اجتماعیت سے ہی انسان طاقتور ہوتا ہے

تحریر: شہادت حسین فیضی، کوڈرما جھارکھنڈ

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

دنیا کی معلوم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات دو دو چار کی طرح بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ظلم و ستم اور غیر انسانی سلوک اکثر کمزوروں پہ ہی کیا گیا ہے جو آج بھی بدستور جاری ہے۔ عراق، ایران، لیبیا، شام، فلسطین،بوسنیا و ہرزیگووینا،چیچینیا اور روہنگیا وغیرہ ممالک میں مسلمانوں پر جو بھی بربریت ہوئی یا ہو رہی ہے اس کی اصل وجہ ان کی کمزوریاں ہیں۔آج مسلمانان ہند پر جو لگاتارحملے ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی ہماری تعلیمی ،سیاسی اور اقتصادی کمزوریاں ہی ہیں۔ کیا ان حملوں میں مارے گئے لاکھوں مسلمانوں کو کبھی انصاف ملے گا؟ کیا ان حملہ آوروں کا مواخذہ ممکن ہے؟ ان سب کا جواب نفی میں ہے کیوں کہ آج کے دور میں انصاف ملتا نہیں ہے بلکہ انصاف بزور قوت و ثروت حاصل کیا جاتا ہے۔کیا زیادہ تر طاقتور ظالم آج بھی بے لگام نہیں گھوم رہے ہیں؟ اور اگر بعضوں پر کوئی کاروائی ہوتی بھی ہے تو کورٹ کی کچہری سے لیکر عدالت کی کرسی تک اور تھانے کی کسٹڈی سے لے کر جیل کی سلاخوں تک ہر جگہ اس کی طاقت و قوت اور اکڑ کی طوطی بولتا ہے، عدل و انصاف کا ترازو بھی اس کے سامنے فیصلہ کرنے میں لڑکھڑا اٹھتا ہے۔تھانے کے چوکیدار سے لے کر جیل کے ہولدار تک سبھی جھک کر اسے سلام کرتے ہیں۔اور دوسری طرف مظلوم بیچارہ ہے جس کی بے گناہی اندھوں کو بھی صاف دکھائی دے لیکن کوئی کان دھرنے کو نہیں۔ یہاں ہر طرح کی مراعات صرف طاقت کے پلڑے میں فٹ بیٹھتی ہیں اور کمزوروں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس کی مثالیں ہر زمانے کے حکمران طبقے کا‌ نیم روز سے زیادہ روشن اور پہاڑ جیسے بڑے بڑے کرپشن اور بدعنوانیوں کے سیکڑوں واقعات ہیں جس پر انہیں کبھی بھی کوئی قرار واقعی سزا نہیں دی گئی! إلاماشاءالله!
آج پوری دنیا میں سب سے زیادہ غیر انسانی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔انہیں ہی ہر جگہ مشق ستم بنایا جاتا ہے۔ظلم و جبر کے سارے زور انہیں پہ آزمائے جاتے ہیں۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔
یہ سچ ہے کہ کمزور ہمیشہ دبائے جاتے ہیں اور آج ہم کمزور ہیں یہ بات ہماری مظلومیت کی داستان بیاں کرتی ہے۔ ہمارا افتراق و انتشار ہمیں دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑائے جا رہا ہے۔ غربت و افلاس کے سامنے سستی و کاہلی کی دبیز چادر اوڑھے ہمارا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہونے کی للک نےکہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ہر معاملے میں اپنی الگ تنظیم یا ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کے جس غیر اسلامی جذبے کا حشیش پی کر ہم مست قلندر ہیں اس نے ہمارے اسلامی قلعے کو مسموم بناکر رکھ دیا ہے۔
الحمداللہ ہم مسلمان ہیں اور ہر طرح کے حالات میں ہمارے لیے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہی بہترین نمونۂ عمل ہے۔ ہمیں کامیابی صرف اور صرف طریقۂ مصطفوی سے ہی مل سکتی ہے۔
طریق مصطفی کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی
اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی
ابتدائے اسلام کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہوں جس سے واضح ہو گا کہ اجتماعیت کے کیاکیا فائدے ہیں اور ساتھ ہی کمزوری، غلامی،بیگانگی،قوم وملت سے علحدگی اور سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے کے کیا کیا نقصانات ہیں:
▪️ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابتدائی طور پر سات افراد نے سب سے پہلے مکہ میں اسلام کا اعلان کیا۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمار بن یاسر، حضرت سعید بن زید، حضرت صہیب بن سنان، حضرت بلال اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اللہ تعالی عنہم۔اللہ تعالی نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چچا کے ذریعہ تقویت دی۔ حضرت ابوبکر صدیق کی حفاظت ان کی قوم کے ذریعہ کرائی۔ اور بقیہ مسلمانوں کو مشرکین نے پکڑا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنائیں اور سخت دھوپ میں انہیں تپایا۔ (مسند احمد، تہذیب الکمال للمزي)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے نکلے اور مسلمان ہو گئے۔ یہ دوسرا واقعہ تھا۔لیکن اس سے پہلے بھی وہ قتل کے ارادے سے نکلے تھے۔ اور ان کے علاوہ اور کئی لوگ تھے جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن جب ان کے سامنے یہ جملہ بولا جاتا کہ "وكيف تأمن في بني هاشم وبني زهرة إذا قتلت محمداً” یعنی تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا تو بنی ہاشم اور بنی زہرہ سے کیسے بچو گے؟ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري للعینی: ج17-ص 12-باب 35)
یہ جملہ سن کر ان کی ہمت جواب دے جاتی تھی۔
▪️ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بنو تیم بن مرہ جن کے پاس مکہ مکرمہ میں خون بہا اور اور دیتوں کا محکمہ تھا۔ بہت ہی مضبوط قبیلہ تھا۔ مشرکین انہیں بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن قبائلی عصبیت اور ان کی اجتماعیت سے ڈرتے تھے۔
▪️حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بنوا عدی جو دسویں پشت میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کعب بن لؤی پر جاکر مل جاتا ہے۔ ایک شان و شوکت والا قبیلہ تھا اور سعید بن زید جو پہلے سے ہی توحید کی حقانیت اور شرک کی قباحت سے واقف تھے۔ ابتدائے اسلام میں ہی ایک پیاسے کی طرح آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کے جام شیرین سے اپنی پیاس بجھا لی تھی۔ انہیں بھی اپنے قبیلہ کا تحفظ ملا ہوا تھا اور بایں طور وہ بھی مشرکین مکہ کے ظلم سے محفوظ تھے۔
▪️ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا۔ جو "حضرموت” میں آباد تھے۔ حضرت مقداد "حضر موت” سے مکہ آئے اور یہاں اسودنامی ایک شخص نے انہیں پناہ دی اور ان کی پرورش کی۔ اور اسی لیے وہ ابن اسود سے مشہور ہیں۔ انہوں نے پہلے حبشہ اورپھر مدینہ طیبہ ہجرت کی۔ ان کی شادی ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب سے ہوئی تھی جو آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی چچا زاد بہن تھیں۔چوں کہ ان کے رشتے مکہ کے بڑے اور شریف قبائل سے تھے اس لیے انہیں بھی قبیلائی تحفظ حاصل تھا۔ (أسد الغابة: ج 3 – ص 246)
▪️ حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کے والد سنان حکومت کسریٰ کی جانب سے”أبلہ” کے حاکم تھے۔ ابلہ اگرچہ عراق کا حصہ تھا ، لیکن اس زمانے میں یہ ایران کے قبضے میں تھا۔ سنان کو ایرانی شہنشاہ ہی نے یہاں کا حاکم مقرر کیا تھا اور اس حاکم کا اصل وطن عرب تھا۔ رومیوں نے اس علاقے پر حملہ کیا اور حضرت صہیب جو ابھی بچے تھے قیدی بنالیے گئے۔ اور وہ جب کچھ بڑے ہوئے تو کلب نام کا ایک عربی شخص نے انہیں خرید کر مکہ میں عبداللہ بن جدعان کو فروخت کر دیا۔ جنہوں نے انہیں آزاد کرکے اپنے قبیلہ میں شامل کرلیا۔ انہوں نے تجارت شروع کی اور کافی دولت کمائی۔ انہیں بھی مکہ میں قبائلی تحفظ فراہم تھا۔ لیکن جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو مشرکین مکہ نے ان کا راستہ روک لیا اور کہا کہ تم مکہ خالی ہاتھ آئے تھے۔ ساری دولت تم نے یہاں آکر حاصل کی ہے۔ اب اگر یہاں سے جانا چاہتے ہو تو خالی ہاتھ جاؤ۔ انہوں نے اپنی ساری دولت مکہ میں چھوڑ دی۔ اور ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ اس پہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مبارک باد دی۔ اور فرمایا کہ "صہیب نے اچھی تجارت کی ہے کہ مال چھوڑ کر ایمان کو اختیار کر لیا”۔ (طبقات ابن سعد ج 3 – ص 290)
یہ تو وہ لوگ تھے جن کا سماج و معاشرے میں کچھ نہ کچھ اثر و رسوخ تھا اور جس کا انہیں بھر پور سپورٹ بھی ملا لیکن ان ایام میں اور ان ہی لوگوں کے ساتھ جو غلام اور باندیاں ایمان لائیں ان کے ساتھ بے انتہا ظلم و ستم کیا گیا۔ حضرت بلال اور حضرت عمار وغیرہ کی پیٹھ میں سفید داغ تھے جو ابرص نہیں تھے۔ بلکہ انہیں جو گرم سلاخوں سے داغا جاتا تھا اور تپتی ریت پر باندھ کر ڈال دیا جاتا تھا یہ ان ہی زخموں کے نشانات تھے۔ نیز اسلامی تاریخ میں ایمان کی خاطر شہید ہونے والوں میں اولین نام حضرت عمار کے والدین کریمین حضرت سمیہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہما کا نام نامی اسم گرامی ہے۔ کیونکہ یہ سب غلام تھے اور ان کے تعلق سے کوئی مواخذہ کرنے والا نہیں تھا۔ اس لیے انہیں قتل کرنا یا ان پر ظلم و ستم کرنا ان کے لیے بالکل آسان تھا۔ ان غلاموں اور باندیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر مکہ میں مظالم ڈھائے گئے۔
مذکورہ بالا حالات میں جہاں مسلمان اتنے کمزور تھے کہ ان میں دفاعی ردعمل کی بھی طاقت نہیں تھی۔ جبکہ کفار مکہ چاہتے تھے کہ مسلمان جوابی کارروائی، ردعمل اور احتجاج وغیرہ کریں تاکہ انہ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے