نظم: ہندوستان ہمارا ہے

نتیجہ فکر: محمد شاہد رضا رضوی

ہم اس کے باعزت شہری ہندوستان ہمارا ہے
ہم نے دلائی ہے آزادی یہ احسان ہمارا ہے

ملک کی خاطر سب سے پہلے جان کی اپنی دی قربانی
ہاں میسور کا شیر ہے ٹیپو جو سلطان ہمارا ہے

جس نے پہلے فتویٰ دیا ہے انگریزوں سے لڑنے کا
وہ علامہ فضل حق قائد، ذیشان ہمارا ہے

سب سے پہلے دیش کی خاطر دی سید کافی نے جان
میرے آقا کا وہ بیٹا ہوا قربان ہمارا ہے

اس گلشن کو ہم نے سینچا اپنے خون پسینے سے
پڑی ضرورت جب بھی اسکو دی وہ جان ہمارا ہے

تاج محل ہم نے بنوایا لال قلعہ بھی اپنا ہے
بڑھتی ہے دنیا میں جس سے آن بان ہمارا ہے

بلند دوار جامع مسجد قطب مینار اور چار مینار
ہم نے ہی تعمیر کرائی یہ سارا مکان ہمارا ہے

مر جائیں گے پر نہ کریں گے تجھسے دغا اے میرے وطن
ہم ہیں غلام سرور عالم یہ ایقان ہمارا ہے

اسی کی مٹی سے ہم جنمیں اور یہیں پہ دفن بھی ہونگے
نہ چھوڑیں گے وطن کبھی بھی یہ اعلان ہمارا ہے

چلتی ہے اس ملک میں چلتی بیشک میرے خواجہ کی
ہم کو اس پر ناز ہے شاہد ہندوستان ہمارا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

نظم :مُبارک ہو عزیزو پھر مہِ رمضان آیا ہے

نتیجۂ فکر: استاد بریلوی، نینی تال مُبارک ہو عزیزو پھر مہِ رمضان آیا ہےہزاروں برکتیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے