نعتیہ شاعری میں تصغیر کا استعمال: ایک جائزہ

تحریر:محمد رجب علی مصباحی، گڑھوا جھارکھنڈ
ازہری دارالافتاء،جوگیہ،اورنگ آباد، بہار

رب تعالیٰ کی ہر شان نرالی، ہر صنعت انوکھی اور ہر کاریگری ارفع و اعلیٰ ہے. اس نے کائنات کی تخلیق فرما کر اس میں آسمان کا شامیانہ،زمین کا فرش، چمکتے دمکتے آفتاب وماہتاب اور ستاروں کی قمقموں سے مزین وآراستہ فرمایا. نیز شجر و حجر، خشک وتر،بحروبراور مشام جان کو معطر کرنے والی خوشبودار ہواسے زیب وزینت بخشی.
لیکن یہ آرائش و زیبائش اور زیب و زینت یوں ہی نہیں بخشا بلکہ اس کے اندر ایک مقصد و مطلب پنہا ہے اور وہ ہے محبوب ذو الجلال، مقصد وجود کائنات،نیر اعظم،شفیع اعظم،نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری. ان کا وجود مسعود.جن کے بابت حدیث قدسی کے اندر رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"لولاک ما خلقت الجنۃ و لولاک ما خلقت النار”
یعنی اے محبوب اگر آپ نہ ہوتے تو جنت و دوزخ کو پیدا نہ فرماتا.
ایک دوسری جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام و التسليم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"لو لا محمد و امتہ لما خلقت الجنۃولاالنارولاالشمس ولاالقمر ولااللیل ولا النھار ولا ملکا مقربا و لانبیا مرسلا ولا ایاک”
( مدار النبوۃ فارسی،ح:دوم، ص:١١)
ترجمہ:اگر محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کی امت نہ ہوتی تو میں نہ جنت کو پیدا کرتا،نہ دوزخ کو،نہ سورج کو پیدا فرماتا نہ ہی چاند کو،نہ رات کو بناتا،نہ دن کو،نہ مقرب فرشتوں کی تخلیق کرتا اور نہ ہی کسی نبی مرسل کی اور نہ ہی اے موسی!تجھ کو پیدا کرتا.
اسی کی منظر کشی کرتے ہوئے ظفر علی خاں نے لکھا
گر ارض و سماں کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں
شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے "مدارج النبوۃ” میں ایک دوسری حدیث پاک نقل فرماتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں:
"ما خلقت خلقا اکرم علی منک و لقد خلقت الدنیا و اھلھا لاعرفھم کرامتک و منزلتک عندی ولو لاک ما خلقت الدنیا”
( مدارج النبوۃ،ج:٢،ص:٣،٤،فارسی)
ترجمہ:بے شک میں نے کسی مخلوق کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ برگزیدہ پیدا نہیں فرمایا اور میں نے دنیا اور اہل دنیا اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ انہیں آپ کے اس مرتبہ و مقام کی پہچان کرا دوں جو میرے یہاں آپ کے لیے ہے. اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا نہ فرماتا.
حفیظ جالندھری نے اس کی یوں عکاسی کی
مشیت تھی کہ یہ سب کچھ تہ افلاک ہونا تھا
کہ سب کچھ ایک دن نذر شہ لولاک ہونا تھا
سیدی و سندی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی عشق نبی میں ڈوب کر یوں گویا ہوئے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی. جان ہے تو جہان ہے
ہے انھیں کے دم قدم سے باغ عالم میں بہار
وہ نہ تھے عالم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالم نہ ہو
زمین و زماں تمہارے لیے،مکین ومکاں تمہارے
چنیں و چناں تمہارے لیے،بنے دو جہاں تمہارے لیے
یہ شمس و قمر،یہ شام و سحر،یہ برگ و شجر،یہ باغ و ثمر
یہ تیغ و سپر،یہ تاج و کمر،یہ حکم رواں تمہارے لیے
جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل ساری کائنات کی تخلیق ہوئی اور ساری دنیا وجود میں آئی تو یقینا ہمیں ہر موڑ،ہر محاذ اور ہر گوشے میں جہاں کہیں رہیں،جس حالت میں رہیں ان کا ادب و احترام،ان کی عزت و توقیر ہم پر لازم و ضروری ہے. اور جن کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی بھی ہمارے اعمال کی اکارت کا پیش خیمہ ہےجیسا کہ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ”(الحجرات:٢)
ترجمہ:اے ایمان والو!اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہوجیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلا تے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو.(کنز الایمان)
جن کی عظمت و تقدس کو بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ”(البقرۃ:١٠٤)
ترجمہ:اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کروکہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے(کنز الایمان)
اس آیت کریمہ سے نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رب کی بارگاہ میں عزت و عظمت، رفعت و بلندی اور مقام و مرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ابتداََ لفظ”راعنا” کا استعمال جائز و روا تھا لیکن جب منافقوں نے اس لفظ کا معنی ایسا کر دیا جس سے شان رسالت کی توہین و تحقیر، تنقیص و تذلیل ہوتی تھی تو رب ذو الجلال کو گوارہ نہ ہوا کہ میرے محبوب کو ایسے الفاظ سے مخاطب کیا جائے تو تحقیر و تعظیم میں مشترک ہو،رب تعالیٰ نے اس لفظ کے استعمال ہی سے منع فرمادیا.اور طریقہ ندا عطا فرمایا کہ جب میرے محبوب کو پکارنا ہو تو کہو یا رسول اللہ، یا نبی اللہ.
رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب محمد عربی روحی فدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار یوں بھی فرمایا کہ اس نے دیگر انبیائے کرام سے مخاطب ہوا تو ان کے نام کے ساتھ ہوا جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو پکارا تو کہا:
يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ (البقرۃ:٣٥)
حضرت نوح علیہ السلام کو پکارا تو فرمایا:
يَٰنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَٰمٍۢ مِّنَّا(ھود:٤٨)
اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام(کنزالایمان)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پکارا تو کہا:
"يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا(ص:١٠٥)
ترجمہ:اے ابراہیم! بے شک تونے خواب سچ کر دکھایا(کنزالایمان)
حضرتِ موسی کو پکارا تو فرمایا:
يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّىٓ أَنَا ٱللَّهُ(القصص:٣٠)
ترجمہ:اے موسی! بے شک میں ہی اللہ ہوں(کنزالایمان)
حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پکارا تو فرمایا:
یَا عِیسَى إِنِّی مُتَوَفِّیكَ(آل عمران:٥)
ترجمہ:اے عیسی! میں تجھے پوری عمر تک پہچاؤں گا(کنزالایمان)
حضرت داؤد علیہ السلام کو پکارا تو فرمایا:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً(ص:٢٦)
ترجمہ:اے داؤد! بے شک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا(کنزالایمان)
حضرت زکریا علیہ السلام کو پکارا تو فرمایا:
يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ(مریم:٧)
ترجمہ:اے زکریا! ہم تجھے خوشی سناتے ہیں(کنزالایمان)
حضرت یحییٰ علیہ السلام کو پکارا تو فرمایا:
يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ(التوبۃ :١٢)
ترجمہ:اے یحییٰ! کتاب مضبوط تھام(کنزالایمان)
غرض قرآن عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے، مگر جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے خطاب فرمایا ہےحضور کے اوصاف جلیلہ و القاب حمیدہ ہی سے یاد کیا ہے.جیسا کہ رب تعالیٰ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ(الاحزاب:٤٥)
ترجمہ:اے نبی! ہم نے تجھے رسول کیا. (کنزالایمان)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ(المائدۃ:٦٧)
ترجمہ:اے رسول! پہنچا جو تیری طرف اترا. (کنزالایمان)
تیسری جگہ ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ(المزمل:١)
ترجمہ:اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے! رات میں قیام فرما(کنزالایمان)
چوتھی جگہ ارشاد فرمایا :
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ(المدثر:١،٢)
ترجمہ:اے جھرمٹ مارنے والے! کھڑا ہو، لوگوں کو ڈر سنا(کنزالایمان)
پانچویں جگہ ارشاد فرمایا:
يسوَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ* إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ(یسن:١،٢،٣)
ترجمہ:اے یسن! مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی،بے شک تو مرسلوں سے ہے. (کنزالایمان)
چھٹی جگہ ارشاد فرمایا :
طہ مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ(طہ:١،٢)
ترجمہ:اے طہ! ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑے(کنزالایمان)
ان تمام آیات مبارکہ میں کہیں رب نے اپنے محبوب کو نام مبارک کے ساتھ ندا نہ دی بلکہ ان کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ فرمایا علاوہ ازیں یہاں اس کا یہ بند وبست فرمایا کہ امت مرحومہ پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام پاک لے کر خطاب کرنا ہی حرام ٹھرایا. جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
لَّا تَجْعَلُواْ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا(النور:٦٣)
یعنی رسول کا پکارنا آپس میں ایسا نہ ٹھرالو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو مثلاً اے زید،اے عمر! بلکہ یوں عرض کرو:یا رسول اللہ، یا نبی اللہ،یا سید المرسلین،یا خاتم النبيين،شفیع المذنبین
حضرت ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :کانوا یقولون یا محمد! یا ابا القاسم! فنھھم اللہ عن ذالک اعظاما لنبیہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا یا نبی اللہ یا رسول اللہ،،
یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابا القاسم کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعظیم کے لئے اس سے منع فرمایا اس وقت سے صحابہ کرام یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہا کرتے
اور بیہقی امام علقمہ سے ، امام اسود , اور ابو نعیم امام حسن بصری اور امام سعید بن جبیر سے آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ
لا تقولوا یا محمد! ولکن قولوا یا رسول اللہ! یا نبی اللہ! یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یا محمد نہ کہو بلکہ یا رسول اللہ! یا نبی اللہ! کہو
ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں:حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنی حرام ہے اور واقعی محل انصاف(یہی) ہے(کہ) جسے اس کا مالک و مولی تبارک و تعالیٰ نام لی کر نہ پکارے،غلام کی کیا مجال کہ راہ ادب سے تجاوز کرے
بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا کہ اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہو جو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے دعا "یا محمد انی توجھت بک الی ربی” تاہم اس کی جگہ یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہنا چاہیے، حالانکہ الفاظ دعا میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی. (فتاویٰ رضویہ،کتاب المناقب و الفضائل ،ج:١٩،ص:٥٩،٦٠،امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)
(ذیل میں حضور سے منسوب اشیاء کی تعظیم احادیث کے آئینے میں)
(١)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکرِ مبارک کی تعظیم
کتبِ احادیث و سیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت ہے:
مَا ذَکَرَ ابْنُ عُمَرَ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم إِلاَّ بَکَی، وَ لَا مَرَّ عَلَی رَبْعِهِمْ إِلَّا غَمَّضَ عَيْنَيْهِ.
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے رو پڑتے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان کے پاس سے گزرتے تو (فرطِ محبت و فراق کے باعث) آنکھیں بند کر لیتے۔‘‘
المدخل إلی السنن الکبری،ج:١،ص:١٤٨،رقم:١١٣)
الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ،ج:٤،ص:١٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ عمل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اُن کی شدید محبت کی غمازی کرتا ہے، تب ہی تو وہ حضور علیہ السلام کا ذکر کرنے پر آنسو بہاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقامت گاہ کے اردگرد سے گزرنے پر فراقِ محبوب میں آنکھیں بند کر لیتے۔
(٢)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ صَلَّی عَلَيَّ فِي کِتَابٍ لَمْ تَزَلِ الْمَلَا ئِکَةُ تَسْتَغْفِرُ لَهُ مَا دَامَ اسْمِي فِي ذَلِکَ الْکِتَابِ.
’’جو شخص کسی کتاب میں (لکھ کر) مجھ پہ درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے اس وقت تک بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
( المعجم الأوسط،ج:٢،ص:٢٣٢،رقم:١٨٣٥)
3۔ حضرت عجلان سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مَنْ صَلَّی عَلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِائَةَ مَرَّةٍ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَی وَجْهِهِ مِنَ النُّوْرِ نُوْرٌ. يَقُوْلُ النَّاسُ: أَيُّ شَيْئٍ کَانَ يَعْمَلُ هَذَا.
’’جو شخص جمعہ کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر بہت زیادہ نور ہوگا۔ (اس کے چہرے کے نور کو دیکھ کر حیرت سے) لوگ کہیں گے: یہ شخص دنیا میں کونسا عمل کرتا تھا (جس کی بدولت آج اس کو یہ نور میسر آیا ہے)۔‘‘
( شعب الإیمان،ج:٣،ص:١١٢،رقم: ٣٠٣٦)
(٣)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ طیبہ اور حدیثِ مبارکہ کی تعظیم
(١)قاضی عیاض ’’الشفاء‘‘ میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے اونٹ کو لے کر ایک جگہ گھما رہے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا تو پوچھا: ’’ابنِ عمر کیا کر رہے ہو؟ اونٹ کو بغیر کسی وجہ کے چکر دیئے جا رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا:
لَا أَدْرِي إِلاَّ أَنِيّ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَعَلَهُ فَفَعَلْتُهُ.
ترجمہ:مجھے اور کچھ پتہ نہیں البتہ ایک روز میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر ایسا کرتے دیکھا تھا، پس میں نے بھی ایسے کیا۔‘‘
(الشفاء،ج:٢،ص:٥٥٨)
یعنی میں سنتِ طیبہ کی اتباع میں ایسا کر رہا ہوں۔ میں تو اپنے محبوب کی اداؤں کو دہرا رہا ہوں مجھے کیا خبر کہ وجہ کیا ہے؟ ایمان والے وجہ کو نہیں جانتے انہیں تو فقط محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اداؤں سے غرض ہوتی ہے۔ یہی کمالِ عشق ہے جوایمان کی اساس ہے۔
(٢) ایک مرتبہ امیہ بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ہم قرآن میں مقیمی اور حالتِ خوف کی نماز تو پاتے ہیں لیکن نمازِ سفر کے بارے میں ہم قرآن میں کچھ نہیں پاتے (کہ وہ کیسے پڑھی جائے)؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، وَ إِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صلی الله عليه وآله وسلم يَفْعَلُ.
’’میرے بھتیجے! بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث فرمایا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو اسی طرح کرتے ہیں جیسا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتا دیکھتے ہیں۔‘‘
(سنن نسائی،کتاب تقصیر الصلاۃ فی السفر، باب:١،ص:١١٧،رقم:١٤٣٤)
(سنن ابن ماجہ،کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب تقصیر الصلاۃ فی السفر،ص:٣٣٩،رقم: ١٠٦٦)
ان کے بتلانے کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے پاس بھیجا جبکہ ہم کسی شئے کو نہیں جانتے تھے۔ نہ کوئی مسئلہ جانتے تھے، نہ شریعت کو جانتے تھے اور نہ احکام کو، نہ جزئیات کو، نہ فروعات کواور نہ ہی اصول کو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے پس جیسے وہ کرتے تھے ہم بھی اسی طرح آنکھ بند کر کے کر لیا کرتے تھے۔ پھر یہی شریعت بن گئی۔
(٤)موئے مبارک کی تعظیم حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَ الْحَلَّاقُ يَحلِقُهُ، وَ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيْدُوْنَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِيْ يَدِ رَجُلٍ.
’’میں نے دیکھا کہ حجام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک مونڈ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد گھوم رہے تھے، وہ چاہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بال بھی زمین پر گرنے کی بجائے ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرے۔‘‘
(صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب قرب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من الناس وتبرکہم بہ،ص:١٨١٢،رقم:٢٣٢٥)
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر سے ہمیشہ پاکیزہ خوشبو آتی تھی، صحابہ کرام نے اس خوشبو کو مشک و عنبر اور پھول کی خوشبو سے بھی بڑھ کر پایا۔ صحابہ کرام اپنے لئے، اپنے بچوں کے لئے اور شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹیوں کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کو حاصل کرتے۔ اس سے برکت کی امید رکھتے اور بڑے اہتمام کے ساتھ اس متاعِ عزیز کو سنبھال کر رکھتے۔
حضرت ثمامہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک گدا بچھایا کرتیں جس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ (٢)حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑے ہوتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک اور موئے مبارک کو ایک شیشی میں جمع کرتیں پھر ان کو خوشبو کے برتن میں ڈال دیتیں۔حضرت ثمامہ فرماتے ہیں:
فَلَمَّا حَضَرَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ الْوَفَاةُ، أَوْصٰی إِلَيَّ أَنْ يُجْعَلَ فِيْ حَنُوْطِهِ مِنْ ذَالِکَ السُّکِ، قَالَ: فَجُعِلَ فِی حَنُوْطِهِ.
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے وصیت فرمائی کہ ان کے حنوط(2)
(2) حنوط: وہ خوشبو جو کافور اور صندل ملا کر میت اور کفن کے لئے تیار کی جاتی ہے۔
میں اس خوشبو کو ملایا جائے۔ حضرت ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے حنوط میں وہ خوشبو ملائی گئی۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الاستئذان، باب من زار قوماً فقال عنہم،ص:٢٣١٦،رقم:٥٩٢٥)
(٣) حضرت حمید سے روایت ہے:
تُوُفِّيَ أَنَسُ بْنُ مَاِلکٍ فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ سُکَّةٌ أَوْ سُکٌّ وَ مَسَکَّةٌ فِيْهَا مِنْ عَرْقِ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم.
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو ان کے حنوط میں ایسی خوشبو ملائی گئی جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کی خوشبو تھی۔‘‘
(المعجم الکبیر،ج:١،ص:٢٤٩،رقم:٧١٥)
میں کہا ہے کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
(٤)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نعلین استعمال فرمائے وہ بھی بڑے بابرکت ہو گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان نعلین مبارک کو تبرکاً محفوظ رکھا اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہوتے رہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک اور ایک پیالہ بھی محفوظ تھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی نوش فرماتے تھے۔ نعلین پاک کے حوالے سے حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ، لَهُمَا قِبَالَانِ، فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ البُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُمَا نَعْلَا النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بغیر بال کے چمڑے کے دو نعلین مبارک نکال کر دکھائے جن کے دو تسمے تھے۔ بعد میں ثابت بُنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ یہ دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک نعلین ہیں۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر من درع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعصاہ وسیفہ،ص:١١٣١،رقم:٢٩٤٠)
أیضاً، کتاب اللباس، باب قبالان فی نعل،ص:٢٢٠٠،رقم:٥٥٢٠)
(٦) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس منبر شریف پر جلوہ افروز ہو کر صحابہ کرام کو دین سکھاتے تھے، عشاقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس منبر شریف کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے آثار کی طرح دل و جاں سے حصولِ برکت کا ذریعہ بنا لیا۔ وہ اسے جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے اوراس سے برکت حاصل کرتے۔
امام ابنِ حبان، ابنِ سعد اور قاضی عیاض جیسے معتبر ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر مبارک کو تبرکاً مسح کرکے اپنے چہرہ پر ہاتھ مَل لیتے۔ ابراہیم بن عبدالرحمن بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں:
"رأيت ابن عمر وضع يدَه علی مَقْعَدِ النبيِ صلی الله عليه وآله وسلم من المِنبَر، ثم وضعها علی وَجْهه”
ترجمہ:میں نے حضرت ابنِ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے منبر (نبوی) کی وہ جگہ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوتے، اسے اپنے ہاتھ سے مس کیا اور پھر اسے اپنے چہرہ پر مل لیا۔‘‘
(الطبقات الکبری،ج:١،ص:٢٤٥)
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ،ج:٢،ص:٦٢٠)
نیز عروہ بن مسعود کو جو ابھی ایمان کی دولت سے مشرف نہ ہوا تھا کفار نے ایک جنگ کے موقع سے مسلمانوں کے جذبات،ان کے آلات حرب اور لشکر اسلام کی تعداد معلوم کرنے کے لیے بھیجا تو عروہ ڈائریکٹ وہیں پہنچا جہاں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پندرہ سو صحابہ کرام کے درمیان ایسے تشریف فرما تھے جیسے چاند ستاروں کے درمیان ہوتا ہے، تو اس نے کیا دیکھا کہ حضور وضو فرما رہے ہیں تو صحابہ اسے زمین پر نہیں گرنے دیتے،رینٹھ مبارک اور لعاب دہن کو لے کر اپنے چہروں پر مل لیتے اور جب کوئی حکم صادر فرماتے تو سبقت کی ایسی کوشش کرتے گویا آپس میں ٹکرا جائیں گے. جب اتنی الفت و محبت عروہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو کرتے دیکھا تو اس نے اپنی جماعت میں کہا میں نے قیصر و کسری کے محل اور دیگر آقاؤں کی بارگاہ میں حاضری دی لیکن جو ادب اور تعظیم میں نے سرکار کا صحابہ کرام کو کرتے دیکھا، کسی کو نہ دیکھا.. مختصر یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مرتبہ اور مقام اس قدر بلند و بالا ہے تو شان رسالت کے ان پہلوؤں کو نگاہوں کے سامنے رکھیں اور ان نعت خواں یا شعرا کا جائزہ لیجیے جو اسٹیجوں پر بڑے پھراٹے کے ساتھ اپنی نعت خوانی میں سرکار کی ذات مقدسہ یا ان کے متعلق اشیا کے بارے میں لفظ تصغیر کا استعمال کرتے ہیں اور مزید براں کہ عوام بھی ان کی داد و تحسین میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی اور خوب فلک شگاف نعرے بازی کے ذریعہ ان کے حوصلے کو جلا بخشتی ہے، اس طرح دونوں گناہ میں ملوث اور گرفتار ہو جاتے ہیں اور ان کو خبر نہیں نیز افسوس کی بات یہ کہ ہمارے علما بھی اپنی موجودگی میں اس کی اصلاح نہ فرماکر مرتکب گناہ عظیم ہوتے ہیں.
یہ بات ہمیشہ ذہن نشیں رہے کہ "تصغیر” کی عام وضع تحقیر و تقلیل کے لیے ہوئی ہے اگر چہ کبھ کبھار محبت کے لئے بول دی جاتی ہے.جیسا کہ معجم المصطلحات النحویۃ والصرفیۃ میں تصغیر کے اعراض و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا گیاہ :
١. تصغير ما یتوھم انہ عظیم مثل جبیل
٢.تحقیر ما یتوھم انہ کبیر مثل عویلم، شویعر
٣.تقلیل ما یتوھم انہ کثیر مثل دریھمات
٤.تقریب ما یتوھم انہ بعید مثل قبیل
٥.التحبیب مثل یا بنی
٦.التعظیم.
وردالبصریون ھذا الغرض و قالوا ان التعظیم ینافی مع التصغیر”
( معجم المصطلحات النحویۃ و الصرفیۃ، ص:١٢٦،موسسۃ الرسالہ،بیروت)
یہی وجہ ہے کہ علمائے دین و مفتیان شرع متین نے کلمہ تصغیر کی اصل وضع پر نگاہ رکھ کر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق میں اس کا بولنا اگر بطور تحقیر ہو تو صریح کفر قرار دیا ہے اور اگر بطور محبت ہوتو سخت ممنوع اور حرام ٹھہرایا ہے مثلا سرکار مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس چادر کو چدریا، سرکار کے مقدس راستہ کو ڈگریا، سرکار کے با برکت نگر کو نگریا، سرکار کے چہرۂ انور کو مکھڑا، سرکار کے مقدس آنگن کو اگنوا، سرکار کے با عظمت دروازہ کو دوریا، سرکار کی قدسی نظر کو نجریا یا نظریا وغیرہ بولنا، پڑھنا اور لکھنا تحقیر کی صورت میں کفر اور محبت کی صورت میں حرام. سرکار مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو رسول اعظم ہیں فقہائے اسلام نے تو سرکار سے نسبی تعلق رکھنے والے سادات کرام اور سرکار کی نیابت والے علماے دین کے حق میں بطور تحقیر کلمۂ تصغیر بولنے والے کو کافر ٹھہرایا ہے.
فقہ کی جلیل القدر کتاب مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
"الاستخفاف بالاشراف و العلماء کفر و من قال لعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر”
( فتاویٰ رضویہ،ج:٦،ص:٦٢،رضا اکیڈمی،ممبئی)
ترجمہ:آل رسول. سادات کرام اورعلماے دین کی تحقیر و بے قدری کفر ہے. اور جو شخص تحقیر کا قصد کرتے ہوئے کسی عالم دین کے حق میں علملی یا کسی علوی کے حق میں علویا بولے تو وہ کافر ہو جائے گا.
حضرت علامہ فضل رسول عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف المستند المعتمد میں تحریر فرماتے ہیں:
"قال بعض العلماء لو قال لشعر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شعیر فقد کفر”
(المستند المعتمد، ص:١١٥)
مذکورہ بالا متن کی شرح کرتے ہوئے سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ اپنی مایہ ناز تصنیف "المعتمد المستند” میں تحریر فرماتے ہیں:
"ای بالصغير علی وجہ التحقیر و قدمنا ان التصغیر فیما یتعلق بہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ممنوع مطلقا، وان کاننعلی جھۃ المحبۃ بل قد یجئ للتعظیم و مثالہ فی لساننا” ناکڑا”فی تصغیر” ناک”ای الانف لا یقال الا فی الانف الجسیم و مع ذلك فالایھام کاف فی المنع و التحریم و قد نھی العلماء ان یقولوا مصیحف او مسیجد فلیجتنب ما اقتحمہ بعض الشعراء الذین فی کل واد یھیمون من قولھم فی النعت الکریم مکھڑا،او انکھڑیا و امثال ذلك”
( ص:١٥١)
ترجمہ:حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس بال کو اس کی تصغیر کرتے ہوئے حقارت کے طور پر بلوا، کہنے والا ضرور کافر ہو جائے گااور ہم بتا چکے ہیں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی چیزوں کے حق میں تصغیر کا بولنا ہر طرح ناجائز ہے اگر چہ پیار،محبت کے طور پر ہو بلکہ تصغیر کا لفظ کبھی تعظیم کے لیے بھی آتا ہےاور اس کی مثال ہماری”اردو” زبان میں ناکڑا ہے جو ناک کی تصغیر ہے. ناکڑا کالفظ صرف بھاری بھرکم بڑی ناک کے بارے میں بولا جاتا ہے. اور باوجود اس کے(کہ تصغیر کا لفظ بطور محبت بھی بولا جاتا ہے) لیکن پھر بھی معنی وضعی اصلی کا دھیان آسکنا اسکو ممنوع و حرام قرار دینے کے لیے کافی ہے. اور بے شک (مصحف کو )مصحفوا کہنےیا (مسجد کو) مسجد یا بولنے سے علماے دین نے منع فرمایا ہے لہذا مکھڑا یاانکھڑیا اور اس جیسے دوسرے کلمات تصغير جنہیں ہر وادی ہر نالہ میں بھٹکنے والے شعرا نے نعت شریف میں گھسیڑ رکھا ہے ان سے بچنا، پرہیز کرنا لازم ہے.
یہاں ایک قاعدہ کلیہ یاد رکھیں کہ لفظ تصغیر کا استعمال نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ یا ان سے منسوب اشیاء کے بارے میں ناجائز و حرام ہے جیسا کہ ہمارے قدیم شعرا نے بھی اپنی نعتیہ شاعری میں لفظ تصغیر کا استعمال کیا،جیسے بیکل بلرام پوری کا یہ شعر:
کتنی دلکش ہے طیبہ نگریا
نور ہی نور چاروں اوریا
حشر تک بھیک بٹتی رہے گی
جب سلامت ہے ان کی دوریا
ہو گیا کوئی صدیق اکبر
پڑ گئی جس پہ ان کی نظریا
اور دیگر شعرا نے بھی اس طرح کا کلام لکھا.
لیکن اس کا استعمال اپنی چیزوں کے بارے میں ہو تو کوئی قباحت نہیں جیسے کہ عاشق رسول سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ و الرضوان جنہوں نے ساری زندگی سرکار کی مدح و ثنا میں صرف کی اور ان کے اوصاف حمیدہ کا بیان کرتے ہوئے قلم توڑ دیا اور لکھ ڈالا
سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے
باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے
تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے
اپنے ایک نعتیہ اشعار میں تصغير کا استعمال فرمایا لیکن اس قدر کہ اس سے تنقیص شان رسالت کی بو بھی نہیں آتی بلکہ معنی کے اندر لطافت و دلکشی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ یہ شعر..
البحر علی والموج طغی من بے کس و طوفاں ہوش ربا
منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیا پار لگانا جانا
اس شعر کے اندر اعلیٰ حضرت نے اپنی کشتی کو حقیر سمجھا کہ یا رسول اللہ یہ کشتی تو بہت چھوٹی اور حقیر ہے آپ کرم فرمادیں تو بڑی بڑی مصیبت دم بھر میں بے دم ہو جائیں.
رب تعالیٰ ہم سب کو صحیح پڑھنے،صحیح لکھنے اور صحیح بولنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین علیہ الصلاۃ و التسليم

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

روزہ کی حالت میں علاج کے کچھ نئے مسائل (قسط نمبر2)

تحریر: (مفتی) محمد انور نظامی مصباحیقاضی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ روزہ کیسے فاسد ہوتا ہے’؟کھانے پینے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے