غزل: سب کو انوکھے خواب دکھاتی ہے زندگی

خیال آرائی: نذیر اظہرؔ کٹیہاری

امید پر ہی جینا سکھاتی ہے زندگی
سب کو انوکھے خواب دکھاتی ہے زندگی

احساس بندگی کا دلاتی ہے زندگی
غفلت کی نیند سے یوں جگاتی ہے زندگی

دستور ہے یہی کہ سدا اس جہان میں
ہر شخص کو ہنساتی، رلاتی ہے زندگی

سچ ہے کہ بے پناہ محبت کے باوجود
اک دن سبھی کوچھوڑ کےجاتی ہے زندگی

غفلت کی نیند جو کبھی سوتا ہے دوستو!
ناکامیوں پہ اسکو رلاتی ہے زندگی

منزل کی جستجو میں جورہتا ہےروز وشب
اس کے لئے ہی رستہ بناتی ہے زندگی

اظہر کو یاد موت تو آتی نہیں کبھی
تابوت روز جبکہ اٹھاتی ہے زندگی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل : کسی کے پاس نہیں وقت اب کسی کے لیے

رشحات قلم : حافظ فیضان علی فیضان وہ چاہے دل کے لئے ہو کہ دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے