جب جاگو تبھی سویرا

تحریر: بنت مفتی عبد المالک مصباحی
جمشید پور (جھارکھنڈ انڈیا)

حسب معمول آج پھر میں اپنی ذاتی لائبریری کے کتب و رسائل کو الٹ پلٹ رہی تھی کہ اچانک میری نظر ابو الليث اصلاحی ندوی کے نہایت بوسیدہ رسالے”جماعت اسلامی ہندوستان میں“ پر پڑی جو اس نے ١٩٨٤ء میں لکھی تھی. میں نے تجسسانہ انداز میں اس کا مطالعہ شروع کر دیا جب میری نظر ”خواتین اور طالبات کے حلقے کی تفصیل“ پر پڑی تو خیرہ رہ گئی کہ تحریک جماعت اسلامی ہند کے تحت اسی وقت (١٩٨٤ء میں) ٤٢٩ حلقے قائم ہو چکے تھے –

اب ہم غور کریں
ہم نے ایمان و عقیدہ کی درستی کے لیے کتنے حلقات براے خواتین و بنات منعقد کیا؟؟ میں اپنے مسلک کے بزرگوں کو مخاطب کرنے کی قطعی جرأت نہیں رکھتی، میں تو آج خود اپنے آپ سے اور اپنی ہم عصر ساتھیوں سے مخاطب ہوں کہ ہر سال ہمارے ہندی کم بیش سو ڈھیر سو چھوٹے بڑے ادارے تقریباً ایک ہزار /پندرہ سو بچیوں کو سند و ردائے فضیلت عطا کرتے ہیں لیکن…………اس کا ثمرہ کیا ہے؟؟ ایام موجود میں اہل سنت و جماعت کے ہندوستان میں کتنے حلقات خواتین کی دینی، اخلاقی و معاشرتی تربیت کے لیے قائم ہو چکے ہیں؟؟ کیا ہر بستی بستی، قریہ قریہ میں سنی خواتین کا اجتماع ہو رہا ہے؟؟

اگر نہیں تو کیوں؟؟
ہم اتنی عالمات ہونے کے باوجود بھی اگر قوم کی خواتین کے اعمال و عقائد کو درست نہ کر سکیں اور اس کے لیے کوشاں بھی نہ رہیں تو کیا ہم ان کی بے راہ روی کی ذمہ دار نہیں بن سکتے؟؟ کیا علم محض خود سازی کے لیے حاصل کیا جاتا ہے یا خود سازی کے ساتھ ساتھ خلق سازی کی ذمہ داری بھی علما و عالمات پر عائد ہوتی ہے؟؟ کیا تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ کے مخاطب صرف مرد حضرات ہی ہیں؟؟
ہر گز نہیں، نہیں نا!!!
تو پھر آئیں نا! ہم عزم مصمم کر لیتے ہیں کہ اپنے محنت و مشقت سے حاصل کیے ہوئے لؤلو و مرجان سے بیش قیمت علوم نبویہ کی قدر کریں گے، اس علم سے خود بھی مستفیض ہوں گے اور دوسری اسلامی خواتین تک بھی فیض پہنچائیں گے، ہم لقب و ردا، منصب و عزت کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر عائد ہونے والی عظیم ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کریں گے، یعنی تبلیغ دین کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، راہ تبلیغ میں آنے والی ہر مشکلات کو سہہ لیں گے لیکن ہمت و قدم میں ذرا بھی تذبذب نہ آنے دیں گے – ((ان شاء اللہ عزوجل))

ہم یہ سب کیسے کر پائیں گے؟؟
ہر سال جو ہزار ڈیڑھ ہزار عالمات بنتی ہیں اگر ہر عالمہ اپنے اپنے علاقے و محلے میں ہفتہ واری اجتماع شروع کر دے یعنی ہفتہ کے صرف ایک دن کو مختص کر لے تو اس طرح ہم عوام خواتین کے عقائد و اعمال، اخلاق و کردار کی احسن طریقے سے تربیت کر سکتے ہیں نیز اسی احسن انداز میں ہم اہل سنت و جماعت کے ہزاروں حلقات قائم ہو سکتے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس افراد کی کمی نہیں حوصلہ و ہمت، محنت و مشقت، جذبہ و لگن کی کمی ہے –
کاش!! آج بھی ہم اپنے اندر ہمت و حوصلہ پیدا کر لیں ابھی ہی ترقیاں ہمارے قدم چومیں گی اور ہم نجات و دنیوی و اخروی سے ہم کنار ہو جائیں گے –
چلیں اٹھتے ہیں،ہم خواتین بھی کچھ کرتے ہیں –
شکوہء ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان کریم اور ہم: ایک جائزہ

تحریر: منزہ فردوس بنت عبدالرحیمایم. اے. سال اول آکولہ مہاراشٹرا ایک بار پھر عظمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے