کیا صاحبِ اقتدار کا فیصلہ بھی پتھر کی لکیر ہے؟ ہزاروں راستوں پر مگر قانون ساز محفوظ قلعوں میں

تحریر: محمد توحید رضاعلیمی
امام مسجدِ رسول اللہ ﷺ مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ، نوری فائونڈیشن بنگلور ۲۹ کرناٹک انڈیا

وطنِ عزیز میں دن بہ دن نئے نئے قانون تشکیل پارہے ہیں ان قوانین میں کسی کو شہر بدر کئے جانے کے قوانین ہیں تو کسی کے حق کو چھینے کے قوانین ہیںگئو کشی قانون لاکرروزگار کو بے روزگار بنانے کے قوانین اور متعدد قوانین بنائے گئے مگر کسی قانون کے بنے سے مُلکی سُکوت اختیار کئے ہوئے تھے اور کسی قانون کے بنے سے مُلکی احتجاج کے لئے راستوں پر نکل آئے احتجاج کے درمیان کہیں کہیں تشددسے جانیں بھی ذائع ہوگئیں آج بھی کسان کالے قانون کی واپسی تک ڈتے رہنے کی ہر ممکن کوشش میں ہیں
مگرصاحبِ اقتدار اتنا کچھ آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود ناتو قانون کوواپس لے نے کی بات کرتے ہیں نہ کالے قانون کو سمجھانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور نہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرتے ہیں نہ اپنے فیصلوں سے رجوع کرکہ مُلکیوں کی سہولت کے تحت نئے قوانین تشکیل دیتے ہیںان کی انانیت سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کیا صاحبِ اقتدار کا فیصلہ بھی پتھر کی لکیر ہے؟جواب ہوگا نہیں اس لئے کہ ہر پانچ سال میں حکومت بدلتی ہے جس کی اکثریت ثابت ہوگی وہ دستورِ ہند کے تحت مُلکیوں کی آسانی کے لئے وقتِ ضرورت نئے قانون بناتے ہیں ، بہت قانون بن کر ٹوٹ بھی جاتے ہیں لیکن دنیا کے قانون بدلتے ہیں مگر قانونِ الٰہی کبھی ٹوٹ نہیں سکتا بدل نہیں سکتا جو حکمِ الٰہی ہے وہ قیامت تک باقی رہے گاکیوں کہ حقیقی قانون ساز اللہ رب العٰلمین ہے اسی کے حکم سے ساری دنیا قائم ہے اسی کے حکم سے سورج نکلتا ڈوبتا اور نظامِ کائنات چلتا ہے ہاں جب اللہ پاک چہتاہے تو اسے کسی مُلک کی سلطنت عطاکرتاہے سورۃ آلِ عمران آیت نمبر ۲۶ پارہ نمبر ۳ میںاللہ پاک نے ارشاد فرمایاقُلِ اللھمہ مٰلک المُلکِ تُئوتی المُلکَ مَن تَشاء۔اے اللہ مُلک کے مالک تو جسے چائے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے، کسی کو عارضی سلطنت عطاکرنے والا بھی وہی ہے اور سلطنت چین نے والا بھی وہی ہے ۔اس لئے کہ حقیقی بادشاہ اللہ پاک ہی ہے اور اس کا فرمان کبھی بدل نہیں سکتا
ہے قولِ محمد قولِ خدا فرمان نہ بدلا جائے گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلا جائے گا
جھوتوں پر اللہ کی لعنت ہے
جھوٹے لوگوں پر کسی اور کی لعنت نہیں بلکہ اللہ پاک کی لعنت نازل ہوتی ہے قرآنِ مقدس میں اللہ پاک نے ( سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۱۶ )پر ارشاد فرمایا لعنت اللہ علی الکٰذبین یعنی جھوٹوں پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے ،سور ہ حج آیت نمبر ۳۰ میں فرمایا فاجتنبواالرجس من الاوثانِ والجتنبوا قول الزورِ تودور رہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے ۔اور کافروں کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے انما یفتری الکذب الذین لا یوء منون باٰیٰت اللہ ،واُو لٰئک ھمُ الکذٰبون ،جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں اس آیت ِ کریمہ میں صاف کافروں کی عادت بتائی گئی کہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہوتے ہیں، آج بھی جھوٹوں کے سہارے زندگی بسر کرتے ہیں،سورہ ھود آیت نمبر ۱۸ میں ارشادِ باری تعالیٰ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ھٰوئُ لا ء الذین کذبوا علیٰ ربھم الا لعنۃ اللہ علی الظالمین،یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کو جھٹلایا خبردار ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ، بخاری شریف میں ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ
سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کرلیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتاہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹالکھ دیا جاتا ہے صحیح بخاری میں حضرت ِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے فرما یا منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ۔جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے، قرآن واحادیث میں جابجا جھوٹ سے بچ نے اور ہمیشہ سچ بولنے کی تاکید کی گئی ہے ،سچامسلمان وہی ہے جو اللہ و رسول کے حکم کا پابندہے وہ مسلمان کبھی بھی جھوٹ نہیں بول سکتا،اس لئے کہ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت برستی ہے اور جھوٹ بولنے والے منافق کہلاتے ہیں اور اللہ کے یہاں بھی بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ،اللہ کے بندوں اپنی آخرت کی فکر کرولقمہ ء اجل بننے سے پہلے ۔
زبان سے کہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
سچوں کے ساتھ ہوجائو
اللہ پاک نے جہاں جھوٹ سے اور جھوتوں کی صحبت سے بچنے کا حکم دیا ہے وہیں سچوں کی صحبت اختیار کرنے کا بھی حکم دیتا ہے قرآنِ پاک سورۃ توبہ ۱۱۹ آیت نمبر میں اللہ پاک نے ایمان والوں سے کہا ،
یا ایھاالذین اٰمنوا اتقول االلہ وکونوا مع الصٰدقین اے ایمان والوں۔اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجائو ۔اے مسلم عہدداروں تمہاری صفت جھوٹ بولنا دھوکہ دینا مال میں خیانت کرنا کسی کہ مال پر ناحق قبضہ جمانانہیں ہے ،تم ایک اللہ کے ماننے والے ہوہمیشہ سچ بولنے کی عادت ڈالو کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرو جھوٹ سے ہمیشہ کے لئے بچو،مال ِ دنیا کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی آج تمہارے پاس ہے تمہارے جانے کے بعد کسی اور کے پاس یہی تبدیلی جاری رہے گی ،لیکن نیکیاں ایسی ہیں جو دنیا و آخرت میں کام آتی ہیں ،اور نیکیاں کبھی ضائع بھی نہیں ہوتیں
ادنا واعلیٰ منصب پرفائزحکمرانوں، انصاف کو قائم رکھو
جیسے جیسے ظالموں اورناانصافوں کی فانی طاقت سر چڑکر بولتی ہے تو ان میں انصاف جیسی کوئی چیز نظر نہیں آتی ،مسلم کافر سکھ عیسائی سب کو الگ الگ نظرسے دیکھتے ہیں، جس کی بناپر کسی کے ساتھ انصاف ہوتا ہے کسی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے ،کسی کے جرائم کی فہرست طویل ہونے کے باوجود رہائی حاصل کررہے ہیں ،اور کسی پر بے جا مقدمات دائر کر کہ قیدو بند کی صعوبتوں سے دوچار ہونے پر مجبو رکیا جاتا ہے ،ہر ایک کے سا تھ برابر ا نصاف کرو،حالاتِ حاضرہ کے انصافوں سے سب واقف ہیں ۔ہم مسلمان ہیں اللہ پاک قرآنِ مجید میں فرمایا۔ واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ان اللہ نعماََ یعظکم بہ(سورہ نساء آیت ۵۸ پارہ ۵)اور جب تم لوگوں میں فیصلہ کروتو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت کرتا ہے ۔ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیﷺ نے ناانصافی پر گواہ بننے سے منع فرمایا اور فرمایا۔ فاتقو االلہ واعدلوا بین اولادکم اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل وانصاف کرو لا تشھدنی علیٰ جورِ لا اشھدُ علیٰ جورِ ۔مجھے کسی ظلم پر گواہ نہ بنائو یا یہ فرمایا میں کسی ظلم پر گواۃ نہیں بنتا ،(بخاری شریف جلد اول صفحہ ۳۵۲ ) تو قرآن و آحادیث سے معلوم ہوا ظالم کا ساتھ نا دیں جہاں ظلم ہو اسے روکنے کی کوشش کریں اگر عہدے پر فائز حکمراں ہی ظلم کریں ناانصافی کریں تو یاد رکھو اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے اللہ پاک جو ذرہ برابر نیکی کرے اُسے بھی دیکھتا ہے جو ذرہ برابر بدی کرے اُسے بھی دیکھتا ہے(سورہ زلزال پارہ ۳۰) ،دنیا میں ناانصافی تو ہوسکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناانصافی نہیں ہوسکتی ،اسی لئے زمین پر مخلوق ِ خداپر ترس کھائو زمین میں اللہ تمہاری مدد کرئے گا ،
اسی لئے حسان الہند اعلیٰ حضرت نے کہا
دن لہو میں کھونا تجھے ،شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا ،یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
متکبروں زمین پر اترا کر، نا چلو
جب کسی متکبر کے پاس مال ودولت ثر وت و قوت حاصل ہوتی ہے تو زمین پر اِترا کر چلتا ہے ،جو عمدہ سواریوں پر سوار ہوتے ہیں وہ تو زمین پر پیر رکھنے کو بھی غیب( اپنی شان کے خلاف) سمجھ تے ہیں ،اللہ پاک نے فرمایا ،ولا تمش فی الارض مرحاََ ،اور زمین پر اتراتا نہ چل(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۳۷پارہ ۱۵) ۔زمین پر اترا کر چلنے سے بھی اللہ نے منع کیا ہے ،زمین پر چلنے کاطریقہ بھی شریعت میں موجود ہے ،راستہ کے آداب بھی موجود ہیں ،اللہ ہی عزت و ذلت دینے والا ہے اللہ نے کہا وتعزو من تشاء وتذل من تشاء ،اللہ جسے چاہے اُسے عزت عطاکرتا ہے اللہ جسے چاہے اُسے ذلت عطاکرتا ہے ،(سورہ آلِ عمران آیت نمبر ۲۶پارہ ۳)اللہ کا حکم مانو بیشک اسی میں کامیابی ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے