تقویٰ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی مالیگاوں

ہدایت سے متقین فیض یاب
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (ترجمہ) :’’متقیوں کے لئے ہدایت ہے‘‘ (سورہ البقرہ آیت نمبر 2) اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن پاک تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا (ترجمہ) :’’ماہِ رمضان المبارک میں قرآن کو نازل کیا گیا جو کہ تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے‘‘۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 158) اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے ۔ اِن دونوں آیات پر غوروفکر کرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک کو تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے لیکن اِس قرآن پاک سے وہی ہدایت حاصل کرسکتا ہے جو تقویٰ اختیار کرے ۔ متقین کو قرآن پاک کے احکام پر عمل کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ قرآن پاک کے انوار سے مستفید ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں تدبر اور تفکر کرنے سے متقین کے دماغ کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں ۔ غیر متقین کے لئے بھی قرآن پاک ہدایت ہے اور دنیا کی خیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے حالانکہ وہ اِس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور اِس کے احکام پر عمل کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو روشن نہیں کرتے۔ جن کافروں اور مشرکین نے قرآن پاک سے ہدایت حاصل نہیں کی اُس سے قرآن پاک کے کتابِ ہدایت ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اندھا اگر سورج کو نہ دیکھے تو اس سے سورج کے روشن ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر صفراوی مزاج والا شہد کی شیرنی کو محسوس نہ کرے تو اِس سے شہد کی مٹھاس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ قرآن پاک میں جہاں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے تو اِس کا مطلب یہ کے کہ یہ قرآن پاک سب کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے اور جو فرمایا کہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن پاک کی ہدایت سے متقین ہی فیضیاب ہوتے ہیں۔
تقویٰ کا لغوی معنی
تقویٰ کے لغوی معنی کے بارے میں علامہ زبیدی حنفی لکھتے ہیں :’’ابن سیدہ نے کہا : ’’تقویٰ‘‘ اصل میں ’’وقوی‘‘ تھا ۔ یہ فعلی کے وزن پر اسم (حاصل بالمصدر) ہے اور ’’وقیت‘‘ سے بنا ہے ’’واؤ‘‘ کو ’’ت‘‘ سے بدل دیا اور یہ ’’تقویٰ‘‘ ہوگیا۔ اِسی طرح ’’تقاۃ‘‘ اصل میں ’’وقاۃ‘‘ ہے اور ’’تجاۃ‘‘ اور ’’تراث‘‘ اصل میں ’’وجاۃ‘‘ اور ’’وراث‘‘ ہیں۔ ’’وقاۃ یقیۃ‘‘ کا معنی ’’کسی چیز کو اذیت سے محفوظ رکھنا اور اُس کی حمایت اور حفاظت کرنا‘‘ اِسی طرح اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا :’’مَالَھُمْ مِنَ اﷲِ مِنْ وَّاقٍ‘‘ (ترجمہ) ’’انہیں اﷲ سے بچانے والا کوئی نہیں‘‘ (سورہ الرعد آیت نمبر 34) (تاج العروس)۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :’’تقویٰ کا معنی ہے : کسی ڈرانے والی چیز سے اپنے نفس (جان) کو بچانا اور اُس کی حفاظت کرنا۔ کبھی خوف کو بھی تقویٰ کہتے ہیں اور اِس کا شرعی معنی ہے : ’’گناہ کی آلودگی سے نفس کی حفاظت کرنا ‘‘ اور یہ ممنوعہ کاموں کے ترک کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔ ’’کامل تقویٰ‘‘ تب حاصل ہوتا ہے جب بعض ’’مباحات‘‘ کو بھی ترک کردیا جائے جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’حلال ظاہر کردیا گیاہے اور حرام ظاہر کردیا گیا ہے اور اِن کے درمیان کچھ ’’مشتبہات‘‘ ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے ، پس جو شخص ’’مشتبہات‘‘ سے بچ گیا اُس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا‘‘۔ (صحیح بخاری جلد 1)
تقویٰ کا اصطلاحی معنی
تقویٰ کے اصطلاحی معنی :’’ا ﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرکے اپنے نفس (جان) کو اﷲ کی نافرمانی سے بچانا ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کے عذاب سے اپنے نفس کو بچانا ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ شریعت کے آداب کی حفاظت کرنا ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ ہر وہ کام جو اﷲ سے دُور کردے اُس سے خود کو بچانا ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ خواہشات نفس کو چھوڑنا اور اﷲ نے جن سے منع کیا ہو اُن سے دُور رہنا ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ تم اپنے نفس میں اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ دیکھو یہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ تم اپنے آپ کو کسی سے بہتر گمان نہ کرو یہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قول سے اور فعل سے اتباع کرنا یہ ’’تقویٰ‘‘ ہے‘‘۔ علامہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی لکھتے ہیں : ’’تقویٰ‘‘ کا معنی ہے : کسی ناپسندیدہ چیز سے خود کو بچانے کے لئے اپنے اور اُس چیز کے درمیان کوئی آڑ بنا لینا۔ وہ شخص ’’متقی‘‘ ہے جو اپنے نیک اعمال اور پُرخلوص دعاؤں سے اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لے۔ زرین بن حبش کہتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے ایک دن فرمایا :’’لوگ بہت ہیں لیکن اِن میں بہتر ہو ہیں جو نائب ہوں یا ’’متقی‘‘ ہوں‘‘۔ پھر ایک دن فرمایا :’’لوگ بہت ہیں لیکن اِن میں بہتر وہ ہیں جو عالم ہوں یا متعلم ہوں‘‘۔ ابویزید بسطامی نے کہا :’’متقی وہ ہے جس کا ہر قول اور ہر عمل اﷲ کے لئے ہو‘‘۔ ابوسلیمان دارانی نے کہا :’’متقی وہ ہے جس کے دل سے شہوات کی محبت نکال لی گئی ہو‘‘۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ سے ’’تقویٰ‘‘ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا :’’کیا آپ رضی اﷲ عنہ نے کانٹوں والا راستہ دیکھا ہے؟‘‘ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :’’جی ہاں‘‘۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :’’پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے کیا کیا؟‘‘ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :’’میں نے پائنچے اوپر اٹھائے اور اُن سے بچ کر نکلا‘‘۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :’’یہی تقویٰ ہے‘‘۔حضرت ابودرداء رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :’’’’تقویٰ ہر قسم کی خیر کا جامع ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کی اﷲ تعالیٰ نے اوّلین اور آخرین سب کو وصیت کی ہے‘‘۔ (الجامع الاحکام القرآن جلد 1)

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تقویٰ کے مراتب
تقویٰ کے کئی مراتب ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (ترجمہ) :’’اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو (اﷲسے ڈرو) جیسا اُس کا تقویٰ اختیار کرنے(اﷲ سے ڈرنے) کا حق ہے‘‘۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 102) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (ترجمہ) :’’پھر جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا (جو لوگ گناہوں سے باز رہے یااپنے آپ کو گناہوں سے بچا لیا) اور انہوں نے اصلاح کی (نیک اعمال کئے) تو اُن پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے‘‘۔ (سورہ الاعراف آیت نمبر 35) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’اور جو لوگ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے (اﷲسے ڈرتے تھے) وہ جنت کی طرف گروہ در گروہ بھیجے جائیں گے‘‘۔ (سورہ الزمر آیت نمبر 73) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ (سورہ النساء آیت نمبر 1 اور سورہ الحج آیت نمبر 1)اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’جب اُن کے بھائی نوح نے اُن سے کہا:’’ تم تقویٰ اختیارکیوں نہیں کرتے؟‘‘ (سورہ الشعراء آیت نمبر 106)اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’جب اُن کے بھائی ھود نے اُن سے کہا :’’تم تقویٰ اختیار کیوں نہیں کرتے؟‘‘ (سورہ الشعراء آیت نمبر 124) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’جب اُن کے بھائی صالح نے کہا :’’تم تقویٰ اختیار کیوں نہیں کرتے؟‘‘ (سورہ الشعراء 142) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’جب اُن کے بھائی لوط نے کہا :’’تم تقویٰ اختیار کیوں نہیں کرتے؟‘‘ (سورہ الشعراء آیت نمبر 161) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’جب شعیب نے اُن سے کہا :’’تم تقویٰ اختیار کیوں نہیں کرتے؟‘‘(سورہ الشعراء 177) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’اور ابراہیم نے جب اپنی قوم سے کہا :’’ا ﷲ کی عبادت کرو اور اُس کا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔(سورہ العنکبوت آیت نمبر 16) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’اور اﷲ نے اُنہیں کلمۂ تقویٰ پر مستحکم کردیا‘‘۔ (سورہ الفتح آیت نمبر 26)اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے‘‘۔ (سورہ الاعراف آیت نمبر 96) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’لوگوں کو ڈراؤ کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں تو میرا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ (سورہ النحل آیت نمبر 2)اﷲ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا :’’اور گھروں میں اُن کے دروازوں سے داخل ہو اور اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ (البقرہ آیت نمبر 189) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’اور جس نے اﷲ کے شعائر کی تعظیم کی تو اُن کے دلوں میں تقویٰ ہے‘‘۔ (سورہ الحج آیت نمبر 32) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :’’بے شک اﷲ متقین کے ساتھ ہے‘‘۔ (سورہ النحل آیت نمبر 128) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :بے شک اﷲ کے نزدیک تم میں سے سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے‘‘۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 13)
اﷲ کی بارگاہ میں متقی مکرّم ہے
اﷲ تعالیٰ اپنے ‘‘متقی‘‘ بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :بے شک اﷲ کے نزدیک تم میں سے سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے‘‘۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 13) حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مکرّم ہو تو وہ اﷲ کا ’’تقویٰ‘‘ اختیار کرے‘‘۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:’’گناہوں پر اصرار نہ کرنا اور عبادت پر گھمنڈ نہ کرنا ’’تقویٰ‘‘ ہے‘‘۔حضرت ابراہیم بن ادھم نے فرمایا :’’تقویٰ یہ ہے کہ تمہاری زبان پر مخلوق کا عیب نہ ہو ، فرشتے تمہارے افعال میں عیب نہ پائیںاور اﷲ تعالیٰ تمہارے دل میں کوئی عیب نہ دیکھے‘‘ امام واقدی لکھتے ہیں :تقویٰ یہ ہے کہ جس طرح تم اپنے ظاہر کو مخلوق کے لئے مزیّن کرتے ہو اُسی اپنے باطن کو اﷲ کے لئے مُزیْن کرو۔ ایک قول یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں وہاں نہ دیکھے جہاں سے اُس نے منع کیا ہے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنائے اور دنیا کو پس پشت ڈال دے ، اپنے نفس کو اخلاص اور وفا کا پابند کرے اور حرام اور جفا سے اجتناب کرے وہی متقی ہے۔ اگر سورہ الحجرات کی آیت نمبر 13کے سوا متقین کی فضلیت میں اور کوئی آیت نہیں ہوتی تب بھی یہی آیت کافی تھی کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے یہاں متقین کو اپنی بارگاہ میں مکرّم فرمایا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ حقیقت میں انسان وہی ہے جو متقی ہو۔(تفسیر کبیر)
تقویٰ اور متقین کے بارے میں احادیث
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ۔ تناجش (کسی کو پھنسانے کے لئے زیادہ قیمت لگانا) نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ۔ ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو ۔ کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ۔ اﷲ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ اُس پر ظلم نہ کرے۔ اُسے رُسوا نہ کرے۔ اُس کو حقیر نہ سمجھے ‘‘۔ اِس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرے تین بار فرمایا :’’تقویٰ یہاں ہے… تقویٰ یہاں ہے… تقویٰ یہاں ہے…۔ کسی شخص کے بُرے ہونے کے لئے یہی کافی ہے ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو بُرا سمجھے ۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر مکمل حرام ہے ۔ اُس کا خون ، اُس کا مال اور اُسکی عزت۔(صحیح مسلم) حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’تمہارا رب یہ فرماتا ہے کہ میں ہی اِس بات کا مستحق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ، تو جو شخص مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اُس کی مغفرت کردوں گا‘‘۔ (سنن دارمی)حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’مجھے ایک ایسی آیت کا علم ہے کہ اگر لوگ صرف اِسی آیت پر عمل کرلیں تو وہ اُن کے لئے کافی ہوگی، جو شخص اﷲ سے ڈرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اُس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے‘‘۔ (سنن دارمی) ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ایام تشریق کے وسط میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے خطبہ سنا اُس نے یہ حدیث بیان کی، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا :’’اے لوگو! سنو! تمہارا رب ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے۔ سنو! کسی عربی کو عجمی پر فضیلت مہیں ہے اور نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے۔ نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے اور نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے، مگر فضیلت صرف تقویٰ کی ہے‘‘۔ (مسند احمد) حضرت عطیہ سعدی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’کوئی بندہ اُس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہوگا جب تک وہ بے ضرر چیز کو اِس خوف سے چھوڑ دے کہ شاید اِس میں ضرر ہو‘‘۔ یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ ہے۔ (جامع ترمذی) حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم (جب حضرت معاذ کو یمن کا گورنر بنا کر رخصت کرنے لگے) نے ارشاد فرمایا :’’شاید اِس سال کے بعد تم مجھ سے ملاقات نہیں کروگے‘‘۔ یہ سن کر حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ رونے لگے ۔ پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’میرے سب سے زیادہ قریب متقی ہوں گے ، چاہے وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں‘‘۔(مسند احمد)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے