غزل: اب تو پانا لگے محال اسے

نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج۔بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت

دے کے شہکار خد و خال اسے
کر دیا رب نے بے مثال اسے

زیب دیتا ہے یہ جلال اسے
ہے ملا ایسا ہی جمال اسے

وہ کسی اور کا ہوا نکلا
اب تو پانا لگے محال اسے

پھول کھل اٹھتے ہیں قدم بقدم
کیا حسیں تر ملی ہے چال اسے

منفرد ہوگئی ہے ذات اس کی
رب نے بخشے ہیں وہ کمال اسے

جیسے میں سوچتا ہوں اس کو بہت
کیا مرا بھی ہے یوں خیال اسے

ہر گھڑی مضمحل سا ہے رہتا
جانے ہے کون سا ملال اسے

وہ مری جاں ہے اور کہے دنیا
اپنے دل سے "ذکی” نکال اسے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل : کسی کے پاس نہیں وقت اب کسی کے لیے

رشحات قلم : حافظ فیضان علی فیضان وہ چاہے دل کے لئے ہو کہ دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے