وفاق المکاتب کا قیام: وقت کی اہم ترین ضرورت

تحریر: عین الحق امینی قاسمی
نائب صدر: جمعیة علماء ہند، بیگوسرائے

جون، /30/29 1961 ءکے بہار ریاستی21ٍ کانفرنس میں امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت ا ،للہ رحمانی صاحبؒ نے اپنے تاریخی خطاب میں فرمایا تھا کہ : ”ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں ،لیکن ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ہمارے بچے دین سے بے گانہ ہوجائیں ،اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ ہم اپنا تعلیمی نظام جاری کریں،تاکہ ہمارے بچے دین سے آشنا رہ سکیں ،اور مستقبل میں ہمارا وجود ایک مسلمان اور ایک با مقصد ملت کی حیثیت سے باقی رہے“ امیر شریعت کے اس درد وپیغام کو امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ نے ہمیشہ نہ صرف محسوس کیا ،بلکہ امیر شریعت رابع کے اس پیغام کو تب سے آج تک مختلف سطح سے مسلمانوں کے ایک ایک فرد سمیت گھر گھر تک پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہے ،تاکہ نئی نسل اپنے ایمان وعقیدے کے سرمائے کو جسم وجان سے زیادہ عزیز سمجھ کر اس کی حفاظت بھی کرے اور عمل بھی ۔ امارت شرعیہ نے شروع دن سے محسوس کیا کہ بنیادی دینی تعلیم کا فروغ ہی حیا باختہ معاشرے پر لگام لگانے کا کام کر سکتا ہے ،جس کے ذریعے زندگی کا مقصد ،تعلیم کی غرض اور انسانیت کی اہمیت کا سبق پڑھایا جاتا ہے ،بنیادی دینی تعلیم ہی شخصیت کا ارتقا ،ملی خدمت ،خود غرضی سے اوپر اٹھ کر سماجی ضرورت کا تعین ،ذہنی بالیدگی ، مثبت شعور میں پختگی اور اخلاقی وانسانی اقدار کا تحفظ جیسے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے تعمیری سوچ کے حامل افراد اور صالح معاشرے کے تشکیلی عناصر، رضاکا رانہ طریقے پر تب مضبوط وپائدار ہوں گے ،جب بنیادی دینی تعلیم ،ذاتی ولازمی حقوق کے نظرئیے سے فروغ پائے گی۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

یہ سچ ہے کہ ماضی میں مروجہ دارالاقامہ پر مشتمل مدارس اسلامیہ گنے چنے ہوتے تھے ،تب مکاتب ہی بنیادی دینی تعلیم کے فروغ کا ایک واحد ذریعہ تھے ،جہاں سے اجتماعی طور پر گاو¿ں محلے کے بچے بچیاں پابندی سے دین کا علم پاتے تھے ،ان مکاتب کے ذریعے پروان چڑھنے والی شخصیت کی علمی صلاحیت اور فروغ دین کے جذبے کا حال یہ تھا کہ جب ان میں سے کسی کی کبھی سرکاری سطح پر تدریس کے لئے تقرری ہوتی تو وہ اسکولوں میں” ٹیچر ” کم اور "مولوی صاحب” سے زیادہ مشہور ہوتے تھے ،ان مولوی صاحب کے ذہن وفکر میں دین اور دینداری کا عنصر نہ صرف ان کی مخلصانہ تعلیم وتربیت سے جھلکتی تھی بلکہ وہ وضع قطع میں بھی اپنے کو ایک "مولوی صاحب” کے طور پر پہچان رکھنے میں ہی راضی برضا نظر آتے تھے ،وہ ایک سرکاری مدرس ضرور ہوتے تھے، مگر اس سے زیادہ دین کے فروغ کے لئے ایسی محنت کرتے تھے کہ ان کے دم سے ہی دور دیہاتوں میں سماجی سطح پر دین کے تحفظ و بقا کا سامان فراہم ہوتاتھا ،وہی "مولوی صاحب "میلاد ،فاتحہ نیاز ، جمعہ،عید ،بقرعید کی نماز اوررمضانوں میں سحری کے وقت حمدیہ اشعار پڑھ کر دینی ذوق کو تابندہ بنائے رکھنے میں اپنا تن من دھن بھی لگاتے تھے اور کفن دفن کے عمل سے لے کر گھر کی جوان بہو بیٹیوں کو قرآن پاک اور دینیات کی تعلیم وغیرہ کے ذریعے ان آبادیوں میں اپنی حد تک دین کو زندہ رکھنے کے تعلق سے مخلصانہ کوشش کرتے رہنا ،ان کی زندگی کا نصب العین ہوتا تھا ،مگر جب سے دارالاقامہ کی صورت میں مدارس اسلامیہ کے قیام کی ہوڑ لگی ہے ، یہ اگر چہ اچھی چیز ہے مگر جب بہت اچھی چیز بھی بے ترتیب ڈھنگ سے برتی جانے لگتی ہے تو اس کی افادیت اور اہمیت کم ہوجایا کرتی ہے ،ایسا ہی کچھ موجودہ مدارس کی صورت حال میں بھی ہے ،مدارس کی افادیت اپنی جگہ ،لیکن مروجہ مدارس کی بہتات سے اتنا تو ضرور ہوا کہ مکاتب اپنی افادیت کھو بیٹھے ،اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جس کا ذکر ابھی اوپر ہو ا ،مگر اس کے علاؤہ ائمہ کرام کی طرف سے بھی اس کے افادیاتی پہلو اور مخلصانہ جد وجہد کے حوالے سے کہیں نا کہیں پہلو تہی بھی ایک اہم وجہ ہے،جس کا انکار ،رضاکارانہ طور پر ملی خدمات انجام دینے والے اور ملت کے بچوں کو صبح شام محض خانہ پوری کرکے واپس آتے جاتے دیکھنے والے کم ازکم نہیں کرسکتے ممکن ہے اس کی وجہ بھی ایک سے زیادہ ہوسکتی ہیں ،مگر اس نقطے کے اعتراف سے مفر نہیں کہ ہمارے ائمہ کی طرف سے دوسو پونہ دوسو بچوں کو محض گھنٹہ دو گھنٹہ میں تن تنہا پڑھا کر روانہ کرتے رہنا اورانتظامیہ کو مضبوطی سے اس بات کا احساس نہ کرانا کہ آپ کے بچوں کا نقصان ہورہا ہے ،اس کے لئے سرجوڑ کر کبھی بیٹھیئے بھی ،جیسے تیسے وقت پورا کر برسوں بچوں کا علمی استحصال کا ذمہ دار، کیا انہیں قرار نہیں دیا جاسکتا جنہوں نے اتنی بڑی تعداد کی تدریسی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے،۔مسجد انتظامیہ میں مسجد کے بجٹ میں تعلیمی اخراجات کو شامل کرنے کا رجحان سرے سے ندارد ہوتا ہے۔مکاتب میں رائج طریقہ تعلیم کی افادیت میں کمی آنے کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ مسجد انتظامیہ ،مسجد کے مسائل کو جس طرح دیکھتی ہے وہ اسی درجہ مسجد میں دی جانے والی بچوںکی تعلیم سے لاپروا اور غافل بھی ہوتی ہے ،وہ قطعا محلے کے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر اپنے بچوں کی طرح نہیں کرتی۔
اسی کے ساتھ ساتھ بہت بڑی ذمہ داری ان والدین وسرپر ست کی بھی بنتی ہے کہ وہ بچوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ روزانہ مکتب بھیجیں ،مکتب سے ملے اسباق کی یاددہانی بھی گھر میں کرائیں ،مکتب میں بطور تنبیہ سزاءکے طور پر اگر کبھی اساتذہ کی جانب سے کچھ مار پٹائی بھی ہوئی ہو، تو اس کو برداشت کریں ،کسی بھی طرح سے بچوں کے اساتذہ یا امام صاحب پر انگشت نمائی کی جرئت نہ کریں ،بلکہ امام صاحب یا اساتذئہ مکتب کی مدد کریں ،تاکہ سبھوں کی معاونت سے بچوں کی بہتر تعلیم وتربیت پر قابو پایا جاسکے۔مکاتب بالکل آزاد ہیں وہاں نہ کوئی نصاب ہے نہ نظام اور نہ مستقبل کے تعلق سے کوئی عزائم یا دور نزدیک سے ان مکاتب کو کوئی دیکھنے والا۔کم ازکم وعظ پرس کرنے والا بھی تو کوئی ہو ،جس سے کہ مکاتب میں اٹھان پیدا ہوسکے اوراس کو سمت ورفتار دیا جا سکے ۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے نتائج دینی رجحانات کے حق میں خطرناک ہوسکتے ہیں اگر وقت رہتے ہوئے اس کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا ۔موجودہ امیر شریعت مخدام گرامی قدر مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کی ہدائت وسرپرستی میں ابایک بار پھر امارت شرعیہ ن بہار اڑیسہ جھارکھنڈ نے بنیادی دینی تعلیم کے فروغ اور تحفظ ارد کے حوالے سے ” ہفتہ ” منانے کا لائحہ عمل تیار کیا ہے ،تو ایسے میں ضرورت ہے کہ بنیادی دینی تعلیم کے فروغ کے لئے وہ مکاتب کو فعال بنایا جائے اور اس کے لئے ضروری ہے امارت شرعیہ کہ وفاق المکاتب کا قیام عمل میں لائے ،اس کا کم از کم دوسالہ نصاب طے کرے ،اس کی تعلیمی ،تربیتی اور مالی دیکھ ریکھ کے لئے علاقائی سطح پر کمیٹی بنائے ،جو امارت شرعیہ کے ماتحت اور ہدایات کی روشنی میں بلاک سطح پر مکاتب کی افادیت سے مسلم سماج کے بچوں کو جوڑنے کے لئے رضاکارانہ محنت کرے۔کمیٹی از خود مکاتب کے اساتذہ اور بچوں پر نظر رکھے ،والدین وسرپرست کی طرف سے ہونے والی کوتاہیوں کو ماہ دوماہ کے اندر آپس میں مل بیٹھ کر اسے دور کرنے کی فکر کرے ،مشاورتی میٹنگ کرے ،مکتب کو فعال بنانے کی غرض سے اس مشاورتی میٹنگ میں والدین وسرپرست اور اساتذہ کے مشوروں کو اہمیت دے اور مکاتب کے پورے نظام اور سسٹم کے پیچ تال میل قائم رکھنے کے لئے کمیٹی ہیئت حاکمہ کے طور پر نہیں ،بلکہ ثالثی کا رول اداکرے۔اگر اس انداز سے بھی محنت کا آغاز ہوتا ہے ،تو مکاتب اپنا کھویا ہوا وقار واعتماد بھی حاصل کرسکیں گے اور اپنی افادیت سے مسلم گھرانوں میں دین وسنت کو زندہ کر ،نسلوں کے قلوب واعمال کو روشن کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی 9839171719 انسان کو دیگر مخلوقات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے