قید کرتا ہوں حسرتیں دل میں (والدین کی نافرمانی موسم سرما میں)

تحریر: میر ابراھیم سلفی
مدرس بارہمولہ کشمیر 6005465614

شاعر نے کہا
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کے روپ میں

رواں سال کا ابتدائی مرحلہ یعنی موسم سرما اپنے عروج پر رواں دواں ہے۔گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال کی سرمائی سردی حد سے تجاوز کر گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال کا "چلیہ کان” تیس سال بعد واپس رخ کرکے آیا ہے۔ سیاحوں کی بات کرے تو "tourism sector” پھر سے اپنی چمک کے ساتھ محو کارواں ہے جو چمک 5 اگست 2019 کو ظلمات میں تبدیل ہو چکی تھی۔ دوسری طرف اس سال کی سرمائی لہریں بزرگوں اور بچوں کے لئے کافی مضر ثابت ہوئیں حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ بھی اللہ کی رحمت ہے لیکن انسانی خودغرضی نے کائنات کا توازن اپنے ہاتھوں سے بگاڑا ہے جس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ مختلف امراض میں مبتلا مریض حضرات بھی مختلف دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔آج اہل کشمیر اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ ہمارے اسلاف (Ancestors) ہم سے کئی زیادہ عاقل و باشعور تھے۔ انہوں نے قدرت کے رنگوں کا ادراک بڑی باریک بینی سے کیا تھا تبھی تو ان ایام میں بھی وہ ہر طرح کی آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے کمربستہ ہوتے تھے۔لیکن جوں جوں ہم نے اسلاف کی وراثت اور اپنی ثقافت سے کنارہ کشی اختیار کی، ہماری زندگی چاروں اور مصیبتوں کے گھیراؤ میں آگئی۔ 
عمر دراز بزرگ حضرات اس سرما کے اولین شکار بنے۔لیکن حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ بزرگوں کے راعی یعنی ان کے اولاد اپنے ہی دنیا میں مشغول ہیں۔گاؤں سے زیادہ پریشانی شہر سرینگر میں ہوئی کیونکہ پانی کا بہاؤ ایک دم رک گیا جس کی وجہ سے زندگی بری طرح متاثر ہو گئی۔ بزرگ حضرات چونکہ مختلف طبی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں کمر درد، ٹانگوں میں تکلیف، گھٹنوں میں تکلیف وغیرہ قابل ذکر ہیں، سردی ان کے مرض میں مزید اضافہ ہی کرتا ہے۔اب اس صورتحال میں ان کا خیال رکھنا اولادوں کے ذمہ ہے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ بڑھاپے میں انسانی جسم سن زوال میں چلا جاتا ہے اور انسان پھر سے اپنی اصل یعنی صبیانیت پر لوٹ آتا ہے، تو اصول یہ ہے کہ جس طرح والدین نے حالت شباب میں اپنے شیر خوار بچے کی نگہبانی کی اب شباب اولادوں کو اسی طرح اس ارضل العمر میں اپنے ڈوبتے ہوئے سورج کی حفاظت یعنی والدین کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ کیونکہ انہوں نے تم پر اس وقت احسان کیا جب تم حالت غفلت میں تھے اور احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ سردی کی لہروں میں اگر والدین تکلیف میں مبتلا ہوگئے تو تمہاری تباہی کے لئے اتنا کافی ہے۔ والدین نے اپنے ہاتھوں سے تمہارا پیشاب تک صاف کیا ہے بلکہ اسے نعمت جانا ہے اب وقت آیا ہے کہ اگر تمہیں اپنے والدین کا پیشاب اپنے ہاتھوں سے صاف کرنا پڑے تو تم کراہت کے سبب اف تک نہ کہو کیونکہ یہی حکم ربانی ہے۔ مسلم معاشرہ مغربی تہذیب کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے وہ تو پھر بھی والدین کی نگرانی کی خاطر کسی معتبر ادارے کو منتخب کرتے ہیں لیکن تم نے اپنے والد، والدہ کا مرض بھی برداشت نہیں کرپاتے۔ تمہاری عبادت تب تک تماشا ہے جب تک والدین کی رضامندی نہ حاصل ہوسکے۔ 
مساجد کی طرف قدم اٹھانے سے قبل والدین کے چہرے پر مسکراہٹ لانا کیونکہ عقوق والدین وہ شرمسار ملعون فعل ہے جس کی سزا انسان کو موت سے قبل ہی مل جاتی ہے۔ تمہاری فرضی اور نفلی عبادت تک نہیں ضائع ہے جب تک والدین کی رضامندی حاصل نہ ہوسکے۔رحمت کائنات  ﷺ نے والدین کے نافرمان پر لعنت برسائی ہے۔ بلکہ والدین کے نافرمان پر منبر اعظم پر چڑھ کر رسول کریمﷺ نے دعاء ہلاکت فرمائی ہے۔ بدقسمت ہے جو نوجوان جس نے والدین کو پالیا پر جنت حاصل نہ کرسکا۔والدین کی رضامندی میں رب تعالیٰ کی رضامندی پوشیدہ ہے۔والدین جنت کے دو ابواب ہیں، جب سلف کے یہاں والدین فوت کرجاتے تو وہ روتے کہ جنت کے دروازے بند ہوگئے۔ اور یہ جنت حاصل کرنے کا اصل وقت یہی موسم سرما ہے جب آپ کے بزرگ والدین کو آپکے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر فرش مخمل سے نہیں بنتا، گھر سنگ مرمر سے نہیں بنتا، گھر تو والدین کی زینت سے بنتا ہے۔دو ٹکے کا فرش صاف رکھنے کی خاطر تم والدین کو ایسی جگہ پھینکتے ہو جہاں حیوان بھی رہنا گوارا نہیں کرے گا، وہ وقت بھی تو یاد کر جب والدین نے تمہاری گندگی کو بھی مشک ادفر سمجھا تھا۔ کیا تم انسان ہی ہو؟؟؟ 
آج ایسے امراض نمودار ہوچکے ہیں کہ آپ کو اپنے والدین کا استنجا اپنے ہاتھوں سے کرنا ہوگا، تم کیوں نہیں کرو گے؟ انہوں نے تو مسلسل پانچ سال تمہاری نجاست کو اپنے مبارک ہاتھوں سے پاک کیا ہے۔ آج تمہیں خود والدین کو نہانا پڑ سکتا ہے۔ تم کیوں نہیں کرو گے؟ وہ بھی بشر ہی تھے جنہوں نے بلوغت کی سن تک تمہارے جسم کو دھویا تھا۔ تم خود گرم بستر میں رہو اور والدین سردی کی شدت سے تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔۔۔۔۔۔ یہ کون سے دین ہے؟ یہ کیسا شعور ہے؟ وقت پلٹ کر آتا ہے دوست۔۔۔ آج جو تم کرو گے وہ عنقریب چکانا پڑے گا۔ والدین کی آنکھوں سے نکلنے والا ایک قطرہ تمہارے بستے ہوۓ آشیانے کو جلانے کے لئے کافی ہے۔ تمہاری ماں کے دل سے نکلنے والی ایک آہ تمہارے خسارے کے لئے کافی ہے۔۔۔۔۔ سدھر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتے بھی ہو سلف نے والدین کا خیال کیسے رکھا۔۔۔۔؟ سلف صالحین ایسے فرزند کو نافرمان اور عاق تصور کرتے جو اپنے والد سے آگے آگے چلتا، جو اپنے والد سے پہلے بیٹھتا، یہاں تک کہ جو اپنے والد کی موجودگی میں امامت کرواتا۔۔۔۔۔۔ تم کہاں ہو؟ والدین ہی اصل سرمایہ ہے۔ جس کے والدین کی دولت ہے وہ دنیا و اخروی نجات کی راہ پر گامزن ہے۔ ہر ایک کے والدین ملازم نہیں ہوتے۔۔۔۔ اسی کڑاکے کی سردی میں والد مزدوری کرنے کے لئے نکل کر تمہاری پرورش کرتا ہے، اسی سرمائی طوفان میں تمہارا والد تمہارے خاطر گلی کوچوں کو صاف کرتا رہا لیکن ہاۓ تم کن راہوں پر چل پڑے؟؟ 
اگر والدین اونچی آواز میں تم سے بات کریں تو کیا ہوا؟ اگر والدین سے کوئی غلطی سرزد ہوجائےتو کیا ہوا؟ اپنے وجود کی طرف رجوع کر۔۔۔ تم نے تو مسلسل دو سال ان کی نیند حرام کی تھی اس کا کیا؟ ہوٹلوں پر دولت ضائع کرنے سے پہلے یہی دولت اپنے والدین پر خرچ کر کیونکہ وہ  قرآنی نص کی روشنی میں تمہاری دولت کے اولین حقدار ہیں۔صبح صبح والدین کا سر چوما کرو، ان سے ہنستے مسکراتے ہوئے بات کرو، دفتر سے لوٹ کر پہلے ان کے پیر دبایا کرو۔ سردی کی لہروں میں خیال رکھو کہ ان کے تن پر گرم لباس ہے کہ نہیں۔اس سال کی سردی سے تو ہٹے کٹے نوجوان بھی نڈھال ہیں۔۔۔ بزرگوں کا کیا حال۔۔۔۔؟ جانتے ہو! والدین تم سے ڈرتے ہیں، والدین اپنی شکایات دل میں ہی دفن کرتے ہیں، اس سے قبل کہ وہ یہ شکایات لے کر رب العزت کے دربار میں حاضر ہو جائیں، ان کے دل کی کیفیت سمجھ کر ان کی ہر چھوٹی بڑی خواہش پوری کرو۔ توحید کے بعد بر الوالدین  ہی اصل الاصول ہے۔ دولت کے انبار ہم نے جمع کرلئے، بنگلہ، گاڑی ہمارے پاس دستیاب ہیں پر والدین کو راضی کرنا ہمیں نہ آیا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ تم اگر اپنی نیند ترک کرکے رات بھر اپنے والدین کی خدمت میں لگے رہو تو وہ بھی کم ہیں۔۔۔۔والدین کی ناراضگی بڑے بڑے عابدوں، زاہدوں کو لے ڈوبی۔ جان لو! آج تم ان کے مربی ہو اور وہ بچے ۔ ان کی دوائی، کھانے پینے کا خیال خود رکھو۔۔۔۔آج جو کچھ بھی ہو انہیں کے بدولت ہو۔ 
خلاصہ کلام یہی ہے کہ موسم سرما تمہاری وفاداری کے امتحان کا موسم ہے۔ مرنے کے بعد تو ہر کوئی والدین کے لئے روتا ہے، تم ان کی زندگی میں انکے لئے آسرا اور سہارا بن کر دکھا دو۔ زمانے کو دکھا دو کہ آج بھی سلف کے نہج پر چلنے والے اولاد زندہ ہیں۔اللہ سے دواۓ دل کی درخواست ہے۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے