کیا مسلمان ڈرا ہوا ہے اور اگر ڈرا ہوا ہے تو کیوں؟

مسلمان ڈرا ہوا تھا لیکن اب ڈر کے خول سے باہر نکلنے سے کوشش کررہا ہے، یہی نام نہاد سیکولر لوگوں کی سب سے بڑی پریشانی ہے

از: (مفتی) منظور ضیائی
(اسلامی اسکالر، روح رواں: صوفی کارواں)

سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری جیسے قابل صد احترام شخصیت نے بھی بات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ مسلمان ڈرا ہوا ہے۔ تاریخی سچائی یہ ہے کہ مسلمان ڈرا ہوا تھا۔ جنگ آزادی کی تحریک کے دوران ہی مسلمانوں کو ڈرا دیا گیا تھا اور ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد اس ڈر کو منظم اورمنصوبہ بند طریقے سے پروان چڑھایاگیا۔کم وبیش نصف صدی تک کانگریس کے اقتدار کا مرکزی پایہ مسلمانوں کا یہ ڈر تھا۔ مسلمانوں کو ڈرا دیاگیا تھا کہ اگر ہم کو ووٹ نہیں دیا تو یہ فرقہ پرست تم کو کچا چبا جائیں گے۔ ایک عرصے تک اسی خوف میں مبتلا ہوکر مسلمان کانگریس کو ووٹ دیتے رہے۔ جب کانگریس سے نااتفاقی ہوئی، تو سیکولر ازم کی علم بردار نام نہاد دیگر پارٹیوں کی آغوش میں مسلمانوں نے پناہ لی، لیکن مسلمانوں کے ساتھ سبھوں کا سلوک تقریباً ایک جیسا ہی تھا۔ ہر ایک پارٹی نے دھرم اور ذات کو ستا پانے کےلئے راجنتیک اوزار کے طور پر استعمال کیا جو کہ ہونا نہیں چاہیے تھا ۔
کانگریس کئی دہائیوں تک مرکز اور ملک کی مختلف ریاستوں میں برسراقتدار رہی، اس دوران بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھی گئی اور اس کا منطقی انجام ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کی شہادت پر منتج ہوا۔ اردو زبان کو ایک منصوبہ بند طریقے سے صفحہ ٔہستی سے تقریباً مٹا دیاگیا، کچھ سخت جان لوگ اس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب کم ہوتا چلاگیا۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں تو مسلمان آبادی کے تناسب سے اپنا حصہ پانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ کیوں کہ قانون ایسا تھا کہ مسلمان کبھی اپنا جائز حصہ پا ہی نہیں سکتے تھے۔ مسلمان امیدوار صرف مسلم اکثریتی علاقے سے ہی کامیاب ہوسکتا تھا خواہ وہ مولانا ابوالکلام آزاد ہو یا غلام محمود بنات والا۔ ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ بڑے سے بڑا سیکولر لیڈر اتنی حیثیت نہیں رکھتا کہ وہ غیر مسلموں کے ووٹ کسی مسلم امیدوار کو دلا سکے۔ اس کے علاوہ ہندو ووٹوں سے محرومی کا ڈر بھی تھا جس کی وجہ سے سیکولر پارٹیوں میں کبھی مسلمانوں کو ان کا جائز حصہ دینے کی کوشش بھی نہیں کی ، پہلی بے ایمانی ٹکٹوں کی تقسیم سے ہی شروع ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔
آزادی کے بعد سے سینکڑوں کی تعداد میں بڑے اور ہزاروں کی تعدادمیں چھوٹے فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور ان سب میں مسلمانوں کا یک طرفہ طو رپر جانی اور مالی نقصان ہوا۔ مظلومین انصاف کی تلاش میں دردر بھٹکتے رہے اور مجرمین سینہ تان کر سماج کی چھاتی پر مونگ دلتے رہے، تقریباً ہر بڑے فساد کی جانچ کےلیے کمیشن قائم کیے گئے، بلااستثناء کسی کمیشن کی رپورٹ پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور اگر ہوئی بھی تو لیپا پوتی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کےلیے ہوئی۔ فہرست بہت طویل ہے، اس مختصر سے مضمون میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔
یوپی اے حکومت تمام خود ساختہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا ایک مجموعہ یا مرغوبہ تھا، اس حکومت نے سچر کمیٹی قائم کی اور جسٹس سچر نے اپنی رپورٹ میں بتادیا کہ آزادی کے پچاس پچپن سالوں میں کانگریس اور نام نہاد خود ساختہ سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں کا کیا حشر کیا ہے۔ سچر کمیٹی نے کچھ سفارشات کی تھی ان پر عمل درآمد کا ڈھونگ توبہت رچایاگیا لیکن عملاً ہوا کچھ بھی نہیں۔
آج مسلمان ڈر کے خول سے باہر نکلنے کی کوشش کررہا ہے، مسلمانوں کو تقریباً نصف صدی تک ڈرا کر رکھنے اور ان کے خوف کی بنیاد پر ملک پر حکمرانی کرنے والی کانگریس پارٹی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکے جانے کےلیے زور وشور سے تیاری کررہی ہے۔ ۵۴۲ میں سے ۴۰۰ تک سیٹیں پانے والی کانگریس پارٹی ۴۰ تک سمٹ گئی ہے۔ اقتدار تو دور کی بات ہے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی شاید کانگریس کے ہاتھ سے ہمیشہ کےلیے نکل چکا ہے۔ کانگریس کے بعد دیگر نام نہاد خود ساختہ سیکولرپارٹیاں بھی مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ بہار میں یہی تاریخ دہرائی گئی اور اب مغربی بنگال میں یہی سب کچھ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہار میں لالو پرساد یادو بلا شرکت غیرے ۱۵ سال تک حکمراں رہے، ان کے دور اقتدار میں مسلمانوں کو تحفظ کے سوا کچھ نہیں ملا یہ سچ ہے کہ ان کے دور اقتدار میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، لیکن عملاً مسلمانوں کو کچھ نہیں ملا۔ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے ان کی پسماندگی بڑھتی چلی گئی۔ اب آئیے ایک نظر مغربی بنگال پر ڈال لیتے ہیں۔ یہاں نام نہاد سیکولر عناصر خود تو متحد نہیں ہوسکے ، لیکن مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے ان کے ووٹوں کی طاقت کو منتشر کرنے کی ضرور کوشش کررہےہیں۔ یہاں ربع صدی تک کانگریس کی اور ربع صدی تک بائیں بازو کی حکمرانی رہی ، اس کے بعد ممتا دیدی کے اقتدار کا آفتاب طلوع ہوا جو اب غروب ہونے کی کگار پر ہے۔ مغربی بنگال میں ایک طرف ممتا دیدی ہیں دوسری طری کانگریس اور بائیں بازو کا ٹولہ یہ سب مسلم ووٹوں پر گدھ کی طرح نظریں جمائے ہیں لیکن مسلمان ہیں کہ ان مردار خور گدھوں کو اپنی من مانی کرنے کی اجازت ہی نہیں دے رہے ہیں۔
مسلمان ڈرا ہوا تھا، ڈرا ہوا ہے اور اس کے مسیحائوں نے ہی اس کو ڈرا کر رکھا تھا لیکن اب وہ ڈر کے اس خول سےباہرنکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کو اسی خول میں واپس بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے ، لیکن مسلمان اب ہوشیار ہوچکا ہے، اب وہ کسی کے بہکاوے میں آنے والا نہیں ہے۔ بہت جلد ہندوستانی مسلمان ڈر کے خول سے پوری طرح باہر نکل آئے گا اور اپنی قسمت کا فیصلہ خود طے کرے گا۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ ملاحظہ فرمالیجئے، مسلمان تعلیم اور معیشت کے شعبے میں دلتوں سے بھی بہت پیچھے ہے ۔ ان ستر سالوں میں نام نہاد خود ساختہ سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں کو یہاں تک پہنچا دیا ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی اگلی منزل کیا ہے؟ آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو اپنے تمام تر مقبولیت، محبوبیت اور سرکاری مشنری پر اپنے بے پناہ اثر ورسوخ کے باوجود مسلمانوں کو انصاف نہیں دلا سکے یا دانستہ طور پر مسلمانوں کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی، اردو زبان مسلمانوں کی تاریخی، تہذیبی اورثقافتی زبان ہے اس کا جو حشر ہوا ہے وہ پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور اقتدار میں ہی ہوا ہے اس کےلیے کوئی اور ذمہ دار نہیں ۔ نہرو سے لے کر راہل گاندھی تک کوئی مسلمانوں کو ان کا جائز حق نہیں دے سکا، دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا ریکارڈ اور بھی بد تر ہے۔ یہ لوگ کبھی سیکولر بن جاتے ہیں کبھی اقتدار کی منزل قریب دیکھ کر ان لوگوں کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں جن کو یہ فرقہ پرست اور مسلم دشمن کہتے چلے آئے ہیں ،خود ممتا دیدی بھی اس سے فیضیاب ہوچکی ہیں، ہم یہ کہہ کر اپنی بات ختم کررہے ہیں کہ مسلمان ڈرا ہوا تھا، ڈرا ہوا ہے، اس کو مسلسل ڈرایاجارہا ہے، لیکن وہ ڈر کے اس خول سےباہر نکلنے کی کوشش کررہا ہے، جلد اس میں کامیاب ہوجائےگا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے