بعض منافقانہ اعمال و عادات

شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام: جامع مسجد، شاہ میاں روہوا ویشالی بہار

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ چاروں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کا حال یہ ہے کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے اور وہ اسی حال میں رہے گا جب تک کہ اس عادت کو چھوڑ نہ دے وہ چاروں عادتیں یہ ہیں کہ جب اس کو کسی امانت کا امین بنایا جائے تو اس میں خیانت کرے۔ اور جب باتیں کرے تو جھوٹ بولے۔ جب عہد معاہدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے۔ اور جب کسی سے جھگڑا اور اختلاف ہو تو بد زبانی کرے ۔ (بخاری و مسلم)
حقیقی اور اصلی نفاق انسان کی جس بدترین حالت کا نام ہے وہ تو یہ ہے کہ آدمی نے دل سے تو اسلام کو قبول کیا نہ ہو بلکہ دل سے اس کا منکر اور مخالف ہو لیکن کسی وجہ سے وہ اپنے کو مومن و مسلم ظاہر کرتا ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ ابن ابی وغیرہ مشہور منافقین کا حال تھا یہ نفاق دراصل بدترین اور ذلیل ترین قسم کا کفر ہے اور انہیں منافقین کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ۔
مفہوم: ضرور بالضرور یہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ڈالے جائیں گے ۔(سورہ نساء)
لیکن بعض بری عادتیں اور بد خصلتیں بھی ایسی ہیں جن کو ان منافقین سے خاص نسبت اور مناسبت ہے اور وہ دراصل انہیں کی عادتیں ہیں اور کسی صاحبِ ایمان میں ان کی پرچھائیں بھی نہیں ہونی چاہیے پس اگر بدقسمتی سے کسی مسلمان میں ان میں سے کوئی عادت ہو تو سمجھا جائے گا کہ اس میں یہ منافقانہ عادت ہے اور اگر کسی میں بدبختی سے منافقوں والی وہ ساری عادتیں جمع ہو جائیں تو سمجھا جائے گا کہ وہ شخص اپنی سیرت میں پورا منافق ہے ۔
الغرض ایک نفاق تو ایمان و عقیدے کا نفاق ہے جو کفر کی بدترین قسم ہے لیکن اس کے علاوہ کسی شخص کی سیرت کا منافقوں والی سیرت ہونا بھی ایک قسم کا نفاق ہے مگر وہ عقیدے کا نہیں بلکہ سیرت اور کردار کا نفاق ہے اور ایک مسلمان کے لئے جس طرح ضروری ہے کہ وہ کفر و شرک اور اعتقادی نفاق کی نجاست
سے بچے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ منافقانہ سیرت اور منافقانہ اعمال و اخلاق کی گندگی سے بھی اپنے کو محفوظ رکھے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصائل نفاق میں سے چار کا ذکر فرمایا ہے ۔
1, خیانت ۔
2, جھوٹ ۔
3, عہد شکنی ۔
4,بد زبانی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ اس میں ایک منافقانہ خصلت ہے اور جس میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہوں وہ اپنی سیرت میں خالص منافق ہے ۔
1, اس حدیث میں منافق کی پہلی علامت جو بیان فرمائی گئی وہ ہے ۔(امانت میں خیانت) یعنی مسلمان کا کام نہیں ہے کہ وہ امانت میں خیانت کرے بلکہ یہ منافق کا کام ہے قرآن مجید اور احادیث میں امانت پر زور دیا گیا ہے اور امانت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔
مفہوم ۔ اللہ تعالی تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ (سورہ نساء)
اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو خاندانی طور پر خانہ کعبہ کے دربان و کلید بردار چلے آرہے تھے نازل ہوئی ہے مکہ فتح ہونے کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ وسلم خانہ کعبہ تشریف لائے تو طواف وغیرہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہو چکے تھے طلب فرمایا اور انہیں خانۂ کعبہ کی چابیاں دے کر فرمایا یہ تمہاری چابیاں ہیں آج کا دن وفا اور نیکی کا دن ہے ۔ (ابن کثیر)
آیت کا یہ سبب نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم عام ہے اور اس کے مخاطب عوام اور حکام دونوں ہیں دونوں کو تاکید ہے کہ امانتیں انہیں پہنچاؤ جو امانتوں کے اہل ہیں اس میں ایک تو وہ امانتیں شامل ہیں جو کسی نہ کسی کے پاس رکھوائی ہوں اس میں خیانت نہ کی جائے بلکہ یہ بحفاظت عند الطلب لوٹا دی جائیں۔ دوسرے عہدے اور مناصب اہل لوگوں کو دیئے جائیں محض سیاسی بنیاد۔ یا نسلی و وطنی بنیاد۔یا قرابت و خاندان کی بنیاد۔ یا کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر عہدہ و منصب دینا اس آیت کے خلاف ہے ۔
لیکن آج ہمارے ذہنوں میں امانت کا صرف اتنا تصور ہے کہ کوئی شخص پیسے لے کر آئے اور وہ یہ کہے کہ یہ پیسے آپ بطور امانت اپنے پاس رکھ لیں جب ضرورت ہوگی اس وقت میں آپ سے واپس لے لوں گا تو یہ امانت ہے اور اگر کوئی شخص امانت میں خیانت کرتے ہوئے ان پیسوں کو کھاکر ختم کر دے یا جب وہ شخص اپنے پیسے مانگنے آئے تو اس کو دینے سے انکار کردے تو یہ خیانت ہوئی ہمارے ذہنوں میں امانت اور خیانت کا بس اتنا ہی تصور ہے یاد رکھیں ہماری پوری زندگی اللہ کی امانت ہے امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ یہ زندگی ۔ یہ جسم ۔آنکھ ۔ کان ۔ زبان ۔ بدن میں جتنی چیزیں ہیں سب کے سب اللہ کی امانتیں ہیں لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ امانت میں خیانت کرنا نفاق کی علامت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بھی گناہ ہیں چاہے وہ آنکھ کا گناہ ہو یا کان کا گناہ ہو یا زبان کا گناہ ہو یا ہاتھ اور پاؤں کا گناہ ہو یا کسی اور عضو کا گناہ ہو وہ سارے امانت میں خیانت کے اندر داخل ہیں اور وہ مسلمان کے کام نہیں ہیں بلکہ منافق کے کام ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے اندر امانت نہیں اس کے اندر ایمان بھی نہیں ۔ (مسند احمد)
گویا کہ ایمان کا لازمی تقاضہ ہے کہ امین ہو امانت میں خیانت نہ کرتا ہو ۔
2, منافق کی دوسری علامت یہ بتائی گئی کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولےیہ جھوٹ بولنا حرام ہے ایسا حرام ہے کہ کوئی ملت کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں جھوٹ بولنا حرام نہ ہو زبان کے ذریعہ سے سب سے زیادہ جس گناہ کا ارتکاب کر کے بے حیائی کا ثبوت دیا جاتا ہے وہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے ۔
قرآن کریم میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی گئی ہے ۔
مفہوم ۔ پس لعنت کریں اللہ تعالی کی ان پر جو کہ جھوٹے ہیں ۔(سورہ آل عمران)
احادیث مبارکہ میں مختلف انداز سے اس گناہ کی شناعت کو بیان فرمایا گیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس کلمہ کی بدبو کی وجہ سے جو اس نے بولا ہے رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے (ترمذی)
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آپ کو آسمان پر لے گئے ہیں وہاں آپ نے دو آدمیوں کو دیکھا ایک کھڑا ہوا ہے دوسرا بیٹھا ہے کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے آدمی کے کلے کو لوہے کی زنبور سے گدی تک کاٹتا ہے پھر دوسرے کلے کو اسی طرح کاٹتا ہے اتنے میں پہلا کلا ٹھیک ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ یہ عمل برابر جاری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی فرشتوں سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے کلے چیرے جا رہے ہیں وہ ایسا بڑا جھوٹا ہے جس نے ایسا جھوٹ بولا کہ وہ اس سے نقل ہو کر دنیا جہاں میں پہنچ گیا لہذا اس کے ساتھ قیامت تک یہی معاملہ کیا جاتا رہے گا (بخاری)
مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے ممانعت فرمائی بلکہ ایسے شخص کے لئے تین مرتبہ بد دعا فرمائی ہے ۔ جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لئے بربادی ہو۔ بربادی ہو۔ بربادی ہو ۔(ترمذی۔مشکوۃ)
آج کل عام لوگ ہنسانے کے لیے نت نئے چٹکلے تیار کرتے ہیں اور محض اس لیے جھوٹ بولتے ہیں تاکہ لوگ ہنسیں انہیں رسول صلی اللہ وسلم کا مذکورہ بالا ارشاد اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور اس برے فعل سے باز آنا چاہیے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایسی گفتگو کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے (ابوداؤد۔مشکوۃ)
3, منافق کی تیسری علامت یہ بتائی گئی کہ جب عہد معاہدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کو نبھاتا ہے اس کو پورا کرتا ہے وعدہ کی خلاف ورزی اور وعدہ کو توڑنا منافق کی نشانی ہے اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے ۔
4, منافق کی چوتھی علامت یہ بتائی گئی کہ جب کسی سے جھگڑا اور اختلاف ہو تو بدزبانی کرے ۔
زبان سے صادر ہونے والے بدترین گناہوں میں لعن طعن اور فحش کلامی کرنا داخل ہے یہ بدزبانی کسی بھی صاحب ایمان کو ہرگز زیب نہیں دیتی زبان کے ذریعہ ایذا رسانی کرنے والوں کو قرآن کریم میں سخت گناہ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے ارشاد خداوندی ہے ۔ مفہوم ۔ اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کئے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا (سورہ احزاب)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث مبارکہ میں گالم گلوچ اور بد زبانی اور فحش کلامی کی سخت مذمت فرمائی ہے ۔
ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والدین کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالیاں دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں اس طرح ممکن ہے کہ وہ کسی شخص کے باپ کو گالی دے پھر وہ شخص اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح یہ کسی کی ماں کو گالی دے پھر اس کی ماں کو گالی دی جائے اس طرح گالی دینے والا خود اپنے والدین کو گالیاں دلوانے کا سبب بن گیا (مسلم)
ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں کچھ لوگوں کو مچھروں نے کاٹ لیا انہوں نے مچھروں کو برا بھلا کہنا شروع کیا حضور صلی اللہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ مچھر کو برا بھلا نہ کہو وہ اچھا جانور ہے اس لئے کہ وہ تمہیں اللہ کی یاد کے لیے بیدار اور متنبہ کرتا ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو لعنت کرنے سے بھی منع فرمایا ہے (الترغیب والترہیب)
ذرا اندازہ لگائیں جب جانوروں کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے تو انسانوں کو ایک دوسرے پر لعن طعن کی کیسے ا جازت دی جاسکتی ہے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو منافق والی نماز ہے کہ بے پرواہی سے بیٹھا آفتاب کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوگیا اور اس کے غروب کا وقت قریب آ گیا تو نماز کو کھڑا ہوا اور چڑیا کی طرح چار چونچیں مار کر ختم کر دیں اور اللہ کا ذکر بھی اس میں بہت تھوڑا کیا (مسلم)
مومن کی شان تو یہ ہے کہ شوق کی بے چینی سے نماز کے وقت کا منتظر ر ہے اور جب وقت آئے تو خوشی اور مستعدی سے نماز کے لیے کھڑا ہو اور یہ سمجھتے ھوئے کہ اس وقت مجھے مالک الملک کے دربار عالی کی حضوری نصیب ہے پورے اطمینان اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے اور قیام و قعود اور رکوع و سجود میں خوب اللہ کو یاد کرے اور اس سے اپنے دل کو شاد کرےلیکن منافقوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز ان کے لئے ایک بوجھ ہوتی ہے وقت آ جانے پر بھی اس کو ٹالتے رہتے ہیں مثلا عصر کی نماز کے لیے اس وقت اٹھتے ہیں جب سورج بالکل ڈوبنے کے قریب ہو جاتاہے اور بس چڑیا کی سی چار چونچیں مار کر نماز پوری کردیتے ہیں اور اللہ کا نام بھی بس برائے نام ہی لیتے ہیں پس یہ نماز منافق کی نماز ہے اور جو کوئی ایسی نماز پڑھتا ہے وہ مخلص مومنوں والی نہیں بلکہ منافقوں والی نماز پڑھتا ہے۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں ہو اور اذان ہو جائے اور وہ اس کے بعد بھی بلا کسی خاص ضرورت کے مسجد سے باہر چلا جائے اور نماز میں شرکت کے لیے واپسی کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو وہ منافق ہے (ابن ماجہ)
الغرض یہ منافقانہ طرز عمل ہے پس ایسا کرنے والا اگر عقیدے کا منافق نہیں ہے تو وہ منافق عملی ہے ۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو منافقانہ اعمال و اخلاق سے بچنے اور شریعت مطہرہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے