یوم جمہوریہ: اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: محمد کلیم الدین مصباحی
خطیب و امام: سنی جامع مسجد بیلور ٹاؤن، ضلع ہاسن، کرناٹک
7204160238

سات سمندر پار سے آنے والی انگریز قوم کے خلاف ہندوستان کو آزا د کرانے کے لئے 1857؁ میں جو جنگ لڑی گئی اس کو ’’جنگ آزادی ‘‘ یا ’’ غدر ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے ۔انگریزوں کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف اگر چہ مختلف قوموں نے حصہ لیا ، اس میں سب سے زیادہ قربانی قوم مسلم نے دی ہے، اور اس کا اعتراف اپنے اور بیگانے سب کو ہے ۔مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ گذرتے ہوئے ایام کے ساتھ ہم نے اپنے اسلاف کی قربانی کو بھلا دیا ہم نے جنگ آزادی میں حصہ لینے والے دیش کے ان جانباز مسلم سپاہیوں اور ان کے کارناموں سے اپنے موجودہ نسلوں کو روشناس نہیں کرایا ۔یہی وجہ ہے کہ دور حاضر کے مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسلوں کو غیروں کی تاریخ اور ان کی حالات زندگی کا تو علم ہے، مگر اپنے اسلاف کی ملک وملت کے لئے مجاہدانہ کردا ر اور خدمات سے نا آشنا ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے موجودہ نسلوں کو اپنے اسلاف کی تاریخ ، ان کی حالات زندگی اور ان کے کارہائے نمایا سے روشناس کرائیں ۔ آج ان لوگوں کو آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جنہوں نے پوری زندگی انگریزوں کی غلامی ،مجاہد آزادی کے خلاف انگریزوں کی جاسوسی اور چاپلوسی میں اپنی عمریں گنوادیں، جنہوں نے مجاہد آزادی کے ٹھکانوں کا پتہ لگا کر انگریزوں کی مخبری ،مجاہد آزادی کے خلاف انگریزوں کی عدالت میں جھوٹی گواہی دے کر انگریزوں سے اپنی دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اپنے وطن عزیز کے ساتھ غداری کی ،آج وہ اپنے آپ کو اصلی ہندوستانی کہتے ہیں،اور جنہوں نے اپنا گھر ، کنبہ ،خاندان سب ملک کے لئے قربان کردیا ،آج ان کی نسلوں سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انگریزوں کے کی مکاری اور اس کے چال کو سب سے پہلے جس نے محسوس کیا وہ مسلم حکمراں تھے اور انگریزوں کے تسلط، ان کی قیام حکوت کے لئے سب بڑا خطرہ اگر کو ئی تھا تو وہ مسلمان تھا ۔ ان حکمرانوں میں سے ایک ذات حضرت ٹیپو سکطان شہید ؒ کی بھی تھی، جنہوں نے انگریزوں کی چال کو سب سے پہلے محسوس کیا اور ان’’ تن کے گورے اور من کے کالوں ‘‘کو ملک سے نکال نے کی ٹھان لی ۔ اس اقتباس کو پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کا اور آپ کی سلطنت خداد ا د کا خوف کس قدر انگریزوںمیں تھا ۔
’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے لئے سب سے زیادہ خطرہ سلطنت خدا د ادکے استحکام کو سمجھتی تھی،اور ٹیپو سلطان شہید کو اپنے راستہ کا ایک بڑا پتھر خیال کرتی تھی ،جو اس کے مقاصد اور منافع تک کی رسائی میں پوری طرح حائل اور ان کے غلبہ کے نقصانات کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے ،یہی وجہ تھی کہ وہ انگریزوں کے سلسہ میں زرا سی بھی لچک اور نرمی روا نہ رکھتے تھے ،اس لئے انگریز کسی بھی صورت میں سلطنت خدا داد کو تہس نہس کرنے کا ارادہ کر چکے تھے ،اس کے لئے انہوں نے تمام تر تر کیبیں اور صورتیں اختیار کیں ‘‘۔( ٹیپو سلطان شہید ایک تاریخ ساز شخصیت 37)
بالآخر ایک معرکہ اور جنگ کے بعد انگریز ، غداروں اور ملت فروشوں کی وجہ سے سلطنت خدا داد کر ختم کر نے میں کامیاب ہو گئے ۳؍ مئی ۱۷۹۹ میں سری رنگا پٹنم میں جام شہادت نوش کیا ۔آپ کی شہادت کے بعد جنرل ہارس خوشی سے جھوم اٹھا اور چیخ ا ٹھا کہ ’’ آج سے ہندوستان ہمارا ہے ‘‘ ( سیرت ٹیپو سلطان شہید ؒ 344)
آپ کی شہادت کے بعد انگریزوں کاراستہ صاف ہو گیا اور دھیرے دھیرے انگریز پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے ۔
انگریزوں کا تسلط جب پورے ہندوستان پر ہوگیا ،اس کے بعد ظلم و بربریت،جبر وتشددکی جو داستان مسلمانوں کے خون سے لکھی، وہ بھلائی نہیں جا سکتی، ہندوستان کی آزادی کے لئے ملک کی ہر قوم نے جد وجہد کیا ،مگر پہل کسی کی طرف نہ ہوئی ۔جس وقت پورا ملک کشمکش کے عالم تھا ایسے وقت میں دہلی کی جامع مسجد سے ایک آواز انگریزوں کے خلاف بلند ہوئی ،یہ آواز بطل حریت، قائد آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی ؒ کی تھی ،اور اسی وقت ۳۳؍ علماء نے اس فتویٰ پر دستخط کر کے باضابطہ انگریزوں کے خلاف اعلان جہاد فرمایا ،جس کے نتیجے میں1857 ؁کی جنگ آزادی رونما ہوئی جس کو انگریزوں نے’’ غدر کا‘‘ نام دیا ،جس کی قیادت کرنے والے مسلمان تھے ،لاکھوں عوام اور ہزاروں علماء نے اپنا خون دے کر حب الوطنی کی اعلی مثال قائم کیا ۔میں ایک بات یہاں پر یہ بھی بتا دوں کہ آج مدارس،مساجد کو بند کرنے کی بات کی جاتی ہے ،انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ انہیں مدرسوں کے تعلیم یافتہ ،مساجدکے خطباء نے اپنی تقریر ،تحریر کے ذریعے لوگوں میں آزادی کا رنگ بھرا ،انگریزوں کے خلاف جہاد پر ابھارا اور ہنستے ،ہنستے اپنی جان ملک کے لئے قربا ن کر دیا ِاور انہیں مدر سوں سے ہمیں علامہ فضل حق خیرآبادی ، مولانا عنایت احمد کا کوروی،مولانا صدر الدین آزوردہ، مولانا حسرت موہانی ،مولانا کفایت علی کافی رام پوری ،مولانا فیض احمد بدایونی،مولانا رحمت اللہ کیرانوی، جیسے قائد آزادی ملے،ایک اندازے کے مطابق پندرہ ہزار سے زیادہ علماء جنگ آزادی میں شہید ہوئے ۔
’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ کس نے دیا ( جس نعرے نے پورے ہندوستان اور ہندوستانیوں میں ٓ زادی کی لہر پھونک دی) اانگریزوںکے ظلم وستم کا شکار سب سے زیادہ کون ہوئے ؟کالا پانی کی درد ناک سزاؤں سے سب سے زیادہ کو ن گذرا؟جنگ آزادی میں سب سے زیادہ قربانی کس نے دی ؟ آزادی کے لئے اپنے بیٹوں تک کی قربانی کس نے دی ؟ ان سارے سوالوں کا ایک ہی جواب ہے، مسلمان !۔
یہ ہماری ستم ظریفی ہے کہ ہم اپنے قائدین آزادی کو فراموش کر بیٹھے ہیں ،اگر آج ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں ، تو یہ بھی یاد رکھیں ہماری ہر سانس ان کی قرضدار ہے، اور ان کے احسان تلے چل رہی ہے ۔
آپ جنگ آزادی پر لکھی جانے والی کتابوں کا مطالعہ کریں ،آپ کو معلوم ہوگا کہ ملک کی آزادی میںانگریزوں کے ظلم و ستم کا سب سے زیادہ اگر کوئی شکار ہوا تو وہ مسلمان ہے ،مگر افسوس! کہ ہم اپنے اسلاف کو یاد کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے ،ذرا ہم سونچیں کہ کیا ہمارے اسلاف نے اس لئے اپنی قربانی دی تھی کہ ہم ان کو فراموش کر دیں ،ہمیں یاد رکھنا ہے کہ ہم ان کے احسان مند ہیں اور رہیں گے کہ انہوں نے اپنی قربانیاں دے کر ،اپنا خون بہا کر ،سولیوں پہ لٹک کر اپنے ملک عزیز کو آزاد کرایا تا کہ ہم آزادی کی سانس لے سکے ،اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی ادارے،دفاتر اور تحریک وتنظیم کے ذریعے یوم جمہوریہ کو منائیں ،اور اپنے اسلاف کی تاریخ سے اپنی آنے والی نسلوں کو روشناش کرائیں ۔
15؍ اگست ہمارے اس لئے اہم ہے کہ اس دن ہندوستان آزاد ہوا ،اور 26؍جنوری اس لئے اہم کہ اس دن جمہوریت کی بنیاد پڑی ، آج پورے ملک میں یوم جمہوریہ : بڑی شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے ،اور کیوں نہ منائیں کہ یہ دن قانوں کی بالا دستی کا دن ہے ،جس دن ہمارے ملک کو خود مختاری حاصل ہوئی ،جس دن بھیم راؤ امبیڈکر اور انکے جیسے قانون دانوں کے ذریعے بنائے گئے’’ سمیدھان ‘‘کا نفاذ ہوا جس دن سے ہمارا بھارت ایک خود مختا ر اور ریپبلک یونٹ بنا۔ اللہ کریم ہمارے ملک امن وامان عطا کرے ۔آمین

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
تاریخ جنوں یہ ہے کہ ہر دور خرد میں
ایک سلسلۂ دارو رسن ہم نے بنایا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے