یوم جمہوریہ ماضی کے احتساب کا دن

تحریر: ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی

باشندگانِ بھارت پر بلا کسی مذہبی، لسانی اور قومی تفریق کے سال میں دو دن ایسے سنہرے طلوع ہوتے ہیں جس میں تمام بھارت واسی خوشی و شادمانی کا اظہار ایک ساتھ مل کرکرتے ہیں، آپسی تمام گلے شکوے اور ہر طرح کی تلخیوں کو طاق نسیاں میں رکھ کر یکجٹ مل بیٹھ کر فرحت و انبساط کے ساتھ جگہ جگہ جشن جمہوریہ سے متعلق پروگرام منعقد کرتے ہیں اور بھارت کی آن شان ترنگا جان کو لہراکر یہ ثبوت دیتے ہیں کہ ہم تمام سکان بھارت میں اتحاد اور یکتائی قائم ہے۔
ان دو دنوں میں ایک 15/اگست ہے، یہ وہ روشن تاریخ ہے جس تاریخ کو آج سے تہترچوہتر/73/ 74/سال پہلے ہمارا پیارا ملک ہندوستان فرنگیوں کے ناپاک چنگل سے آزاد ہوا تھا اور بھارت کے رہنے والوں نے تقریباً ایک صدی کے بعد آزاد فضا میں آزادی کی سانسیں لی تھیں۔
اور دوسرا دن 26/جنوری ہے، جسے یوم جمہوریہ کے نام سے ہم یاد کرتے ہیں، یہ وہ تابناک تاریخ ہے جس میں ہمارا پیارا دیش جمہوری ملک قرار دیا گیا تھا اور اپنے فرزندوں کے تیارکردہ قوانین کا کفیل بنا تھا، یعنی انگریزوں کا نافذ کیا ہوا قانون کا اس ملک سے خاتمہ ہوا تھا۔
26/جنوری 1950/سے ہمارا ملک جمہوری ملک کے نام سے عالمی نقشہ پر ابھر کر سامنے آیا، جمہوری ملک کا مطلب یہ ہے کہ ”ایسا ملک جس میں عوام کی حکومت ہو، اور عوام اس حکومت میں بلا خوف و خطر،مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہو، مکمل آزادی کے ساتھ ہر ادیان و ملل کے ماننے والے اپنے اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرسکتے ہوں“۔
ہر سال ہم اس تاریخ کو جشن جمہوریہ مناتے ہیں، اس کی ہر تقریب میں ہم مسلمانان بھارت دو باتوں پر زیادہ زور دیتے ہیں اورانہی کا خوب ذکر کرتے ہیں ۔
پہلی بات : ہمارے ہر بڑے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ آزادی ہند کے جیالوں کا ذکر خیر کرتے ہیں، ان کے کد و کاوشوں کو سراہتے ہیں، اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان جیالوں سے شناسائی کرتے ہیں، یاد رہے ہم بھارتی مسلمانوں میں بعض طبقے ایسے بھی ہیں کہ وہ اپنے ہی اکابر کو آزادی ہند کے ہیرو بتاتے ہیں اور جو ان کے نظریہ کے خلاف ہیں ان کو فرنگیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں تو دوسرے طبقہ اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔
دوسری بات: اس موقع پر ہمارے اکثر و بیشتر خطباء حضرات اور قلم کار حضرات یہ دہائی دیتے ہیں کہ ہمارا ملک جمہوری ملک ہے اس کے قوانین جمہوری ہے، لیکن اب جمہوریت پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، جمہوریت کو سرعام ننگا کیا جارہا ہے، جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، ملک کے باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو جمہوریت کے دشمن ہے، اب اس ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے، ہمارے ملک میں جمہوریت حقیقت نہیں بلکہ سراب ہے وغیرہ وغیرہ
اس موقع پر ہم مسلمانان ہند کو اس ناحیہ سے سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم آج تک اپنی نسلوں کو یہی بتاتے آرہے ہیں کہ اس کی آزادی میں سب سے بڑا رول ہمارے آبا و اجداد کا رہا ہے، اس کے ہر محاذ پر ہمارے ہی اسلاف پیش پیش رہے ہیں، اتنا طویل عرصہ گذرنے کے بعد بھی ہم اپنے نونہالوں کو ان کے نہاں خانوں میں یہ بات جاگزیں نہ کراسکے کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں بلکہ جتنا یہاں کسی دوسرے کا حق ہے اس سے کہیں زیادہ اس پر ہمارا حق ہے، آج بھی ہماری نئی نسل اس معاملے میں تردد اور شک شبہ میں مبتلا ہیں، اس کے تدارک کی جانب ہم نے کبھی توجہ نہیں کی، اس سے خلاصی کا ایک راہ یہ ہے کہ ہم اپنے نصاب میں اپنی تاریخ کو شامل کریں۔
دوسری چیز جس کا ہمارے بڑے اس وقت دہائی دیتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت اب تانا شاہی کی صورت اختیار کر رہی ہے، مساویانہ صورت کو گلا گھونٹ کر آمرانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اول دن سے ہی یہاں جمہوریت خطرہ میں ہے؟ یا بعد کو یہ بھیانک منظر سامنے آیا ہے، جواب یہی دیا جائے گا کہ یہ خوفناک منظر شروع سے ہی پنپ رہا تھا لیکن اب بال و پر نکالنا شروع کیا ہے ، کل تک جو ملک دشمن کے شانہ بشانہ تھے، اب ملک انہیں کے ہاتھوں میں ہے، بلکہ اس ملک کے مقدر کا فیصلہ بھی انہیں کے رحم و کرم پرہے۔
ایسی صورت میں ہم اپنے ملک میں اب تک کیا کررہے تھے، ایک دو دہائیوں کا عرصہ نہیں بلکہ سات دہائیاں گذر چکی ہیں، کیا ہماری راہ میں کوئی رکاوٹ تھی ؟اگر رکاوٹ تھی تو ہم نے اس طویل مدت میں اس رکاوٹ کو دور کرنے کی فکر کیوں نہیں کی، کیا ہمارے پاس وسائل نہیں تھے؟ کیا ہمارے پاس افراد نہیں تھے ؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بھی سب چیزیں تھیں، لیکن ہم نے اس پر کبھی توجہ نہیں دی،ہم دوسروں کے رحم و کرم پر رہ رہے تھے اور رہ رہے ہیں،جس کسی نے اس پر توجہ دلانے کی کوشش کی،یا اس سلسلے میں کوئی آواز اٹھائی تو ہمارے مسلم برہمن واد نے اس کی آواز کو دبا دی،اس کی سوچ و فکر کو گلا گھونٹ دیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت ہمیں گلے شکوے کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس وقت مثبت طور پر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کریں، جس کی پیروی کرنے میں ہماری نسلوں کے لئے مستقبل میں یہ ملک روشن و تابناک بنے، اور بقول محمد حسین فطرت بھٹکلی ہم یہ کہتے ہیں:

وطن کی سرزمین سے دم وفاداری کابھرنا ہے
یہیں پیدا ہوئے ہیں ہم یہیں پہ ہم کو مرنا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے