جو تجھے حاضر و موجود سے بے زار کرے

تحریر: عمر فراہی

ایک نوجوان نے ایک مضمون پر تبصرہ کیا ہے کہ جوآپ کی آئیڈیا لوجی ہے اسے بہت کم لوگ ہیں جو سمجھ سکیں یاتسلیم کریں ۔پہلی بات تو یہ کہ ہماری اپنی کوئی آئیڈیا لوجی نہیں ہے ۔سمجھیں تو یہ اسلامی آئیڈیا لوجی ہے اور کچھ نہیں ۔
یہ کہنا کہ آج کے دور میں اس اسلامی آئیڈیا لوجی کو سمجھتا کون ہے یہ بات غلط ہے ۔سمجھتے سب ہیں لیکن ہم جن مادی فتنوں کے دور سے گزر رہے ہیں اور دنیا حاصل کرنے کا جو ہمارا مزاج بن چکا ہے حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب اس پر عمل کرنا ہے اور یہ عمل کرنے والا معاملہ ہر دور میں انسانوں کیلئے بہت گراں رہا ہے ۔مشرکین مکہ بھی سمجھتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کلام کو بیان کر رہے ہیں یہ اللہ کا کلام ہی ہے لیکن اسے تسلیم کرنے کا مطلب وہی تھا جو اقبال نے کہا ہے کہ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
مشرکین بھی چاہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کوئی ایسا راستہ نکال دیں جو کفر و شرک اور ایمان کے ساتھ ایک سیکولر دین کی طرح مشرکین اور مسلمان دونوں کیلئے قابل قبول ہو ۔ لیکن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
لکم دینکم ولی الدین
کا راست اختیار کیا ۔آج سرمایہ دارانہ نظام جمہوریت کے نام سے مسلم امہ کی اکثریت نے اسی دین کو تسلیم کر لیا ہے ۔صرف تسلیم ہی نہیں کیا ہے ترقی پسندوں میں یہ بحث بھی عام ہے کہ اگر لبرل جمہوریت کو باطل نظام تسلیم کر لیا جائے تو اس کا متبادل کیا ہے ۔ہمارا ان حضرات کو صرف اتنا جواب ہے کہ کیا تہذیبوں کا عروج بیسویں صدی میں ہوا ہے ۔اس سے پہلے انیسویں صدی تک کیا دنیا کسی آئین اور اصول کی پابند نہیں تھی ۔کیا اب تک کی ہزاروں سال کی دنیا میں مختلف مذاھب کے لوگ ایک ساتھ نہیں رہا کرتے تھے ۔کیا مکہ سے شام میں تجارت کی غرض سے گئے مشرکین کو وہاں کے عیسائی قتل کر دیا کرتے تھے ۔یا مسلم حکومتوں میں اقلیتیں محفوظ نہیں تھیں ؟ اگر ایسا ہوتا تو جہاں جہاں مغلوں اور ترکوں نے سیکڑوں سال حکومت کی تھی وہاں آج کوئی غیر مسلم نہ ہوتا ۔ جب ایسا نہیں تھا تو سیکولرزم کی بحث کے کیا معنی ۔مگر اسلامی نظریہ سیاست کے برخلاف یہ معنی پیدا کیا گیا اور پھر اس طرز سیاست میں مسلم امہ کی جدوجہد ایک ایسی رسمی دعوت و تبلیغ اور تقریر تک ہی محدود رہ گئی جس کا کوئی واضح نصب العین نہیں رہا اور اب ہم سب مختلف علماء کی تقریروں کو ہی دین سمجھتے ہیں ۔ علامہ یوسف القرضاوی نے شاید اسی تناظر میں کہاہے کہ
"جمعہ کی ایک گھنٹہ بھر اٹھنے والی کمزور و ناتواں آواز کیا انقلاب برپا کر سکتی ہے جبکہ پورے ہفتہ کے پورے سات دن باطل طاقتوں کی طرف سے نشرو اشاعت، ذرائع ابلاغ اور صحافت کے ہر سو اٹھائے ہوئے طوفان بدتمیزی کے شور و ہنگامہ کی نذر ہو جائیں؟ . . . . ڈاکٹر علامہ يوسف القرضاوی
اسلامی نظام (ایک فریضہ، ایک ضرورت)
اس بات سے انکار نہیں کہ مسلم امہ میں فصل کیلئے ایک اچھے بیج پیدا کرنے کی بحث تو ہے لیکن بیج بونے اور فصل اگانے کیلئے کھیت اور زرخیز زمین کے حصول کے ساتھ ساتھ جس ہل بیل اور ٹریکٹر کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس بارے میں یہ کسان سوچنا بھی نہیں چاہتا ۔اگر وہ ایسا سوچتا ہے تو ظاہر سی بات ہے اسے دھوپ اور چھاؤں کے دشوار گزار راستے سے بھی گزرنا پڑسکتا ہے ۔بدقسمتی سے مسلم امہ نے جب سے بغیر کسی آئیڈیا لوجی اور حکمت عملی کے جمہوریت کے نام پر اقوام عالم سے مفاہمت اور مصالحت کا راستہ ہموار کر لیااور اب جب پوری دنیا میں فحاشی بدعنوانی اور ظلم کا سیلاب طوفان بدتمیزی پیدا کر رہا ہے تو جہاں ایک گروہ مہدی اور دجال کے انتظار میں ہے کوئی دعوت و تبلیغ کے نام پر سال چھ مہینے اور ہفتے کی چھٹی میں ہفتہ , ڈے اور رسمی اجتماعات اور سمپوزیم منعقد کر کے انقلاب کا متمنی ہے ۔ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے بقول کہ صرف قبر پرستی اور بتوں کی پوجا ہی شرک اور بدعت نہیں بلکہ نظام الہی کے مدمقابل سرمایا دارانہ نظام کی صورت میں دنیا جس اصول کی پابند ہے وہ آج کا سب سے بڑا شرک ہے ۔حضرت اقبال کا بھی اس تعلق سے ایک وسیع نظریہ ہے ۔
اقبال اور اسرار احمد نے اپنی خلافت کا کوئی دعوی تو نہیں پیش کیا لیکن زوال پزیر قوموں کے پاس آخر میں اپنے زوال کو عروج میں تبدیل کرنے کیلئے جن مفکرین ,مجددین اور مصنفین کی ضرورت ہوتی ہے یہ لوگ اسی نظریے کے محافظ ہیں ۔اقبال نے خود ایسے ہی مجددین کے بارے میں کہا ہے کہ
تونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
اس کے برعکس امت میں علماء کا ایک گروہ وہ بھی ہے جو وقت کے حکمرانوں کے انعام و اکرام اور نوازش کا حریص بھی ہے ۔ان کے بارے میں اقبال کہتے ہیں کہ
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
اب یہ بات ہر فرد پر منحصر ہے کہ وہ علماء کے کس گروہ کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔کسے تسلیم کرتا ہے کسے رد کر دیتا ہے ۔نبی ہر دور میں نہیں آتے لیکن قومیں ہر دور میں فتنوں کے راستے سے آزمائی جاتی ہیں ۔
ایسے وقت میں اقبال اگر یہ سوچ لے کہ میری آئیڈیا لوجی کو کون تسلیم کرے گا تو پھر سماج میں اصلاح و انقلاب کے راستے کبھی نہیں کھل سکیں گے ۔کبھی کبھی کسی وجہ سے ایک شخص اپنی آئیڈیا لوجی میں ناکام ہوتا ہے تو ایک وقفے کے بعد اسی آئیڈیا لوجی کی تصدیق کوئی اور کرتا ہے۔یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب لوگ حاضر و موجود سے بیزار ہو کر صحیح راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔موجودہ یوروپ اور اسرائیل کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔وہ جنگل سے شہر کی طرف آئے اور انہوں نے اپنے حق میں فضا ہموار کی ۔حالانکہ اب ان کی یہ آئیڈیا لوجی نیو ورلڈ آرڈر میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ غیر فطری آئیڈیا بھی ترقی پسندوں کو زیادہ راحت نہیں پہنچا سکتا ۔اس لئے اس بات سے قطع نظر کہ کون کس کی آئیڈیا لوجی کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں ایک مجدد مفکر اور مصنف کو چاہے کوئی سننے والا بھی نہ ہو تو بھی ایک مؤذن کی طرح خلاء میں ہی پکارتے رہناچاہئے تاکہ اس کی بات لوگوں پر دلیل بن جائے ۔۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے