مذہب اسلام احترامِ انسانیت کا دین ہے

تحریر: محمد نفیس القادری امجدی
خطیب وامام ،جامع مسجد منڈیا گنوں سہالی
استاذ: جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیامعافی،مرادآباد،یوپی،الہند

مذھب اسلام میں  ایک انسا ن کی عزت و حرمت بہت زیادہ ہے اور اگر وہ انسان مسلمان بھی ہو تو اس کی عزت و حرمت کی قدر مذھب اسلام میں اورزیادہ ہوجاتی ہے، اسی لئے مذھب اسلام نے ان جملہ اَفعال سے بچنے کا حکم دیا ہے جن سے کسی انسان کی عزت و حرمت پامال یا خراب ہوتی ہو۔
ان افعال میں  سے ایک فعل کسی انسان کے عیب تلاش کرنا اور اسے دوسروں کے سامنے بیان کر دینا ہے، کہ جس کا اولاد آدم کی عزت و حرمت ختم کرنے میں  بہت بڑا کردار ہوتا ہے ،اس وجہ سے جہاں  اس انسان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا عیب لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے ،وہیں  وہ شخص بھی لوگوں  کی نفرت اور ملامت کا سامنا کرتا ہے جو عیب تلاش کرنے اور انہیں  ظاہر کرنے میں  لگا رہتا ہے ،کیونکہ عیب تلاش کرنے والے اور جس کا عیب بیان کیا جائے ، دونو ں کی عزت و حرمت چلی جاتی ہے ،اس لئے مذھب اسلام نے انسان کے عیبوں  کی تلاش میں لگے  رہنے اور انہیں  لوگوں کے سامنے شرعی اجازت کے بغیر بیان کرنے سے منع فرمایا اور عیب تلاشی میں رہنےوالوں کےلئے سخت وعیدیں بیان کی گئیں  تاکہ ان وعیدوں  سے ڈر کر لوگ اس بُرے فعل سے اجتناب کریں اور سب کی عزت و حرمت کی حفاظت ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے :

وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(سورۃ الحجرات،آیت۱۲)
اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
(کنزالایمان)
       اس آیت کے تحت حدیث شریف میں ہے،
کہ غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے ایسی بات کہی جاۓ جو اسے ناگوار گزرے اگر وہ بات سچی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان۔
ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں  کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، یقینا یہ تمہیں  ناپسند ہوگا ،تو پھر مسلمان بھائی کی غیبت بھی تمہیں گوارا نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس کو پیٹھ پیچھے برا کہنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کی مثل ہے کیونکہ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح اس کی بدگوئی کرنے سے اسے قلبی تکلیف ہوتی ہے اور درحقیقت عزت وآبرُو گوشت سے زیادہ پیاری ہے۔
شانِ نزول: جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مال داروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب اُن کی خدمت کرے اور وہ اسے کھلائیں  پلائیں ،یوں ہر ایک کا
کا م چلے،چنانچہ اسی دستور کے مطابق حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دو آدمیوں  کے ساتھ کئے گئے تھے، ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے تو اُن دونوں  نے انہیں  کھانا طلب کرنے کے لئے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  بھیجا، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کچن کے خادم حضرتِ اُسامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھے، اُن کے پاس کھانے میں  سے کچھ باقی رہا نہ تھا،اس لئے انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں  ہے۔ حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہی آکر کہہ دیا تو اُن دونوں رفیقوں  نے کہا : اُسامہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ) نے بخل کیا ۔جب وہ حضورِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا’’ میں  تمہارے منہ میں  گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ۔ اُنہوں نے عرض کی:ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ۔ ارشادفرمایا’’ تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اُس نے مسلمان کا گوشت کھایا۔( الحجرات، تحت الآیۃ ۱۲:کنزالایمان ملخصاً)

جو شخص لوگوں کے عیب تلاش کرنے میں رہتا ہے اسے خاص طور پر اور تمام لوگوں کو عمومی طور پر چاہئے کہ کسی کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے اندر موجود عیبوں کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں کہ اسی میں ان کی اور دوسروں کی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔

غیبت کی مذمت میں ارشاد رسول ﷺ

کثیر اَحادیث میں غیبت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے
(۱)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’کیاتم جانتے ہوکہ غیبت کیاچیزہے ؟ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی :اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی زیادہ جانتے ہیں  ۔ارشادفرمایا’’تم اپنے بھائی کاوہ عیب بیان کروجس کے ذکرکووہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اس کے بارے میں  آپ کی کیا رائے ہے کہ اگرمیرے بھائی میں  وہ عیب موجود ہوجسے میں  بیان کرتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا:تم جوعیب بیان کررہے ہو اگروہ اس میں  موجود ہوجب ہی تووہ غیبت ہے  اوراگراس میں  وہ عیب نہیں  ہے توپھروہ بہتان ہے۔( مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، باب تحریم الغیبۃ، ص۱۳۹۷)

(۲)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب مجھے معراج کرائی گئی تومیں  ایسے لوگوں  کے پاس سے گزراجن کے ناخن پیتل کے تھے اوروہ ان ناخنوں  سے اپنے چہروں  اورسینوں  کونوچ رہے تھے ،میں  نے پوچھا:اے جبریل! عَلَیْہِ السَّلَام، یہ کون لوگ ہیں ؟انہوں  نے کہا: یہ وہ افراد ہیں  جولوگوں کاگوشت کھاتے اوران کی عزتوں  کوپامال کرتے تھے ۔ (ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، ۴ / ۳۵۳)

   ان دونوں حدیثوں کے مفہوم سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ انہیں  غور سے پڑھے اور غیبت سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے، فی زمانہ اس حرام فعل سے بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے،
کیونکہ آج کل مسلمانوں  میں  یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے اور وہ اس سے بچنے کی طرف بالکل توجہ نہیں  کرتے اور ان کی بہت کم مجلسیں  ایسی ہوتی ہیں  جو چغلی اور غیبت سے محفوظ ہوں ۔اللہ رب العزت ہمیں  غیبت جیسی خطرناک باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے

غیبت کی تعریف
کسی کی عدم موجودگی میں اسکی بدگوئی، غیر حاضری میں عیبوں کا بیان، بیٹھ پیچھے کی برائی۔

غیبت یہ ہے کہ کسی شخص کے برے وصف کو اس کی عدم موجودگی میں اس طرح بیان کریں کہ اگر وہ سن لے تو برا مانے خواہ زبان سے بیان کرے یا بذریعہ اعضاء یا بذریعہ قلم یا کسی اور طریقے سے عیب جوئی کی جائے اگر وہ عیب اس میں موجود نہیں تو یہ تہمت اور بہتان ہے۔

      صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :غیبت کے یہ معنی ہیں  کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں  کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اور اگر اس میں  وہ بات ہی نہ ہو تو یہ غیبت نہیں  بلکہ بہتان ہے۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳)

 غیبت سے متعلق چند شرعی مسائل درج ذیل ہیں:

(1)…غیبت جس طرح زبان سے ہوتی ہے (اسی طرح) فعل سے بھی ہوتی ہے، صراحت کے ساتھ برائی کی جائے یا تعریض و کنایہ کے ساتھ ہو سب صورتیں  حرام ہیں ، برائی کو جس نَوعِیَّت سے سمجھا ئے گا سب غیبت میں  داخل ہے۔تعریض کی یہ صورت ہے کہ کسی کے ذکر کرتے وقت یہ کہا کہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں  ایسا نہیں ‘‘ جس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ ایسا ہے۔ کسی کی برائی لکھ دی یہ بھی غیبت ہے ،سر وغیرہ کی حرکت بھی غیبت ہوسکتی ہے، مثلاً کسی کی خوبیوں  کا تذکرہ تھا اس نے سر کے اشارہ سے یہ بتانا چاہا کہ اس میں  جو کچھ برائیاں  ہیں  ان سے تم واقف نہیں ، ہونٹوں  اور آنکھوں  اور بھوؤں  اور زبان یا ہاتھ کے اشارہ سے بھی غیبت ہوسکتی ہے۔

(2)…ایک صورت غیبت کی نقل ہے مثلاً کسی لنگڑے کی نقل کرے اور لنگڑا کر چلے، یا جس چال سے کوئی چلتا ہے اس کی نقل اتاری جائے یہ بھی غیبت ہے، بلکہ زبان سے کہہ دینے سے یہ زیادہ برا ہے کیونکہ نقل کرنے میں  پوری تصویر کشی اور بات کو سمجھانا پایا جاتا ہے (جب) کہ کہنے میں  وہ بات نہیں  ہوتی۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳ )

(3)…جس طرح زندہ آدمی کی غیبت ہوسکتی ہے مرے ہوئے مسلمان کو برائی کے ساتھ یاد کرنا بھی غیبت ہے، جبکہ وہ صورتیں  نہ ہوں  جن میں  عیوب کا بیان کرنا غیبت میں  داخل نہیں ۔ مسلم کی غیبت جس طرح حرام ہے کافر ذمی کی بھی ناجائز ہے کہ ان کے حقوق بھی مسلم کی طرح ہیں  (جبکہ) کافر حربی کی برائی کرنا غیبت نہیں ۔

(4)…کسی کی برائی اس کے سامنے کرنا اگر غیبت میں  داخل نہ بھی ہو جبکہ غیبت میں  پیٹھ پیچھے برائی کرنا معتبر ہو مگر یہ اس سے بڑھ کر حرام ہے کیونکہ غیبت میں  جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایذاء ِمسلم ہے وہ یہاں  بدرجہ اَولی پائی جاتی ہے غیبت میں  تو یہ اِحتمال ہے کہ اسے اطلاع ملے یا نہ ملے اگر اسے اطلاع نہ ہوئی تو ایذا بھی نہ ہوئی، مگر احتمالِ ایذا کو یہاں  ایذا قرار دے کر شرعِ مُطَہَّر نے حرام کیا اور مونھ پر اس کی مذمت کرنا تو حقیقۃً ایذا ہے پھر یہ کیوں  حرام نہ ہو۔

            صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :بعض لوگوں  سے جب کہا جاتا ہے کہ تم فلاں  کی غیبت کیوں کرتے ہو، وہ نہایت دلیری کے ساتھ یہ کہتے ہیں  مجھے اس کا ڈر اپڑا ہے چلو میں  اس کے مونھ پر یہ باتیں  کہہ دوں  گا، ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا غیبت و حرام ہے اور مونھ پر کہو گے تو یہ دوسرا حرام ہوگا، اگر تم اس کے سامنے کہنے کی جرأت رکھتے ہو تو اس کی وجہ سے غیبت حلال نہیں  ہوگی۔

(5)…جس کے سامنے کسی کی غیبت کی جائے اسے لازم ہے کہ زبان سے انکار کردے مثلاً کہدے کہ میرے سامنے اس کی برائی نہ کرو۔ اگر زبان سے انکار کرنے میں  اس کو خوف و اندیشہ ہے تو دل سے اسے برا جانے اور اگر ممکن ہو تو یہ شخص جس کے سامنے برائی کی جارہی ہے وہاں  سے اٹھ جائے یا اس بات کو کاٹ کر کوئی دوسری بات شروع کردے ایسا نہ کرنے میں  سننے والا بھی گناہ گار ہوگا، غیبت کا سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں ہے۔( بہار شریعت، حصہ شانزدہم۳)
 اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت اور دوسروں  کے عیب تلاش کرنے سے بچنے،اور اپنے عیبوں  کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
اٰمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے