دیوانوں سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا ؟

تحریر : محمد سلیم

مسلمانوں میں بھی بہت سے لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ شائد سائنس ہر قضیے کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ جو کل تک لاینجل تھا وہ آج سلجھ گیا اور جو آج سمجھ نہیں آرہا اس تک سائنس کل پہنچ جائے گی ۔
میں ساری زندگی نہیں سمجھ پاؤں گا کہ سائنس کی ترقی سے لوگ اتنے مرعوب کیوں ہو جاتے ہیں ؟
اللہ نے آپ کو عقل دی ہے ۔ آپ نے اسے استعمال کرنا ہی کرنا تھا ۔ اس میں بڑی بات کیا ہے ؟
وہ کون سا کارنامہ ہے جس کی بنیاد پر سائنس کو خدا کے مقابل لاکھڑا کیا جا سکتا ہے ؟
مثال کے طور پر میں سائنس کے علم سے ایک چیز ایجاد کرتا ہوں ۔ ایک دوسرا شخص اس سے مستفید ہوتا ہے ۔ اس کی تعریف کرتا ہے تحسین کرتا ہے ۔ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لاکھوں سالوں تک نسل نسل در نسل اس کو سمجھنے کی کوشش میں غلطاں رہتا ہے ۔ پھر لاکھوں سالوں بعد اس کی نسل کا کوئی شخص میری اس ایجاد کا دس فیصد حصہ سمجھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔
تو پھر قابل تعریف کون ہے ؟
وہ جس نے وہ قابلِ ذکر شے ایجاد کی یا وہ جس نے لاکھوں سال محنت کر کے محض اس کے دس فیصد فنکشن کو سمجھ لیا ۔ بنانے پر قادر وہ ابھی بھی نہیں ۔ صاف چٹا جواب ہے کہ جس چیز کا دس فیصد حصہ سمجھنے میں لاکھوں سال لگ گئے اسے بنانا چہ معنیٰ دارد ؟
میں آپ کو اس موضوع کو ٹھیک سے سمجھانے کے لیئے دو سوال آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔
پہلا سوال
کیا آپ کسی ایک بھی ایسی قدرتی زندہ چیز سے واقف ہیں جو اپنی افزائشِ نسل کا ایک خودکار نظام نہ رکھتی ہو ؟
دوسرا سوال
کیا آپ انسان کی بنائی کسی ایک بھی ایسی چیز سے واقف ہیں جو اپنی افزائشِ نسل کا کوئی خودکار نظام رکھتی ہو ؟
دونوں کا جواب بلا توقف کسی بھی فارم پر "نہیں” میں ہو گا ۔
اس معاملے کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جتنی بھی قدرتی چیزیں اپنے اندر افزائشِ نسل کا یہ خودکار نظام رکھتی ہیں ان کے متعلق کچھ بیوقوفوں کا نظریہ یہ ہے کہ ان کے پیچھے کوئی ذہانت استعمال نہیں ہوئی بلکہ یہ سب چیزیں خودبخود ایک دوسرے سے ارتقاء پزیر ہوتی چلی گئیں ۔
لیکن جب اس زمین کی سب سے ذہین ترین مخلوق نے اپنی ذہانت کے بل پر ایجادات شروع کیں تو باوجود چاہت کے کوئی ایک بھی ایسی چیز ایجاد نہ کر سکی جس میں وہ یہ نظام ڈال سکے ۔
نظام کوئی نیا بھی نہیں کہ کاپی کرنے کے لیئے وقت درکار ہو ۔ جب سے انسان اس زمین پر موجود ہے اب چاہے وہ ہزاروں سالوں سے ہو یا لاکھوں سالوں سے یہ مثالیں اس کے اطراف میں موجود ہیں ۔
کوئی پھل کھائیں ۔ اس میں سے بیج نکلے گا ۔ اس بیج سے اسی پھل کا ایک نیا درخت پیدا ہو گا جس میں اسی نسل کے ہزاروں پھل پیدا ہوں گے اور ہر پھل میں دوبارہ وہی بیج ۔
بعض پھلوں میں سیکڑوں بیج ہوتے ہیں ۔ تربوز جیسے پھل میں سے تو بیج الگ کیئے ہی نہیں جا سکتے ۔ ہر تربوز کھانے والا بیسیوں بیج ساتھ ہی کھا جاتا ہے ۔
پھر معاملہ یہ بھی نہیں کہ آپ وہ بیج زمین میں دبائیں گے تبھی اس پھل کا درخت پیدا ہو گا ۔ آپ کاشت کرنا چاہیں تو ضرور کریں لیکن اسی کام کے لیئے قدرتی مزدور بھی موجود ہیں ۔ جانور انہی پھلوں کو کھائیں گے اور فضلے کے ساتھ جگہ جگہ وہ بیج نکالتے چلے جائیں گے جو زمین میں دفن ہو کر قدرتی بارش کے ذریعے مزید پھلوں کو جنم دینے کا سبب بنیں گے ۔
یعنی افزائشِ نسل کا ایک ایسا نظام بنایا گیا ہے جس کا حصہ آپ بنیں یا نہ بنیں ۔ یہ افزائش رک نہیں سکتی ۔ آپ اس نظام کو روک نہیں سکتے ۔
انسان کی تو اپنا بچہ روکنے تک کی اوقات نہیں ۔ جنسی لذت سے لے کر بچے کی محبت تک ہر جگہ انسان کو نکیل ڈالی گئی ہے کہ یہ کام تو کرنا ہی پڑے گا ۔ ہر گزرتے دور میں انسانوں کی افزائش روکنے کے نئے سے نئے اور جدید سے جدید ترین طریقے ایجاد ہو رہے ہیں ۔ مگر بچے نہیں رک رہے ۔ لذت ہی ایسی ڈالی ہے جس کے بغیر گزارا نہیں ۔ نہ مرد کا بچوں کی ماں کے بغیر گزارا ہے نہ بچوں کی محبت کے بغیر ماں کا گزارا ہے ۔
فرسودہ سوچ کا عالم یہ ہے کہ جن چیزوں کو بغیر ذہانت کے اتفاقی حادثوں کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں ان کی نقل جب اپنی انتہائی ذہانت سے تیار کرنے بیٹھتے ہیں تو نتیجہ مٹی ۔
ذرا اپنی اس سوچ کو منطق کے ترازو میں تولو تو سہی ۔
جو چیز اتفاق سے بن جائے وہ زیادہ پرفیکٹ ہونی چاہیئے یا جس چیز میں کمال ذہانت ہو اسے زیادہ پرفیکٹ ہونا چاہیئے ؟
یہ نظریۂ الحاد کے منہ پر خدا کا ایسا زناٹے دار تھپڑ ہے جس کے نشان مٹائے نہیں مٹتے۔
انسان نے ایک چیل اڑتی دیکھی اور اسی کے اصول پر ہوائی جہاز ایجاد کر لیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ انسان نے چیل ہی کے اصول پر جہاز میں افزائشِ نسل کا طریقہ کبھی ڈالنے کی کوشش کی؟

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ایک نر ہوائی جہاز تیار کریں ۔ پھر ایک مادہ ہوائی جہاز ایجاد کریں ۔ پھر ان کے باہمی اختلاط سے مزید جہاز خود ہی پیدا ہوتے چلے جائیں ؟
کس ترقی کی بات کرتے ہو ؟
کس ہنر پہ نازاں ہو ؟
قدرتی چیزوں کو محض دیکھ لینا سمجھ لینا ؟
پھر ان کی گھٹیا سی کوئی نقل بنا لینا ؟
مقابلہ خدا سے ؟
توانائی حاصل کرنے تک کا نظام خودکار نہیں ڈال پائے ۔
گھوڑا پال لو ۔ گھوڑی پال لو ۔ ان کے اختلاط سے مزید گھوڑے گھوڑیاں پیدا کرا لو ۔ پھر ان کی توانائی کی فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ کچھ نہ کھلاؤ انہیں ۔ محض ایک گھنٹے کے لیئے انہیں کھلا چھوڑ دو ۔ ایک گھنٹے بعد دوبارہ پکڑ لو تو پیٹ بھرا ہو گا ۔ پھر دوڑاؤ ۔
کس ایجاد میں یہ خاصیت پیدا کر لی انسان نے کہ اپنی افزائشِ نسل کا انتظام بھی خود ہی کر لے اور توانائی بھی خود ہی حاصل کر لے ؟
اپنے بچوں کے لیئے دودھ کی فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ سائنس تو آج تک یہ نہ جان پائی کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد ماں کے سینے میں دودھ کہاں سے اترتا ہے ۔ پھر اترتا بھی صرف اتنی ہی مدت کے لیئے ہے جتنی مدت بچے نے دودھ پینا ہے ۔ جیسے ہی بچہ دودھ پینے کی عمر سے گزر گیا دودھ کی فراہمی بند ۔
لوگ کہتے ہیں یہ نظام خودبخود وجود میں آگیا ؟ سبحان اللہ ۔
کچھ بیوقوف پوچھتے ہیں کہ اللہ جنت میں دودھ کی نہریں کیسے بہائے گا دودھ تو گائے دیتی ہے ۔ یہ تو معیار ہے سوچ کا ۔ کیا گائے کو پتہ ہے کہ اس کے تھنوں میں دودھ کہاں سے آتا ہے یا سائنسدانوں نے دریافت کر لیا ہے کہ گائے کے اندر دودھ کی ترسیل کیسے ہو رہی ہے ؟
گائے بھینس کھڑے کھڑے بچہ پیدا کر دیتی ہیں ۔ نہ کوئی ڈاکٹر نہ کوئی نرس ۔ ہماری عورتوں کی لیٹ کر بچہ پیدا کرتے جان نکل جاتی ہے ۔ ہزاروں روپے کی دوائیاں ۔ طاقت کے انجیکشن ۔
دوسری طرف مچھر ۔ ایک حقیر ننھا سا کیڑا ۔ مچھر خون نہیں پیتا ۔ اس کی مادہ خون پیتی ہے ۔ وہ بھی جب حاملہ ہو ۔ اس نے انڈے دینے ہوں ۔ خون مچھر کی خوارک نہیں ہے ۔ نہ نر کی نہ مادہ کی ۔ صرف انڈے دینے کے لیئے توانائی حاصل کرنے کے لیئے مادہ مچھر خون پیتی ہے ۔
ہماری حاملہ عورتیں ہزاروں روپے خرچ کر کے طاقت کے ٹیکے لگواتی ہیں اور مچھر کی مادہ مفت میں انسان کو ٹیکہ لگا کر چلی جاتی ہے ۔
یہ خودکار نظام کیا کسی ذہانت کا ثبوت نہیں ؟
دیوانوں سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا ۔ یہ ملحد دیوانے ہیں ۔
میری نصیحت پلے سے باندھ لیں ۔
سائنس کا علم انسان کے لیئے بلاشبہ نفع بخش ہے ۔ مگر یہ اللہ ہی کی دی ہوئی عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس کا مقابلہ اللہ کے علوم سے مت کیجیئے ورنہ ذلت و رسوائی مقدر بن جائے گی ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے