے ساتھ رہے گا، جس طرح تم میرے ساتھ غار میں تھے۔
( ترمذی شریف،ابواب المناقب،بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،ج ٦،ص ٥٤،حدیث نمبر: ۳٦٧۰)
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفاداری اور اللہ و رسول پر آپ کا اعتماد
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست نبوت میں بیعت کرکے جو پیمان عشق و وفا لیا، اُسے مرتے دم تک نبھایا۔ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر دعوت پر لبیک کہا اور ذاتی ضروریات سے لے کر دینی ضروریات تک ہر موقع پر اپنے جان و مال اور گھر کا سارا اثاثہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پہ ڈال دیا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مَا لأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلاَّ وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلاَ أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِئُهُ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً، أَلاَ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ‘‘
جس نے ہم پر احسان کیا، ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا، سواے ابو بکر کے، کیوں کہ ان کے ہم پر ایسے احسانات ہیں،جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن عطا فرمائے گا۔اور کسی کا مال مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا، جتنا کہ ابو بکر کے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا۔(آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا)اگر مجھے کسی کو خاص راز دار دوست بنانا ہوتا، تو میں ابو بکر کو بناتا، لیکن میں تو اللہ تعالیٰ کا راز دار دوست ہوں۔
(ترمذی شریف،ابواب المناقب و الفضائل،باب المناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ،ج ٦ ص ٥٠ حدیث نمبر ٣٦٦١)
حضرت صدیق اکبر کا اللہ اور اس کے رسول پر اعتماد کی ایک مثال حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سماعت فرمائیں:
’’حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صحابیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صدقہ کرنے کا حکم دیا۔حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ان دنوں میرے پاس کافی(زیادہ)مال تھے،(اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس مال کی کمی تھی)تو میں نے سوچا کہ اگر ابو بکر رضی اللہ عنہ پر کسی دن (نیکی کمانے میں)سبقت کر سکوں،تو آج ہی کا دن ایک موقع ہے،پھر معلوم نہیں ایسا موقع ملے نہ ملے، یہ سوچ کرمیں اپنےگھرگیا اور اپنے سارے مال کو جمع کیا اور سارے مال کاآدھا حصہ بارگاہ رسالت میں لا کر پیش کردیا،تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اتنےمال کو دیکھ کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے عمر!اپنے اہل و عیال کے لیے کتنا مال چھوڑ آئے ہو؟میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کے برابر۔
اس کےبعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تو اپنےگھر کا سارا مال لے کر بارگاہ رسالت میں تشریف لائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ؟ ‘‘
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:اے ابو بکر! اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟
تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کیاجواب دیا؟ غور سے سنیں!عرض کیا :
’’قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَه۔ُ‘‘
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے گھر والوں کے لیے بس اللہ اس کا رسول(کافی) ہے۔
کسی شاعر نے سچ کہا ہے ؎
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
حضرت صدیق کوہے اللہ کا رسول بس
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےافسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ میں صدیق اکبر پر کبھی بھی کسی معاملے میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘‘(مترجماً)
(جامع الترمذی،ابواب المناقب و الفضائل،بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ج ٦، ص ٥٦،حدیث نمبر ٣٦٧٥،
و دارمی شریف، كِتَابِ الزَّكَاةِ، ج: ٢،ص: ١٠٣٣،حدیث نمبر: ١٧٠١١)
حضرت صدیق اکبر کی خلافت اور افضلیت
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر عظیم المرتبت صحابی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت کے قائل ہیں اور ادھر قوم شیعہ رافضی لوگ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مفضول قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں،(معاذ اللہ) جبکہ خود حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت یوں بیان کرتے ہیں۔
"عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ»، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عُمَرُ»
(صحیح البخاری، کتاب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ،ج: ٤،ص: ٧،حدیث نمبر: ٣٦٧١)
حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ(حضرت علی کے شہزادے) فرماتے ہیں کہ:میں نے اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہیں؟تو میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ابو بکر۔ میں نے پھر پوچھا ان کے بعد کون سب سے بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا:عمر۔
اسی طرح تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زمانہ ٔ رسالت ہی سے آپ کو افضل جانتےاور مانتے تھے۔ خود حضور اکرم ﷺ نے اپنی حیات ہی میں علالت کے وقت ۱۷ نمازوں میں امامت کے لیے آگے بڑھاکر یہ ثابت کر دیا کہ میرے بعد آپ ہی زیادہ امامت اور خلافت کے حق دار اور لائق ہیں۔یہی تمام فقہا،محدثین،مجتہدین اور اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے۔
حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے فرمایا؎
مرتبہ حضرت صدیق کا ہے یہ سید ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دوراندیشی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں پر غموں اور مصیبتوں کےپہاڑ ٹوٹ پڑے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نے عام مسلمانوں کے ہوس اڑا دیے ،حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کے خلاف لشکر لے کرشام کی جانب روانہ کیا تھا ،راستے میں جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر پہنچی تو واپس مدینہ تشریف لے آئے۔
دوسری طرف دشمنان اسلام تک جب خبر پہنچی کہ مسلمانوں کا ماویٰ و ملجٰی کا وصال ہو گیا ہے تو وہ سر اٹھانے لگے، بلکہ اطراف مدینہ سے کافی لوگ ارتداد و بغاوت پر اُتر آئے،اور مسیلمہ کذاب نے تو (معاذ اللہ) نبی ہونے کا دعویٰ کردیااور مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے ایک لشکر بھی تیار کر لیا،ادھر عرب کے چند قبیلے اس بات پر اڑ گئے کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے۔
اگر ایسے غمگین اور خطرناک حالت میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر فائز نہ ہوتے، تو آج اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح مٹ گیا ہوتا۔جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’لقد قمنا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقاما كدنا نهلك فيه، لولا أن الله من علينا بأبي بكر‘‘
(فتوح البلدان البلاذری، ج: ١،ص: ١١٣،حدیث نمبر: ٢٧٨،مقالات از پیر کرم شاہ ازہری، ص: ٥٠١)
یعنی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد ہم ایسی حالت کو پہنچ گئے کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت ابو بکر صدیق جیسے خلیفہ سے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے،مٹ جاتے۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہم سب مسلمانوں پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے اس کٹھن وقت میں مسندِ خلافت کو سنبھالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب بن کر اور منہاج نبوت پر قائم رہ کر تمام مصائب اور فتنوں کا ایسا مقابلہ کیا کہ سب فتنہ پروروں کی عقلیں ٹھکانے لگ گئیں۔
چنانچہ اولاًحضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو لشکر جرار لے کر شام روانہ کیا ،اگرچہ لشکر کا بھیجنا ایسے وقت میں کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سےدشمنان اسلام مدینے پر حملہ کر سکتے تھے،بظاہر مصلحت کے خلاف تھا۔جس کے سبب صحابہ کرام نے اس کی مخالفت کی ،خود حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ پہلے مرتدین سے نپٹا جائے، اور اتنے سارے صحابہ کو ایک دور دراز مہم پر نہ بھیجا جائے۔لیکن قربان جائیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دور اندیشی اور اتباعِ سنت پر کہ آپ نے اسے گوارا نہ کیا،اورمسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’خدا کی قسم! اگر جنگل کے درندے مجھے اچک لے جائے تو پھر بھی میں اس لشکر کو روانہ کرنے سے باز نہ آوں گا،جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا۔‘‘
آخر کار لشکر اسلام حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں روانہ ہوا ،اور کامیاب لوٹا۔اس کے نتیجے کفار عرب،دوبارہ سہم گئے ، کہ بس مسلمانوں کےنبی پردہ کیے ہیں ،ان کی محبت اور تعلیمات ابھی باقی ہیں اور جب تک یہ باقی ہیں ہم ان کا مقابلہ مشکل ہے۔
اسی طرح صحابہ کرام کی مخالفت کے باوجود آپ نے زکات دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ جنگ کا فیصلہ کرلیا۔جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مانعین زکوٰۃ کےساتھ فی الحال نرمی کرنے کو کہا۔تو آپ نے فرمایا :کیا آپ اسلام قبول کرنے کے بعد کمزور پڑ گئے،بتائیں میں کس طرح ان کی تالیف اور نرمی کروں؟(جب کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں)وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ۔بخدا جب تک وہ پوری زکات ادا نہ کریں گے میں ان سے جہاد کروں گا۔
(ماخوذ،ازتاریخ الخلفاء،از علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ)
واقعی اگر اس وقت منکرین زکات کی سر کوبی نہ کی جاتی تو آج لوگ دیگر ارکان اسلام سے بھی انکار کرنے لگتے۔آج ہم ان کے صدقے کسی اسلامی رکن کا انکار تو نہیں کرتےہیں،لیکن مال کی محبت میں بہت سے لوگ زکات اور عشر دینے سے کتراتے ہیں،تو ایسے لوگوں کومذکورہ واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے۔نیز ہمیں سیرت صدیقی سے احساس ہونا چاہیےکہ اگر محبتِ رسول اور اتباعِ سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں تو وقت کے یہ فتنے اور خطرات ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسول اور سنتِ صدیقی پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

یاد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان اللہ اور رسول کے پیارے معاویہہیں آسمانِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے