امت مسلمہ اور ان کا تحفظ

تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی
بہرائچ شریف، یو۔پی۔ انڈیا
خادم تحریک پیغام انسانیت انڈیا
9517223646

مکرمی!
ارشاد باری تعالی ہے:
ٰٓیایُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ۔ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۔ وَاللّٰہُ ےَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْن۔(سورہ مائدہ 67)
یقیان اگر ہم ملک کے موجودہ حالات کے مستقبل پر غور کرتے ہیں تو اس وقت مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ان کے تحفظ کا مسئلہ ہے، تحفظ کی ایک مادی تدبیر ہے، جو ہر انسان انفرادی حیثیت سے اور ہر جماعت اجتماعی طور پر روبہ عمل لاتا ہے اور ہمیں اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے، یہ ہمارا شرعی فریضہ ہے لیکن تحفظ کا ایک غیبی نظام بھی ہے۔ جس کا تذکرہ اللہ رب العزت نے مذکورہ بالا آیت میں فرمایا ہے۔اس آیت میں عصمت من الناس‘‘ سے مراد دشمنان اسلام سے حفاظت ہے،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا اہتمام کیا جاتا تھا اور حضرت ابوطالب روزانہ بنو ہاشم کے کچھ لوگوں کو اس کام پر مامور فرماتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسان سے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے، اس لئے اب کسی پہرہ دار کی ضرورت نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ۱۱؍۲۵۶، حدیث ۱۱۶۶۳)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے ارشاد فرمایا کہ اس آیت کے نزول سے پہلے آپ کی قیام گاہ پر پہرہ دیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد قبہ سے سر مبارک نکال کر ارشاد فرمایا: ’’تم لوگ واپس ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے خود میری حفاظت فرمائی ہے۔‘‘ (ترمذی، کتاب تفسیر القرآن حدیث: ۳۰۴۶)
یہ آیت صاف طور پر بتاتی ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل کئے جانے والے دین کی طرف ہدایت سے محروم لوگوں کو دعوت دینے پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی تحفظ کا وعدہ ہے اور اللہ کی حفاظت سے بڑھ کر کس کی حفاظت ہوسکتی ہے؟ اس آیت کریمہ میں رب قدیر کا فرمان ہے کہ جب کوئی میرا نیک بندہ دعوت حق کو لیکر اٹھ کھڑا ہوگا تو میں اس کی خصوصی امداد کروں گا
اس کائنات ارضی و سماوی اور اس کی لامحدود وسعتوں میں اصل ذات ان سب کو بنانے اور ان میں جاندار و بیجان ہر چیز کو پیدا کرنے والی واحد ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ دنیا میں اس طرح انسانی زندگی کا سلسلہ شروع ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ چنانچہ آپ اپنی اولاد کو راہ راست پر اور خدا کی بندگی پر قائم رکھنے کی فکر و کوشش کے لئے مقرر ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کی اولاد آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتی رہی، لیکن جب وقت اور نسلوں کے گزرنے کے ساتھ ان میں بگاڑ آگیا تو اللہ نے حسب ضرورت ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنے برگزیدہ نبیوں کی بعثت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ یہاں تک کہ کوئی ایسی قوم نہیں جن میں ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو، ہر قوم میں نبی آئے، اور تمام انبیاء کی قوم اپنے نیک اور بڑے لوگوں کی تعظیم میں ان کی یادگار بنا کر تعظیم کرتے کرتے رہے لیکن پھر بھی ان کی قوموں کے اکثر افراد خدائے واحد کی طاعت و بندگی کو چھوڑ کر طرح طرح کے گناہوں اور ظالمانہ حرکتوں میں ہی ملوث رہے تو اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو زبردست سزا دی پھر جب پوری دنیا میں ہر سو تاریکی ہی تاریکی چھا گئی۔ ہر قوم دوسری قوم سے برسرپیکار اور ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کے خون کا پیاسا بن گیا، عدل پاکبازی و پارسائی کے عطر کی خوشبو انسان کے جامۂ خاکی سے اڑ چکی اور توحید اور خدا پرستی کا نور دیوتاؤں، دیویوں، کی پرستش کی عالمگیر تاریکی میں چھپ گیا تو رب العالمین نے ان کوسمجھانے کا ایک موقع پھر عطا فرمایا اور اس کے لئے مزید خصوصیات اور اعلیٰ ترین صلاحیتوں کا حامل نبی مبعوث فرمایا۔ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہے کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی خصوصیات، صلاحیت اور صفات سے نوازا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا والوں کے لئے رحمت ثابت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خدا سے پچھڑے ہوئے بندوں کو ان کے خالق و مالک سے ملایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دلوں کو پاک، روح کو روشن، دماغ کو درست، طبع کو ہموار بنایا، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی مدد فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم امن عامہ کو مستحکم اور مصلحت عامہ کو استوار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبی، امیری، جوانی، امن و جنگ، گدائی و بادشاہی، رنج و راحت، حزن و مسرت کے ہر درجہ پر کمزور طبقات کو عزت کا مقام عطا کیا، پوری نسل انسانی کو آدم اور حوا کی اولاد بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود عربی تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کے سامنے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا کہ نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت اور نہ کسی عجمی کو عربی پر کوئی امتیاز حاصل ہے جو تقویٰ اختیار کرنے والا نیکو کار ہے صرف اسی کو فضیلت اللہ کی قربت اور خوشنودی حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ عورت کو عزت کا درجہ دیا اور مرد کے ساتھ وراثت میں حصہ دلایا اور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش پر بڑے ثواب اور جنت کا وعدہ کیا۔ انسانیت کی نیّا جو طوفانی موجوں میں ہچکولے کھا رہی تھی اسے یونہی نہ چھوڑ دیا بلکہ اپنی جان بچانے کی فکر کے بجائے بدی کے ہلاکت خیز گردابوں سے لڑ کر ساری اولاد آدم کے لئے نجات کا راستہ کھولا۔ تمدن کی کشتی سنبھالی اور پھر اسے ساحل مراد کی طرف رواں دواں کر دیا۔
اسلام میں خدا نے مقناطیسی صلاحیت رکھی ہے، اس لئے اس میں ایسی کشش ہے کہ وہ سخت سے سخت دشمن کو بھی اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ اگرچہ یورپ کا یہ الزام ہے کہ اسلام صرف تلوار کے زور سے پھیلا
’’مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہوچکے تھے۔‘ انصار مدینہ نے خود مکہ میں آکر اسلام کو لبیک کہا، مسلمانوں نے ہندوستان میں تقریباً ایک ہزار سال حکومت کی ہے اور ان میں دوران حکومت اتنی طاقت و قوت اور اتنا اثر و رسوخ تھا اگر وہ چاہتے ایک ایک غیر مسلم کو کلمہ پڑھنے پر مجبور کر دیتے اور پھر آج اس ملک کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا لیکن آج بھی ہندوستان میں ۸۰ فیصد حصہ غیر مسلمانوں سے آباد ہے جو اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں تلوار کام میں نہیں لائی گئی، اسلام اپنی تبلیغ و اشاعت کے لئے کسی تیغ و سنان کا محتاج نہ کبھی ماضی میں رہا ہے اور نہ اب ہے، اسلام ہمیشہ اپنی حقانیت و عقیدہ کی سادگی اور تبلیغ خالص سے پھیلا ہے۔ انبیاء، صحابہ، تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین، علمائے کرام اور بزرگان دین نے نہ جانے کیسی کیسی مشقتوں اور دقتوں کا سامنا کیا، آبلہ پائی کی کانٹوں کے بستر پر چلے اور آگ کے دریا میں تیرنا گوارہ کیا لیکن انہوں نے اپنے پائے استقامت میں ذرا بھی جنبش نہیں آنے دی اور نہ ہی آخرت کے مقابلے دنیا کے سودے پر رضا مند ہوئے۔ سمندروں کا سینہ چاک کرنا، صحراؤں میں آبلہ پائی کے مزے چھکنا، موت سے آنکھ مچولی کھیلنا، سمندروں میں گھوڑے دوڑانا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا تھا اس ملک میں بھی زیادہ تر دعوت کا کام صوفیہ کے ذریعہ ہی ہوا لیکن کئی صدیوں سے ہم لوگوں نے وطن عزیز میں دعوت دین کی کوئی منظم اور مربوط کوشش نہیں کی ہے، لیکن اب بھی وقت نہیں گیا ہے، اسلام کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی اگر مسلمان اس کام کو لے کر اٹھیں تو کامیابی و کامرانی قدم چومے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے غیبی نظام کے مطابق اس امت کے تحفظ کا سروسامان ہوسکتا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس خاص مقصد کے لئے پیدا کیا تھا، محسن انسانیت کا جو پیغام دعوت تھا جس کے ہم پاسبان بنائے گئے تھے، اور جس کلمۂ حق کی امانت ہمیں سونپی گئی تھی جب ہم نے اسی کلمہ حق کی مشعل کو بلند رکھنے میں کوتاہی کی اور اس نظام حق کا اپنے ہاتھوں ستیاناس کرکے رکھ دیا اور ہم اس انقلاب آفریں مقصد کو بھلا دیا جس کے نتیجے میں دور حاضر کا قافلہ غلط سمت مڑا اور مڑتا ہی چلا گیا جس سے آج پوری انسانیت بحران کا شکار ہے، موجودہ عالم فریب پردوں کے پیچھے جھانک کر انسانیت کا جائزہ لیجئے تو وہ حال زار سامنے آتا ہے کہ روح کانپ جاتی ہے۔پوری اولاد آدم کو چند خواہشات نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہے اور ہر طرف دولت اور اقتدار کے لئے ہاتھا پائی ہورہی ہے۔ آدمیت کے اخلاقی شعور کی مشعل گل ہے اسی وجہ سے ہم ہر جگہ پریشان ہیں۔ آج ہم تحفظ شریعت کی بات کرتے ہیں، لیکن کیا ہم خود شریعت پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہم سے مکمل اسلام پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیا ہماری زندگی میں مکمل اسلام ہے؟ کیا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کی مدد اسی وقت ہوگی جب ہم اسلام پر عمل کریں گے، ہماری خود زندگی غیر اسلامی زندگی ہے سب سے پہلے ہم خود شریعت پر عمل کریں پہلے ہم خود اپنی زندگی میں شریعت کو نافذ کریں آج مسلمانوں اور اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ سب سے زیادہ اخلاق حسنہ سے ہوگا، اگر ہم شریعت پر عمل کریں گے تو اللہ کی نصرت و مدد شامل حال ہوگی۔ کیوں کہ قرآن و حدیث کے اندر یہ نہیں ہے کہ ہم مسلمانوں کی حفاظت کریں گے، البتہ قرآن کریم کی حفاظت ضرور کی جائے گی۔ دین کی حفاظت ضرور کی جائے گی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہمیں بقا اور تحفظ مقصود ہو تو کتاب و سنت کا دامن تھامنا پڑے گا۔ دین کے ساتھ اگر ہم تعلق رکھیں گے تو ہم بھی باقی رہیں گے اور اگر تعلق توڑ دیں گے تو ہمارے اور آپ کی بقا و حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہماری بقا اسی میں مضمر ہے کہ ہم بقائے اسلام کے لئے آگے بڑھیں اور اس کے لئے ہمیں قرآن و سنت کی حقیقی تشریح و تعبیر یعنی مشن صوفیاء سے تجدید عہد کرنا ہوگا۔ جو راستہ ہمیں عطا کیا گیا ہے اسی پر ایک بار پھر لوٹنا ہوگا، نفرت و تعصب کی زنجیروں کو توڑ کر اپنے اندر محبت و اخوت، و لگن و جستجو، ہمت و جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ عیارانہ ماحول کو سچائی اور امانت داری میں بدل دینا ہوگا، نفرت کی زنجیروں کو توڑ کر انسانیت کو محبت کے ہار میں پرونا ہوگا، کانٹوں کو چن کر پھولوں کی سیج کو بچھانا ہوگا، فرقہ پرستی کے بتوں کو پاش پاش کرکے مسلمان کامل بننا ہوگا اور روشن ضمیری کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ انتقامی جذبات سے الگ ہٹ کر وقتی جوش و جذبہ کو چھوڑ کر کوئی ٹھوس لائحہ عمل، خدمت اور دعوت کے سلسلے میں بنایا جائے اور اس بدلے ہوئے حالات میں اگر ہمت و حکمت کے ساتھ داعیانہ کردار اپنایا جائے تو اس ملک میں جو مسائل درپیش ہیں اس میں خاطر خواہ مؤثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔
خود بھارت کے فرقہ وارانہ حالات کی فضا سے ایسا لگتا ہے، بھارتی مسلمانوں کا مستقبل نہایت اندوہناک ہے اور ہم مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ وقت کی رفتار کو دیکھ کر بیدار ہونے کا وقت آگیا ہے لیکن عوام و خواص کو اس کا احساس تک نہیں ہے۔ آج ہم فروعی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، مذاکرے، مشورے میں لگے ہوئے ہیں لیکن امت مسلمہ کی بقا و تحفظ کے بنیادی مسائل سے چشم پوشی کر رہے ہیں یا حالات سے مجبور ہوکر تجاہل عارفانہ کا شکار ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہم اپنے مقصد سے بھٹک گئے ہیں۔ عقائد کی درستگی، مسائل کی تعلیم و تدریس، شریعت کی تفہیم و تنفیذ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے فلاح وبہبود، وجود و بقا اور وقار و عظمت کے لئے سوچنا، لائحۂ عمل ترتیب دینا اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے قیادت کرنا امت کے ذی شعور افراد کے لئے فرض ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کا احساس اگر ہمارے اندر نہیں ہے تو پھر بھارت میں ملت اسلامیہ کی کشتی کو گرداب حوادث میں پھنسنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یہ امت دنیا و آخرت دونوں کے لئے پیدا کی گئی ہے، چنانچہ دنیا میں فلاح و صلاح کے ساتھ زندگی گزارنے کے علاوہ آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے عمومی و خصوصی پروگرام پیش کرنا علماء کے ذمہ ہے۔ علماء امت اور عمائدین قوم و ملت اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کریں اور ہر قدم پر امت کی رہنمائی کریں، جب امت کے سامنے حوادث کا طوفان کھڑا ہوا اس وقت میدان میں آکر امت کے لئے دفاع و قربانی کے بجائے کمروں اور گپھاؤں میں بیٹھ کر صرف مشورہ کرنے سے امت کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ یہ ہوش کا ناخن لینے کا وقت ہے، امت پریشانی میں ہے، ہندوستانی ملت اسلامیہ اضطراب کے دور سے گزر رہی ہے۔ سماجی زندگی کا تانا بانا ٹوٹنے کے قریب ہے، یہ ایک درد مند دل کی پکار ہے، وقت سے پہلے عظمائے امت کو بیدار ہوجانا چاہئے۔ امت مسلمہ ان کو ایک امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور ان کے پاس ہی مسائل کا حل موجود ہے۔ الحاد، مادہ پرستی اور قوم پرستی وہ بڑے بڑے چیلنج ہیں جو اس وقت عالم اسلام کو در پیش ہیں۔ ان بھول بھلیوں سے نکال کر امت مسلمہ کو اسلام کی سچی اور سیدھی شاہراہ پر گامزن کر دینا اہل فکر و نظر کا اہم فریضہ ہے۔ یہ موضوع سوچ بچار کا نہیں ہے بلکہ عملی جد و جہد کا تقاضہ بھی کرتا ہے۔ مرحلہ سوچ بچار کا ہو یا عملی جد وجہد کا اس کی فکری رہنمائی اہل علم درد حضرات ہی کر سکتے ہیں۔ امت کی بقا و تحفظ کے لئے باطنی اسباب کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب پر غور و فکر کے ساتھ ہی عمل آوری کی بھی ضرورت ہے، اگر اقدام نہیں کیا گیا تو زمانہ ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم تاریخ کا قصۂ پارینہ بن جائیں گے۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے