اردو زبان اور ہماری ذمہ داری

ازقلم: محمد ضیــاء الحق ندوی

اللہ تعالی نے دنیا بنایا اس میں رہنے سہنے والے اور بھانت بھانت کی زبان و لسان والے مختلف گروہ اور قبیلہ کی تخلیق فرمائی ان زبانوں میں سے ایک اردو زبان بھی ہے جو نہایت ہی لطیف، شریں ہے مزید یہ کہ اس کی شیرینی اورپیرائے اظہار کی نزاکت نے ایسا اثر ڈالا کہ ہراردوزبان بولنے والے کی زبان سے خوشبو نکلتی ہے. شاعرنے کیاخوب کہا ہے.

وہ کرے بات تو ہر لفظ سےخوش بو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
اور
شہد و شکر سے شیریں اردو زباں ہماری
ہوتی ہے جس کی بولی میٹھی زباں ہماری

اردو زباں ایک ایسی زباں ہے جس میں دنیا کی مختلف زبانیں شامل ہیں اردو زبان کی وسعت یہ ہےکہ اس نے اپنی میٹھی بول میں فارسی کےبعد عربی زبان کے بےشمار الفاظ شامل کئے ہیں اور پھرانگریزی ، ہندی اور ترکی زبان اورسنسکرت وغیرہ کےالفاظ بھی شامل ہیں ،لیکن اس کےباجود سرکاری اور قومی زبان کادرجہ اسے نہیں مل سکا یہ اس زبان کی بدقسمتی کہ لیجیئے ورنہ ایک وقت وہ تھاکہ ہندوستان کےعوام کی زبان اردوہی تھی ،مسلم اور غیر مسلم سب اردو بولتےتھے ،لکھتے اور پڑھتے تھےغرض یہ کہ دفاتر کےتمام امور اسی اردو زبان میں ہی انجام پاتے تھے اور تحریک آزادی ہندمیں روح اسی اردوزبان نے پھونکی تھی،
اسی لئےمعروف شاعر داغ دہلوی نے کہا تھا

اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اورکسی شاعرنے تو یوں کہا کہ
اب کانہیں یہ ساتھ یہ صدیوں کاساتھ ہے
تحریک آزادی ہند میں اردوکاہاتھ ہے

لیکن بد قسمتی سے تقسیم ہندکے بعداس زبان کو ملکی زبان کادرجہ نہیں حاصل ہوسکا۔

اور حیف در حیف کہ آج مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی کےتحت اردوزبان کومٹانے کاخاکہ تیارکرلیا ہے اور درپردہ اس پرعمل درآمدکےاحکام بھی جاری کردیئے ہیں، اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کی تہذیب و تمدن مٹانے کی کوشش کی جاری ہےاور ہم ہندی مسلمان کاایک بڑاطبقہ اس سےناآشنا ہو کر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں،
برادران وطن!آج ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم ہندی بردران ایک پلیٹ فارم پرجمع ہوکر ایک ایسی زبان کو جوہمارے اتحاد ویکجہتی کاذریعہ ہے اس زبان کے تحفظ وبقاء کی فکر اوڑھیں جس نے برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیاکے مختلف قوموں سے روابط قائم کئے. اردوزبان ہمارا علمی ورثہ ہے،ہماری تہذیب وتمدن کی تاریخ اسی ارودزبان سےمربوط ہے ،اوراسلام کا ایک بڑا ذخیرہ اسی اردوزبان میں موجود ہے،اس زبان میں بےشمار تصانیف موجود ہیں لیکن ہماری نسل نونے اس سےروشناس ہونے کےبجائے دوری اختیار کرلی ہےاردو زبان سےدوری ہماری نسل کو آج دین سے بھی دور کر رہی ہے.تاریخ شاہدہےکہ جب بھی کسی قوم کی تہذیب وتمدن اور تاریخ مٹی اور زوال آیا تو سب سے پہلے اس قوم کی زبان مٹائی گئ آج ہم ہندی مسلماں اسی دور سے گزر رہے ہیں،ایسے دور میں اردوزبان وادب کے تحفظ وبقاء کی پوری ذمہ داری بنیادی طورپر اردو معاشرے پر عائد ہوتی ہے.اس کے تحفظ و بقاء کےلئے سب سے پہلے ہم گھروں میں اردو کا ماحول بنائیں ،اپنے بچوں اور بچیوں کو بہر صورت اردو لکھنا ، پڑھنا اور بولنا سکھائیں ، مساجد اور مکاتب قائم کرکے اس میں اردو کو مضبوط کریں ،اور ہرگھر میں اردو اخبار ،رسائل اور جرائد خرید کرلازمی پڑھیں.
اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ ہماری تہذیب و ثقافت کی حفاظت فرمائے اور مکرو فریب کے مکر و فریب سے ہمارے انسجام و اتحاد کو پارہ ہونے سے محفوظ فرمائے. آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بہار کے مختلف اضلاع میں "فروغ اردو سیمنار و مشاعرہ” کا انعقاد: ایک نظر میں

تحریر: اسجد راہی، ایڈیٹر قومی ترجمان ہر سال ریاست بہار میں اردو ڈایریکٹوریٹ و اردو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے