غزل: تم رازِ دل بتانا ذرا دیکھ بھال کے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

اپنا اسے بنانا ذرا دیکھ بھال کے
اس کو گلے لگانا ذرا دیکھ بھال کے

بیٹھے لٹیرے حسن کے ہر ایک موڑ پر
باہر تمہیں ہے جانا ذرا دیکھ بھال کے

دیوار کے بھی کان ہیں معلوم ہے تمہیں
تم رازِ دل بتانا ذرا دیکھ بھال کے

چرچے تمہارے حسن کے ہر سمت ہو رہے
رکھنا حسیں خزانہ ذرا دیکھ بھال کے

غفلت کی نیند سو رہا بے فکر ہے بہت
لیکن اسے جگانا ذرا دیکھ بھال کے

دستور بھی عجیب زمانہ عجیب ہے
محل میں انکی جانا ذرا دیکھ بھال کے

کہتا فیضان ہے اپنے محبوں سے ہر گھڑی
غیروں سے دل لگانا ذرا دیکھ بھال کے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے