26جنوری اور جمہوریت کی حقیقت

از قلم: محمد قمر انجم فیضی

ہندوستان جنوبی ایشیا میں واقع ایک ایسا ملک ہے جس میں یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کو رچنے بسنے کا موقع دیا گیا، ہندوستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور اسی لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے،ہندوستان میں ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے رہتے ہیں، اور اپنے بول چال میں ایک سو سے زائد زبانیں استعمال کرتے ہیں، ہندوستان کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار ہے، شمال میں بھوٹان، چین نیپال ہے، اور مغرب میں پاکستان ہے، اسکے علاوہ ہندوستان کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے نیز یہ ملک سری لنکا مالدیپ کے قریب ترین ملک ہے بنیادی حقوق ریاستی پالیسی کے رہنما اصول اور بنیادی فرائض ہیں آئین ہند کے تحت جن میں ہندوستانیوں کے تئیں ریاست کی ذمہ داریوں اور ریاست کے تئیں شہریوں کی فرائض بیان کئے گئے ہیں، آئین کے حصہ سوم میں وضاحت کے ساتھ یہ درج ہے کہ حقوق نسل، جائے پیدائش، ذات، عقیدہ یا جنسی امتیاز سے قطع نظر ہر شہری پر نافذ اور مخصوص پابندیوں کی تابع عدالتوں کی طرف سے قابل مفاذ ہیں، 26جنوری/یوم جمہوریہ ہندوستان کی ایک اہم قومی تعطیل ہے۔ جسے ملک بھر میں بہت ہی زور وشور سے منایا جاتا ہے اس دن کی اہمیت وافادیت یہ ہے کہ حکومت ہند ایکٹ جو 1935ء/ سے نافذ تھا، منسوخ کر کے آئین ہند کا نفاذ عمل میں آیا اور آئین ہند کی عمل آوری ہوئی،
دستور ساز اسمبلی نے آئین ہند کو 26 نومبر 1949ء/ کو اخذ کیا اور 26جنوری1950/ کو تنفیذ کی اجازت دے دی
آئین ہند کی تنفیذ سے ہندوستان میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہوا۔ قارئین کرام ! ہم اپنی زندگی میں وطن پرستی کے جذبات کا اظہار بڑے ہی ناز و ادا سے کرتے ہیں نیز ہم اپنی عام سی زندگی میں وطن اور اس کی محبت کے حوالے سے جو جذبات رکھتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہے، وطن پرستی مستحسن جذبہ ہے26جنوری 1950ء/کو ہندوستان ایک جمہوری ملک بنا۔ملک کے تمام مدارس اسلامیہ/یونیورسیٹیٹر/کالجز/ اور اسکولوں میں بلکہ ہندوستان کے تمام شہروں، قصبوں گاؤں، دیہاتوں میں جشن یوم آزادی بڑی ہی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے اور اپنے ملک کی سرزمین سے کسے محبت نہیں ہوتی ہے ہر کسی انسان کو اپنے وطن کی مٹی سے محبت ہوتی ہے، اور یہ موقع سال میں دوبار آتا ہے ۔ایک 15 اگست یعنی یوم آزادی /اوردوسرا 26 جنوری یعنی یوم جمہوریہ، کہتے ہیں کہ آزادی اور جمہوریت دو ایسے لفظ ہیں جو کسی بھی ملک کے شہری کے لئے کافی اہمیت رکھتے ہیں ،اور یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، لیکن کتنی خوشی سے ہم اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک کا حصہ ہیں ۔26جنوری کو شہیدان وطن کے کارناموں اوران کی خدمات کویاد کرتے ہیں اورآنے والے نسلوں کوبھی اس سے روشناس کراتے ہیں،
جمہوریت ملک کا سب سے اہم ستون ہوتاہے اس کا مطلب اور اس کی کی بنیاد یہ ہے کہ اس ملک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل طور سے حق واختیار حاصل ہے کہ وہ آزادی سے زندگی گزاریں ،سب کواختیار ہے کہ وہ دستور میں دیئے گئے حقوق سے اپنا دامن بھریں، تاریخ کے زریں صفحات اور ہندوستان کی سرزمین ابھی تک گواہ ہے کہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں بزرگان دین، علماء کرام اور محبان وطن نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا تب کہیں جاکر ہندوستان اور اس کے بسنے والے آزاد ہوئے۔مگر آج بھی یہ سوال ہماری کانوں سے ٹکراتا ہے کہ ملک آزاد ہوئے آج صدیاں گزر گئیں لیکن کیا ہم صحیح معنوں میں آزاد ہیں کہ نہیں، 26جنوری /یوم جمہوریہ صرف جوانوں کے کرتب، فوجی طاقت کے مظاہروں اور توپوں کی سلامی یا فقط اسکولی بچوں کے ثقافتی پروگراموں کے منعقد کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ 26جنوری یومِ جمہوریہ دراصل ملک کے آئین اور جمہوریت سے تجدیدِ وفا کا دن ہے،ہمارا ملک ہندوستان پوری دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ پوری آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذہب پر نہ صرف قائم و دائم ہیں بلکہ کھلے عام وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اور یہی ہمارے دیس کی خوبصورتی ہے. آزادی کے بعد ہندوستان کا آئین کچھ اس طرح بنایا گیا کہ ہر شخص کے ملی ،قومی،سماجی اور مذہبی اقدار کا خیال رکھا گیا، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے آئین پر فخر کرتے ہیں.
ملک میں شہریوں کے حقوق اور حکومت کے رہنما اصولوں پر مبنی ایک آٸین مرتب کیاگیا اس کو ہم آئین ہند یا دستور ہند کے نام سے جانتے ہیں ، یہ ہندوستان میں جمہوریت کی بنیاد ہے یہ وہ آئین ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو متحد کرتی ہے۔ آئین ہماری زندگی ، اقدار،طرز عمل اور روایت اور اس کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے،اسی دن کو ہم یوم جمہوریہ کے نام سے جانتے ہیں ، یوم جمہوریہ اپنے آئین کا درس دیتا ہے ،تمام سرکاری ، نیم سرکاری اور تعلیمی ادارے نیز نجی مکانوں پر ہم اپنے ملک کا جھنڈا لگاتے ہیں ، یہ ہمیں ہندوستانی عظمت ورفعت کو یاد دلاتا ہے ، تمام افواج اپنے کارناموں کا مظاہرہ کرتی ہیں ، ہوائی جہاز کے قطاروں سے ترنگا بنانے کا منظر بڑا دلکش ہوتا ہے ،ہم مانتے ہیں کہ ہاں یہ سب ہوتا ہے کہ مگر ایک سب سے اہم سوال، کہ کیا آج جو قانون ہمارے لئے بنایا گیا تھا۔کیا اس قانون کی رو سے ہم آزاد ہیں۔یا اس قانون کے ذریعے سے ہم فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود آج اپنا وہی تہذیب وتمدن کا گہوارہ کہا جانے والا ہندوستان بہت ہی نازک حالات اور سنگین دَور سے گزر رہا ہے اور اس ہندوستان میں دیگر قومیں ہندو ،بدھ،جین،سکھ عیسائی سب چین وسکون کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں مگر ہندوستانی مسلمانوں کی حالت بایں جارسید کہ سب سے زیادہ ظلم وستم کاشکار یہی ہو رہے ہیں،تختہء مشقِ ستم یہی بن رہے ہیں ،اور جب سے بھگوا پارٹی کی مئی 2014/ کے انتخابات میں جیتنے کی وجہ سے مودی وزیراعظم منتخب ہوئے،تب سے مودی حکومت سنگھیوں کےساتھ مل کر سرکاری عہدیداروں اور پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں انسانی حقوق کے بہادر دفاع کاروں علمبرداروں اورخاص کر مسلمانوں کے اوپر لمبا چوڑا مقدمہ چلانے کا ایک طویل سلسلہ جاری کر رکھاہے ،کبھی لوجہاد کے بہانے، کبھی مدارس کے بہانے، کبھی’ این آرسی’ کے بہانے
کبھی 370 آرٹیکل ہٹانے کے بہانے۔ اور کبھی زرعی قوانین نافذ کرنے کے بہانے حکمران جماعت اور اس کے ساتھ وابستہ ہندو انتہا پسندوں کے ذریعے مذہبی اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں پر تشدد اور ظلم وبربریت کا ننگا ناچ کیا جارہاہے،اور قانون عدالت، جمہوریت سب چند امیر لوگوں کی مٹھی میں ہیں۔آج اس دستور کی کس طرح دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، یہ کسی سے مخفی نہیں ہے، جمہوریت کا کس طرح مذاق بنا دیا گیا ہے بلکہ پورے جمہوری نظام پر کس طرح فسطائیت نے شب خوں مارا ہے،یہ ہر کوئی ذی علم واقف ہے، اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا یے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، آمین

مضمون نگار، ماہ نامہ صداے بازگشت سدھارتھ نگر کے چیف ایڈیٹر ہیں۔6393021704

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے